Al-Waaqia 56:71

Al-Waaqia · from ayah 71

56:71

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ ۟ؕاَفَرَءَيۡتُمُ النَّارَ الَّتِىۡ تُوۡرُوۡنَؕ

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And have you seen the fire that you ignite?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:71

کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اچھا یہ بتاؤ کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بھلا بتاؤں تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا یہ بتاؤ جو آگ تم سُلگاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا تم نے دیکھی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا دیکھو ! جو آگ تم جلاتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ذرا غور تو کرو اس آگ پر جس کو جلاتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا تم لوگوں نے کبھی اس آگ کے بارے میں بھی غور کیا جو تم سلگاتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اچھا پھر یہ بتلاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کبھی تم نے سوچا کہ وہ آگ جو تم جلاتے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Did you consider the fire which you kindle?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now tell Me about the fire you kindle:

— Muhammad Taqi Usmani

Now tell Me about the fire you kindle:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you not see the fire which you kindle.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have ye observed the fire which ye strike out;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And have you seen the fire that you ignite?

— Saheeh International

Have you seen the fire which you kindle?

— Muhammad Sarwar

Have you considered the fire which you strike?

— Muhammad Habib Shakir

Behold! - the fire which ye strike out:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–74

آگ اور پانی کا خالق کون ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–72

سورة الْوَاقِعَة 32 درخت سے مراد یا تو وہ درخت ہیں جن سے آگ جلانے کے لیے لکڑی فراہم ہوتی ہے، یا مرخ اور عفار نامی وہ درخت ہیں جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو ایک دوسرے پر مار کر قدیم زمانے میں اہل عرب آگ جھاڑا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–72

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–72

(واخر دعوھم ان الحمد للہ رب العلمین، افرئیتم النار التی تورون انتم انشاتم شجر تھا ام نجن المنشون) (71، 72)۔ (پانی کے بعد آگ کی طرف اشارہ) پانی کے بعد آگ کی بھی، ضروریات زندگی میں، بڑی اہمیت ہے۔ بالخصوص ان قوموں کے لیے جن کو بڑے بڑے صحرائی سفر کرنے پڑتے تھے۔ جہاں نہ تو راہ میں آبادیاں ہوتیں جہاں سے ضرورت کے وقت بآسانی آگ دستیاب ہو سکے، نہ آگ چیز ہی ایسی ہے جس کو آدمی اپنے سامان میں باندھ کے ساتھ لے سکے اور نہ اس وقت تک دیا سلائی ہی کے قسم کی کوئی چیز ایجاد ہوئی تھی جس سے یہ ضرورت پوری کی جاسکے۔ اس قسم کے ضرورت مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاددہانی کے لیے بعض خاص قسم کے پتھر بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 70–71

70-1یعنی اس احسان پر ہماری اطاعت کرکے ہمارا عملی شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–71

18: یعنی تمہارا کام بس اتنا ہی تو ہے کہ تم زمین میں بیج ڈال دو ، اس بیج کو پروان چڑھا کر کونپل کی شکل دینا اور اسے درخت یا کھیتی بنادینا اور اس میں تمہارے فائدے کے پھل یا غلے پیدا کرنا کیا تمہارے اپنے بس میں تھا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو تمہارے ڈالے ہوئے بیج کو یہاں تک پہنچا دیتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 71–72

افرءیتم ................ للمقوین (37) (6 5: 17 تا 37) ” کبھی تم نے خیال کیا یہ آگ جو تم سلگاتے ہو ، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ ہم نے اس کو یاددہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لئے سامان زیست بنایا ہے “ انسان کی زندگی میں آگ کا وجود انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی اور انسان نے اپنی تہذیبی زندگی کا آغاز ہی آگ سے کیا ہے لیکن صبح وشام آگ جلانا اس کے لئے تو ایک معمول کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں انسان کا کردار کتنا ہے۔ بس انسان آگ جلاتا ہے لیکن جلنے کا عمل کس نے پیدا کیا اور جلنے کے عمل میں استعمال ہونے والا ایندھن کس نے بنایا۔ درخت کس نے پیدا کئے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 71–72

5 عرب میں کئی درخت سبز ایسے ہیں جن کو رگڑنے سے آگ نکلتی ہے جیسے ہمارے ہاں بانس، پہلے سورة " یس " میں اس کا بیان ہوچکا۔ یعنی ان درختوں میں آگ کس نے رکھی ہے۔ تم نے یا ہم نے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71{ اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ } ”کبھی تم نے سوچا کہ وہ آگ جو تم جلاتے ہو ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 درختوں کا سب سے بڑا فائدہ آگ کا حصول :۔ تیسری نعمت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ تم آگ جلاتے ہو۔ آگ جلانا اور اس سے استفادہ کرنا صرف انسان کا کام ہے۔ دوسری کوئی جاندار مخلوق یہ کام نہیں کرسکتی۔ جانور نباتات وغیرہ اسی حال میں کھاتے ہیں جس حال میں یہ زمین سے نکلتی یا دستیاب ہوتی ہے جبکہ انسان تمام سبزیاں، غلے اور گوشت وغیرہ آگ پر پکا کر کھاتے ہیں۔ پھر آگ سے ہی انسان نے کئی قسم کی دھاتیں ڈھال کر اپنے استعمال میں لانا شروع کیں۔ پھر مشینریاں اور کلیں بنائیں۔ اگرچہ آج کل آگ تیل، پٹرول اور گیس وغیرہ سے بھی حاصل کی جارہی ہے۔ مگر آج سے صرف دو صدی پیشتر تک آگ حاصل کرنے کا ذریعہ صرف درخت اور ایندھن تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 71–73

27۔ اب استدلال حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ، ربوبیت و توحید پر نظام کائنات کے ایک پانچویں شعبہ آگ اور اس کے متعلقات سے ہے۔ (آیت) ” تذکرۃ “۔ ضمیر ھا اگر النار (آگ) کی طرف ہے تو آگ تو یاد دلانے والی آتش دوزخ کی بھی ہوسکتی ہے اور حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی یاد دلانے والی بھی۔ تذکیر النار جھنم (کشاف) قال مجاھد وقتادۃ تذکر النار الکبری (ابن کثیر) قال عطاء موعظۃ یتعظ بھا ال مومن (معالم) (آیت) ” شجر تھا “۔ شجر آتش کا ذکر سورة یس (پ 23) میں قریب ختم کے آیا ہے۔ (آیت) ” متاعا للمقوین “۔ آگ کا وجود ایک بہت بڑی نعمت تو مسافر ومقیم، شہری وبدوی سب ہی کے لیے ہے اور ہر زمانہ میں رہا ہے لیکن عہد قدیم میں مسافروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–73

اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔ نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

پھر یہ بتاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو تُوْرُوْنَ : یعنی تم روشن کرتے ہو۔ یہ داری النَّارَ وَرْیًا سے ماخوذ ہے (اس نے آگ جلائی) اَوْرَیْتُ النَّارَ (باب افعال) میں نے آگ روشن کی۔ آگ روشن کرتے ہو یعنی چقماق سے نکالتے ہو ‘ عرب دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ برآمد کرتے تھے ایک لکڑی کو دوسری لکڑی کے اوپر رکھتے تھے۔ اوپر والی کو زَنَد اور نیچے والی کو زَنَدہ کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ذرا یہ تو بتاؤ کہ جس آگ کو سرخ درخت کے علاوہ ہر ایک درخت سے تم سلگاتے ہو اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 71–72

اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ۔۔۔۔۔۔:”اوری یوری“ (افعال) ”النار“ آگ سلگانا۔ یہ چوتھی دلیل ہے جو یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے حق ہونے کے ثبوت کے لیے لائی گئی ہے۔ (دیکھئے یٰسین : 80)”اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ“ میں خبر پر الف لام سے حصر پیدا ہو رہا ہے ، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں“۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 70–72

لو نشاء جعلنہ اجا جا یعنی ایسا نمکین جو ورجہ نمکین ہو : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سخت کڑوا تم پینے، کا شت وغیرہ میں اس سے کوئی نفع حاصل نہیں کرتے۔ فلولا تشکرون۔ تو کیا تم اس کا شکر بجا نہیں لائو گے جس نے تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ افرء یتم النار التی تورون۔ مجھے اس آگ کے بارے میں تو بتائو جسے تم تر درخت سے رگڑنے کے ساتھ نکالتے ہو۔ ء انتم انثا تم سبحر تھا جس درخت سے آگ جلائی جاتی ہے وہ مرخ اور عفار ہے : اس معنی میں ان کا قول ہے : ہر درخت میں آگ ہے مرخ اور عفار میں زیادہ ہے گویا ان دونوں نے اس سے وہ حصہ لیا جو انہیں کافی ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : کیونکہ یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–72

11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ءانتم انزلتموہ من المزن یعنی بادل سے۔ 12۔ عبد بن حمید نے حسن اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ پانی پینے کے بعد کی دعاء۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ جب پانی پیتے تھے۔ تو فرماتے :۔ الحمد للہ الذی سقانا عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو میٹھا پانی پلایا اپنی رحمت سے اور اس کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے کڑوا نہیں بنایا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ : کای تم لوگوں نے غور کیا اس آگ پر جو ][ تُوْرُوْنَ : تم لوگ جلاتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–72

آگ بھی نعمت ہے : اس کے بعد آگ کا تذکرہ فرمایا، انسانوں کے کھانے پکانے اور بہت سے کاموں میں آگ استعمال ہوتی ہے جو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ارشاد ہے۔ ﴿ اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَؕ0071﴾ (سو پھر آگ کے بارے میں بتاؤ جس کو تم جلاتے ہو) ﴿ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ۠0072﴾ (اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں) ﴿نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَۚ0073﴾ (ہم نے اس کو یاد دہانی کی چیز اور مسافروں کے فائدہ کی چیز بنایا ہے) ان آیات میں یہ بتا دیا کہ یہ آگ جسے تم جلاتے ہو یہ بھی تو ہماری پیدا کی ہوئی ہے۔ بتاؤ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–73

24:۔ ” افرایتم النار الخ “ یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے بعض درخت ایسے ہیں کہ اگر ان کی لکڑیوں کو ایک دوسری پر رگڑا جائے تو ان سے آگ نمودار ہوجاتی ہے۔ قدیم زمانے میں آگ حاصل کرنے کا یہی طریقہ تھا۔ عرب میں مرخ اور عفار نامی دو درخت مشہور تھے۔ جن میں آگ پیدا کرنے کی صلاحیت دوسرے درختوں کی نسبت زیادہ تھی۔ اب آخر میں یہ بتاؤ کہ یہ جو لکڑیوں کو باہم رگڑ کر تم روشن کرلیتے ہو کیا یہ درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہمنے ؟ ظاہر ہے کہ ہر نبات اور ہر نجم و شجر کا خالق وہی ہے۔ ” نحن جعلناھا۔ الایۃ “ ہم نے اس دنیا کی آگ کو عبرت بنا دیا ہے کہ اس سے آخرت میں دوزخ کی آگ کا اندازہ لگا لیا جائے جو اس سے کئی گنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَ۝ 71 ۭ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–74

1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–73

اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَالَّتِیْ تُوْرُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْ تُمْ شَجَرَتَھَـآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ ۔ نَحْنُ جَعَلْنٰـھَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 71 تا 73) (ذرا غور تو کرو اس آگ پر جس کو تم جلاتے ہو۔ اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں۔ ہم نے اس کو یاددہانی اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے۔ ) آگ جیسی نعمت سے استدلال غذا اور پانی جیسی نعمتوں کے احسانات کا ذکر کرنے کے بعد، اب آگ کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی انسان کی غذائی ضرورتوں میں بہت اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی ضرورت تو آج کے جدید اور متمدن دور میں بھی کم نہیں ہوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–74

فہم القرآن ربط کلام : پانی کے بعد آگ کا تذکرہ۔ جس طرح پانی عظیم نعمت ہے اور اس پر انسان کی زندگی کا انحصار اسی پر ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ دنیا میں پھلنے پھولنے والی کوئی چیز بھی نمو نہیں پاسکتی۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کا انحصار پانی پر رکھا ہے لیکن پھر تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ (الانبیاء : 30) جس طرح پانی کے بغیر زندگی باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح انسان کی زندگی اور ترقی کے لیے آگ بھی ناگزیر ہے اگر آگ پیدا نہ کی جاتی تو انسان اور حیوان کی زندگی کے درمیان معمولی فرق ہوتا اور انسان کسی صورت بھی ترقی نہ کرسکتا۔ آپ زندگی کے کسی شعبے پر غور فرمائیں اس کی ترقی میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

71 : اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ (پھر یہ بتلائو جس آگ کو تم سلگاتے ہو) تورونؔ سلگاتے اور چقماق سے اس کو حاصل کرتے ہو۔ اہل عرب دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ حاصل کرتے ہیں ایک کو دوسرے پر رگڑتے ہیں اوپر والی لکڑی کو الزندؔ اور نیچے والی کو الزنذہؔ کہتے ہیں اور دونوں کو نر مادہ سے مشابہت دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

لو نشاء جعلناہ اجاجا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت نمکین۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کڑوا۔ ” فلو لا تشکرون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–74

63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–72

یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اسکے درخت کو پیدا کرتے یہ تو اللہ ہی ہے جس نے سرسبز درخت سے آگ کو پیدا کیا تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے جب وہ اپنی ضرورت سے فرغ ہوجاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 70–71

[ 59] میٹھے پانی کی نعمت محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم : سو اس نعمت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل کڑوا بنا کر رکھ دیں۔ جو نہ تمہارے پینے کے کام آسکے، اور نہ تمہاری کھیتی باڑی کے، اور صرف یہی نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ کھاری پانی تمہاری زمین کو کلر اور شور بنا دے، جس سے کچھ پیدا ہی نہ ہوسکے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میٹھے پانی کا یہ عطیہ جو قدرت نے نہایت ہی پُر حکمت طریقے سے اپنی مخلوق کو بخشا ہے، کس قدر عظیم الشان عطیہ ہے، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب پانی پیتے تو یوں دعا فرماتے " الحمد للّٰہ الذی سقانا عذبًا فراتًا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–72

ف 5 مراد ہر درخت ہے جو جلانے کے کام آتا ہے یا خاص طور پر وہ درخت ہیں جن میں گرڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے جیسے عرب میں مرخ اور عفار کے درخت اور ہمارے ہاں ہانس کا درخت … مطلب یہ ہے کہ ان درختوں میں جلنے یا رگڑنے سے آگ پیدا کرنے کی یہ خاصیت کس نے رکھی ؟ تم نے یا ہم نے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:71) افرأیتم : ملاحظہ ہو آیت 58 متذکرۃ الصدر۔ التی تورون : التی اسم موصول واحد مؤنث، تورون صلہ۔ مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایراء (افعال) مصدر سے۔ تم سلگاتے ہو۔ تم روشن کرتے ہو۔ ابراء کے معنی چقماق سے آگ نکلانے کے ہیں۔ واریت کذا۔ کے معنی کسی شے کو چھپانے کے ہیں۔ جیسے کہ کلام پاک میں آیا ہے :۔ قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم (7:26) ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے۔ بطور فعل لازم تواری بمعنی چھپ جانا ہے۔ جیسے کہ آیت حتی توارت بالحجاب (38:32) یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا۔ اور وری یری وری۔ چقماق کا آگ دینا۔ گویا اس میں آگ کے پوشیدہ ہونے کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ وری حروف مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–74

(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–74

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس آگ کو تم سلگاتے ہو کیا تم نے کبھی اس پر بھی غوروفکر کیا ؟ 17۔ جس طرح پانی ضروریات زندگی میں سے ہے اسی طرح آگ بھی ضروریات زندگی ہی میں سے ہے اور رلاریب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انسانی زنددگی کے لیے جتنی وہ ضروری ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ روشنی کا کام ہم کو دیتی ہے اور اس سے کھانے پکانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ صنعت و حرفت میں اس سے کام لیا جاتا ہے مختصراً یہ کہ اگر آگ کا وجود نہ ہوتا تو انسانی زندگی کا نقشہ یقینا نہ ہوتا جیسا کہ اس وقت نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توجہ اس طرح مبذول کر ارہا ہے کہ کیا تم نے اس آگ کی طرف بھی کبھی توجہ کی جس کو تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–72

was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

32 The tree here either implies the tree that supplies wood for lighting a fire, or the trees of markh and 'afar, green sticks of which were struck one against the other to produce sparks in ancient Arabia.

Read the full tafseer →