Explained with ayahs 63–74
آگ اور پانی کا خالق کون ؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة الْوَاقِعَة 32
درخت سے مراد یا تو وہ درخت ہیں جن سے آگ جلانے کے لیے لکڑی فراہم ہوتی ہے، یا مرخ اور عفار نامی وہ درخت ہیں جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو ایک دوسرے پر مار کر قدیم زمانے میں اہل عرب آگ جھاڑا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(واخر دعوھم ان الحمد للہ رب العلمین، افرئیتم النار التی تورون انتم انشاتم شجر تھا ام نجن المنشون) (71، 72)۔
(پانی کے بعد آگ کی طرف اشارہ) پانی کے بعد آگ کی بھی، ضروریات زندگی میں، بڑی اہمیت ہے۔ بالخصوص ان قوموں کے لیے جن کو بڑے بڑے صحرائی سفر کرنے پڑتے تھے۔ جہاں نہ تو راہ میں آبادیاں ہوتیں جہاں سے ضرورت کے وقت بآسانی آگ دستیاب ہو سکے، نہ آگ چیز ہی ایسی ہے جس کو آدمی اپنے سامان میں باندھ کے ساتھ لے سکے اور نہ اس وقت تک دیا سلائی ہی کے قسم کی کوئی چیز ایجاد ہوئی تھی جس سے یہ ضرورت پوری کی جاسکے۔ اس قسم کے ضرورت مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاددہانی کے لیے بعض خاص قسم کے پتھر بھی…
Read the full tafseer →72-1کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں، مرخ اور عفار، ان دونوں سے ٹہنیاں لے کر، ان کو آپس میں رگڑا جائے تو اس سے آگ کے شرارے نکلتے ہیں۔
Read the full tafseer →19: اس سے مراد مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو عرب میں پائے جاتے تھے۔ اور ان کی ٹہنیوں کو رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی تھی، اور اہل عرب اس سے چقماق یا ماچس کا کام لیتے تھے۔ اس کا ذکر سورة یس : 80 میں بھی گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
افرءیتم ................ للمقوین (37) (6 5: 17 تا 37) ” کبھی تم نے خیال کیا یہ آگ جو تم سلگاتے ہو ، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ ہم نے اس کو یاددہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لئے سامان زیست بنایا ہے “
انسان کی زندگی میں آگ کا وجود انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی اور انسان نے اپنی تہذیبی زندگی کا آغاز ہی آگ سے کیا ہے لیکن صبح وشام آگ جلانا اس کے لئے تو ایک معمول کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں انسان کا کردار کتنا ہے۔ بس انسان آگ جلاتا ہے لیکن جلنے کا عمل کس نے پیدا کیا اور جلنے کے عمل میں استعمال ہونے والا ایندھن کس نے بنایا۔ درخت کس نے پیدا کئے۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
5 عرب میں کئی درخت سبز ایسے ہیں جن کو رگڑنے سے آگ نکلتی ہے جیسے ہمارے ہاں بانس، پہلے سورة " یس " میں اس کا بیان ہوچکا۔ یعنی ان درختوں میں آگ کس نے رکھی ہے۔ تم نے یا ہم نے۔
Read the full tafseer →آیت 72{ ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ } ”کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے ‘ یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟“
بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ ! نوٹ کیجیے پے درپے سوالات کا یہ تیکھا اسلوب پورے قرآن میں اور کہیں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
34 مقوین کا لغوی مفہوم :۔ مُقْوِیْنٌ۔ القوٰی بمعنی بھوک اور بات الْقَوٰی بمعنی بھوکا رہ کر رات گزاری اور القاویۃ بمعنی کم بارش کا سال اور تقاوٰی بمعنی بارش کی قلت یا افراط جس سے فصل تباہ ہوجائے اور قحط نمودار ہوجائے۔ اور تقاوی قرضے وہ ہوتے ہیں جو ایسے قحط کے سال میں حکومت زمینداروں کو بالا قساط ادائیگی کی شرط پر دیتی ہے اور تقاوی بمعنی بھوکے رات بسر کرنا اور قوت لایموت بمعنی خوراک کی اتنی کم مقدار جس سے انسان بس زندہ رہ سکے اور مقوین بمعنی قوت کی احتیاج میں سفر کرتے پھرتے لوگ۔ خانہ بدوش لوگ جو رزق کی تلاش میں ادھرادھر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ درختوں کی لکڑیوں سے عارضی مکان بھی کھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
27۔ اب استدلال حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ، ربوبیت و توحید پر نظام کائنات کے ایک پانچویں شعبہ آگ اور اس کے متعلقات سے ہے۔ (آیت) ” تذکرۃ “۔ ضمیر ھا اگر النار (آگ) کی طرف ہے تو آگ تو یاد دلانے والی آتش دوزخ کی بھی ہوسکتی ہے اور حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی یاد دلانے والی بھی۔ تذکیر النار جھنم (کشاف) قال مجاھد وقتادۃ تذکر النار الکبری (ابن کثیر) قال عطاء موعظۃ یتعظ بھا ال مومن (معالم) (آیت) ” شجر تھا “۔ شجر آتش کا ذکر سورة یس (پ 23) میں قریب ختم کے آیا ہے۔ (آیت) ” متاعا للمقوین “۔ آگ کا وجود ایک بہت بڑی نعمت تو مسافر ومقیم، شہری وبدوی سب ہی کے لیے ہے اور ہر زمانہ میں رہا ہے لیکن عہد قدیم میں مسافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔
نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔
Read the full tafseer →کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم ہی پیدا
کرنے والے ہیں۔
شَجَرَتَھَا : آگ کا درخت۔ یعنی مرخ اور عفار ‘ مرخ کو اوپر سے رگڑتے تھے ‘ دونوں لکڑیاں ہری تھیں ‘ دونوں کے باہم رگڑنے سے پانی نکل آتا تھا اور آگ روشن ہوجاتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(72۔ 73) ہم نے اس آگ کو آتش دوزخ یاد دلانے اور مسافروں کے فائدہ کی چیز بنایا ہے یعنی زمین میں جن مسافروں کا زاد راہ ختم ہوجائے وہ اس کے ذریعے اپنا کام نکال لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ۔۔۔۔۔۔:”اوری یوری“ (افعال) ”النار“ آگ سلگانا۔ یہ چوتھی دلیل ہے جو یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے حق ہونے کے ثبوت کے لیے لائی گئی ہے۔ (دیکھئے یٰسین : 80)”اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ“ میں خبر پر الف لام سے حصر پیدا ہو رہا ہے ، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں“۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
لو نشاء جعلنہ اجا جا یعنی ایسا نمکین جو ورجہ نمکین ہو : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سخت کڑوا تم پینے، کا شت وغیرہ میں اس سے کوئی نفع حاصل نہیں کرتے۔ فلولا تشکرون۔ تو کیا تم اس کا شکر بجا نہیں لائو گے جس نے تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔
افرء یتم النار التی تورون۔ مجھے اس آگ کے بارے میں تو بتائو جسے تم تر درخت سے رگڑنے کے ساتھ نکالتے ہو۔ ء انتم انثا تم سبحر تھا جس درخت سے آگ جلائی جاتی ہے وہ مرخ اور عفار ہے : اس معنی میں ان کا قول ہے : ہر درخت میں آگ ہے مرخ اور عفار میں زیادہ ہے گویا ان دونوں نے اس سے وہ حصہ لیا جو انہیں کافی ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : کیونکہ یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ءانتم انزلتموہ من المزن یعنی بادل سے۔
12۔ عبد بن حمید نے حسن اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
پانی پینے کے بعد کی دعاء۔
13۔ ابن ابی حاتم نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ جب پانی پیتے تھے۔ تو فرماتے :۔
الحمد للہ الذی سقانا عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا
ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو میٹھا پانی پلایا اپنی رحمت سے اور اس کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے کڑوا نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →[ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ : کیا تم لوگ اگاتے ہو ][ شَجَرَتَهَآ : اس کے درخٹ کو ][ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــُٔوْنَ : یا ہم اگانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آگ بھی نعمت ہے :
اس کے بعد آگ کا تذکرہ فرمایا، انسانوں کے کھانے پکانے اور بہت سے کاموں میں آگ استعمال ہوتی ہے جو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ارشاد ہے۔ ﴿ اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَؕ0071﴾ (سو پھر آگ کے بارے میں بتاؤ جس کو تم جلاتے ہو) ﴿ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ۠0072﴾ (اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں) ﴿نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَۚ0073﴾ (ہم نے اس کو یاد دہانی کی چیز اور مسافروں کے فائدہ کی چیز بنایا ہے) ان آیات میں یہ بتا دیا کہ یہ آگ جسے تم جلاتے ہو یہ بھی تو ہماری پیدا کی ہوئی ہے۔ بتاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
24:۔ ” افرایتم النار الخ “ یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے بعض درخت ایسے ہیں کہ اگر ان کی لکڑیوں کو ایک دوسری پر رگڑا جائے تو ان سے آگ نمودار ہوجاتی ہے۔ قدیم زمانے میں آگ حاصل کرنے کا یہی طریقہ تھا۔ عرب میں مرخ اور عفار نامی دو درخت مشہور تھے۔ جن میں آگ پیدا کرنے کی صلاحیت دوسرے درختوں کی نسبت زیادہ تھی۔ اب آخر میں یہ بتاؤ کہ یہ جو لکڑیوں کو باہم رگڑ کر تم روشن کرلیتے ہو کیا یہ درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہمنے ؟ ظاہر ہے کہ ہر نبات اور ہر نجم و شجر کا خالق وہی ہے۔ ” نحن جعلناھا۔ الایۃ “ ہم نے اس دنیا کی آگ کو عبرت بنا دیا ہے کہ اس سے آخرت میں دوزخ کی آگ کا اندازہ لگا لیا جائے جو اس سے کئی گنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل :
ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…
Read the full tafseer →ءَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــُٔوْنَ 72
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَالَّتِیْ تُوْرُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْ تُمْ شَجَرَتَھَـآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ ۔ نَحْنُ جَعَلْنٰـھَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 71 تا 73)
(ذرا غور تو کرو اس آگ پر جس کو تم جلاتے ہو۔ اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں۔ ہم نے اس کو یاددہانی اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے۔ )
آگ جیسی نعمت سے استدلال
غذا اور پانی جیسی نعمتوں کے احسانات کا ذکر کرنے کے بعد، اب آگ کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی انسان کی غذائی ضرورتوں میں بہت اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی ضرورت تو آج کے جدید اور متمدن دور میں بھی کم نہیں ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
فہم القرآن
ربط کلام : پانی کے بعد آگ کا تذکرہ۔
جس طرح پانی عظیم نعمت ہے اور اس پر انسان کی زندگی کا انحصار اسی پر ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ دنیا میں پھلنے پھولنے والی کوئی چیز بھی نمو نہیں پاسکتی۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کا انحصار پانی پر رکھا ہے لیکن پھر تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ (الانبیاء : 30) جس طرح پانی کے بغیر زندگی باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح انسان کی زندگی اور ترقی کے لیے آگ بھی ناگزیر ہے اگر آگ پیدا نہ کی جاتی تو انسان اور حیوان کی زندگی کے درمیان معمولی فرق ہوتا اور انسان کسی صورت بھی ترقی نہ کرسکتا۔
آپ زندگی کے کسی شعبے پر غور فرمائیں اس کی ترقی میں…
Read the full tafseer →72 : ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْ تُمْ شَجَرَ تََھَآ (کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا) وہ درخت جس سے یہ زنادؔ ہے۔ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ (یا ہم ہی اس کو پیدا کرنے والے ہیں) ابتداء ًاس کو بنانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →71 ۔” افرایتم النار التی تورون “ جو تم جلاتے ہو اور اس کو تم اپنے چقماق کی اوپر والی لکڑی سے نکالتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اسکے درخت کو پیدا کرتے یہ تو اللہ ہی ہے جس نے سرسبز درخت سے آگ کو پیدا کیا تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے جب وہ اپنی ضرورت سے فرغ ہوجاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →[ 60] آگ کی نعمت کے بارے میں دعوت غور و فکر :
سو پانی کی نعمت کے بعد آگ کی نعمت کے بارے میں دعوت غور و فکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس آگ کے بارے میں بھی غور کیا جس کو تم لوگ اپنی طرح طرح کی ضرورتوں کیلئے جلاتے سلگاتے ہو۔ کیا اس کے درخت کو تم لوگوں نے اغایا ہے، یا ہم ہی اس کے اگانے والے ؟ جیسا کہ قدیم زمانے میں عرب مرخ اور عفار نامی دو درختوں کی سبز شاخوں کو رگڑ کر ان سے آگ نکالا کرتے تھے، سو یہ حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عنایت کا ایک اور عظیم الشان مظہر ہے، کہ اس نے اس طرح ہرے بھرے اور سبز درختوں میں آگ کا جوہر اس حکمت سے رکھ دیا، سبحانہ وتعالیٰ نیز اس لکڑی اور پتھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 5 مراد ہر درخت ہے جو جلانے کے کام آتا ہے یا خاص طور پر وہ درخت ہیں جن میں گرڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے جیسے عرب میں مرخ اور عفار کے درخت اور ہمارے ہاں ہانس کا درخت … مطلب یہ ہے کہ ان درختوں میں جلنے یا رگڑنے سے آگ پیدا کرنے کی یہ خاصیت کس نے رکھی ؟ تم نے یا ہم نے ؟
Read the full tafseer →(56:72) ء انتم میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔ کیا ؟
انشاتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ انشاء (افعال) بمعنی پرورش کرنا۔ پیدا کرنا۔ (کیا) تم نے پیدا کیا۔
شجر تھا : مضاف مضاف الیہ۔ شجرۃ درخت ۔ واحد مؤنث ہے۔ اس کی جمع شجرت آتی ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس کا درخت ۔ یعنی وہ آگ جس کو تم سلگاتے ہو اس کا درخت۔ (عرب دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ سلگاتے تھے ایک لکڑی کو دوسری لکڑی کے اوپر رکھتے تھے اور اس طرح رگڑ کر آگ برآمد کرتے تھے اوپر والی لکڑی کو زند اور نیچے والی کو زندہ کہتے تھے۔
شجر تھا : اس آگ کا درخت یعنی مرخ اور عقار۔ مرخ کو اوپر سے رگڑتے تھے دونوں لکڑیاں ہری ہوتی تھیں۔ دونوں کے رگڑنے سے پانی نکل آتا تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74
تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 74
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة یٰسین حاشیہ 26 صفحہ 1061۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے
Read the full tafseer →(72) تو کیا اس آگ کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
ف 6۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری قدرت سے ہے۔
Read the full tafseer →کیا اس کے درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہم ان کے پیدا کرنے والے ہیں ؟
27۔ فرمایا یہ جو درخت تمہارے جلانے کے کام آتے ہیں اور علاوہ ازیں بھی بہت سے کام تم ان سے لیتے ہو کیا تم نے ان کو پیدا کیا ہے یا ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اب کون ہے جو یہ کہے کہ میں نے درخت پیدا کیے ہیں کیونکہ پیدا کرنا تو صرف اور صرف اللہ کا کام ہے اور اس بات کو کفارِمَکّہ بھی تسلیم کرتے تھے اور آج بھی اس بات کا کوئی انکار نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی شخص ‘ کئی جماعت یا کوئی گروہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان درختوں کو یا فلاں چیز کو میں نے پیدا کیا ہے۔ { المنشون } اسم فاعل جمع مذکرالمنشیواحد انشاء پیدا کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
32 The tree here either implies the tree that supplies wood for lighting a fire, or the trees of markh and 'afar, green sticks of which were struck one against the other to produce sparks in ancient Arabia.
Read the full tafseer →