Al-Waaqia 56:64

Al-Waaqia · from ayah 64

56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ۟ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ

تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Is it you who makes it grow, or are We the grower?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:64

اِن سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا اُن کے اگانے والے ہم ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو کیا اُس (سے کھیتی) کو تم اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تم اسے اگاتے ہو، یا ہم ہی اگانے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اس سے کھیتی تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کو تم پروان چڑھاتے ہو یا پروان چڑھانے والے ہم ہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ اس کو اگاتے ہو یا ہم ہی ہیں اس کے اگانے (اور پیدا کرنے) والے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اس اسے تم اگاتے ہو یا (اس کے) اگانے والے ہم ہیں۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Is it you or We Who make them grow?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it you who grow it, or are We the One who grows?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it you who grow it, or are We the One who grows?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it you that make it grow, or are We the Grower

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is it ye who foster it, or are We the Fosterer?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Is it you who makes it grow, or are We the grower?

— Saheeh International

Do you make it grow or is it We who make it grow?

— Muhammad Sarwar

Is it you that cause it to grow, or are We the causers of growth?

— Muhammad Habib Shakir

Cause it ye to grow, or are We the Grower?

— Abdul Majid Daryabadi

Is it ye that cause it to grow, or are We the Cause?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–74

آگ اور پانی کا خالق کون ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الْوَاقِعَة 28 اوپر کا سوال لوگوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلا رہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساختہ و پرداختہ ہو اور اسی کی تخلیق سے وجود میں آئے ہو۔ اب یہ دوسرا سوال انہیں اس دوسری اہم حقیقت کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ جس رزق پر تم پلتے ہو وہ بھی اللہ ہی تمہارے لیے پیدا کرتا ہے۔ جس طرح تمہاری پیدائش میں انسانی کوشش کا دخل اس سے زائد کچھ نہیں ہے کہ تمہارا باپ تمہاری ماں کے اندر نطفہ ڈال دے، زمین، جس میں یہ کاشت کی جاتی ہے، تمہاری بنائی ہوئی نہیں ہے۔ اس زمین کو روئیدگی کی صلاحیت تم نے نہیں بخشی ہے۔ اس میں وہ مادے جن سے تمہاری غذا کا سامان بہم پہنچتا ہے، تم نے فراہم نہیں کیے ہیں۔ اس کے اندر جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–72

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

(افریتم ما تحرثون انتم تزوعونہ ام نحن الزعون) (63، 64) (وسائل ربوبیت سے جزاء پر استدلال)۔ انسان کی خلقت کے بعد یہ ان وسائل ربوبیت کی طرف توجہ دلائی جو رب کریم نے اس کی پرورش کے لیے مہیا فرمائے ہیں اور جن کے مہیا ہونے میں نہ انسان کی تدبیر کو کوئی دخل ہے نہ اس کے کسی استحقاق کو یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بلا استحقاق جو نعمتیں بخشی ہیں ان کو قرآن نے مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ جزاء و سزا کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ ان کا بلا کسی حق کے عطا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک دن ہر نعمت کے باب میں لوگوں سے پرسش ہونی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی جگہ جگہ واضح فرمائی ہے کہ یہ نعمتیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–65

62-1یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–71

18: یعنی تمہارا کام بس اتنا ہی تو ہے کہ تم زمین میں بیج ڈال دو ، اس بیج کو پروان چڑھا کر کونپل کی شکل دینا اور اسے درخت یا کھیتی بنادینا اور اس میں تمہارے فائدے کے پھل یا غلے پیدا کرنا کیا تمہارے اپنے بس میں تھا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو تمہارے ڈالے ہوئے بیج کو یہاں تک پہنچا دیتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 63–67

افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا ” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “ یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 63–64

1 یعنی بظاہر بیج زمین میں تم ڈالتے ہو لیکن زمین کے اندر اس کی پرورش کرنا پھر باہر نکال کر ایک لہلہاتی کھیتی بنادینا کس کا کام ہے اس کے متعلق تو ظاہری اور سطحی دعویٰ بھی تم نہیں کرسکتے کہ ہماری تیار کی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 64{ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ } ”کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟“ یہاں ہماری زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ آجانے چاہئیں : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ ! کہ نہیں ! اے ہمارے پروردگار ! اسے تو ہی اگاتا ہے ‘ اس میں ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں ! علامہ اقبال کی نظم اَلْاَرْضُ لِلّٰہ کے درج ذیل اشعار میں ان ہی آیات کے اسلوب اور مضمون کی جھلک نظر آتی ہے : ؎ پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟ کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟ کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار ؟ خاک یہ کس کی ہے ‘ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟ کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب ؟ موسموں کو کس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–64

30 زمین کے پیٹ میں بیج کے تخلیقی مراحل :۔ یعنی تمہارا کام صرف زمین میں بیج ڈالنا ہے پھر اس کے بعد زمین کی تاریکیوں میں اس بیج پر جو تخلیقی مراحل آتے ہیں یا جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کا نہ تمہیں علم ہے اور نہ ان میں کچھ تمہارا عمل دخل ہے۔ دانہ سے نازک سی کونپل کیسے بنتی ہے ؟ پھر اس نازک سی کونپل میں اتنا زور کہاں سے آتا ہے کہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے بیج بےجان اور مردہ تھا۔ اس سے جاندار نباتات پیدا ہوگئی جو پھلتی پھولتی اور بڑھتی ہے اور تمہارے لیے رزق کا سامان مہیا کرتی ہے اب دیکھئے لاکھوں کی تعداد میں مردہ بیج زمین کے پیٹ میں دفن کیے جاتے ہیں۔ پھر اسی زمین کے قبرستان سے وہی مردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–64

23۔ زمین میں یہ صلاحیت رکھنا کہ دانہ کو نشوونما دے سکے۔ دانہ میں یہ استعداد کہ مٹی سے نموحاصل کرسکے، گرمی، روشنی، ہوا، پانی وغیرہ سے استفادہ کی قابلیت، ان سب کو قوت سے فعل میں لانا، وقت مناسب پر مقدار مناسب میں بارش، اوقات مقرر پر مقدار مقرر میں آفتاب کی تابش، غرض نظام زراعت کی ساری عظیم الشان مشینری کو حرکت میں لانا بندہ کی قدرت میں ہے یا اللہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ء انتم تزرعونہ ام نحن الزرعون پہلا سوال لوگوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا رہا تھا کہ تم از خود پیدا نہیں ہوگئے بلکہ اللہ کے ساختہ پرداختہ ہو اور اس کی تخلیق سے وجود میں آئے ہو، اب یہ دوسرا سوال ایک دوسری اہم حقیقت کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ جس رزق پر تم پلتے ہو وہ بھی اللہ ہی تمہارے لئے پیدا کرتا ہے جس طرح تمہاری پیدائش میں انسانی کوشش کا دخل اس سے زائد کچھ نہیں کہ تمہارا باپ تمہاری ماں کے رحم میں نطفہ ڈالدے اسی طرح تمہارے رزق کی پیداوار میں بھی انسان کی کوشش کا دخل اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ کسان زمین میں بیج ڈالدے، زمین جس میں کسان بیچ ڈالتا ہے تمہاری بنائی ہوئی نہیں ا ہے اس کے اندر جو بیج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اس کو تم اُگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗ : کیا تم ان کو اگاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 63–67

(63۔ 67) اچھا یہ بتاؤ کہ تم جو بیج بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں اگر ہم چاہیں تو اس کھیتی کو سرسبز ہونے کے بعد پھر اس کو خشک کردیں پھر تم اس کے خشک ہونے اور اس کی ہلاکت سے حیران ہو کر رہ جاؤ اور کہنے لگو کہ ہماری کھیتیاں تباہ ہو کر رہ گئیں ہم تباہ ہوگئے، بلکہ ہم تو اس کے منافع سے بالکل ہی محروم رہ گئے یا یہ کہ آپس میں لڑنے لگو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 63–64

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۔۔۔۔۔: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کی زبردست دلیل بیان ہوئی ہے ، یعنی یہ بتاؤ کہ وہ کھیت جس کا بیج تم زمین میں دفن کر کے آجاتے ہو ، کیا اسے زمین سے تم نکالتے اور بڑھاتے ہو، حتیٰ کہ وہ کھانے کے قابل ہوجاتا ہے ، جس پر تمہاری زندگی کا دارومدار ہے ، یا اسے اگانے والے ہم ہیں ؟ اس کا جواب اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ اے ہمارے رب ! یہ تیری ہی کام ہے، یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ تو ہر عقل مند کہے گا کہ جس نے اس بیج سے جو زمین کی تہہ میں گل سڑ چکا تھا ، اناج سے بھرے ہوئے یہ خوشے اگا دیئے ، وہ تمہیں بھی مرنے کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–65

( افرء یتم ما تحرثون۔۔۔۔۔۔۔۔ ) افرء یتم ما تحرثون۔ یہ دوسری دلیل ہے مجھے اس چیز کے بارے میں بتائو : جو تم اپنی زمین میں کاشت کرتے ہو تم اس میں بیچ ڈالتے ہو تم اسے کاشت کرتے ہو اور اس سے کھیتی حاصل کرتے ہو تو اس میں بالی اور دانہ بن جاتا ہے یا ہم یہ سب کچھ کرنے والے ہیں تمہارا کام بیج ڈالنا اور زمین پھاڑنا ہے جب تم اس کا اقرار کرتے ہو کہ دانے سے بالی کا نکالنا تمہارے بس میں نہیں تو تم زمین سے مردوں کو نکالنے اور انہیں دوبارہ اٹھانے سے انکار کرتے ہو۔ حرث کی نسبت ان کی طرف کی اور زرع کی نسبت اللہ تعالٰ کی طرف کی کیونکہ حرث ان کا فعل ہے اور ان کے اختیار پر جاری ہوتا ہے اور زرع اللہ تعالیٰ کا فعل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

7۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ء انتم تزرعونہ “ سے مراد ہے کیا تم اس کو اگاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ: کیا تم لوگ اگاتے ہو اس کو ][ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ : یا ہم اگانے والے ہیں ] اسی طرح آیت ۔ 64 ۔ کا ظاہر استدلال تو توحید کے حق میں ہے مگر اس میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس پر آدمی اگر تھوڑا سا غور کرے تو اسی کے اندر آخرت کی دلیل بھی مل جاتی ہے ۔ جو بیج زمین میں بویا جاتا ہے وہ مردہ ہوتا مگر زمین کی قبر میں جب کسان اسے دفن کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اندر وہ نباتی زندگی پیدا کردیتا ہے جس سے لہلہاتی کھیتیاں شان دکھاتی ہیں ۔ یہ بیشمار مردے آئے دن ہماری آنکھوں کے سامنے اپنی اپنی قبروں سے جی جی کر اٹھ رہے ہیں ۔ یہ کیا کچھ کم معجزہ ہے کہ کوئی شخص اس دوسرے معجزے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–67

کھیتی اگانے کی نعمت : ﴿اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ0063﴾ (الایات الخمس) (ان آیات میں کھیتی کا تذکرہ فرمایا جو عام انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، ارشاد فرمایا کہ تم جو کھیتی کرتے ہو یعنی ہل یا ٹریکٹر چلا کر زمین کو نرم کرتے ہو پھر اس میں بیج ڈالتے ہو اس کے بارے میں یہ بتاؤ کہ بیج ڈالنے کے بعد کھیتی کو کون اگاتا ہے ؟ تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ یعنی تم تو بیج ڈال کر فارغ ہوجاتے ہو، اب کھیتی کا اگانا ہمارا کام ہے، اگائیں یا نہ اگائیں ہمیں اختیار ہے پھر اگر کھیتی نکل بھی آئی تو اس میں دانے نکلنے تک اس کا بڑھنا ضروری نہیں پہلے بھی ہلاک ہوسکتی ہے اور اگر کھیتی پوری ہوگئی بالیں نکل آئیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–67

22:۔ ” افرایتم ما تحرثون “۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اب یہ بتاؤ یہ جو تم زمین میں ہل چلا کر بیج ڈال دیتے ہو کیا ان دانوں سے سر سبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت تم خود ہی پیدا کرلیتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ اگر تمہارے اختیار میں ہو تو تم کوئی موسم نہ دیکھو اور ہر وقت ہی ہر چیز اگاتے رہو۔ مشرکین کو اس کا بھی اقرر تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اگاتا ہے اور وہی کھیتوں اور باغوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو لہلہاتے کھیتوں کو ناگہانی آفتوں سے چورہ کر کے رکھدیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو مارے گئے، بلکہ سال بھر کی روزی سے بھی محروم ہوگئے۔ التف کہ التکلم فیما لایعنیک (قرطبی ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ۝ 64 زرع الزَّرْعُ : الإنبات، وحقیقة ذلک تکون بالأمور الإلهيّة دون البشريّة . قال : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] ( ز ر ع ) الزرع اس کے اصل معنی انبات یعنی اگانے کے ہیں اور یہ کھیتی اگانا در اصل قدرت کا کام ہے اور انسان کے کسب وہنر کو اس میں دخل نہیں اسی بنا پر آیت کریمہ : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] بھلا بتاؤ کہ جو تم بولتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہیں ۔ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–74

1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–64

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَـہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 63، 64) (کبھی تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم بوتے ہو۔ اس کی کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں۔ ) نظامِ ربوبیت سے استدلال انسان کی خلقت سے استدلال کرنے کے بعد انھیں اس بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ جس طرح تمہارا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے اسی طرح تمہاری بقاء کا سامان جس غذا سے ہورہا ہے وہ بھی اس رب کریم کی ربوبیت کا فیضان ہے۔ اور اس میں بھی نہ اس رب کریم کے ساتھ کوئی شریک ہے اور نہ کسی اور کی قدرت میں ہے کہ وہ غذا کا سامان بہم پہنچاسکے۔ جس طرح انسان کی تخلیق میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–67

فہم القرآن ربط کلام : اللہ ہی انسان کو پیدا کرتا اور موت دیتا ہے اور وہی بیج سے کھیتی پیدا کرتا ہے۔ بیج اور کھیتی کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور موت کا حوالہ دے کر سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ اب بیج اور کھیتی کی مثال دے کر انسان کو اپنے خالق ہونے اور قیامت کے دن زندہ کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ ارشاد ہوا جو بھی تم بوتے ہو اس پر غور کرو کہ کیا اس سے فصل تم اگاتے ہو یا ہم اسے اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو بیج کو زمین میں ہی ناکارہ کردیں، اگر ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

64 : ئَ اَنْتُمْ تَزْ رَعُوْنَہٗ (کیا تم اس کو اگاتے ہو) تم اس کو اگا کرنبات کی شکل میں لوٹاتے ہو۔ اَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ (یا ہم اس کو اگاتے ہیں) زارع : اگانے والے۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا : لا یقولن احدکم زرعت و لیقل حرثت۔ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے میں نے اگایا بلکہ کہے میں نے کھیتی بوئی۔ ] رواہ ابن حبان : 5723، البیہقی 6/138[

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–74

63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–64

یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انہیں اپنی توحید اپنی عبادت اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کرکے انہیں نعمتوں سے نوازا ہے اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کرسکتے۔ پس فرمایا (ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ) یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے کیا تم نے اس کی نشونما دی ہے ؟ کیا تم ہو جنہوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–67

[ 55] پہلی پیدائش دوسری پیدائش کا ثبوت اور اس کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکریں کے دلوں پر دستک اور ان کو دعوت غور وفکر دیتے ہوئے اور شاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہو تو پھر تم سبق کیوں نہیں لیتے ؟ کہ جو خدا اس حیرت انگیز طریقے سے پہلی بار پیدا کرسکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، سو اس میں قیاس کی صحت کی دلیل موجود ہے، کہ یہاں دوسری پیدائش پر قیاس کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، [ حاشیہ مع البیان، وغیرہ ] سو جو خالق اپنی قدرت و حکمت سے تمہیں اس دنیا میں لایا ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے، اور اس کی حکمت و ربوبیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–64

ف 3 یعنی بظاہر زمین میں بیج تم ڈالتے ہو لیکن اسے زمین کے اندر پرورش کرنا اور پھر باہر نکال کر اسے لہلہاتی کھیتی میں تبدیل کرنا کس کا کام ہے ؟ کیا تم دعویٰ کرسکتے ہو کہ یہ تمہاری محنت اور تدبیر کا نتیجہ ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ ہی کام ہمیں کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:64) ء انتم تزرعونہ جملہ استفہامیہ انکاری ہے تزرعون مضارع جمع مذکر حاضر زرع (باب فتح) مصدر سے (تم اگاتے ہو) ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ما موصولہ کے لئے ہے۔ حرث دانہ کو زمین میں بکھیرنا۔ بونا ۔ زرع : زمین میں بکھرے ہوئے یا بوئے ہوئے دانہ کا اگانا۔ اس کی پرورش کرکے اس کو بڑھانا۔ اور اس کی غایت تک اس کو پہنچانا۔ آدمی کا کام محض بونا ہے اور اس کو اگانا۔ اس کی پرورش کرنا خدا تعالیٰ کے اختیار و قدرت میں ہے ام بمعنی بل یعنی بوئے ہوئے دانہ کو اگانا۔ پرورش کرکے اس کی غایت تک لے جانا ہماری قدرت میں ہے اس کی زراعت تم نہیں کرتے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلینظر الانسان الی طعامہ انا صببنا الماء صبا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–74

(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–74

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(64) اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اس کے اگانے والے ہیں۔ یعنی زمین میں جو تخم ریزی کرتے ہو پھر بتائو کہ اس کو اگاتا کون ہے اور نباتات کا نمو کون کرتا ہے تم یا ہم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ 64۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا ان بیجوں کو اگانا بھی تمہار اختیار میں ہے ؟ تم کسی دہقان اور کسی کاشتکار سے اب بھی پوچھ کر دیکھ لو وہ تم کو یہی کہے گے کہ یہ بات تو اللہ کے اختیار میں ہے اور اللہ ہی ان بیجوں کو اگاتا اور ان پر پھل پھول لگاتا ہے اور یہ اس کی کرشمہ سازی ہے کہ وہ ہم کو ایک من سینکڑوں من غَّلہ عطا کردیتا ہے۔ غور کرو کہ ایک دہقان کی توجہ بھی کس طرح عقل و فکر کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے کہ جتنی عقل اللہ نے تم کو دی ہے اس سے کام لے کر ذرا تم یہ تو بتائو کہ تمہارے اس بوئے ہوئے بیج کو اگاتا کون ہے ؟ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور وقوع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–72

was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

28 The above question drew the people's attention to the truth that they have been developed and nourished by Allah Almighty and have come into being by His act of creation. Now this second question draws their attention to this important truth that the provisions which sustain them, are also created only by Allah for them, as if to say: "Just as in your own creation human effort has nothing more to do than that your father may cast the sperm in your mother, so in the supply of the provisions for you also human effort has nothing more to do than that the farmer should sow the seed in the…

Read the full tafseer →