Explained with ayahs 63–74
آگ اور پانی کا خالق کون ؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
سورة الْوَاقِعَة 29
یعنی تمہاری بھوک مٹانے ہی کا نہیں، تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے۔ یہ پانی، جو تمہاری زندگی کے لیے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے، تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم فراہم کرتے ہیں۔ زمین میں یہ سمندر ہم نے پیدا کیے ہیں۔ ہمارے سورج کی گرمی سے ان کا پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے۔ ہم نے اس پانی میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ ایک خاص درجہ حرارت پر وہ بھاپ میں تبدیل ہوجائے۔ ہماری ہوائیں اسے لے کر اٹھتی ہیں۔ ہماری قدرت اور حکمت سے وہ بھاپ جمع ہو کر بادل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہمارے حکم سے یہ بادل ایک خاص تناسب سے تقسیم ہو کر زمین کے مختلف خطوں پر پھیلتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…
Read the full tafseer →(لو نشاء لجعلنہ حطاما فظلتم تفکھون (65)۔ یعنی اس معاملے میں تمہاری بےبسی تو اس بات سے واضح ہے کہ ہم چاہیں تو تمہاری ہری بھری فصل کو، عین اس وقت جب کہ تم اپنی شاندار کامیابی پر پھولے نہ سما رہے ہو، کوئی باد تند بھیج کر یا ژالہ باری کر کے چشم زدن میں بالکل ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیں، پھر تم باتیں ہی بناتے رہ جائو۔ لفظ (قفکھون) یہاں بطور طنز استعمال ہوا ہے، یعنی ایسی بد حواسی طاری ہو کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے کہ اس حادثہ کی کیا توجیہ کرے اور اپنے نقصان کا اندازہ دوسروں کو کس طرح کرائے، کوئی کچھ کہے کوئی کچھ آگے اس کی تفصیل آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
62-1یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
18: یعنی تمہارا کام بس اتنا ہی تو ہے کہ تم زمین میں بیج ڈال دو ، اس بیج کو پروان چڑھا کر کونپل کی شکل دینا اور اسے درخت یا کھیتی بنادینا اور اس میں تمہارے فائدے کے پھل یا غلے پیدا کرنا کیا تمہارے اپنے بس میں تھا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو تمہارے ڈالے ہوئے بیج کو یہاں تک پہنچا دیتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا
” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “
یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
2 یعنی کھیتی پیدا کرنے کے بعد اس کا محفوظ اور باقی رکھنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ ہم چاہیں تو کوئی آفت بھیج دیں جس سے ایک دم میں ساری کھیتی تہس نہس ہو کر رہ جائے پھر تم سر پکڑ کر روؤ اور آپس میں بیٹھ کر باتیں بنانے لگو کہ میاں ہمارا تو بڑا بھاری نقصان ہوگیا۔ بلکہ سچ پوچھو تو بالکل خالی ہاتھ ہوگئے۔
Read the full tafseer →آیت 65{ لَـوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا } ”اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں“
اگر ہم چاہیں تو کسی آسمانی آفت ‘ طوفان ‘ جھکڑ یا ژالہ باری سے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لہلہاتی فصلوں کو برباد کر کے رکھ دیں۔
{ فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُوْنَ } ”پھر تم بیٹھے رہو باتیں بناتے ہوئے۔“
Read the full tafseer →31 بیج پر ممکنہ آفات :۔ اس کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ شور پیدا کردے اور نسل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے یا کسی ارضی یا سماوی آفت مثلاً کہر، شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشوونما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑجائیں۔ تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے ؟ اور اگر تم خود بھی اللہ تعالیٰ کی ہی مہربانی سے پیدا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمہیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمہاری اکڑ اور سرتابی کا مطلب ؟ اس صورت میں تم باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
24۔ یعنی سارا سرمایہ نقصان میں آگیا بلکہ سارا ہی گیا گزرا ہوا۔ (آیت) ’ لجعلنہ حطاما “۔ یعنی ہم چاہیں تو اسی پیدوار کو چورا چور کردیں یا مثل سوکھے ہوئے بھوسہ کے ریزہ ریزہ کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔
نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔
Read the full tafseer →اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو چورا چورا کردیں پھر تم متعجب ہو کر رہ جاؤ گے۔
حُطَاماً : عطاء نے کہا : حطام وہ تنکے جس میں گیہوں نہ ہوں۔ بعض نے کہا وہ بھوسہ جو کسی غذائی کام کا نہیں ہوتا۔
تَفَکَّھُوْنَ : یعنی کھیتی پر نازل ہونے والی آفت سے تم تعجب میں پڑجاتے ہو۔ یہ ترجمہ عطاء اور کلبی اور مقاتل نے کیا۔ بعض نے کہا : تفکھون یعنی اپنی محنت اور کھیتی پر صرف ہونے والے روپیہ پر پشیمان ہوتے ہو یہ ایمانؔ کا قول ہے لیکن حسن نے کہا : اس گناہ پر پشیمان ہوتے ہو جو اس سزاکا موجب ہوا۔ عکرمہ نے کہا : تم باہر ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہو ‘ ابن کیسان نے کہا : تم غمگین ہو جاے ہو۔
کسائی نے کہا : تفکّہ ‘ فوت شدہ چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
(63۔ 67) اچھا یہ بتاؤ کہ تم جو بیج بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں اگر ہم چاہیں تو اس کھیتی کو سرسبز ہونے کے بعد پھر اس کو خشک کردیں پھر تم اس کے خشک ہونے اور اس کی ہلاکت سے حیران ہو کر رہ جاؤ اور کہنے لگو کہ ہماری کھیتیاں تباہ ہو کر رہ گئیں ہم تباہ ہوگئے، بلکہ ہم تو اس کے منافع سے بالکل ہی محروم رہ گئے یا یہ کہ آپس میں لڑنے لگو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
1۔ لَوْنَشَآئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا۔۔۔۔۔:”حطاما“”حطم یحطم حطما“ (ض) (توڑنا) سے مشق ہے ، بمعنی ”محطوم“ ، جیسے ”فتاتا“ ”فت“ سے اور ”جذاذا“ ”جذ“ سے مشتق ہے۔ سب کا معنی ”ریزہ ریزہ کیا ہوا“ ہے۔ ”فظلتم“ اصل میں باب ”سمع“ سے ”فظلتم“ ہے ، پہلا لام تخفیف کے لیے حذف کردیا ہے۔ (دیکھئے طہٰ : 97)”تفکھون“ اصل میں ’ ’ تتفکھون“ ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی ہے۔ ”تفکۃ“ کا اصل معنی ”ایک پھل سے دوسرے پھل کی طرف منتقل ہونا“ ہے ، پھر ایک بات سے دوسری کی طرف منتقل ہونے میں بھی استعمال ہونے لگا ہے۔ یہاں کھیتی برباد ہونے کے بعد طرح طرح کی باتیں کرنا مراد ہے۔ ”مغرمون“ غرم ، تاوان اور چٹی کو کہتے ہیں ، باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
( افرء یتم ما تحرثون۔۔۔۔۔۔۔۔ )
افرء یتم ما تحرثون۔ یہ دوسری دلیل ہے مجھے اس چیز کے بارے میں بتائو : جو تم اپنی زمین میں کاشت کرتے ہو تم اس میں بیچ ڈالتے ہو تم اسے کاشت کرتے ہو اور اس سے کھیتی حاصل کرتے ہو تو اس میں بالی اور دانہ بن جاتا ہے یا ہم یہ سب کچھ کرنے والے ہیں تمہارا کام بیج ڈالنا اور زمین پھاڑنا ہے جب تم اس کا اقرار کرتے ہو کہ دانے سے بالی کا نکالنا تمہارے بس میں نہیں تو تم زمین سے مردوں کو نکالنے اور انہیں دوبارہ اٹھانے سے انکار کرتے ہو۔ حرث کی نسبت ان کی طرف کی اور زرع کی نسبت اللہ تعالٰ کی طرف کی کیونکہ حرث ان کا فعل ہے اور ان کے اختیار پر جاری ہوتا ہے اور زرع اللہ تعالیٰ کا فعل…
Read the full tafseer →8۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فظلتم تفکہوں، (پھر تم متعجب ہو کر رہ جاؤ) یعنی تم تعجب کرنے لگو۔
9۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فظلتم تفکہوں سے مراد ہے کہ پھر تم ندامت کا اظہار کرتے رہو۔
Read the full tafseer →[لَوْ نَشَاۗءُ : اگر ہم چاہتے ][ لَجَعَلْنٰهُ : تو ہم ضرور کردیتے اس کو ][ حُطَامًا : روندا ہوا ][ فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ : تو تم رہ جاتے پیشمان ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
کھیتی اگانے کی نعمت :
﴿اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ0063﴾ (الایات الخمس) (ان آیات میں کھیتی کا تذکرہ فرمایا جو عام انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، ارشاد فرمایا کہ تم جو کھیتی کرتے ہو یعنی ہل یا ٹریکٹر چلا کر زمین کو نرم کرتے ہو پھر اس میں بیج ڈالتے ہو اس کے بارے میں یہ بتاؤ کہ بیج ڈالنے کے بعد کھیتی کو کون اگاتا ہے ؟ تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ یعنی تم تو بیج ڈال کر فارغ ہوجاتے ہو، اب کھیتی کا اگانا ہمارا کام ہے، اگائیں یا نہ اگائیں ہمیں اختیار ہے پھر اگر کھیتی نکل بھی آئی تو اس میں دانے نکلنے تک اس کا بڑھنا ضروری نہیں پہلے بھی ہلاک ہوسکتی ہے اور اگر کھیتی پوری ہوگئی بالیں نکل آئیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
22:۔ ” افرایتم ما تحرثون “۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اب یہ بتاؤ یہ جو تم زمین میں ہل چلا کر بیج ڈال دیتے ہو کیا ان دانوں سے سر سبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت تم خود ہی پیدا کرلیتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ اگر تمہارے اختیار میں ہو تو تم کوئی موسم نہ دیکھو اور ہر وقت ہی ہر چیز اگاتے رہو۔ مشرکین کو اس کا بھی اقرر تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اگاتا ہے اور وہی کھیتوں اور باغوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو لہلہاتے کھیتوں کو ناگہانی آفتوں سے چورہ کر کے رکھدیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو مارے گئے، بلکہ سال بھر کی روزی سے بھی محروم ہوگئے۔ التف کہ التکلم فیما لایعنیک (قرطبی ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل :
ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…
Read the full tafseer →لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّہُوْنَ 65
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
شاء
والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
لَوْنَشَآئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَـکَّھُوْنَ ۔ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 65 تا 67)
(ہم چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کردیں، اور تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی۔ بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہے۔ )
یعنی اس معاملے میں انسان کی بےبسی کا حال تو یہ ہے کہ وہ جس بیج کو کاشت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور رحمت سے پروان چڑھتا اور کھیتی کی صورت میں لہلہانے لگتا ہے۔ اگر اسے کوئی افتاد پہنچ جائے تو انسان اس کو بچانے پر قادر نہیں۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اگر چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کردیں۔ جس وقت تمہارا یہ حال ہو کہ تم کھیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ ہی انسان کو پیدا کرتا اور موت دیتا ہے اور وہی بیج سے کھیتی پیدا کرتا ہے۔ بیج اور کھیتی کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور موت کا حوالہ دے کر سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ اب بیج اور کھیتی کی مثال دے کر انسان کو اپنے خالق ہونے اور قیامت کے دن زندہ کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ ارشاد ہوا جو بھی تم بوتے ہو اس پر غور کرو کہ کیا اس سے فصل تم اگاتے ہو یا ہم اسے اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو بیج کو زمین میں ہی ناکارہ کردیں، اگر ہم…
Read the full tafseer →65 : لَوْنَشَآ ئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا (اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو چورا چورا کردیں) پکنے سے قبل ہی ریزہ ریزہ تنکے تنکے کردیں۔ فَظَلْتُمْ تَفَکَّھُوْنَ (پھر تم متعجب ہوکررہ جائو) تعجب میں پڑجائو یا اپنی تھکاوٹ و خرچ کے رائیگاں جانے پر شرمندہ ہوجائو۔ نمبر 3۔ اس گناہ پر پشیمان ہوتے ہو جو اس سزا کا باعث بنا۔
Read the full tafseer →64 ۔” ء انتم تزرعونہ “ تم اس کو اگاتے ہو۔ ” ام نحن الزارعون “ اگانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
(لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰهُ ) اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔ یعنی یہ کاشت کی کئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو (حطاما) ریزہ ریزہ کیا گیا چورا۔ جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ یہ رزق کام دیتا ہے یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے اس کے عبد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے پھر تم ہوجاتے (تفکھون) ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہونے والے جو تم پر نازل ہوئی تمہاری ساری فرحت اور مسرت اور لذت زائل ہوجاتی اور تم کہہ اٹھتے۔ (انا لمغرمون) کہ بلا شبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی جس نے ہمیں ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
[ 55] پہلی پیدائش دوسری پیدائش کا ثبوت اور اس کی دلیل :
سو ارشاد فرمایا گیا اور منکریں کے دلوں پر دستک اور ان کو دعوت غور وفکر دیتے ہوئے اور شاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہو تو پھر تم سبق کیوں نہیں لیتے ؟ کہ جو خدا اس حیرت انگیز طریقے سے پہلی بار پیدا کرسکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، سو اس میں قیاس کی صحت کی دلیل موجود ہے، کہ یہاں دوسری پیدائش پر قیاس کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، [ حاشیہ مع البیان، وغیرہ ] سو جو خالق اپنی قدرت و حکمت سے تمہیں اس دنیا میں لایا ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے، اور اس کی حکمت و ربوبیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ف 4 مسند ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت جب پانی نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے ” الحمد للہ الذی شقانا عذبنا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحاً اجاجاً بذنوبنا حمد ہے اس اللہ کے لئے جس نے اپنی رحمت سے ہمیں شیریں اور خوشگوار پانی پلایا اور اسے ہمارے گناہوں کی وجہ سے کھاری اور تلخ نہیں بنایا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(56:65) لونشاء لجعلنہ حطاما : لو حرف شرط نشاء مضارع جمع متکلم مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ ہم چاہیں۔ نشاء کا مفعول محذوف ہے ای لو نشاء تحطیم ذلک الزرع اگر ہم اس کھیتی کو چورا چورا کرنا چاہیں ۔ یہ جملہ شرطیہ ہے لجعلنہ حطاما جواب شرط ہے۔ لام جواب شرط کے لئے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر الزرع کے لئے ہے۔ حطاما ریزہ ریزہ ، چورا چورا۔ روندن۔ جو چیز چورا چورا ہوکر ریزہ ریزہ ہوجائے اور روندی جانے لگے اسے حطام کہتے ہیں ۔ یہ حطم باب ضرب سے مشتق ہے۔ حطہ روندنا۔ توڑنا۔ ریزہ ریزہ کرنا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
ادخلوا مسکنکم لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ (27:18) اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ (حضرت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74
تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 74
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–74
(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة یٰسین حاشیہ 26 صفحہ 1061۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے
Read the full tafseer →(65) اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو سوکھا ہوا چورا کردیں پھر تم متعجب اور نادم ہوکر رہ جائو اور سارے دن باتیں بناتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
ف 6۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری قدرت سے ہے۔
Read the full tafseer →اگر ہم چاہیں تو اس کو چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جائو
65۔ { تفکھون } تم تعجب کرتے ہو ‘ تم تعجب کرو گے ‘ تم باتیں بناتے ہو ‘ تم باتیں بنائو گیتف کہ جس کے معنی تعجب کرنے پیشمان ہونے اور باتیں بنانے کے ہیں مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ بیضاوی لکھتے ہیں کہ تفکہ طرح طرح کے میووں سے نقل کرنے کے ہیں اور بطور استعارہ نقل مجلس کے لیے باتیں بنانے کو بھی تفکہ کہا جاتا ہے۔ (انورالحزیل قاضی بیضاوی ج 2 ص 301 طبع مصر) عطا ‘ کلبی ‘ مقاتل اور فراء نے یہاں تعجب کرنے کے معنی کیے ہیں۔ مجاہد ‘ حسن بصری اور قتادہ نے { تفکہوں } کا ترجمہ تندمون سے کیا ہے یعنی تم نادم ہونے لگو گے اور عکرمہ نے باہم ملامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
29 That is, "We have not only made arrangements of satisfying your hunger, but also of satisfying your thirst, This water that is even more essential for your life than bread has been arranged by Us, not by you The seas in the earth have boon created by Us. It is the heat of Our sun that causes their water to evaporate, and it is Our winds that cause the vapours to rise. Then it is by Our power and wisdom that the vapours collect and form into clouds. Then, by Our command the clouds divide in a particular proportion and spread over different regions of the earth so that the share of the water…
Read the full tafseer →