Explained with ayahs 63–74
آگ اور پانی کا خالق کون ؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 35
یعنی اس کا مبارک نام لے کر یہ اظہار و اعلان کرو کہ وہ ان تمام عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جو کفار و مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جو کفر و شرک کے ہر عقیدے اور منکرین آخرت کے ہر استدلال میں مضمر ہیں۔
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ، اس کا لازمی اور عقلی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ انسان حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور توحید پر ایمان لائے اور اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح پڑھا کرے کہ یہی اس کی نعمتوں کا شکر ہے۔
Read the full tafseer →(فسبح باسم ربک العظیم) (74)
(نبی ﷺ کو صبر اور نماز کی تاکید)۔ یہ بحث کے آخر میں نبی ﷺ کو اپنے موقف حق پر ڈٹے رہنے اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہنے کی تاکید فرمائی۔ اس تاکید کا یہ محل ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ تو تمہارے ساتھ ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ ماننے والے نہیں ہیں سو ان کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنے رب کی تسبیح میں لگے رہو، تسبیح یہاں وسیع معنی یہاں پاکی بیان کرنے کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خواہشوں کے اندھے پرستار تو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا محض ان کے عیش کے لیے بنائی ہے۔ ان کو علم نہیں ہے کہ رب عظیم اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ وہ کوئی عبث اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73-1کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیا کی بیشمار چیزوں کی تیاری کے لئے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس طرح دنیا میں یہ آگ پیدا کی ہے، ہم آخرت میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہیں جو اس سے69درجہ حرارت میں زیادہ ہوگی۔
-2 مقوین، مقوی کی جمع ہے، قواء یعنی خالی صحراء میں داخل ہونے والا، مراد مسافر ہے، یعنی مسافر صحراؤں اور جنگلوں میں ان درختوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سے روشنی، گرمی اور ایندھین حاصل کرتے ہیں۔ بعض نے مقوی سے وہ فقراء مراد لیے ہیں جو بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ ہوں۔ بعض نے اس کے معنی مستمعین (فائدہ اٹھانے والے) کیے ہیں۔ اس میں امیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
20: نصیحت کا سامان اس لئے کہ اول تو اس پر غور کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت کو یاد کرتا ہے کہ اس نے کس طرح ایک درخت کو آگ پیدا کرنے کا ذریعہ بنادیا، اور دوسرے اس سے دوزخ کی آگ بھی یاد آتی ہے تو اس سے بچنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے، اور اگرچہ یہ درخت سبھی کے لئے آگ جلانے کے کام آتے ہیں ؛ لیکن صحرا میں سفر کرنے والوں کے لئے یہ خاص طور پر بڑی نعمت تھی کہ چلتے چلتے یہ درخت مل جائے اور مسافر اس سے اپنی ضرورت پوری کرلے، اس لئے مسافروں کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →فسبح ........ العظیم (6 5:4 7) ” پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “
اب روئے سخن مکذبین کی طرف پھیر کر سخت انداز میں قرآن کو اس کائنات سے مربوط کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →8 جس نے ایسی مختلف اور کار آمد چیزیں پیدا کیں اور خالص اپنے فضل و احسان سے ہم کو منتفع کیا اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور منکرین کی گھڑی ہوئی خرافات سے اس کی اور اس کے نام مبارک کی پاکی بیان کرنا چاہیے۔ تعجب ہے کہ لوگ ایسی آیات باہرہ دیکھنے کے بعد بھی اس کی قدرت و وحدانیت کو کما حقہ نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →آیت 74{ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ } ”پس تم تسبیح بیان کرو اپنے ربّ کے نام کی جو بہت عظمت والا ہے۔“
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم !
اب اگلی آیات میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے۔ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے عظمت قرآن کے حوالے سے سورة الرحمن کے آغاز کی یہ عظیم آیات بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { اَلرَّحْمٰنُ - عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ - خَلَقَ الْاِنْسَانَ - عَلَّمَہُ الْبَیَانَ۔ }۔ قرآن کی عظمت کے اس بیان کے بین السطور میں یہ پیغام بھی مضمر ہے کہ انسانوں پر اس عظیم کتاب کا حق ادا کرنا لازم ہے۔ اس حوالے سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہم ان آیات کے ضمن میں پڑھ آئے ہیں : خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
35 مَوَاقِعُ النُّجُوْمِ کا معنی ستاروں کے گرنے کی جگہ بھی ہوسکتا ہے۔ فضائے بسیط میں بیشمار سیارے ایسے ہیں جو ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں اور اس کا دوسرا معنی ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ یعنی افق مغرب جہاں ہمیں ستارے ڈوبتے نظر آتے ہیں یا صبح کی روشنی کے نمودار ہونے کا وقت، جب ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو معنی بھی لیے جائیں اس سے مراد ستاروں کی گردش اور اپنے اپنے مدارات میں سفر کرنے کا وہ پیچیدہ اور حیران کن مربوط اور منظم نظام ہے جس میں غور و فکر کرنے سے انسان اس قادر مطلق ہستی کی حکمت اور وسعت علم تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو اس کائنات پر کنٹرول کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →28۔ (جو حیات اور سلب حیات اور زراعت اور بارش اور آگ، سارے نظامات تکوینی کا تنہا خالق اور بلاکسی کی شرکت کے پروردگار ہے) شرک عموما مشرک جاہلی قوموں میں جن جن مشہور راہوں سے آیا ہے ان سب کی ان آیتوں میں پوری تردید آگئی۔
Read the full tafseer →فسبح باسم ربک العظیم اس کا لازمی اور عقلی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان حق تعالیٰ کی قدرت کا ملہ اور توحید پر ایمان لائے اور اپنے رب عظیم کی تسبیح پڑھا کرے کہ یہی اس کی نعمتوں کا شکر ہے۔
Read the full tafseer →فسبح باسم ربک العظیم . ” سو آپ اپنے عظیم الشان رب کے نام کی تسبیح کیجئے۔ “
فَسَبِّحْ : میں ”“ سببیہ ہے یعنی جب تم کو اللہ کی پُر منفعت مصنوعات اور انعامات کا علم ہوگیا تو منکرین وحدانیت اور کفران نعمت کرنے والے جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں اللہ کو اس سے پاک قرار دو اور اس کی پاکی بیان کرو یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے شکریہ میں اسکی پاکی کا اظہار و اقرار کرو یا یہ معنی ہے کہ جو ظالم کفران نعمت کرتے ہیں ‘ تم اس پر تعجب کرتے ہوئے اسکی پاکی بیان کرو۔
بِاِسْمِ رَبِّکَ : اس میں لفظ اسم زائد ہے اور مراد ہے ذات یعنی اپنے رب کی پاکی بیان کرو۔ ” بَ “ زائد ہے (کیونکہ فعل تسبیح بغیر ب کے متعدی ہے) ۔
Read the full tafseer →سو آپ اپنے اس عظیم الشان پروردگار کے نام کی نماز پڑھیے یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے۔
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ : تفصیل کے لیے دیکھیئے سورة ٔ اعلیٰ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں :’ ’ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ اپنے رکوع میں ”سبحان ربی العظیم“ اور سجدے میں ”سبحان ربی الاعلیٰ“ پڑھتے تھے اور کسی بھی رحمت کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور کسی بھی عذاب کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے“۔ (ابو داؤد ، الصلاۃ ، باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ : 871، وقال الالبانی صحیح)
Read the full tafseer →فسبح باسم رب العظیم۔ مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جو شریکوں کی اور دوبارہ اٹھانے سے عجز کی نسبت کی ہے اس سے اس کی پاکی بیان کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
14۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نحن جعلنہا تذکرۃ (اور ہم نے اس کی یاد دہانی کی) یعنی یہ آیت ہمارے لیے بڑ آگ کے بارے میں ہے نصیحت ہے آیت ومتاعا للمقوین اور مسافروں کے لیے فائدے کی چیز ہے۔ یعنی سارے لوگوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے ہے کہ ہر شہری اور دیہاتی کے لیے سود مند ہے۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت نحن جعلناھا تذکرہ، یعنی ہم نے ہی اسے بڑی آگ کے لیے نصیحت بنادیا ہے۔ آیت ومتاعا للمقوین یعن مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز
16۔ عبدالرزاق وابن…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ : پس تو تسبیح کر ][ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ : اپنے رب کے عظیم نام کی ]
Read the full tafseer →مختلف نعمتوں کے تذکرہ کے بعد فرمایا ﴿ فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح) 0074﴾ (سواے مخاطب اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح بیان کرو) جس ذات عالی کی مذکورہ بالا نانعمتیں ہیں وہ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ عظیم ہے اس کی پاکی بیان کرنا لازم ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →25:۔ ” فسبح باسم۔ الایۃ “ دلائل اربعہ کے بعد پہلی بار دعوی سورت کا ذکر ہے۔ خطاب ہر مخاطب سے ہر وہ شخص جو مذکورہ بالا دلائل عقلیہ میں غور و فکر کرے اس پر لازم ہے کہ وہ ان سے اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کا سبق حاصل کرے اور ایسے عظیم مالک اور اعلی صفات پروردگار کو ہر شریک سے پاک سمجھے اسی کو کارساز اور برکات دہندہ مانے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل :
ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74 ۧ
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّـکَ الْعَظِیْمِ ۔ (الواقعۃ : 74)
(پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ )
تسبیح سے قوت حاصل کرنے کا حکم
بحث کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ مخالفین کی مخالفت اور ان کی بےہودگیوں کا اثر قبول نہ کریں۔ دلائل کی حد تک ان کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں رہی۔ آپ نے ہمدردی اور خیرخواہی کا آخری قطرہ تک نچوڑ ڈالا۔ اب بھی اگر یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے تو بجائے ان کے اس رویئے سے متأثر ہونے سے آپ اپنے رب کی تسبیح میں لگ جایئے۔ انھوں نے شرک کو جس طرح اپنا شعار بنا رکھا ہے اس کے نتیجے میں ان کے دلوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت نکل گئی ہے۔ اور وہ زبان سے کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
فہم القرآن
ربط کلام : پانی کے بعد آگ کا تذکرہ۔
جس طرح پانی عظیم نعمت ہے اور اس پر انسان کی زندگی کا انحصار اسی پر ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ دنیا میں پھلنے پھولنے والی کوئی چیز بھی نمو نہیں پاسکتی۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کا انحصار پانی پر رکھا ہے لیکن پھر تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ (الانبیاء : 30) جس طرح پانی کے بغیر زندگی باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح انسان کی زندگی اور ترقی کے لیے آگ بھی ناگزیر ہے اگر آگ پیدا نہ کی جاتی تو انسان اور حیوان کی زندگی کے درمیان معمولی فرق ہوتا اور انسان کسی صورت بھی ترقی نہ کرسکتا۔
آپ زندگی کے کسی شعبے پر غور فرمائیں اس کی ترقی میں…
Read the full tafseer →74 : فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (پس آپ اپنے عظیم الشان رب کے نام کی تسبیح کیجئے) پس اپنے رب کی تنزیہ بیان کریں جو اس کی ذات کے لائق نہیں۔ اے مخاطب مستدل، نمبر 2۔ اسمؔ سے ذکر مراد ہے۔ مطلب یہ ہے پس تسبیح کریں اپنے رب عظیم کے ذکر کے ساتھ۔
نحو : العظیمؔ یہ مضاف کی صفت ہے یا مضاف الیہ کی۔
ایک قول :
سبحان ربی العظیمکہو۔ روایت مرفوعہ میں وارد ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔ ] رواہ احمد 4/155، ابودائود 869، ابن ماجہ 887، الدارمی، 1/299[
Read the full tafseer →73 ۔” نحن جعلناھا “ ہم نے اس کو یعنی دنیا کی آگ کو پیدا کیا۔ ” تذکرۃ “ بڑی آگ کے لئے۔ جب اس کو دیکھنے والا دیکھے گا تو جہنم کو یاد کرے گا۔ اس کو عکرمہ اور مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ نے کہا ہے اور عطائؒ فرماتے ہیں نصیحت جس کے ذریعے مومن نصیحت حاصل کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم کی آگ جو وہ جلاتے ہیں جہنم کی آگ کے ستر جزء میں سے ایک جزء ہے۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر یہ یہوتی تو کافی تھی۔ فرمایا اس جہنم کی آگ کو اس دنیا کی آگ پر انہتر 69 جزء فضیلت دی گئی ہے۔ ” ومتاعا “ منفعت کا۔ ” للمقوین “ مسافروں کے لئے۔ المقوی زمین میں پڑائو ڈالنے والا اور ” القیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک وتعالی نے اپن نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمدوثنا اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح وتحمید کا حکم دیا۔ چناچہ فرمایا (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) یعن اپنے رب کی عظیم کی تنزیہ بیان کیجئے۔ جو اسما وصفات میں کامل اور بےپایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجئے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے اس کی ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →[ 63] اپنے رب کے نام کی تسبیح و تمہید کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا پس تم تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی جو کہ بڑا ہی عظمت والا ہے۔ جس نے یہ سب نعمتیں اپنے بندوں کیلئے پیدا فرمائیں، اور بلاشرکت غیر کے پیدا فرمائیں، اور از خود اپنی رحمت و عنایت سے پیدا فرمائیں، اور اس طرح اپنی مخلوق کو ان نعمتوں سے نوازا ہے، سو بحث کے آخر میں اس ارشاد سے پیغمبر کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعیء حق کو اس کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ ﷺ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں کہ آپ ﷺ بہرحال حق پر ہیں، جہاں تک دلائل کا تعلق ہے تو وہ سب آپ ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کی پشت پر ہیں، لیکن خواہشات کے پجاری جو اندھے بہرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →ف 8 کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے انسان کے فائدہ کے لئے ایسی کار آمد چیزیں پیدا کیں۔
Read the full tafseer →(56:74) فسبح اس میںسببیہ ہے سبح فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر ۔ پس تو تسبیح پڑھ۔ تو پاکی بیان کر۔ تو عبادت کر۔
باسم ربک : اس میں لفظ اسم زائد ہے۔ اور مراد ہے ذات ، یعنی اپنے رب کی پاکی بیان کر۔ ب بھی زائدہ ہے کیونکہ فعل تسبیح بغیر ب کے متعدی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74
تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 74
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…
Read the full tafseer →[13] یعنی جس پروردگار نے اپنے فضل و کرم سے ان نعمتوں سے نوازا ہے تو لازم ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے اور منکر جو عیوب و نقائص اس سے منسوب کرتے ہیں ان خرافات سے بچ کر اس کی اور اس کے نام کی پاکی بیان کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے
Read the full tafseer →(74) سو اے پیغمبر آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔ حضرت حق جل مجدہ نے اپنی قدرت کا مہ کو کیا خوب ترتیب سے بیان فرمایا ہے پہلے انسانی پیدائش اور عطائے وجود کا ذکر فرمایا اور یہ بات بتائی کہ انسان کی پیدائش اور اس کی ساخت میں ہماری ہی قدرت کا ظہور ہے گو بظاہر تم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری مشقت کو دخل ہے لیکن حقیقتاً سب جگہ ہماری ہی فرماں روائی کو دخل ہے۔
مثلاً چند قطروں کا رحم میں ڈال دینا یہ تمہارا کام ہے لیکن رحم مادر میں ان قطروں کو انسانی شکل میں بنانا یہ کس کا کام ہے زمین میں تخم پاشی بظاہر تم کرتے ہو ہل چلاتے ہو بیج ڈالتے ہو لیکن اناج کا اگانا اور کھیتی کو پروان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 1۔ یہ سب امور نعم موجبہ للتوحید بھی ہیں اور دلائل موجبہ للاعتقاد والقدرة علی البعث بھی۔
Read the full tafseer →پس تو اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر
47۔ یہ خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ کو ہے۔ پیچھے سے جو مضمون آپ پڑھتے چلے آرہے ہیں اس کے ساتھ اس کا کیا جوڑا جوڑا گیا ہے ؟ یہی کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ تو آپ ﷺ کے پاس ہیں لیکن ہٹ دھرم لوگوں نے کسی زمانہ میں بھی دلائل کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ اکثریت اور رسم و رواج ہی کی بات پر اڑے رہے اور یہی حال آپ ﷺ کے مخاطبین کا ہے کہ یہ ہٹ دھرمی سے کام لے کر آپ ﷺ کی بات پر کان نہیں دھرتے تو نہ دھریں آپ ﷺ بھی ان کی پروانہ کریں اور اپنا کام اپنے طریقہ پر جاری رکھیں اور اپنے پروردگار کی…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (So, proclaim the purity of the name of your Lord, the Magnificent...56:74) The logical and rational conclusion of the above considerations should be for man to believe in the All-Encompassing Divine Power and in His Oneness, and declare the Purity of the Great Lord; for that is the way to express His gratitude.
Read the full tafseer →35 That is, "Mention His blessed name and proclaim that He is free from and far above the defects and faults and weaknesses that the pagans and polytheists ascribe to Him, and which underlie every creed of disbelief and every argument that is presented by the deniers of the Hereafter. "
Read the full tafseer →