Explained with ayahs 41–56
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
سورة الْوَاقِعَة 20
یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہوگئے تھے۔ اپنی لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔ " گناہ عظیم " کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(یہ ان کے ان بڑے جرائم کی طرف اشارہ ہے جن کے سبب سے وہ اس انجام بد گو پہنچے۔ اسلوب بیان سے معلومہوتا ہے کہ گویا وہ دن لوگوں کے سامنے حاضر کردیا گیا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بد قسمت لوگ اس انجام کو پہنچے تو کیوں پہنچے !) (انھم گانو قبل ذلک مترفین) فرمایا کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا میں بڑے مالدار اور عیش و رفاہیت والے رہے ہیں۔ یہ بات ان کے جرم کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس سے ان کے ان جرائم کی سنگینی واضح ہو رہی ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو عیش و آرام اور دولت و ثروت سے نوازا جس کا حق یہ تھا کہ وہ اس کے شکر گزارو فرمانبردار بندے بنتے لیکن یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
12: بڑے بھاری گناہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔
Read the full tafseer →وکانو ................ العظیم (6 5: 6 4) ” اور یہ گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ “ الحنث کے معنی الذنب یہاں مراد شرک ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس حلف کی طرف جو اللہ نے انسانی فطرت سے لیا تھا کہ وہ اللہ وحدہ پر ایمان لائیں گے اب انہوں نے اس عہد کو توڑ لیا اور حانث ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
2 وہ بڑا گناہ کفر و شرک ہے اور تکذیب انبیاء یا جھوٹی قسمیں کھا کر یہ کہنا کہ مرنے کے بعد ہرگز کوئی زندگی نہیں۔ کما قال تعالیٰ (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ) 16 ۔ النحل :38)
Read the full tafseer →آیت 46{ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور یہ اصرار کرتے تھے بہت بڑے گناہ پر۔“
بہت بڑے گناہ سے یہاں شرک مراد ہے ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورة النساء میں حتمی فیصلہ دیا جا چکا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُج } آیت 48 کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کو کبھی نہیں بخشے گا ‘ اس کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
24 حنث عظیم کا مفہوم :۔ حنث سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا تعلق عہد و پیمان یا قسم توڑنے سے ہو۔ اور ایسے گناہ سب کے سب کبیرہ یا عظیم ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سرفہرست کفر و شرک ہے اور یہ عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری عہد شکنی انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ سب انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو یہ وصیت کرتے رہے کہ اگر میرے بعد کوئی رسول آئے جو سابقہ کتب سماویہ اور انبیاء کی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ تیسرا گناہ عظیم آخرت سے انکار ہے جس کے متعلق کفار مکہ پختہ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اللہ اسے کبھی زندہ کرکے اٹھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
15۔ یعنی کفر وشرک پر۔ والمراد کماروی عن قتادۃ والضحاک وابن زید الشرشک وھو ظاھر (روح) (آیت) ” قبل ذلک “۔ یعنی دنیا میں۔ (آیت) ’ ’ انھم ..... مترفین “۔ یعنی اپنی خوشحالی کے غرہ میں دنیوی مادی زندگی میں مست تھے اور ایمانی صداقتوں سے انکار پر مصر تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →اور بڑے بھاری گناہ (یعنی شرک و کفر) پر اصرار کیا کرتے تھے
اَلْحِنْثِ اَلْعَظِیْمِ : بڑا گناہ ‘ یعنی شرک۔ شعبی نے کہا : حنث عظیم سے مراد ہے دانستہ جھوٹی قسم یعنی وہ قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ ان کو دوبارہ زندہ کر کے نہ اٹھایا جائے گا اور ان کی یہ قسمیں جھوٹی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
(45۔ 53) وہ لوگ دنیا میں بڑے حد سے تجاوز کرنے والے تھے یا یہ کہ بڑی خوش حالی میں رہتے تھے اور وہ بڑے بھاری گناہ پر یعنی شرک یا یہ کہ جھوٹی قسموں پر اصرار کیا کرتے تھے اور دنیا میں یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا اس کے بعد ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
اور پھر اس کے بعد اے ایمان و ہدایت سے گمراہ ہونے والو اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والو یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیو درخت زقوم سے کھانا ہوگا اور پھر اس درخت زقوم سے پیٹ بھرنا ہوگا یہ درخت دوزخ کی جڑ میں سے اگا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →وَ کَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ : بہت بڑے گناہ سے مراد شرک ہے ، جیسا کہ فرمایا :(ان الشرک لظلم عظیم) (لقمان : 13)”بیشک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے“۔ یعنی ان کے عذاب کا باعث اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ خوش حالی کو نافرمانی کے لیے استعمال کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر اصرار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ قیامت اور پیغمبروں کو بھی جھٹلاتے تھے ، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
انھم گانوا قبل ذلک مترفین۔ وہ اس عذاب کے مستحق اس لیے بنے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں حرام چیز ہے لطف اندوز ہوتے ہیں مترف یعنی خوشحال : حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ سدی نے کہا : مترفین یعنی شرک کرنے والے ” وگانو یصرون علی الجنت العظیم۔ “ وہ شرک پر قاتم تھے (2) یہ حضرت حسن بصری، ضحاک اور ابن زید کا نقطہ نظر ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : مراد وہ بڑا گناہ ہے جس سے وہ توبہ نہیں کرتے تھے۔ شعبی نے کہا : اس سے مراد یمین غموس ہے یہ گناہ کبیرہ میں سے ہے (3) یہ جملہ بولا جاتا ہے، جنت فی یمینہ اس نے قسم کو پورا نہ کیا اس نے رجوع کرلیا۔ وہ قسم اٹھایا کرتے تھے کہ دوبارہ اٹھانے کا کوئی تصور نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
9۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم سے مراد ہے کبیرہ گناہ۔
Read the full tafseer →[وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ : اور وہ جمے رہتے تھے ] [عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ : تمام بڑے گناہوں پر ]
نوٹ۔ 1: الحنث العظیم پر جو الف لام ہے اسے لام جنس بھی مانا جاسکتا ہے اور لام تعریف بھی ۔ اگر لام جنس مانا جائے تو اس سے مراد ہوں گے تمام بڑے گناہ ۔ تفہیم القرآن میں اسی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے ” گناہ عظیم کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر وشرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی ۔ “ ترجمہ میں ہم نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے ۔ اور اگر لام تعریف مانا جائے پھر اس سے مراد شرک ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
﴿ وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِۚ0046﴾ (اور یہ لوگ بڑے بھاری گناہ پر اصرار کیا کرتے تھے) یعنی شرک اور کفر پر اصرار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ہم ایمان قبول نہیں کریں گے اور ہمیشہ کفر پر جمے رہیں گے۔
ان لوگوں کو توحید قبول کرنے سے بھی سخت انکار تھا اور قیامت قائم ہونے کا بھی سختی سے انکار کرتے تھے اسی لیے اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ 1ۙ۬ اَىِٕذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ0047﴾ (اور وہ کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے) یہ بات کہنے سے ان کا مطلب وقوع قیامت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
16:۔ ” انہم “ مترفین، عیش و عشرت اور شہوات نفسانیہ کے اتباع میں منہمک۔ الحث العظیم، بہت بڑا گناہ یعنی شرک و کفر۔ یہ دنیا میں عیش و عشرت اور خواہشات نفسانیہ کے پیچھے پڑے رہے اور شرک وکفر ایسے عظیم گناہ پر بضد رہے اور قیامت کا انکار کرتے رہے اور اس کو عقل و قیاس سے بعد سمجھ کر کہتے تھے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی ہوجائیں اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں اور پھر بھی ہم دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔
اصحاب شمال کا حال :
کامیاب…
Read the full tafseer →وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ 46 ۚ
صر
الْإِصْرَارُ : التّعقّد في الذّنب والتّشدّد فيه، والامتناع من الإقلاع عنه . وأصله من الصَّرِّ أي :
الشّدّ ، والصُّرَّةُ : ما تعقد فيه الدّراهم، والصِّرَارُ : خرقة تشدّ علی أطباء الناقة لئلا ترضع . قال اللہ تعالی: وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] ، ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِراً
[ الجاثية/ 8] ، وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْباراً [ نوح/ 7] ، وَكانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ [ الواقعة/ 46] ، والْإِصْرَارُ : كلّ عزم شددت عليه، يقال : هذا منّي صِرِّي، وأَصِرِّي وصِرَّى وأَصِرَّى وصُرِّي وصُرَّى أي : جدّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ ۔ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ ۔ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ 5 لا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 45 تا 48)
(یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے پہلے خوشحال تھے۔ اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ )
اصحابُ الشمال کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر
گزشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اب ان کے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
فہم القرآن
ربط کلام : بائیں ہاتھ والوں کے جرائم اور انجام۔
ہائیں ہاتھ والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جو دنیا میں خوش حال اور مال دار تھے، یہی لوگ معاشرے میں اکثر برائیوں کے موجد تھے، مالدار ہونے کے باوجود لوگوں کے حقوق غصب کرتے تھے اور غریبوں کا خیال نہیں رکھتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر آسمانی کتاب میں لوگوں کے حقوق غصب کرنے سے منع کیا ہے اور غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں اور زیر دست لوگوں کا خیال رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے، خوش حال اور مال دار لوگوں کے مال میں کمزور لوگوں کا حق رکھا گیا ہے (الذاریات : 19) لیکن جہنم میں جانے والے مجرم کمزور لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے…
Read the full tafseer →بڑا گناہ شرک :
46 : وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ (اور وہ بڑے بھاری گناہ پر اصرار کیا کرتے تھے) یصرونؔ مداومت کرتے تھے۔ الحنث العظیمؔ : بڑا گناہ نمبر 2۔ شرک۔ کیونکہ اس سے میثاق والا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ الحنْثِ قسم والے عہد کو توڑنا۔ نمبر 2۔ بعث کا انکار۔ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے۔ واقسموا باللّٰہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت ] النحل : 38[
Read the full tafseer →45 ۔” انھم کانوا قبل ذلک “ یعنی دنیا میں ” مترفین “ خوش عیش تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
( وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ ) یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انہیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا پس انہوں نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے (اَىِٕذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ 48) کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ پھر کھڑے کیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →[ 42] منکرین کے تمرّد اور ان کی سرکشی کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخیوں کے ہولناک انجام کا دوسرا بڑا سبب ان لوگوں کا تمردو سرکشی تھا۔ والعیاذ باللّٰہ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور یہ سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔ یعنی حدود و بندگی سے نکل کر تمرود و سرکشی کے اس سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک گناہ پر اصرار کرتے تھے جس کی کو کھ سے آگے کفر و شرک اور الحادو بےدینی جیسے کئی بڑے اور ہولناک جرائم جنم لیتے ہیں اور کفر و شرک کے اس گناہ عظیم پر جو کہ تمام گناہوں کی جڑ بنیاد ہے، اور جس کے ساتھ کوئی بھی نیکی قابل قبول نہیں، کہ شرک در حقیقت بگاوت ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے، والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی اس سے توبہ نہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(56:46) کانوا یصرون ماضی استمراری، صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصرار افعال مصدر۔ وہ اصرار کیا کرتے تھے۔ وہ اڑے رہتے تھے
الحنث العظیم : موصوف و صفت۔ حنث گناہ، جھوٹی قسم، گناہ عظیم یعنی شرک، جھوٹی قسمیں، یعنی چھوٹی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ ان کو دوبارہ زندہ کرکے نہ اٹھایا جائے گا۔ (آیات 47، 48 میں ان کی بعض قسمیں مذکور ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–46
[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…
Read the full tafseer →(46) اور یہ بڑے بھاری گناہ پر اڑتے اور اصرار کرتے تھے۔ یعنی شرک پر مداومت اور ضد کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
ف 2۔ مطلب یہ کہ ایمان نہیں لائے تھے۔
Read the full tafseer →وہ گناہ عظیم پر مصر رہتے تھے
46۔ گزشتہ آیت میں جن لوگوں کو { مترفین } کہا گیا ہے وہ لوگ ہیں جو گناہ کی باتوں پر مصر رہتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ جو قیامت کا ذکر بار بار کرتا ہے قیامت ویامت کچھ نہیں ہے ایک بار اس دنیا سے جانے کے بعد نہ کوئی آیا ہے اور نہ ہی آئے گا۔ دوبارہ زندہ ہونا محض ایک کہانی ہے۔ اسی طرح رسالت کا بھی وہ انکار کرتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اس کو مؤکد کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے جو فطری عہد ان لوگوں نے کیا تھا اس کو توڑنے کے درپے تھے۔ گویا ان کی حالت ایسی تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کیا آدمی ہے کہ چور بھی ہے چتر بھی ؟ { یصرون } جمع مذکر غائب مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
20 That is, "Their prosperity had an adverse effect on them. Instead of being grateful to Allah Almighty, they had become deniers of His blessings. Lost in pleasure-seeking they had forgotten God and persisted in heinous sinning. "Heinous sinning" includes disbelief, polytheism and atheism as well as every grave sin of morality and conduct."
Read the full tafseer →