Explained with ayahs 63–74
آگ اور پانی کا خالق کون ؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 30
اس فقرے میں اللہ کی قدرت و حکمت کے ایک اہم کرشمے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو حیرت انگیز خواص رکھے ہیں، ان میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر خواہ کتنی ہی چیزیں تحلیل ہوجائیں، جب وہ حرارت کے اثر سے بھاپ میں تبدیل ہوتا ہے تو ساری آمیزشیں نیچے چھوڑ دیتا ہے، اور صرف اپنے اصل آبی اجزاء کو لے کر ہوا میں اڑتا ہے۔ یہ خاصیت اگر اس میں نہ ہوتی تو بھاپ میں تبدیل ہوتے وقت بھی وہ سب چیزیں اس میں شامل رہتیں جو پانی ہونے کی حالت میں اس کے اندر تحلیل شدہ تھیں۔ اس صورت میں سمندر سے جو بھاپیں اٹھتیں ان میں سمندر کا نمک بھی شامل ہوتا اور ان کی بارش تمام روئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…
Read the full tafseer →(لو نشاء جعلنہ اجا جاً فلولا تشکروں) (70)۔
(ربوبیت کا تقاضا)۔ یعنی ہم چاہیں تو اس پانی کو ایسا کھاری اور تلخ بنا دیں کہ یہ تمہارے کسی کام کا بھی نہ رہے۔ یعنی جب ہم ہی نے کھاری کو شیریں بنایا ہے تو ہمارے لیے کیا مشکل ہے کہ ہم پھر اس شیریں کو کھاری بنا دیں۔ (فلولا تشکرون) یہ اسی ربوبیت کا تقاضا بیان ہوا ہے کہ یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بند بنو، ورنہ اپنی نا شکری کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہو۔ دین میں شکر کا جو مقام ہے اس کی وضاحت سورة فاتحہ میں ہوچکی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی تحریک سے بندھ اپنے رب کی راہ میں پہلا قدم اٹھاتا ہے اور منزل پر پہنچنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
70-1یعنی اس احسان پر ہماری اطاعت کرکے ہمارا عملی شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
18: یعنی تمہارا کام بس اتنا ہی تو ہے کہ تم زمین میں بیج ڈال دو ، اس بیج کو پروان چڑھا کر کونپل کی شکل دینا اور اسے درخت یا کھیتی بنادینا اور اس میں تمہارے فائدے کے پھل یا غلے پیدا کرنا کیا تمہارے اپنے بس میں تھا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو تمہارے ڈالے ہوئے بیج کو یہاں تک پہنچا دیتا ہے ؟
Read the full tafseer →لو نشائ ................ اجاجا (6 5: 07) ” اگر ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں “ بس ہوا کو یہ حکم دیتا ہے کہ بادلوں میں پانی کے ساتھ نمکیات بھی لاؤ۔ پھر وہ نہ آدمیوں کے کام آتے نہ فصلوں کے۔ کوئی پروڈکشن نہ دے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
قرآن کے ابتدائی مخاطین کے لئے پانی صرف بادلوں سے آتا تھا۔ براہ راست ، یہ ان کے لئے زندگی کا بڑا مواد تھا۔ وہ اس کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ اور اس کے متعلق بات سے ان کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ بارش کے بارے میں ان کے قصائد واشعار نے ان کے اس شعور کو لازوال بنادیا ہے لیکن انسان کی تمام تر مادی ترقیات نے پانی کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی…
Read the full tafseer →4 یعنی ہم چاہیں تو میٹھے پانی کو بدل کر کھاری کڑوا بنادیں جو نہ پی سکو نہ کھیتی کے کام آئے۔ پھر احسان نہیں مانتے کہ ہم نے میٹھے پانی کے کتنے خزانے تمہارے ہاتھ میں دے رکھے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ پانی پی کر فرماتے تھے۔ " ا۔ " اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ سَقَانَاہُ عَذْبًا فُرَاتاً بِرَحْمَتِہٖ وَلَمْ یَجْعَلْہُ مِلْحًا اُجَاجًا بِذُنُوبِنَا۔ " (ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت 70{ لَوْ نَشَآئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا } ”اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کردیں“
{ فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ } ”تو تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
32 آبی بخارات تو کھاری پانی کے ہوں اور بارش کا پانی خوشگوار :۔ یہ ایک اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کرکے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں سخت کھاری اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے۔ مگر جو بارش برستی ہے اس میں کھاری پن نام کو نہیں ہوتا۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اسی طرح عرق کشید کرتے ہیں۔ ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے اور بو بھی۔ لیکن سمندر کا…
Read the full tafseer →26۔ (اور ادائے شکر کی پہلی منزل اقرار توحیدوربوبیت) (آیت) ” اجاجا “۔ اجاج سے مراد وہ کھاری پانی ہے جو نمکینی کی شدت سے تلخ ہوجائے جس سے نہ پیاس جاسکے اور نہ وہ اور کسی کام آسکے۔ ملحا زعاقا لایقدر علی شربہ (کشاف) اے زعاقا مرا لایصلح لشرب ولا زرع (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔
نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔
Read the full tafseer →اگر ہم چاہیں تو اس کو کڑوا کر ڈالیں ‘ سو تم شکر کیوں نہیں کرتے۔
اُجَاجًا : نمکین ‘ تلخ۔ (کذا فی القاموس) کہا گیا ہے : اجاج ‘ اجیج سے ماخوذ ہے۔ اجیج کا معنی ہے آگ بھڑکنا ‘ نمکین پانی بھی منہ میں سوزش کردیتا ہے ‘ اس لیے اس کو اجاج کہتے ہیں۔
فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ : انسان کو نیست سے ہست کرنا اور اس کی ہستی کو باقی رکھنا ضروری نعمت ہے ‘ ایسی نعمتوں کا تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
(68۔ 69) اچھا یہ تو بتاؤ کہ جس میٹھے اور شیریں پانی کو تم خود پیتے اور اپنے جانوروں کو پلاتے اور باغوں کو سیراب کرتے ہو مکہ والو اس شیریں پانی کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم، نہیں بلکہ ہم تم پر برسانے والے ہیں تم نہیں برساتے۔ اگر ہم چاہیں تو اس شیریں پانی کو بالکل کڑوا تلخ کردیں پھر تم اس شیریں پانی پر شکر کیوں نہیں کرتے کہ ایمان لے آؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1۔ اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ۔۔۔۔۔”المزن“ اسم جمع ہے ، بادل۔ مفرد اس کا ”مزنۃ“ ہے۔ تیسیر القرآن میں ہے :”یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور کرشمہ ہے ، سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کر کے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں ، سخت نمکین اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے ، مگر جو بارش برستی ہے اس میں نمکینی نام کو نہیں ہوتی۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دوائیوں کا ہم اس طرح عرق کشید کرتے ہیں ان میں ذائق بھی منتقل ہوتا ہے اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
لو نشاء جعلنہ اجا جا یعنی ایسا نمکین جو ورجہ نمکین ہو : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سخت کڑوا تم پینے، کا شت وغیرہ میں اس سے کوئی نفع حاصل نہیں کرتے۔ فلولا تشکرون۔ تو کیا تم اس کا شکر بجا نہیں لائو گے جس نے تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔
افرء یتم النار التی تورون۔ مجھے اس آگ کے بارے میں تو بتائو جسے تم تر درخت سے رگڑنے کے ساتھ نکالتے ہو۔ ء انتم انثا تم سبحر تھا جس درخت سے آگ جلائی جاتی ہے وہ مرخ اور عفار ہے : اس معنی میں ان کا قول ہے : ہر درخت میں آگ ہے مرخ اور عفار میں زیادہ ہے گویا ان دونوں نے اس سے وہ حصہ لیا جو انہیں کافی ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : کیونکہ یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ءانتم انزلتموہ من المزن یعنی بادل سے۔
12۔ عبد بن حمید نے حسن اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
پانی پینے کے بعد کی دعاء۔
13۔ ابن ابی حاتم نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ جب پانی پیتے تھے۔ تو فرماتے :۔
الحمد للہ الذی سقانا عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا
ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو میٹھا پانی پلایا اپنی رحمت سے اور اس کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے کڑوا نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →[لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ : اگر ہم چاہتے تو ہم بنا دیتے اس کو ][ اُجَاجًا : کڑوا ][ فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ : تو تم لوگ شکر کیوں نہیں کرتے ]
نوٹ ۔ 3: لونشاء جعلنہ اجاجا ، اس جملہ میں اللہ کی قدرت و حکمت کے ایک اہم کرشمے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو حیرت انگیز خواص رکھے ہیں ان میں ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر خواہ کتنی بھی چیزیں تحلیل ہوجائیں ، جب وہ حرارت کے اثر سے بھاپ میں تبدیل ہوتا ہے تو ساری آمیزش نیچے چھوڑ دیتا ہے ۔ اور صرف اپنے اصل آبی اجزاء کو لے ہوا میں اڑتا ہے ۔ یہ خاصیت اگر اس میں نہ ہوتی تو بھاپ میں تبدیل ہوتے وقت بھی وہ سب چیزیں اس میں شامل رہتیں ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
بارش برسانے کی نعمت :
﴿اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَؕ0068َ﴾ الایات الثلاث ان آیات میں پانی کی نعمت کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ : بتاؤ یہ پانی جو تم پیتے ہو تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں (ظاہر ہے کہ پانی کو بادل سے اتارنے میں تمہارا کوئی دخل نہیں جب بارش نہیں ہوتی تو ٹک ٹک آسان کی طرف دیکھا کرتے ہیں اور ناامید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے۔ کمافی سورة الشوریٰ ﴿ وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ يَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ 1ؕ ﴾ (اور اللہ وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش بھیجتا ہے اور اپنی رحمت کو پھیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
23:۔ ” افرایتم الماء الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ اچھا اب یہ بتاؤ کہ یہ میٹھا اور خوشگوار پانی جو تم پیتے ہو یہ بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم ہی اسے اتارتے ہیں ؟ اگر تم خود مینہ برسا سکتے ہو تو خشک سالی میں خود ہی بارش برسا لیا کرو، خدا سے کیوں دعائیں مانگتے ہو ؟ مشرکین کو اس کا بھی اعتراف تھا کہ بارش اللہ ہی برساتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو پانی کو بد مزہ اور کڑوا بنا دیں جو پینے کے قابل نہ رہے تو بتاؤ کیا تم مجھے ایسا کرنے سے روک سکتے ہو ؟ ہرگز نہیں، تو پھر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر کیوں نہیں بجا لاتے ہو ؟ اور صرف اسی ہی کو منعم و محسن اور برکات دہندہ کیوں نہیں سمجھتے ہو ؟ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل :
ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…
Read the full tafseer →لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ 70
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
أج
قال تعالی: هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] : شدید الملوحة والحرارة، من قولهم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَوْنَشَآئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا فَلَوْلاَ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 70)
(اگر ہم چاہیں تو اس کو سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر تم شکر کیوں ادا نہیں کرتے۔ )
ہم بادلوں سے زمین پر جو پانی برساتے ہیں وہ نہایت صاف ستھرا، صحت افزاء اور میٹھا ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ جس سمندر سے بھاپ بن کر اٹھتا ہے اس سمندر کے پانی میں نمک ہوتا ہے۔ وہ نہ پینے کے قابل ہوتا ہے اور نہ اس سے زمین کی سیرابی ہوسکتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بھاپ میں یہ خاصیت نہ رکھتا کہ وہ ساری آمیزشیں نیچے چھوڑ دے اور صرف اصل آبی اجزاء کو لے کر ہوا میں اڑے۔ تو ایسا پانی زمین پر برسنے کے بعد زمین کو زمین شور میں تبدیل کردیتا۔ نہ کسی قسم کی نباتات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
فہم القرآن
ربط کلام : کھیتی کا ذکر کرنے کے بعد پانی کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ اپنی ذات کی طرف مرکوز کروانے کے لیے ایک دفعہ پھر ار شاد فرمایا ہے کہ غور تو کرو ! کہ جو پانی تم پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم نے اسے نازل کیا ہے ؟ اگر ہم چاہیں تو اس پانی کو کھارا بنادیں تو پھر تم اسے کس طرح میٹھا بنا سکتے ہو ؟ لیکن اس کے باوجود تم شکر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم آسمان سے بارش نازل کرتے ہیں اور بارش کے ذریعے باغات، نباتات اور کھیتیاں اگاتے ہیں۔ یہ بات عرض ہوچکی ہے کہ سورج کی تپش سے سمندر کا پانی بخارات کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے۔…
Read the full tafseer →70 : لَوْ نَشَآ ئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا (اگر ہم چاہیں تو اس کو کڑوا کر ڈالیں) اُجاجاؔ نمکین یا کڑوا جو پیا نہ جاسکے۔ فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ (پس تم شکر کیوں نہیں کرتے)
ایک لطیف تحقیق :
لولا یہ ھلا کے معنی میں ہے لو کے جواب میں لجعلناہ حطامًا میں لام لگائی گئی ہے۔ جبکہ یہاں لام نہیں لگائی گئی کیونکہ لو جب دو جملوں پر داخل ہو تو دوسرا جملہ پہلے کے ساتھ اس طرح معلق ہوگیا جیسے جزاء شرط سے معلق ہوتی ہے۔ یہ اِنؔ کی طرح خاص شرط کیلئے نہیں اور نہ اس طرح عمل کرنے والا ہے۔ پس اس میں شرط کا معنی تو اتفاقاً سرایت کرگیا اس لئے کہ اس سے دونوں جملوں کے مضمون میں فائدہ تھا اور دوسرے جملہ میں ممانعت تو پہلے…
Read the full tafseer →ء انتم انزلتموہ من المزن “ بادلوں سے اس کا واحد ” مزنۃ “ ہے۔ ” ام نحن المنزلون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکتا (فلو لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
[ 59] میٹھے پانی کی نعمت محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم :
سو اس نعمت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل کڑوا بنا کر رکھ دیں۔ جو نہ تمہارے پینے کے کام آسکے، اور نہ تمہاری کھیتی باڑی کے، اور صرف یہی نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ کھاری پانی تمہاری زمین کو کلر اور شور بنا دے، جس سے کچھ پیدا ہی نہ ہوسکے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میٹھے پانی کا یہ عطیہ جو قدرت نے نہایت ہی پُر حکمت طریقے سے اپنی مخلوق کو بخشا ہے، کس قدر عظیم الشان عطیہ ہے، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب پانی پیتے تو یوں دعا فرماتے " الحمد للّٰہ الذی سقانا عذبًا فراتًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ف 4 مسند ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت جب پانی نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے ” الحمد للہ الذی شقانا عذبنا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحاً اجاجاً بذنوبنا حمد ہے اس اللہ کے لئے جس نے اپنی رحمت سے ہمیں شیریں اور خوشگوار پانی پلایا اور اسے ہمارے گناہوں کی وجہ سے کھاری اور تلخ نہیں بنایا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(56:70) لو نشاء جملہ شرطیہ ہے۔ جعلنہ اجاجا جواب شرط۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب المزن کی طرف راجع ہے۔ اجاجا مفعول ثانی جعلنا کا سخت گرم اور سخت کھاری پانی ۔ اج ج مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج (25:53) ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا۔ اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا۔
یہ اجاج : اجیج النار (شعلہ نار یا اس کی شدید تپش اور حرارت) واج تھا وقد اجت (میں نے آگ بھڑکائی اور ہو بھڑک اٹھی) وغیرہ محاورات سے ماخوذ ہے۔
فلولا : فہلا پھر کیوں نہیں ۔سببیہ ہے ۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 57 متذکرہ الصدر۔
تشکرون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ شکر (باب نصر) مصدر سے۔ تم شکر کرتے ہو۔ تم احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74
تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 74
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة یٰسین حاشیہ 26 صفحہ 1061۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے
Read the full tafseer →(70) اگر ہم چاہیں تو اس بارش کے پانی کو کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں بجا لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
ف 6۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری قدرت سے ہے۔
Read the full tafseer →اگر ہم چاہیں تو اس پانی کھو کھاری بنادیں لیکن تم لوگ شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟
07۔ غور کرو کہ بارش جیسا کہ پیچھے اس کی وضاحت گزر چکی ہے اس زمین پر برسائے گئے پانی سے اور سمندروں اور جوہڑوں سے پانی اٹھا کر برسائی جاتی ہے اور پھر غور کرو کہ سمندر کا پانی کتنا کھاری اور کتنا کڑوا ہوتا ہے لیکن بارش کے پانی میں کڑواہٹ اور کھاری پن کا شائبہ تک نہیں ہوتا ‘ وہ کون ہے جس نے اس پانی کو بھاپ بناتے وقت اس کی کھار اور کڑواہٹ کو اس پانی سے جدا کردیا اور اس میں اس قسم کی ہیک (Smell) اور بو وباس بھی نہیں رہنے دی۔ یہ پانی نہایت صاف اور شفاف ہوتا ہے اور بالکل میٹھا اور پانی کا اصل ذائقہ اس میں پایا جاتا ہے۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…
Read the full tafseer →30 In this sentence an important manifestation of Allah's power and wisdom has been pointed out. Among the wonderful properties that Allah has created in water one property also is that no matter what different substances are dissolved in water, when it changes into vapour under the effect of heat, it leaves behind aII adulterations and evaporates only with its original and actual component elements. Had it not possessed this property the dissolved substances also would have evaporated along with the water vapours. In this case the vapours that arise from the oceans would have contained the…
Read the full tafseer →