Al-Waaqia 56:63

Al-Waaqia · from ayah 63

56:63

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۟ؕاَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَؕ

بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And have you seen that [seed] which you sow?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:63

کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اچھا یہ بتاؤ کہ جو کچھ تم زمین میں بوتے ہو،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا یہ بتاؤ جو (بیج) تم کاشت کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا تم نے دیکھا جو کچھ تم بوتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا دیکھو ! جو بیج تم بوتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم بولتے ہو ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا تم نے اس بیج کے بارے میں بھی کبھی غور کیا جو تم لوگ زمین میں ڈالتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اچھا پھر یہ بتاؤ کہ جو کچھ تم بولتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا دیکھو تو جو کچھ تم بوتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you considered the seeds you till?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Well, tell Me about that (seed) which you sow:

— Muhammad Taqi Usmani

Well, tell Me about that (seed) which you sow:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you not see what you sow.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And have you seen that [seed] which you sow?

— Saheeh International

Have you seen what you sow?

— Muhammad Sarwar

Have you considered what you sow?

— Muhammad Habib Shakir

Behold! - that which ye sow.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–74

آگ اور پانی کا خالق کون ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الْوَاقِعَة 28 اوپر کا سوال لوگوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلا رہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساختہ و پرداختہ ہو اور اسی کی تخلیق سے وجود میں آئے ہو۔ اب یہ دوسرا سوال انہیں اس دوسری اہم حقیقت کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ جس رزق پر تم پلتے ہو وہ بھی اللہ ہی تمہارے لیے پیدا کرتا ہے۔ جس طرح تمہاری پیدائش میں انسانی کوشش کا دخل اس سے زائد کچھ نہیں ہے کہ تمہارا باپ تمہاری ماں کے اندر نطفہ ڈال دے، زمین، جس میں یہ کاشت کی جاتی ہے، تمہاری بنائی ہوئی نہیں ہے۔ اس زمین کو روئیدگی کی صلاحیت تم نے نہیں بخشی ہے۔ اس میں وہ مادے جن سے تمہاری غذا کا سامان بہم پہنچتا ہے، تم نے فراہم نہیں کیے ہیں۔ اس کے اندر جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–72

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

(افریتم ما تحرثون انتم تزوعونہ ام نحن الزعون) (63، 64) (وسائل ربوبیت سے جزاء پر استدلال)۔ انسان کی خلقت کے بعد یہ ان وسائل ربوبیت کی طرف توجہ دلائی جو رب کریم نے اس کی پرورش کے لیے مہیا فرمائے ہیں اور جن کے مہیا ہونے میں نہ انسان کی تدبیر کو کوئی دخل ہے نہ اس کے کسی استحقاق کو یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بلا استحقاق جو نعمتیں بخشی ہیں ان کو قرآن نے مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ جزاء و سزا کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ ان کا بلا کسی حق کے عطا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک دن ہر نعمت کے باب میں لوگوں سے پرسش ہونی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی جگہ جگہ واضح فرمائی ہے کہ یہ نعمتیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–65

62-1یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–63

17: یعنی کم از کم اتنی بات تو تم بھی جانتے ہو کہ تمہاری پہلی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا دخل نہیں تھا، پھر اسی کو تنہا معبود ماننے اور اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کی تصدیق کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 63–67

افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا ” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “ یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 63–64

1 یعنی بظاہر بیج زمین میں تم ڈالتے ہو لیکن زمین کے اندر اس کی پرورش کرنا پھر باہر نکال کر ایک لہلہاتی کھیتی بنادینا کس کا کام ہے اس کے متعلق تو ظاہری اور سطحی دعویٰ بھی تم نہیں کرسکتے کہ ہماری تیار کی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 63{ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ } ”کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو ؟“ تم لوگ تو بیج کو مٹی میں دبا کر آجاتے ہو۔ اس کے بعد تم کیا جانو کہ وہ بیج کس کس مرحلے سے گزرتا ہے ‘ کس طرح اس کی جڑیں نکل کر زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور کس طرح اس کی کو نپلیں زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہیں !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–64

30 زمین کے پیٹ میں بیج کے تخلیقی مراحل :۔ یعنی تمہارا کام صرف زمین میں بیج ڈالنا ہے پھر اس کے بعد زمین کی تاریکیوں میں اس بیج پر جو تخلیقی مراحل آتے ہیں یا جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کا نہ تمہیں علم ہے اور نہ ان میں کچھ تمہارا عمل دخل ہے۔ دانہ سے نازک سی کونپل کیسے بنتی ہے ؟ پھر اس نازک سی کونپل میں اتنا زور کہاں سے آتا ہے کہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے بیج بےجان اور مردہ تھا۔ اس سے جاندار نباتات پیدا ہوگئی جو پھلتی پھولتی اور بڑھتی ہے اور تمہارے لیے رزق کا سامان مہیا کرتی ہے اب دیکھئے لاکھوں کی تعداد میں مردہ بیج زمین کے پیٹ میں دفن کیے جاتے ہیں۔ پھر اسی زمین کے قبرستان سے وہی مردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–64

23۔ زمین میں یہ صلاحیت رکھنا کہ دانہ کو نشوونما دے سکے۔ دانہ میں یہ استعداد کہ مٹی سے نموحاصل کرسکے، گرمی، روشنی، ہوا، پانی وغیرہ سے استفادہ کی قابلیت، ان سب کو قوت سے فعل میں لانا، وقت مناسب پر مقدار مناسب میں بارش، اوقات مقرر پر مقدار مقرر میں آفتاب کی تابش، غرض نظام زراعت کی ساری عظیم الشان مشینری کو حرکت میں لانا بندہ کی قدرت میں ہے یا اللہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 62–63

ولقد علمتم النشاہ الاولی یعنی تم یہ کیوں نہیں سمجھتے جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا جس کا تمہیں علم ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اچھا پھر یہ بتاؤ کہ تم جو کچھ (تخم وغیرہ) بوتے ہو مَا تَحْرُثُوْنَ : جو دانے تم بکھیرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 63–67

(63۔ 67) اچھا یہ بتاؤ کہ تم جو بیج بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں اگر ہم چاہیں تو اس کھیتی کو سرسبز ہونے کے بعد پھر اس کو خشک کردیں پھر تم اس کے خشک ہونے اور اس کی ہلاکت سے حیران ہو کر رہ جاؤ اور کہنے لگو کہ ہماری کھیتیاں تباہ ہو کر رہ گئیں ہم تباہ ہوگئے، بلکہ ہم تو اس کے منافع سے بالکل ہی محروم رہ گئے یا یہ کہ آپس میں لڑنے لگو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 63–64

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۔۔۔۔۔: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کی زبردست دلیل بیان ہوئی ہے ، یعنی یہ بتاؤ کہ وہ کھیت جس کا بیج تم زمین میں دفن کر کے آجاتے ہو ، کیا اسے زمین سے تم نکالتے اور بڑھاتے ہو، حتیٰ کہ وہ کھانے کے قابل ہوجاتا ہے ، جس پر تمہاری زندگی کا دارومدار ہے ، یا اسے اگانے والے ہم ہیں ؟ اس کا جواب اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ اے ہمارے رب ! یہ تیری ہی کام ہے، یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ تو ہر عقل مند کہے گا کہ جس نے اس بیج سے جو زمین کی تہہ میں گل سڑ چکا تھا ، اناج سے بھرے ہوئے یہ خوشے اگا دیئے ، وہ تمہیں بھی مرنے کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–65

( افرء یتم ما تحرثون۔۔۔۔۔۔۔۔ ) افرء یتم ما تحرثون۔ یہ دوسری دلیل ہے مجھے اس چیز کے بارے میں بتائو : جو تم اپنی زمین میں کاشت کرتے ہو تم اس میں بیچ ڈالتے ہو تم اسے کاشت کرتے ہو اور اس سے کھیتی حاصل کرتے ہو تو اس میں بالی اور دانہ بن جاتا ہے یا ہم یہ سب کچھ کرنے والے ہیں تمہارا کام بیج ڈالنا اور زمین پھاڑنا ہے جب تم اس کا اقرار کرتے ہو کہ دانے سے بالی کا نکالنا تمہارے بس میں نہیں تو تم زمین سے مردوں کو نکالنے اور انہیں دوبارہ اٹھانے سے انکار کرتے ہو۔ حرث کی نسبت ان کی طرف کی اور زرع کی نسبت اللہ تعالٰ کی طرف کی کیونکہ حرث ان کا فعل ہے اور ان کے اختیار پر جاری ہوتا ہے اور زرع اللہ تعالیٰ کا فعل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

5۔ ابزار وابن جریر وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی فی شعب الایمان وضعفہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز ” زرعت “ نہ کہے (یعنی میں نے اگایا “ لیکن حرثت کہو کہو (یعنی میں نے کھیتی کی) ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ افرء یتم ماتحرثون، ء انتم تزرعونہ ام نحن الزرعون، (یہ بتاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں) بیہقی نے کہا یہ روایت ضعیف ہے۔ 6۔ عبد بن حمید نے ابو عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ وہ ’ زرعت ‘ کہنے کو ناپسند کرتے تھے اور یوں کہتے ہیں حرثت میں نے کھیتی کی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَرَءَيْتُمْ مَّا : کیا تم لوگوں نے غور کیا اس پر جو ][ تَحْرُثُوْنَ : تم لوگ بوتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–67

کھیتی اگانے کی نعمت : ﴿اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ0063﴾ (الایات الخمس) (ان آیات میں کھیتی کا تذکرہ فرمایا جو عام انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، ارشاد فرمایا کہ تم جو کھیتی کرتے ہو یعنی ہل یا ٹریکٹر چلا کر زمین کو نرم کرتے ہو پھر اس میں بیج ڈالتے ہو اس کے بارے میں یہ بتاؤ کہ بیج ڈالنے کے بعد کھیتی کو کون اگاتا ہے ؟ تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ یعنی تم تو بیج ڈال کر فارغ ہوجاتے ہو، اب کھیتی کا اگانا ہمارا کام ہے، اگائیں یا نہ اگائیں ہمیں اختیار ہے پھر اگر کھیتی نکل بھی آئی تو اس میں دانے نکلنے تک اس کا بڑھنا ضروری نہیں پہلے بھی ہلاک ہوسکتی ہے اور اگر کھیتی پوری ہوگئی بالیں نکل آئیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–67

22:۔ ” افرایتم ما تحرثون “۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اب یہ بتاؤ یہ جو تم زمین میں ہل چلا کر بیج ڈال دیتے ہو کیا ان دانوں سے سر سبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت تم خود ہی پیدا کرلیتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ اگر تمہارے اختیار میں ہو تو تم کوئی موسم نہ دیکھو اور ہر وقت ہی ہر چیز اگاتے رہو۔ مشرکین کو اس کا بھی اقرر تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اگاتا ہے اور وہی کھیتوں اور باغوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو لہلہاتے کھیتوں کو ناگہانی آفتوں سے چورہ کر کے رکھدیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو مارے گئے، بلکہ سال بھر کی روزی سے بھی محروم ہوگئے۔ التف کہ التکلم فیما لایعنیک (قرطبی ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۝ 63 ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–74

1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–64

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَـہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 63، 64) (کبھی تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم بوتے ہو۔ اس کی کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں۔ ) نظامِ ربوبیت سے استدلال انسان کی خلقت سے استدلال کرنے کے بعد انھیں اس بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ جس طرح تمہارا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے اسی طرح تمہاری بقاء کا سامان جس غذا سے ہورہا ہے وہ بھی اس رب کریم کی ربوبیت کا فیضان ہے۔ اور اس میں بھی نہ اس رب کریم کے ساتھ کوئی شریک ہے اور نہ کسی اور کی قدرت میں ہے کہ وہ غذا کا سامان بہم پہنچاسکے۔ جس طرح انسان کی تخلیق میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–67

فہم القرآن ربط کلام : اللہ ہی انسان کو پیدا کرتا اور موت دیتا ہے اور وہی بیج سے کھیتی پیدا کرتا ہے۔ بیج اور کھیتی کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور موت کا حوالہ دے کر سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ اب بیج اور کھیتی کی مثال دے کر انسان کو اپنے خالق ہونے اور قیامت کے دن زندہ کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ ارشاد ہوا جو بھی تم بوتے ہو اس پر غور کرو کہ کیا اس سے فصل تم اگاتے ہو یا ہم اسے اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو بیج کو زمین میں ہی ناکارہ کردیں، اگر ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63 : اَفَرَ ئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ (اچھا پھر یہ بتائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو) جو غلہ تم کاشت کرتے ہو یعنی زمین میں ہل چلاتے اور اس میں بیج ڈالتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

62 ۔” ولقد علمتم انلشاۃ الاولیٰ “ پہلی تخلیق جب تم کچھ نہ تھے۔ ” فلولا تذکرون “ کہ میں قادر ہوں تمہارے لوٹانے پر جیسا کہ میں تمہارے دشمنوں پر قادر تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–74

63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–64

یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انہیں اپنی توحید اپنی عبادت اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کرکے انہیں نعمتوں سے نوازا ہے اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کرسکتے۔ پس فرمایا (ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ) یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے کیا تم نے اس کی نشونما دی ہے ؟ کیا تم ہو جنہوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–67

[ 55] پہلی پیدائش دوسری پیدائش کا ثبوت اور اس کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکریں کے دلوں پر دستک اور ان کو دعوت غور وفکر دیتے ہوئے اور شاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہو تو پھر تم سبق کیوں نہیں لیتے ؟ کہ جو خدا اس حیرت انگیز طریقے سے پہلی بار پیدا کرسکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، سو اس میں قیاس کی صحت کی دلیل موجود ہے، کہ یہاں دوسری پیدائش پر قیاس کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، [ حاشیہ مع البیان، وغیرہ ] سو جو خالق اپنی قدرت و حکمت سے تمہیں اس دنیا میں لایا ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے، اور اس کی حکمت و ربوبیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–64

ف 3 یعنی بظاہر زمین میں بیج تم ڈالتے ہو لیکن اسے زمین کے اندر پرورش کرنا اور پھر باہر نکال کر اسے لہلہاتی کھیتی میں تبدیل کرنا کس کا کام ہے ؟ کیا تم دعویٰ کرسکتے ہو کہ یہ تمہاری محنت اور تدبیر کا نتیجہ ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ ہی کام ہمیں کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:23) افرائیتم ملاحظہ ہو آیت 58 متذکرۃ الصدر۔ و آیت (2:44) بھلا دیکھو تو ۔ بھلا تم نے (غور) سے دیکھا ہے۔ ما تحرثون : ما موصولہ تحرثون جمع مذکر حاضر۔ حرث (باب نصر) مصدر بمعنی بونا۔ صلہ۔ جو تم بولتے ہو۔ حرث کھیتی، حاصل مصدر۔ فائدہ : آیت 57 سے لے کر آیت 74 تک دلائل حشر و توحید بیان فرمائے ہیں۔ آیت 57 سے 62 تک انسان کی پیدائش کے متعلق بیان ہے۔ فرمایا : انسان کی تخلیق و تصویر میں مطلقاً خدا تعالیٰ ہی کو قدرت ہے۔ پھر فرمایا : وہ اگر نشاۃ اولیٰ پر قادر ہے تو نشاۃ ثانیہ اس ہی کے ہاتھ میں ہے آیت 63 سے لے کر 67 تک کھیتی اور نباتات کے اگانے اور اس کو پھول و پھل سے بار آور کرنے کے متعلق ہے۔ آیت 68 سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–74

(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–74

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس چیز کو تم بوتے ہو کیا اس پر تم نے کبھی غور کیا ہے 63۔ افسوس کہ ملائیت نے یہ اصول کہاں سے وضع کر ملیا کہ دین میں عقل کو دخل نہیں ہے حالانکہ جتنی عقل و فکر کی دعوت اسلام کی دعوت ہے اور جس قدر کتاب و سنت نے غوروفکر اور سمجھ اور سوچ کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے کسی دوسرے مذہب اور دوسری آسمانی کتابوں نے اتنی توجہ نہیں دلائی لیکن ملائیت جو لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو اسلام سمجھتی ہے اس بات کا بار بار پر چار کرتی چلی جا رہی ہے کہ بھائی دین میں عقل و دخل نہیں ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ انھوں نے دین کا حلیہ اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ اس کی اصل تصویر لوگوں کے سامنے کبھی آنے ہی نہیں دی حالانکہ دین کی دعوت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–72

was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

28 The above question drew the people's attention to the truth that they have been developed and nourished by Allah Almighty and have come into being by His act of creation. Now this second question draws their attention to this important truth that the provisions which sustain them, are also created only by Allah for them, as if to say: "Just as in your own creation human effort has nothing more to do than that your father may cast the sperm in your mother, so in the supply of the provisions for you also human effort has nothing more to do than that the farmer should sow the seed in the…

Read the full tafseer →