Explained with ayahs 41–56
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
سورة الْوَاقِعَة 20
یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہوگئے تھے۔ اپنی لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔ " گناہ عظیم " کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(یہ ان کے ان بڑے جرائم کی طرف اشارہ ہے جن کے سبب سے وہ اس انجام بد گو پہنچے۔ اسلوب بیان سے معلومہوتا ہے کہ گویا وہ دن لوگوں کے سامنے حاضر کردیا گیا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بد قسمت لوگ اس انجام کو پہنچے تو کیوں پہنچے !) (انھم گانو قبل ذلک مترفین) فرمایا کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا میں بڑے مالدار اور عیش و رفاہیت والے رہے ہیں۔ یہ بات ان کے جرم کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس سے ان کے ان جرائم کی سنگینی واضح ہو رہی ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو عیش و آرام اور دولت و ثروت سے نوازا جس کا حق یہ تھا کہ وہ اس کے شکر گزارو فرمانبردار بندے بنتے لیکن یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
11: یعنی اس درجے کے مومن پچھلے زمانے کے لوگوں میں سے بھی بہت سے ہوں گے، اور بعد کے زمانوں میں سے بھی بہت سے۔
Read the full tafseer →انھم ............ مترفین (6 5:5 3) ” یہ لوگ اس انجام کے پہنچنے سے پہلے سخت خوشحال تھے۔ “ مترفین کے لئے یہ خشک روٹی کس قدر تکلیف دہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
2 وہ بڑا گناہ کفر و شرک ہے اور تکذیب انبیاء یا جھوٹی قسمیں کھا کر یہ کہنا کہ مرنے کے بعد ہرگز کوئی زندگی نہیں۔ کما قال تعالیٰ (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ) 16 ۔ النحل :38)
Read the full tafseer →آیت 45{ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ۔ } ”یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑے خوشحال تھے۔“
دنیا میں انہیں ہر طرح کا عیش و آرام میسر تھا۔ وہاں انہوں نے خوب مزے کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
24 حنث عظیم کا مفہوم :۔ حنث سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا تعلق عہد و پیمان یا قسم توڑنے سے ہو۔ اور ایسے گناہ سب کے سب کبیرہ یا عظیم ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سرفہرست کفر و شرک ہے اور یہ عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری عہد شکنی انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ سب انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو یہ وصیت کرتے رہے کہ اگر میرے بعد کوئی رسول آئے جو سابقہ کتب سماویہ اور انبیاء کی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ تیسرا گناہ عظیم آخرت سے انکار ہے جس کے متعلق کفار مکہ پختہ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اللہ اسے کبھی زندہ کرکے اٹھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
15۔ یعنی کفر وشرک پر۔ والمراد کماروی عن قتادۃ والضحاک وابن زید الشرشک وھو ظاھر (روح) (آیت) ” قبل ذلک “۔ یعنی دنیا میں۔ (آیت) ’ ’ انھم ..... مترفین “۔ یعنی اپنی خوشحالی کے غرہ میں دنیوی مادی زندگی میں مست تھے اور ایمانی صداقتوں سے انکار پر مصر تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →وہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) بڑی خوشحالی سے رہتے تھے
مُتْرَفِیْنَ : عیش و راحت میں پڑے ہوئے ‘ خواہشات نفس میں ڈوبے ہوئے۔ اللہ کی اطاعت کی تکلیف نہ اٹھانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
(45۔ 53) وہ لوگ دنیا میں بڑے حد سے تجاوز کرنے والے تھے یا یہ کہ بڑی خوش حالی میں رہتے تھے اور وہ بڑے بھاری گناہ پر یعنی شرک یا یہ کہ جھوٹی قسموں پر اصرار کیا کرتے تھے اور دنیا میں یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا اس کے بعد ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
اور پھر اس کے بعد اے ایمان و ہدایت سے گمراہ ہونے والو اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والو یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیو درخت زقوم سے کھانا ہوگا اور پھر اس درخت زقوم سے پیٹ بھرنا ہوگا یہ درخت دوزخ کی جڑ میں سے اگا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ : یعنی ان کا یہ انجام بد اس لیے ہوا کہ اس سے پہلے دنیا میں انہیں ہر طرح کی خوش حالی عطاء کی گئی تھی ، مگر اس خوش حالی نے ان پر الٹا اثر کیا اور وہ شکر گزار ہونے کے بجائے نافرمانی پر تل گئے اور حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر اپنے نفس کی لذتوں میں منہمک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
انھم گانوا قبل ذلک مترفین۔ وہ اس عذاب کے مستحق اس لیے بنے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں حرام چیز ہے لطف اندوز ہوتے ہیں مترف یعنی خوشحال : حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ سدی نے کہا : مترفین یعنی شرک کرنے والے ” وگانو یصرون علی الجنت العظیم۔ “ وہ شرک پر قاتم تھے (2) یہ حضرت حسن بصری، ضحاک اور ابن زید کا نقطہ نظر ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : مراد وہ بڑا گناہ ہے جس سے وہ توبہ نہیں کرتے تھے۔ شعبی نے کہا : اس سے مراد یمین غموس ہے یہ گناہ کبیرہ میں سے ہے (3) یہ جملہ بولا جاتا ہے، جنت فی یمینہ اس نے قسم کو پورا نہ کیا اس نے رجوع کرلیا۔ وہ قسم اٹھایا کرتے تھے کہ دوبارہ اٹھانے کا کوئی تصور نہیں اور…
Read the full tafseer →8۔ ابن جریر وابنا لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہم کانوا قابل ذلک مترفین (اور وہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی سے رہتے تھے) یعنی ہر قسم کی نعمتوں میں آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم (اور بڑے بھاری گناہ یعنی کفر و شرک پر اصرار کیا کرتے تھے) یعنی بڑے گناہ پر۔
Read the full tafseer →[اِنَّهُمْ كَانُوْا : بیشک یہ لوگ تھے ] [قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ : اس سے پہلے خوشحالی دیئے ہوئے ]
Read the full tafseer →دنیا میں کافروں کی مستی اور عیش پرستی :
﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَۚۖ0045﴾ (اس سے پہلے یہ لوگ جب دنیا میں تھے بڑی خوشحالی میں رہتے تھے) یعنی دنیا کی خوش حالی نے انہیں تباہ و برباد کیا اور مستحق عذاب بنا دیا اپنے مال اور دولت اور عیش و آرام میں مست تھے ایمان قبول نہیں کرتے تھے اپنے مالک اور خالق کی طرف رجوع نہیں ہوتے تھے انہوں نے دنیا والے عیش و آرام ہی کو سب کچھ سمجھا لہٰذا آج عذاب میں گرفتار ہوئے۔
قال صاحب الروح المعنی انھم عذبوا لانھم کانوا فی الدنیا مستکبرین عن قبول ما جاء ھم بہ رسلھم من الایمان باللہ عزوجل وما جاء منہ سبحانہ وقیل : ھو الذی اقرفتہ النعمة ای ابطرتہ واطغتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
16:۔ ” انہم “ مترفین، عیش و عشرت اور شہوات نفسانیہ کے اتباع میں منہمک۔ الحث العظیم، بہت بڑا گناہ یعنی شرک و کفر۔ یہ دنیا میں عیش و عشرت اور خواہشات نفسانیہ کے پیچھے پڑے رہے اور شرک وکفر ایسے عظیم گناہ پر بضد رہے اور قیامت کا انکار کرتے رہے اور اس کو عقل و قیاس سے بعد سمجھ کر کہتے تھے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی ہوجائیں اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں اور پھر بھی ہم دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔
اصحاب شمال کا حال :
کامیاب…
Read the full tafseer →اِنَّہُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ 45 ۚ ۖ
ترف
التُّرْفَةُ : التوسع في النعمة، يقال : أُتْرِفَ فلان فهو مُتْرَف . أَتْرَفْناهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا [ المؤمنون/ 33] ، وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا ما أُتْرِفُوا فِيهِ [هود/ 116]
( ت ر ف) الترفۃ
۔ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ اترف فلان فھو مترف وہ آسودہ حال اور کثرت دولت کی وجہ سے بدمست ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ أَتْرَفْناهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا [ المؤمنون/ 33] اور دنیا کی زندگی میں ہم نے اس کو آسودگی دی رکھی تھی ۔ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا ما أُتْرِفُوا فِيهِ [هود/ 116] اور جو ظالم تھے و ہ ان ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ ۔ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ ۔ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ 5 لا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 45 تا 48)
(یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے پہلے خوشحال تھے۔ اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ )
اصحابُ الشمال کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر
گزشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اب ان کے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
فہم القرآن
ربط کلام : بائیں ہاتھ والوں کے جرائم اور انجام۔
ہائیں ہاتھ والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جو دنیا میں خوش حال اور مال دار تھے، یہی لوگ معاشرے میں اکثر برائیوں کے موجد تھے، مالدار ہونے کے باوجود لوگوں کے حقوق غصب کرتے تھے اور غریبوں کا خیال نہیں رکھتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر آسمانی کتاب میں لوگوں کے حقوق غصب کرنے سے منع کیا ہے اور غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں اور زیر دست لوگوں کا خیال رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے، خوش حال اور مال دار لوگوں کے مال میں کمزور لوگوں کا حق رکھا گیا ہے (الذاریات : 19) لیکن جہنم میں جانے والے مجرم کمزور لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے…
Read the full tafseer →45 : اِنَّھُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ (وہ لوگ اس سے پہلے بڑی خوشحالی سے رہتے تھے) قبل ذلکؔ سے مراد دنیا میں مترفینؔ خوشحال تھے اس وجہ سے انہوں نے ڈانٹ ڈپٹ کی طرف توجہ نہ کی اور عبرت سے بیخبر رہے۔
Read the full tafseer →44 ۔” لابارد ولا کریم “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں نہ ٹھنڈی جگہ اور نہ اچھا منظر ہے اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ نہ معزز ہے اور نہ اچھا۔ اس کی نظیر ” من کل زوج کریم “ ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں عمدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْمٍ ) یعنی اس میں ٹھنڈک ہوگی نہ وہ خوش گوار ہوگا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم وغم اور حزن شر ہوگا جس میں کوئی بھلائی نہ ہوگی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنہوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا چناچہ فرمایا (اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ ) یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کردیا انہوں نے دنیا کے لیے کام کیا دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے اور دنیا کی مہت ہی نے ان کو اپنے عمل درست کرنے سے غافل رکھا پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے
Read the full tafseer →[ 41] دوزخیوں کے عذاب کے سبب اور باعث کا ذکر وبیان :
سو دوزخیوں کے اس ہولناک انجام کے سبب اور اس کے باعث کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں مست ومگن رہا کرتے تھے، اور اپنی خواہشات نفس ہی کو انہوں نے اپنا قبلہء مقصود بنا رکھا تھا، یہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے تھے، اور کلمہ حق ان کو سننا اور قبول کرنا گوارا نہیں تھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ لوگ اپنے مال و دولت اور عیش و رفاہیت میں مست رہا کرتے تھے اور حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مال و دولت اور سامان عیش و عشرت سے اس لیے نوازا تھا کہ یہ لوگ اس کے شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 3 یعنی حرام و حلال سے بےپروا ہو کر نفس کی خواہشوں اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مست ہوچکے تھے۔
Read the full tafseer →(56:45) قبل ذلک : اس سے قبل، دنیا میں۔
مترفین : اتراف (افتعال) مصدر سے اسم مفعول جمع مذکر بحالت نصب مترف واحد۔ ناز پروردہ، آسودہ حال لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–46
[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →اہل جہنم کے اوصاف
1: جہنم والوں کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ ان لوگوں کے مال و دولت کے نشہ میں حق وصداقت کے پیغام کو ٹھکرایا ہے ۔ اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلفات زندگی سے نوازا ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ ان کو جب دیکھتے ہیں ۔ تو ہدیف استہزاء بناتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کیا اللہ کو تم ایسے تفلاش ہی فضائل کے لئے منتخب کرتے تھے ۔ کیا تمہارے سوا اس کو اور لوگ نہیں ملتے تھے ۔ جن کو وہ ایمان کی سعادتوں سے بہرہ مند کرتا ۔ ان لوگوں کے نزدیک مالدار ہونے کے بعد یہ بھی ضروری ہے ۔ کہ عقل وروح کی تمام فضیلتیں بھی ان کو حاصل ہوں ۔ حالانکہ اکثر ایسا ہوتا ہے ۔ کہ اس نوح کے آسودہ لوگ یک قلم حق کی پذیرائی…
Read the full tafseer →(45) یہ لوگ اس سے پہلے بڑے خوش عیش آسودہ اور ناز پروردہ تھے۔ یعنی دنیا میں آسودہ حالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 1۔ یعنی سایہ سے ایک جسمانی نفع ہوتا ہے راحت و برودت، اور ایک روحانی نفع ہوتا ہے لذت و فرحت اہل دوزخ دونوں سے منتفع نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →بلا شبہ وہ اس سے پہلے بڑے خوشحال لوگ تھے
45۔ { مترفین } اسم مفعول جمع مذکر حالت نصب اتراف مصدر۔ عیش پرست لوگ ‘ خوش حال لوگ ‘ مزے سے زندگی کاٹنے والے ‘ کھاتے پیتے لوگ ‘ باپ دادا والے ‘ و ڈیرے ‘ چوہدری ، مطلب یہ کہ وہاں تو وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہوں گے لیکن دوزخ میں پہنچنے سے قبل وہ دنیا میں عیش و آرام سے زندگی گزار رہے تھے اور اس زندگی پر مطمئن تھے اور آخرت کی زندگی کبھی ان کو بھول کر بھی یاد نہ آئی تھی۔ عیش و نشاط میں ان کی زندگی گزر رہی تھی کہ وعدہ الٰہی نے ان کو دبایا اور ان کی ساری عی و نشاط یک قلم ختم ہو کر رہ گئی۔ موت آنے کی دیر ہوئی کہ وہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا اب ان کے لیے دوزخ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
20 That is, "Their prosperity had an adverse effect on them. Instead of being grateful to Allah Almighty, they had become deniers of His blessings. Lost in pleasure-seeking they had forgotten God and persisted in heinous sinning. "Heinous sinning" includes disbelief, polytheism and atheism as well as every grave sin of morality and conduct."
Read the full tafseer →