Explained with ayahs 57–62
منکرین قیامت کو جواب
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لئے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کردیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہوگا ؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے ؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 27
یعنی تم یہ تو جانتے ہی ہو کہ پہلے تم کیسے پیدا کیے گئے تھے۔ کس طرح باپ کی صلب سے وہ نطفہ منتقل ہوا جس سے تم وجود میں آئے کس طرح رحم مادر میں، جو قبر سے کچھ کم تاریک نہ تھا، تمہیں پرورش کر کے زندہ انسان بنایا گیا۔ کس طرح ایک ذرہ بےمقدار کو نشو و نما دے کر یہ دل و دماغ، یہ آنکھ کان اور یہ ہاتھ پاؤں اس میں پیدا کیے گئے اور عقل و شعور، علم و حکمت، صنعت و ایجاد اور تدبیر و تسخیر کی یہ حیرت انگیز صلاحیتیں اس کو عطا کی گئیں۔ کیا یہ معجزہ مردوں کو دوبارہ جلا اٹھانے سے کچھ کم عجیب ہے۔ ؟ اس عجیب معجزے کو جب تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور خود اس کی زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
خلاصہ تفسیر
ہم نے تم کو (اول بار) پیدا کیا ہے (جس کو تم بھی تسلیم کرتے ہو) تو پھر تم (باعتبار اس کے نعمت ہونے کے توحید کی اور باعتبار اس کے دلیل قدرت علی الاعادہ ہونے کے قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے (آگے اس تخلیق کی پھر اس کے اسباب بقاء کی تفصیل و تذکیر ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ تم جو (عورتوں کے رحم میں) منی پہنچاتے ہو اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ہم ہی بناتے ہیں اور) ہم ہی نے تمہارے درمیان میں موت کو (معین وقت پر) ٹھہرا رکھا ہے (مطلب یہ کہ بنانا اور اس بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ جیسا انسان کی ذات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(علی ان نبدل امثالکم و نشئکم فی مالا تعملون) (61)
یعنی جب پیدا کرنا بھی ہمارے اختیار میں ہے اور مارنا بھی ہمارے اختیار میں ہے تو اگر تمہاری جگہ تمہاری مانند ہم پیدا کرنا چاہیں گے تو اس سے کیوں عاجز رہیں گے ؟ ہم عاجز نہیں رہیں گے بلکہ اس بات پر قادر ہیں کہ تمہارے مانند پیدا کردیں اور ایک ایسے عالم میں تمہیں اٹھا کھڑا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔ (علی) یہاں اس بات کا قرینہ ہے کہ (وما نحن بمسوقین) کو مثبت معنی یعنی قادرین کے مفہوم میں لیا جائے۔ گویا اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم عاجز نہیں بلکہ قادر ہیں۔ صلہ کی تبدیلی سے عربی زبان میں حذف و ایجاز کے جو تصرف ہوتے ہیں اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
62-1یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
17: یعنی کم از کم اتنی بات تو تم بھی جانتے ہو کہ تمہاری پہلی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا دخل نہیں تھا، پھر اسی کو تنہا معبود ماننے اور اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کی تصدیق کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟
Read the full tafseer →ولقد ................ تذکرون (6 5: 26) ” اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو ، پھر کیوں سبق نہیں لیتے ؟ “ اور یہ دوسری پیدائش بہت ہی قریب ہے اور اس میں کوئی بات قابل تعجب نہیں ہے۔
اس سادگی اور اس سہل انداز میں قرآن کریم پہلی پیدائش اور دوبارہ پیدائش کے مسئلہ کو پیش کرتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے طریقہ استدلال سے دو چار کرتا ہے جسے ہم جانتے ہیں اور جس کا ہم کوئی انکار بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ منطق بدیہات پر مبنی ہے اور انسانوں کے مشاہدات پر مبنی ہے اور جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی تجرید نہیں ہے ، نہ فلسفہ ہے اور نہ ذہنی تھکاوٹ ہے اور کوئی ایسی بحث نہیں جو وجدان تک پہنچتی ہو۔
یہ ایک بالکل جدید طریقہ…
Read the full tafseer →12 یعنی پہلی پیدائش کو یاد کر کے دوسری کو بھی سمجھ لو۔
Read the full tafseer →آیت 62{ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی } ”اور تم اپنی پہلی زندگی کے بارے میں تو جانتے ہی ہو“
یعنی اپنی دنیوی تخلیق سے متعلق تمام مراحل کے بارے میں تو تم جانتے ہو۔ انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ لیکن جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة المومنون کی یہ آیات اس موضوع پر قرآن کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں :
{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ - ثُمَّ جَعَلْنٰـہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ - ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
30 زمین کے پیٹ میں بیج کے تخلیقی مراحل :۔ یعنی تمہارا کام صرف زمین میں بیج ڈالنا ہے پھر اس کے بعد زمین کی تاریکیوں میں اس بیج پر جو تخلیقی مراحل آتے ہیں یا جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کا نہ تمہیں علم ہے اور نہ ان میں کچھ تمہارا عمل دخل ہے۔ دانہ سے نازک سی کونپل کیسے بنتی ہے ؟ پھر اس نازک سی کونپل میں اتنا زور کہاں سے آتا ہے کہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے بیج بےجان اور مردہ تھا۔ اس سے جاندار نباتات پیدا ہوگئی جو پھلتی پھولتی اور بڑھتی ہے اور تمہارے لیے رزق کا سامان مہیا کرتی ہے اب دیکھئے لاکھوں کی تعداد میں مردہ بیج زمین کے پیٹ میں دفن کیے جاتے ہیں۔ پھر اسی زمین کے قبرستان سے وہی مردہ…
Read the full tafseer →22۔ یعنی جب تمہیں بخوبی اس کا علم ویقین ہے کہ ہم ہی نے اپنی قدرت سے تمہیں اول بار پیدا کیا تو اب تمہیں بعث حشر کے تسلیم کرنے میں تامل کیا ہے ؟ (آیت) ” فلولاتذکرون “۔ فقہاء مفسرین نے آیت کے اس جزء سے صحت قیاس فقہی کا استنباط کیا ہے فیہ دلیل علی صحۃ القیاس من حیث جعلھم فی ترک قیاس النشأۃ الاخری علی الاولی (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ولقد علمتم النشاہ الاولی یعنی تم یہ کیوں نہیں سمجھتے جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا جس کا تمہیں علم ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →اور تم کو اوّل پیدائش کا علم ہے ‘ پھر تم کیوں نہیں سمجھتے۔
اَلنَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی : یعنی قطرہ سے انسان کی تخلیق اور نیست سے ہست ہونا۔
فَلَوْلاَ تَذَکَّرُوْنَ : یعنی تم کیوں نہیں سمجھتے کہ تخلیق اوّل کرنے والا تخلیق ثانی پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ دوسری بار تخلیق تو پہلی تخلیق سے آسان ہے اس میں نہ زیادہ صنعت کی ضرورت ہے ‘ نہ تخصیص اجزاء و اعضاء کی کیونکہ ایک نمونہ اور مثال کا پہلے وجود ہوچکا۔
فَلُوْلَا تَذَکَّرُوْنَ کا لفظ بتارہا ہے کہ شرعاً قیاس میں بھی ایک دلیل ہے۔
Read the full tafseer →اور مکہ والو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پہلی پیدائش کا یا یہ کہ حضرت آدم کے پیدا کرنے کا علم حاصل ہے پھر پہلی پیدائش سے عبرت حاصل کر کے دوسری مرتبہ پیدا کرنے پر کیوں ایمان نہیں۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی۔۔۔۔: یعنی جب تم جانتے ہو اور اس کا اقرار بھی کرتے ہو کہ تمہیں پہلی بار ہمیں پیدا کیا ، جب تم کچھ تھے ہی نہیں ، تو پھر یہ کیوں نہیں مانتے کہ جب تم مرجاؤ گے تو ہم تمہیں دوبارہ بھی زندہ کریں گے ؟ دوبارہ پیدا کرنا تو پہلی بار سے آسان ہوتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ روم (27) اور سورة ٔ مریم (67)۔
Read the full tafseer →ولقد علمتم النشاۃ الاولی کیونکہ تم کو نطفہ سے پھر علقمہ سے پھر مضفہ سے پیدا کیا گیا جب کہ تم کچھ بھی نہ تھے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 459 2 ؎۔ تفسیر طبری، جز 27، صفحہ 230 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 248
فلولا تذکرون۔ تم سوچ و بچار کیوں نہیں کرتے ؟ حدیث میں ہے ” دوبارہ پیدا کرنے کے جھٹلانے والے پر بڑا تعجب ہے جب کہ وہ پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اس پر بھی تعجب ہے اور جو دوبارہ پیدا کرنے کا اقرار تو کرتا ہے مگر دار قرار کرے لیے تگ و دو نہیں کرتا “۔ عام قرأت النشاۃ ہے۔ مجاہد، حضرت حسن بصری، ابن کثیر اور ابو عمرو نے النشاء…
Read the full tafseer →4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد علمتم النشأۃ الاولی سے مراد ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش۔
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : اور یقینا تم لوگ جان چکے ہو ] [النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى : پہلی اٹھان کو ] [فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ : تو تم لوگ نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ]
Read the full tafseer →﴿ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى ﴾ (اور تمہیں اپنی پہلی پیدائش کا علم ہے) اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا جب کہ تم کچھ بھی نہ تھے ﴿ فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ 0062﴾ (سو تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے) جس نے پہلی بار پیدا فرمایا وہ دوبارہ بھی پیدا فرما سکتا ہے۔ پہلی تخلیق کرنے کے بعد اس کی قدرت ختم نہیں ہوگئی جیسی تھی ویسی ہی ہے، کماقال تعالیٰ فی سورة ق ﴿اَفَعَيِيْنَا بالْخَلْقِ الْاَوَّلِ 1ؕ بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ (رح) 0015﴾ (کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے بلکہ یہ لوگ ازسرنو پیدا کرنے کے بارے میں شبہ میں ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →21:۔ ” ولقد علمتم۔ الایۃ “ پہلی پیدائش کو تو تم خوب جانتے ہو اور مانتے ہو کہ پہلی بار تمہیں اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو پھر اس سے کیوں عبرت نہیں پکڑتے ہو ؟ کہ جو ابتداء پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے (فلولا تذکرون) ای بانی ادر علی اعادتکم کما قدرت علی ابداء کم اول مرۃ (خازن و معالم ج 7 ص 23) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل :
ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ 62
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی فَلَوْلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 62)
(اپنی پہلی پیدائش کو تم جانتے ہو، تو پھر کیوں سبق حاصل نہیں کرتے۔ )
یعنی اگر تم نے عالم آخرت کو نہیں دیکھا جس میں انسان نئی زندگی پا کر پہنچے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم آخرت کا انکار کردو، اور اس کی تکذیب پر اصرار کرنے لگو۔ آخر تم نے دنیا کی زندگی کو تو دیکھا ہے اس سے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے، اور وہ سبق یہ ہے کہ ہماری تخلیق اور ہماری یہ دنیا اور یہاں چلنے والے قوانین سب اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے۔ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو کرنے پر قادر ہے۔ لیکن اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دیتا ہے۔
سورۃ الملک کی دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ اسی ذات نے زندگی اور موت پیدا کی ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے۔ آل عمران کی آیت 185 میں ارشاد ہوا کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور قیامت کے دن تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جسے جہنم کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوا۔ سورة یونس کی آیت 49 میں ارشاد فرمایا کہ ہر نفس کا ایک وقت مقرر ہے جب وقت آتا ہے۔ تو ایک لمحہ بھی اس میں آگا پیچھا نہیں کیا ج۔ اس بات کو یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے…
Read the full tafseer →62 : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی ( اور تم کو اول پیدائش کا علم ہے)
قراءت : ابوعمر وم کی نے النشاءۃ پڑھا ہے۔
فَلَوْلَا تَذَکَّرُوْنَ (پھر تم کیوں نہیں سمجھتے) کہ جو ایک چیز قابو رکھتا ہو دوسری مرتبہ وہ شی ٔ اس کے لئے ممتنع نہیں۔
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ قیاس درست ہے اس لئے کہ نشا ٔۃ ثانیہ کے نشا ٔۃ اولی پر قیاس نہ کرنے پر ان کی تجہیل کی گئی۔
Read the full tafseer →61 ۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” علی ان نبدل امثالکم “ یعنی ہم لائیں مخلوق تمہاری مثل تمہارے بدلہ میں۔ ” وننشئکم “ ہم تمہیں پیدا کریں۔ ” فیما لاتعلمون “ صورتوں میں سے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جس مخلوق میں ہم چاہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم تمہاری صفات کو تبدیل کردیں پس تمہیں بندروخنزیر بنادیں۔ جیسا کہ ہم نے تم سے پہلے لوگوں کے ساتھ کیا۔ یعنی اگر ہم ارادہ کریں کہ ہم یہ کریں تو یہ ہم سے نہ چھوٹے گا اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ” فیما لا تعلمون “ یعنی سیاہ پرندوں کے گھونسلوں میں جو برھوت یمن کی ایک وادی میں ہوتے ہیں۔ گویا کہ وہ درندوں کے چنگل میں۔
Read the full tafseer →62۔ دنیا میں جب کوئی آدمی ایسا بڈھا یا ایسا بیمار ہوجاتا ہے کہ اس کو اپنی زیست کا بھروسہ کم ہوتا ہے تو زندگی کی راحت سے بسر کرنے کے جو سامان ہیں مثلاً مکان کا بنانا یا نوکری تجارت یا کسی اور دہندے کا کرنا اس طرح کا زیست سے ناامید اور بےبھروسہ آدمی پھر ان راحت کے سامانوں میں زیادہ دل نہیں لگاتا کیونکہ یہ سمجھتا ہے کہ جب جینا ہی بےبھروسہ ہے تو زیست کو راحت سے بسر کرنے کے سامان کی کیا ضرورت ہے کس لئے کہ جب زیست ہی نہیں تو زیست کو راحت سے بسر کرنے کا موقع کہاں ہے یہی حال منکرین حشر کا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زیست پر ان لوگوں کو پورا یقین نہیں ہے اس لئے دوبارہ زیست کو راحت سے بسر کرنے کے جو سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحموں میں) ٹپکاتے ہو کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کے خالق تم ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی۔ میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی ہے ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعقل قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے اس لیے الہ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے۔ چناچہ فرمایا (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ ) اور تمہیں یقنی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
[ 55] پہلی پیدائش دوسری پیدائش کا ثبوت اور اس کی دلیل :
سو ارشاد فرمایا گیا اور منکریں کے دلوں پر دستک اور ان کو دعوت غور وفکر دیتے ہوئے اور شاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہو تو پھر تم سبق کیوں نہیں لیتے ؟ کہ جو خدا اس حیرت انگیز طریقے سے پہلی بار پیدا کرسکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، سو اس میں قیاس کی صحت کی دلیل موجود ہے، کہ یہاں دوسری پیدائش پر قیاس کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، [ حاشیہ مع البیان، وغیرہ ] سو جو خالق اپنی قدرت و حکمت سے تمہیں اس دنیا میں لایا ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے، اور اس کی حکمت و ربوبیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی جب تم یہ جانتے ہو اور اس کا اقرار بھی کرتے ہو کہ تمہیں پہلی بار ہمیں نے پیدا کیا ہے تو پھر یہ کیوں نہیں مانتے کہ جب تم مر جائو گے تو ہم تمہیں دوبارہ بھی زندگی دے سکیں گے حالانکہ دوسری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کی بنسبت آسان تر ہے۔ نیز دیکھیے ( سورة روم آیت 27)
Read the full tafseer →(56:62) النشاۃ الاولی موصوف و صفت، پیدائش اول (یعنی کس طرح ایک جرثومہ حقر سے تمہارا آغاز ہوا اور کن مختلف مدارج سے گزر کر تمہیں ایک مکمل انسان بہمہ صفت موصوف بنایا۔
فلولا تذکرون ۔ ۔ لولا۔ ہلا کیوں نہیں۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 57 متذکرہ بالا۔
تذکرون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تذکر (تفعل) مصدر۔ تم نصیحت پکڑتے ہو۔ تم دھیان رکھتے ہو۔ پھر تم کیوں نہیں نصیحت پکڑتے۔ پھر کیوں تم سبق نہیں لیتے (کہ جو ذات تمہاری نشاۃ اولیٰ پر قادر ہے وہ تمہارے مرنے کے بعد نشاۃ اخری پر بھی قدرت رکھتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–74
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74
تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 74
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →عجائبات قدرت۔
(ف 1) اس آیت میں ایک سیدھی مثال سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ پہلے تم بالکل نیست ونابود تھے ہم نے تم کو پیدا کیا تم مرو گے تو اس سے بڑھ کر اور کون سی بات ہوسکتی ہے کہ پہلے کی طرح تم بالکل نیست ونابود ہوجاؤ گے پھر کیا اتنی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی جس طرح ہم نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کیا دوبارہ اسی طرح ہم کو پیدا کرنا کیا مشکل کام ہے اگرچہ مشکل اور آسان کام سب یکساں ہیں لیکن یہ دنی ا کے تجربہ کی ایک بات ہے کہ ایک دفعہ جو کوئی ایک کام کرے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے اسی واسطے سورة روم میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ بھی سمجھایا ہے کہ جب ایک دفعہ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
[9] یعنی جب تمہیں بخوبی اس کا علم و یقین ہے کہ ہم ہی نے اپنی قدرت سے تم کو اول بار پیدا کیا تو پھر قیامت کے دن دوبارہ پیدا کئے جانے میں تامل کیوں کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے
Read the full tafseer →(62) اور بلا شبہ تم ابتدائی پیدائش اور پہلی مرتبہ کے پیدا کرنے کو تو جان ہی چکے پھر تم دوبارہ پیدا ہونے کو کیوں نہیں سمجھتے۔ یعنی پہلی مرتبہ کا پیدا ہونا تو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے اور تم کو اس کا علم ہے پھر دوبارہ اعاد سے اور دوبارہ پھر پیدا کرنے کی بات کیوں نہیں سمجھتے اس میں کیا دشواری ہوگئی جو بعث پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
ف 6۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری قدرت سے ہے۔
Read the full tafseer →تم کو پہلی بار پیدائش کا تو علم ہے ہی پھر تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے
62۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنی پہلی پیدائش کو تو جانتے ہو کہ وہ کس طرح ہوئی سب کو معلوم ہے کہ باپ کی گالی ہی سے اولاد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جس کو ولد کہتے ہیں اس کی پیدائش کے لیے یہی قانون اللہ نے مقرر کیا ہے اور اپنے ققانون کی خلاف ورزی اللہ تعالیٰ نہ کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کی پیدائش ایک جرثومہ سے کی اور پھر اس جرثومہ کو کن کن ادوار سے گزارتے ہوئے کیا کیا تبدیلیاں رونما کر کے انجام کا خلقا آخر کی شکل و صورت میں لاکر بچہ تمہارے سامنے پیش کردیا اگر تم ذرا غور و فکر کرو گے تو یقین کرلو گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
Proof of the occurrence of the Day of Resurrection
Thus far the Surah dealt with three categories of people on the Plain of Hashr (Gathering.) The verses so far described the reward and punishment of these three groups. The current set of verses warn the deviant skeptics and atheists who completely deny the Day of Judgment and life after death, or set up partners to Allah in His worship. The verses purport to tear down the curtain of negligence and ignorance that has kept man in the dark. Whatever exists, or is coming into existence at the present time, or will come into existence in the…
Read the full tafseer →27 That is, "You already know how you were created in the first instance, how the sperm was transferred from the loins of the father by which you came into being, how you were nourished in the mother's womb, which was no less dark than the grave, and formed into a living human being, how an insignificant speak was developed and endowed with the heart and brain, eyes and ears, and hands and feet, and how it was blessed with the wonderful faculties of intellect and sense, knowledge and wisdom, workmanship and inventiveness, etc. Is this miracle in any way less wonderful than raising the dead…
Read the full tafseer →