Al-Waaqia 56:76

Al-Waaqia · from ayah 76

56:76

وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ ۟ۙوَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌۙ

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:76

اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی زبردست قسم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ بہت بڑی قَسم ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یہ یقینا ایسی قسم ہے کہ اگر تم جانو تو بہت بڑی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تم سمجھو تو یقینا یہ ایک بہت بڑی قسم ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا یہ ایک بڑی ہی عظیم الشان قسم ہے اگر تم لوگ سمجھو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تم سمجھو تو یہ ایک بڑی قسم ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and this is indeed a mighty oath, if only you knew –

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__and indeed it is a great oath, if you are to appreciate__

— Muhammad Taqi Usmani

__and indeed it is a great oath, if you are to appreciate__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily that is indeed a great oath, if you but know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! that verily is a tremendous oath, if ye but knew -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.

— Saheeh International

- which is indeed a great oath if only you knew it -

— Muhammad Sarwar

And most surely it is a very great oath if you only knew;

— Muhammad Habib Shakir

And verily that is a mighty oath, if ye but knew!

— Abdul Majid Daryabadi

And that is indeed a mighty adjuration if ye but knew,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–77

سورة الْوَاقِعَة 37 تاروں اور سیاروں کے مواقع سے مراد ان کے مقامات، ان کی منزلیں اور ان کے مدار ہیں۔ اور قرآن کے بلند پایہ کتاب ہونے پر ان کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں اجرام فلکی کا نظام جیسا محکم اور مضبوط ہے ویسا ہی مضبوط اور محکم یہ کلام بھی ہے۔ جس خدا نے وہ نظام بنایا ہے اسی خدا نے یہ کلام بھی نازل کیا ہے۔ کائنات کی بیشمار کہکشانوں (Galaxies) اور ان کہکشانوں کے اندر بےحد و حساب تاروں (Stars) اور سیاروں (Planets) میں جو کمال درجہ کا ربط و نظم قائم ہے، در آنحالیکہ بظاہر وہ بالکل بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں، اسی طرح یہ کتاب بھی ایک کمال درجہ کا مربوط و منظم ضابطہ حیات پیش کرتی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

خلاصہ تفسیر (اور دلائل عقلیہ سے بعث یعنی مر کر زندہ ہونے کا امکان ثابت ہونے کے بعد قرآن سے جو اس کا وقوع ثابت ہے اور تم اس قرآن کو نہیں مانتے) سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے (اور قسم اس بات کی کھاتا ہوں) کہ یہ (قرآن جو پیغمبر ﷺ پر نازل ہوتا ہے بوجہ منزل من اللہ ہونے کے) ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں (پہلے سے) درج ہے (اور وہ لوح محفوظ ایس ہے) کہ بجز اس کو پاک فرشتوں کے (کہ گناہوں سے بالکلیہ پاک ہیں) کوئی (شیطان وغیرہ) ہاتھ نہیں لگانے پاتا (اس کے مضامین پر مطلع ہونا دور کی بات ہے، پس وہاں سے یہاں خاص طور پر آنا فرشتے ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(وانہ لقسم لو تعلمون عظیم) (76) (ایک بر محل جملہ معترضہ)۔ یہ قسم اور مقسم علیہ کے درمیان ایک بر محل جملہ معترضہ ہے۔ فرمایا کہ جس طرح تم محض ہٹ دھرمی سے قرآن کو القائے شیطانی قراردیتے ہو اسی طرح اس قسم کے باب میں بھی کہو گے کہ بھلا شہابوں کے گرنے کو شیاطین کے رحم سے کیا تعلق ! لیکن تم جان سکو تو یہ حقیقت تم پر آشکارا ہوگی کہ یہ قسم اپنے اندر ایک عظیم شہادت اس بات کی رکھتی ہے کہ جنات و شیاطین کو ملا اعلیٰ تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے، جیسا کہ کاہنوں کا دعویٰ ہے۔ اگر کوئی وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو قدرت نے اس کی سرکوبی کے لیے نہایت عظیم پیمانے پر انتظام کر رکھا ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 75–76

75-1یعنی یہ قرآن کی کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 76–78

22: بیچ میں یہ جملہ معترضہ ہے جس میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھانے کی اہمیت کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے۔ ایک تو اس قسم سے یہ جتایا جا رہا ہے کہ ستارے گرنے کے یہ مقامات خود بتا رہے ہیں کہ کوئی کاہن یہ کلام بنا کر نہیں لایا، دوسرے جس طرح ان ستاروں کا نظام انتہائی مستحکم نظام ہے جس میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بھی نہایت محکم اور ناقابل شکست نظام کے تحت آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانہ ................ عظیم (6 5: 67) ” اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے ۔ “ لیکن آج ہم کس قدر جانتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم قسم ہے۔ ہمارا علم مخاطین اول کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ ہمارا موجود علم بھی بہت قلیل ہے اور ہم مواقع النجوم کی عظمت کا پورا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ستاروں کے مواقع کے بارے میں جو قلیل علم حاصل ہوا ہے یہ ہماری نہایت ہی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ جن کی نظر کی حدود بہت ہی محدود ہیں۔ ان رصد گاہوں کے ذریعے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ ستاروں کے دوسرے مجموعے کتنے ہیں ان کی تعداد معلوم نہیں ہے اور ان کی حدود کا تعین نہیں ہے۔ ” سائنس دان کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 76–79

10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی فرشتے اس کتاب کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ وہ کتاب یہ ہی قرآن لکھا ہوا ہے فرشتوں کے ہاتھوں میں یا لوح محفوظ میں۔ " اور بعض نے " لا یَمَسُّہُ " کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے یعنی اس قرآن کو نہیں چھوتے مگر پاک لوگ، یعنی جو صاف دل اور پاک اخلاق رکھتے ہیں۔ وہ ہی اس کے علوم و حقائق تک ٹھیک رسائی پاسکتے ہیں۔ یا اس قرآن کو نہ چھوئیں مگر پاک لوگ، یعنی بدون وضو کے ہاتھ لگانا جائز نہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس وقت " لایمسہ " کی نفی نہیں کے لیے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76{ وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ} ”اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو !“ یعنی ابھی تم مَوٰقِعِ النُّجُوْم کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ایک وقت آئے گا جب تمہیں ان کی حقیقت سے متعلق معلومات حاصل ہوجائیں گی ‘ پھر تمہیں احساس ہوگا کہ ہم نے تمہارے سامنے یہ کس قدر عظیم قسم پیش کی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 76–77

36 اتنی بڑی قسم اللہ تعالیٰ نے اس بات پر اٹھائی کہ اس کتاب کے مضامین و مطالب نہایت بلندپایہ ہیں۔ یہ نہ کسی ساحر کی ساحری ہے، نہ کسی کاہن کی کہانت اور نہ کسی شاعر کے تخیلات ہیں بلکہ یہ بلند پایہ بزرگ و برتر ہستی کی طرف سے نازل شدہ بلند پایہ کتاب ہے جو اس نے تمام بنی نوع انسان کی ہدایت اور فلاح و بہبود کے لیے نازل فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کی بنا پر اس کے سب مضامین لوح محفوظ میں پہلے ہی مندرج ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 75–78

29۔ (اور بالکل منضبط) (آیت) ” کتب مکنون “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی یہ قرآن کریم شروع سے لوح محفوظ میں منضبط چلا آرہا ہے۔ الاصح انہ لوح محفوظ (کبیر) المراد بہ اللوح المحفوظ کماروی عن الربیع بن انس وغیرہ (روح) (آیت) ” مکنون “۔ صفت کتب کی ہے صفت کتب کی ہے۔ یعنی وہ لوح غیروں کی مداخلت بلکہ دسترس سے بالکل محفوظ ہے۔” کریم “۔ صفت قران کی ہے۔ یعنی دنیوی واخروی ہر قسم کی صلاوفلاح کی تعلیمات سے لبریز۔ (آیت) ” لااقسم “۔ لایہاں نفی کا نہیں، تاکید کا ہے۔ لامزیدۃ للتاکید (بیضاوی) لامزیدۃ مؤکدۃ (کشاف) (آیت) ” لا ..... عظیم “ قرآن مجید میں قسمیں، شہادت بزبان حال کے معنی میں آئی ہیں اور قسموں کو بار بار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 75–78

ترجمہ : سو میں قسم کھاتا ہوں غروب ہونے کے لئے چھپنے والے ستاروں کی اگر تم سمجھو تو یہ یعنی ان کی قسم ایک بڑی قسم ہے یعنی اگر تم اہل علم میں سے ہو تو اس قسم کی عظمت کو جان لو گے یہ یعنی جو تم کو سنایا جا رہا ہے مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب میں ہے اور وہ مصحف ہے اس کو پاک (لوگ) ہی چھوتے ہیں (لایمسہ) نہی بمعنی خبر ہے یعنی وہ جنہوں نے خود کو احداث سے پاک کرلیا رب العالمین کی جانب سے نازل کردہ ہے تو کیا اس کلام یعنی قرآن کو سرسری کلام سمجھتے ہو اہمیت نہیں دیتے ہو تکذیب کرتے ہو کیا تم نے اس کی تکذیب ہی کو غذا (دھندا) بنا لیا ہے ؟ اور تم بارش کے ذریعہ اس کے رزق کے شکر کے بجائے ناشکری کرتے ہو یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے لَوْ تَعْلَمُوْنَ : یہ جملہ معترضہ ہے جو عظمت قسم کو ظاہر کر رہا ہے ‘ اس میں میں لَوْ تمنائی ہے یعنی کاش تم اس کی عظمت کو جانتے۔ عَظِیْمٌ : جس چیز کی قسم کھائی جا رہی ہے وہ اللہ کی ہمہ گیر قدرت اور حکمت کاملہ اور فرط رحمت پر دلالت کر رہی ہے اور رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی بیکار نہ چھوڑے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–77

(75۔ 77) سو میں اس چیز کی قسم کھاتا ہوں کہ قرآن حکیم رسول اکرم پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے ایک دم پورا نازل نہیں ہوا اگر تم تصدیق کرو تو قرآن ایک بڑی چیز ہے یا یہ کہ میں قسم کھاتا ہوں صبح کے وقت ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو اور تصدیق کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے یہ ایک مکرم معزز قرآن حکیم ہے جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ شان نزول : فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ (الخ) اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی اس پر رسول اکرم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض شاکر ہیں اور بعض ان میں کافر ہیں شاکر کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–76

فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۔۔۔۔۔۔:”فلا اقسم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ قیامہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ”مواقع“ موقع“ کی جمع ہے جو ”وقع یقع“ سے ظرف ہے یا مصدر میمی ، گرنے کی جگہیں۔ اس سے مراد ستاروں کے غروب ہونے کے مقامات ہیں ، یا شہاب ِ ثاقب کی صورت میں شیاطین پر برسنے والے ستاروں کے گرنے کے مقامات۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–81

(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–76

1۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت فلا اقسم میں لا کو مد کے ساتھ اور ” اقسم ‘ کی الف کو مرفوع پڑھا آیت بموٰ قع النجوم (ستاروں کے چھپنے کی جگہ) اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بموٰقع النجوم (سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی) اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بموٰقع النجوم، سے مراد ہے آسمان کے ستارے۔ 4۔ عبد بن حمیدوابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ: اور بیشک یہ یقینا ایک ایسی قسم ہے ][ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ : اگر تم لوگ جانو بڑی عظمت والی ہے ] (آیت ۔ 74) العظیم کو اسم کی صفت بھی مانا جاسکتا ہے اور رب کی بھی ۔ ترجمہ میں ہم پہلی صورت کو ترجیح دیں گے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 76–78

﴿وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌۙ0076﴾ یہ جملہ معترضہ ہے جو قسم اور جواب قسم کے درمیان واقع ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ مواقع النجوم کی قسم عظیم قسم ہے اگر تم صاحب علم ہوتے تو اس کی عظمت کو جان لیتے۔ پھر جواب قسم فرمایا کہ ﴿ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌۙ0077﴾ مواقع نجوم کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کتاب جو تم پڑھتے ہو قرآن کریم ہے ﴿ فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ0078﴾ جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس سے لوح محفوظ مراد ہے جیسا کہ سورة البروج میں فرمایا ہے : ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ0021 فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) 0022﴾ اس لوح تک شیاطین نہیں پہنچ سکتے اور تغیر اور تبدل سے محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–96

حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–79

27:۔ ” وانہ لقسم “ یہ قسم اور جواب قسم کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ برائے بیان عظمت قسم یعنی اگر تمہیں اس کی حقیقت کا علم ہو تو یہ ایک نہایت عظیم الشان قسم اور شاہد ہے۔ ” انہ لقران الخ “ یہ جواب قسم ہے یہ قرآن نہایت اعلی اور احسن کتاب ہے جو دینی اور دنیوی منافع کا بیش بہا خزینہ ہے۔ فی کتاب مکنون، وہ لوح محفوظ میں محفوظ اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے مامون و مصئون ہے۔ ” لا یمسہ الا المطہرون “ جملہ کتاب مکنون کی صفت ہے۔ اور ” المطہرون “ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہیں۔ اور ” مس “ کنایہ ہے لوح محفوظ کے علوم پر اطلاع سے حاصل یہ ہوا کہ لوح محفوظ کے علوم پر فرشتوں کے سوا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ۝ 76 ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا عظیم وعَظُمَ الشیء أصله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–84

ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–77

فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰ قِعِ النُّجُوْمِ ۔ وَاِنَّـہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۔ اِنَّـہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ (الواقعۃ : 75 تا 77) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔ بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو۔ بیشک یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ) لَآ کا محمل اور قسم کا مفہوم لَآ فعل اُقْسِمْ کا حصہ نہیں۔ اس کی حیثیت اس سے بالکل الگ ہے۔ مخاطب کے زعم باطل کی تردید کے لیے اس طرح نفی کا لانا عربی زبان اور قرآن میں معروف ہے۔ مثلاً سورة النساء میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُوْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَبَیْنَھُمْ ” پس نہیں ! تیرے رب کی قسم وہ مومن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

76 : وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ (اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے) یہ جملہ معترضہ در معترضہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے قسم و مقسم بہٖ کے درمیان فاصلہ کیا گیا ہے۔ وہ مقسم بہٖ انہ لقرآن کریم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

75 ۔” فلا اقسم بمواقع النجوم “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی اقسم ہے اور لا صلہ ہے اور عیسیٰ بن امر پڑھتے تھے فلا قسم تحقیق پر اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا قول ” لا “ اس کا رد ہے جو کفار قرآن کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ جادو ، شعر اور کہانت ہے اس کا معنی ہے معاملہ ویسے نہیں جیسے تم کہتے ہو، پھر قسم کو شروع کیا اور کہا ” اقسم بمواقع النجوم “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے بموقع پڑھا ہے واحد کا صیغہ اور دیگر حضرات نے بمواقع پڑھا ہے جمع کا صیغہ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے قرآن کے نجوم (حصے) مراد ہیں کیونکہ قرآن نبی کریم ﷺ پر متفرق حصوں میں نازل ہوا ہے اور مفسرین رحمہم اللہ کی ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–77

اللہ تبارک وتعالی نے ستاروں کی اور ان کی منازل یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادثات کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں اور جو اس کی عظمت اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ) اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں اور ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے قرآن کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–77

[ 64] قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس نہیں معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ ان منکروں نے سمجھ رکھا ہے۔ یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا کہ اس قرآن حکیم کے بارے میں تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، کہ کبھی تم اس کا شعر کہتے ہو، کبھی کہانت قرار دیتے ہو، اور کبھی اسے پہلے لوگوں کی کہانیاں اور افسانے بتاتے ہو، کبھی کہتے ہو کہ اسے محمد [ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ] از خود گھڑ کر لاتے ہیں، اور کبھی کہتے ہو کہ کوئی اور نا کو سکھا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ، سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ اس پُر حکمت کائنات کے خالق ومالک کا اترا ہوا کلام ہے۔ سو یہ مطلب ہے " لا اقسم " میں موجود اس لاء نافیہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–96

آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:76) وانہ لقسم لو تعلمون عظیم : ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان لام تاکید کا قسم موصوف ۔ عظیم صفت ۔ مل کر انہ کی خبر، لو تعلمون جملہ معترضہ ہے۔ اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے۔ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم واؤ عاطفہ، انہ میں ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب (ضمیر شان) لام تاکید کے لئے لو حرف شرط۔ لو تعلمون جملہ شرطیہ انہ لقسم عظیم جواب شرط۔ یہاں کلام یوں ہوگا : فلا اقسم بمواقع النجوم انہ لقران کریم میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی بابرکت قرآن ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–96

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[16] قرآن مجید میں قسمیں بہت آئی ہیں اور لوگوں کو ان کے مفہوم اور مقصد کے متعلق طرح طرح کے شکوک ہیں۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 75–78

سطحی واقعات اور پر اثر نتیجہ 2: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس میں ہر نوع کے لوگوں کے لئے دلائل ہیں ۔ اور ہر مذاق کے افراد کے لئے سامان تسکین ہے ۔ یہ عقلاء اور دانشوروں کو بھی مخاطب کرتا ہے ۔ اور عوام کو بھی ۔ اس میں عمیق اور لائق فکروغور باتیں بھی ہیں ۔ اور سطحی واقعات سے استدلال بھی ۔ غرض یہ ہے کہ ان کا کوئی طبقہ ہدایت سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ کوئی نہ سمجھے ۔ کہ یہ کتاب ہمارے لئے نہیں ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے ضمن میں ان لوگوں کے لئے جو زیادہ دانائی سے بہرہ ور نہیں ہیں ۔ اور جن کی نظر صرف معمولی واقعات و حقائق تک محدود رہتی ہے ۔ چند فطرت کے مظاہر بیان کئے ہیں ۔ جو اس کی مہربانی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) اور اگر تم سمجھو تو یہ قسم بہت بڑی قسم ہے - حضرت حق جل مجدہ کی قسم واقعی بہت عظیم اور بڑی عظمت والی ہے تاروں کا ڈوبنا یعنی رات کا پچھلا حصہ جو تاروں کے غروب ہونے کا وقت اور تہجد گزاروں کی نماز کا وقت ہے اور رحمت الٰہی اور رضائے الٰہی کے نزول کا وقت ہے چونکہ اوپر قیامت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے عقلی دلائل مذکور تھے اب نقلی دلائل کے سلسلے میں قرآن کا ذکر فرماتے ہیں کہ قرآن جیسی باعظمت اور مکرم کتاب بھی اس امور کا وقوع یقینی بتاتی ہے اور چونکہ یہ ایک مکرم اور آسمانی کتاب ہے اس لئے جو چیز دلائل عقلیہ سے ثابت تھی وہ نقلی دلائل سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا تم کو بھی توحید اور بعث بعدالموت پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–80

ف 1۔ یہ سب امور نعم موجبہ للتوحید بھی ہیں اور دلائل موجبہ للاعتقاد والقدرة علی البعث بھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور بلا شبہ یہ ایک بڑی قسم ہے اگر تم سمجھو 67۔ بات اس کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو اس کے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور قسم سے مؤکد کی گئی بات اسی کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو ضڈ اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیتا ہے۔ وہ لوگ جو قرآن کریم کو ایک اختراعی اور گھڑی ہوئی بات کہتے ہیں اور لوگوں کے قِصّے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں وہ محض ضد ہی سے تو ایسا کہہ رہے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل تو موجود نہیں ہے۔ اس لیے { لوتعلمون } یہ جملہ معترضہ کے طور پر بیان ہوا ہے جو عظمت قسم کو ظاہر کررہا ہے اور { لو } استثنائی ہے یعنی کاش کہ تم بھی اس کی عظمت کو جانتے یا سمجھے ہوئے اور نہ سمجھنے والوں کے لیے اس طرح کے حرست و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

Sequencing of Arguments Preceding verses put forward rational arguments, in support of life after death, by inviting attention to Allah's infinite power. The current verses are meant to prove this fact by giving an authoritative reference, that is, the Qur'an. Allah swears to the Greatness of the Qur’ an فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (So, I swear by the setting places of the stars...56:75) The words لَا أُقْسِمُ 'I swear' are prefixed in the text by the particle لَا la [ no ] which is not translated in the text, because it is idiomatically prefixed to 'oath', as for example لَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

37 "The positions of the stars" : the positions and phases and orbits of the stars and planets. The oath implies that just as the system of the celestial bodies is firm and stable, so also is this Divine Word firm and stable. The same God Who has coated that system has also sent down this Word. Just as there exists perfect. consistency and harmony among the countless stars and planets found in the countless galaxies of the Universe, whereas apparently they seem to be scattered, so also this Book presents a perfectly consistent, and systematic code of life in which detailed guidance has been…

Read the full tafseer →