لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِیْمٍ ۟لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
— Fateh Muhammad Jalandhari
Neither cool nor beneficial.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِیْمٍ ۟لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
— Fateh Muhammad Jalandhari
Neither cool nor beneficial.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
جو نہ ٹھنڈا ہے نہ فرحت بخش
جو نہ ٹھنڈا ہوگا، نہ کوئی فائدہ پہنچانے والا۔
جو نہ ٹھنڈی نہ عزت کی،
جو نہ (کبھی) ٹھنڈا ہوگا اور نہ فرحت بخش ہوگا،
جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ باعزت۔
جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ
جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کسی طرح کی کوئی افادیت۔
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش۔۔
نہ وہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی سکون بخش۔
جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ خوشنما
which will neither be cool nor soothing.
neither cool nor graceful.
neither cool nor graceful.
Neither Barid nor Karim,
Neither cool nor refreshing.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Neither cool nor beneficial.
neither cold nor graceful in shape.
Neither cool nor honorable.
Neither cool nor pleasant.
Nothing (will there be) to refresh, nor to please:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 41–56
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
سورة الْوَاقِعَة 20 یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہوگئے تھے۔ اپنی لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔ " گناہ عظیم " کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(واصحب الشمال ما اصحب الشمال فی سموم و حمیم وظل من یحموم لا باردولاکریم (41، 44)۔ (اصحب الشمال کا حشر)۔ یہ اصحب الشمال یعنی ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے، فرمایا کہ وہ لوئوں اور شعلوں کی لپٹ اور گرم پانی کے بیچ میں ہوں گے۔ جب گرمی کی ایذا سے گھبرا کر وہ پانی کی طرف بھاگیں گے تو انہیں کھولتا پانی پینے کو ملے گا۔ اسی بھاگ دوڑ میں ان کی زندگی گزرے گی۔ یہی مضمون (یطوفون بینھا و بین میم ان) (الرحمن : 55، 44) کے الفاظ سے بھی بیان ہوا ہے۔ (وظل من یحموم) یعنی ان کو کوئی سایہ نصیب نہیں ہوگا۔ صرف سیاہ دھوئیں کا سایہ وہاں انکے لیے ہوگا۔ اور یہ ان…
Read the full tafseer →44-1یعنی سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے، لیکن یہ جس کا سایہ سمجھ رہے ہونگے، وہ سایہ ہی نہیں ہوگا، جو ٹھنڈا ہو، وہ تو جہنم کا دھواں ہوگا جس میں کوئی حسن منظر یا خیر نہیں۔ یا مٹھاس نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
11: یعنی اس درجے کے مومن پچھلے زمانے کے لوگوں میں سے بھی بہت سے ہوں گے، اور بعد کے زمانوں میں سے بھی بہت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
واصحب الشمال ............ یوم الدین (6 5) (6 5: 1 4 تا 45) ” اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں (کی کا کیا پوچھنا ، وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ؟ “ اے نبی ان لوگوں سے کہو ، یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے پھر اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
1 یعنی دوزخ کے آگے سے کالا دھواں اٹھے گا۔ اس کے سائے میں رکھے جائیں گے۔ جس سے کوئی جسمانی یا روحانی آرام نہ ملے گا۔ نہ ٹھنڈک پہنچے گی۔ نہ وہ عزت کا سایہ ہوگا۔ ذلیل و خوار اس کی تپش میں بھنتے رہیں گے۔ یہ ان کی دنیاوی خوشحالی کا جواب ہوا جس کے غرور میں اللہ و رسول سے ضد باندھی تھی۔
Read the full tafseer →آیت 44{ لَّا بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍ۔ } ”نہ وہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی سکون بخش۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
24 حنث عظیم کا مفہوم :۔ حنث سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا تعلق عہد و پیمان یا قسم توڑنے سے ہو۔ اور ایسے گناہ سب کے سب کبیرہ یا عظیم ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سرفہرست کفر و شرک ہے اور یہ عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری عہد شکنی انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ سب انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو یہ وصیت کرتے رہے کہ اگر میرے بعد کوئی رسول آئے جو سابقہ کتب سماویہ اور انبیاء کی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ تیسرا گناہ عظیم آخرت سے انکار ہے جس کے متعلق کفار مکہ پختہ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اللہ اسے کبھی زندہ کرکے اٹھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
14۔ یعنی دنیا میں سایہ سے جو نفع بھی خیال میں آتے ہیں، خواہ جسمانی ہوں مثلا برودت یا نفسیانی مثلا لذت، یہ سب اس دوزخی سایہ سے منفی ہوں گے اور سایہ صرف نام ہی کا ہوگا ورنہ وہ نہ ٹھنڈک پہنچانے والا ہوگا نہ وہ کسی طرح پر آرام دہ۔ (آیت) ’ فی سموم۔ سموم “۔ کے معنی لوکی تیز لپٹ کے ہیں جو جسم کے اندر تک جھلس دے۔ السموم الریح الحارۃ التی توثر تاثیر السم (راغب) فی السموم اے فی حر نار ینفذ فی المسام (کشاف) (آیت) ” اصحب الشمال “۔ یعنی ہو جن کے بائیں ہاتھ میں ان کا نامہ اعمال دیا جائے گا۔ (آیت) ” اصحب المشئمۃ “۔ کا ذکر ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ولا کریم “۔ عربی زبان میں کرم بہت وسیع معنی میں ہے۔ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش ہوگا لَابَارِدٍ : یعنی دوسرے سایوں کی طرح ٹھنڈا نہ ہوگا۔ وَّلاَ کَرِیْمٍ : یعنی کسی طور پر سود مند نہ ہوگا یا دیکھنے میں بھی اچھا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–44
(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ۔۔۔۔۔۔:”سموم“ کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ طور (27) کی تفسیر۔ ”یحموم“ سیاہ دھواں۔ یہ ”حمم“ (بروزادا ”صرد“ بمعنی کوئلہ) سے ”یفعول“ کے وزن پر ہے۔ ”احم“ سیاہ۔ یعنی وہ دھواں جس میں سیاہی اور گرمی دونوں ہوں۔ یعنی جہنمیوں کو کہیں سایہ نہیں ملے گا ، ملے گا تو سخت سیاہ اور گرم دھوئیں کا ، جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کوئی راحت یا آسائش ہوگی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ مرسلات (29 تا 34)
Read the full tafseer →لابارد ٹھنڈا نہیں ہوگا بلکہ گرم ہوگا کیونکہ وہ جہنم کا دھوا ہوگا۔ ولا کریم نہ آرام دہ ہوگا : ضحاک سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس کا منظر حسین نہیں ہوگا۔ جس میں خیر نہ ہو وہ کریم نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وظل من یحموم سے مراد ہے وہ اس آگ کا سایہ ہوگا جس کے ساتھ انہیں عذاب دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لَھُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ط “ ( الزمر : 16)
Read the full tafseer →7۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لابارد ولا کریم (نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرھت بخش ہوگا) یعنی نہ اس سے اترنے کی جگہ ٹھنڈی ہوگی اور نہ اس کا منظر راحت دینے والا ہوگا۔
Read the full tafseer →[لَّا بَارِدٍ : جو نہ ٹھنڈا ہوگا ] [وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ عزت والا ہوگا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
اصحاب الشمال کا عذاب ان آیات میں اصحاب الشمال کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے جنہیں شروع سورت میں اصحاب المشئمہ سے تعبیر فرمایا تھا، ارشاد فرمایا ﴿ وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ0041﴾ (اور بائیں جانب والے کیسے ہی برے ہیں بائیں جانب والے) ﴿فِيْ سَمُوْمٍ ﴾ (یہ لوگ سخت گرم زہریلی ہوا میں ہوں گے) ﴿ وَّ حَمِيْمٍۙ0042﴾ خوب زیادہ سخت گرم پانی میں ہوں گے) ﴿وَّظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍۙ0043﴾ (اور ایسے سایہ میں ہوں گے جو یحموم کا سایہ ہوگا) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یحموم سے دخان اسود یعنی کالا دھواں مراد ہے۔ یہ ظل ممدود کے مقابلہ میں بیان فرمایا ہے، اصحاب الیمین بہت بڑے لمبے چوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
15:۔ ” واصحب الشمال “ یہ دوسری جماعت کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الشمال کا کیا پوچھتے ہو ان کا حال نہایت برا اور ناگفتہ بہ ہوگا۔ فی سموم الخ، مبتدا ” ھم “ محذوف ہے اور یہ اصحاب الشمال کے حال بد کا بیان ہے۔ ان کو ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈے پانی کے بجائے نہایت ہی گرم اور زہریلی ہوا اور کھولتا ہوا پانی نصیب ہوگا اور گرمی سے بچنے کے لیے کوئی سایہ نہ ہوگ سوا اس دھواں کے جو جہنم کی آگ سے اٹھے گا۔ اہل دوزخ دوڑ کر اس کے سائے میں پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔ ” لا بارد ولا کریم “ مگر وہ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ کسی حد تک مفید ہوگا اس سے ان کے عذاب میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوگی۔ السموم الریح الحارۃ التی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔ اصحاب شمال کا حال : کامیاب…
Read the full tafseer →لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْمٍ 44 برد أصل البرد خلاف الحر، فتارة يعتبر ذاته فيقال : بَرَدَ كذا، أي : اکتسب بردا، وبرد الماء کذا، أي : أكسبه بردا، نحو : 48- ستبرد أکبادا وتبکي بواکيا «4» ويقال : بَرَّدَهُ أيضا، وقیل : قد جاء أَبْرَدَ ، ولیس بصحیح «5» ، ومنه البَرَّادَة لما يبرّد الماء، ويقال : بَرَدَ كذا، إذا ثبت «6» ثبوت البرد، واختصاص للثبوت بالبرد کا ختصاص الحرارة بالحرّ ، فيقال : بَرَدَ كذا، أي : ثبت، كما يقال : بَرَدَ عليه دين . قال الشاعر : 49- الیوم يوم بارد سمومه «7» وقال الآخر : 50- .... قد برد المو ... ت علی مصطلاه أيّ برود «1» أي : ثبت، يقال : لم يَبْرُدْ بيدي شيء، أي : لم يثبت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ ۔ فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ ۔ وَّظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ ۔ لاَّ بَارِدٍ وَّلاَ کَرِیْمٍ ۔ (الواقعۃ : 41 تا 44) ( اور بائیں بازو والے، اور بائیں بازو والوں کی بدنصیبی کا کیا کہنا۔ وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی۔ اور کالے دھویں کے سایہ میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ ) اصحابُ الشمال کا انجام یہاں سے ان لوگوں کی بدنصیبی کا حال شروع ہورہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ ان کی بدنصیبی کا عالم یہ ہوگا کہ انھیں لو کی لپٹ میں ڈالا جائے گا۔ جہنم کی آگ انھیں جلائے گی۔ اور جب وہ اس سے گھبرا کر پانی کی طرف بھاگیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن ربط کلام :” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے بعد ” اَصْحَاب الشِّمَالِ “ کا ذکر۔ یہاں بھی قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق دو فریقوں کا مقابلتاً ذکر کیا ہے۔ پہلے ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے بارے میں فرمایا کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کی خوش بختی کا کیا کہنا ؟ انہیں اللہ تعالیٰ قسما قسم کے انعامات سے نوازے گا اور کھانے کے لیے ہر قسم کے پھل اور پرندوں کا گوشت دیا جائے گا۔ پینے کے لیے ایسے مشروبات دیئے جائیں گے جن میں کسی قسم کی غنودگی اور نشہ نہیں ہوگا۔ ان کے مقابلے میں اصحاب الشمال کے بارے میں فرمایا ہے کہ ” اَصْحَاب الشِّمَالٍ “ کی بد نصیبی کا کیا کہنا ؟ وہ شدید ترین آگ کی لو، کھولتے…
Read the full tafseer →نام کا سایہ : 44 : لاَّ بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍ (جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش ہوگا) سائے کی دو صفات کی نفی کی گئی۔ مراد یہ ہے کہ وہ سایہ تو ہوگا مگر عام سایوں کی طرح نہ ہوگا اس کا نام سایہ ہی رکھا پھر سائے کی اچھی صفات بردوراحت کی نفی کردی۔ اور اس کا فائدہ سایہ والے کیلئے سوائے ایذاء کے اور کچھ نہ ہوگا۔ اور یہی اس کا کرم ہے اور انداز سے سایہ کے متعلق آرام حاصل ہونے کی جو دلالت تھی اس کا ازالہ ہوگیا۔ حاصل یہ ہے کہ گرم نقصان دہ سایہ ہوگا۔
Read the full tafseer →43 ۔” وظل من یحموم “ دھواں سخت سیاہ۔ عرب کہتے ہیں اسود یحموم جب سخت سیاہ ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ آگ سیاہ ہے اور اسی کے اہل سیاہ تر اور ہر چیز جس میں سیاہی ہو۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ” الیحموم “ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْمٍ ) یعنی اس میں ٹھنڈک ہوگی نہ وہ خوش گوار ہوگا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم وغم اور حزن شر ہوگا جس میں کوئی بھلائی نہ ہوگی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنہوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا چناچہ فرمایا (اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ ) یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کردیا انہوں نے دنیا کے لیے کام کیا دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے اور دنیا کی مہت ہی نے ان کو اپنے عمل درست کرنے سے غافل رکھا پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے
Read the full tafseer →[ 40] اہل دوزخ کے ہولناک سائے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سیاہ دھوئیں کے ایسے ہولناک سائے میں ہوں گے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ سائے میں اصل میں دو ہی فائدے ہوتے ہیں، ایک یہ کہ وہ انسان کو گرمی اور تیش سے بچاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ اس کا منظر اچھا اور پیارا ہوتا ہے، اور اس میں بیٹھنے سے انسان آرام و سکون اور خوشی و اطمینان محسوس کرتا ہے، سو دوزخ کے اس سائے میں ان دونوں میں سے کوئی فائدہ بھی موجود نہیں ہوگا، کہ وہ سایہ دراصل دوزخ کے ایک بڑے ہی ہولناک اور سیاہ دھوئیں کا سایہ ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { انطلقوآ الیٰ ظلٍ ذی ثلث شعبٍ لاظلیلٍ ولا یغنی من اللھب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 3 یعنی حرام و حلال سے بےپروا ہو کر نفس کی خواہشوں اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مست ہوچکے تھے۔
Read the full tafseer →(56:44) لاباردو لاکریم۔ یہ ظل کی صفتیں ہیں۔ بارد، برد سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ ٹھنڈا۔ نہ (دوسرے سایوں کی طرح) ٹھنڈا۔ کریم خوش منظر۔ (الیسر التفاسیر) مرضی کے مطابق ٹھنڈی و کشادہ (روح المعانی) آرام دہ (ضیاء القرآن) ۔ جو سود مند نہ ہو اور نہ دیکھنے میں اچھا ہو۔ (تفسیر مظہری) دونوں ظل کی صفت ہیں۔ کرم اللہ کی صفت بھی ہے۔ انسان کی بھی ۔ فرشتے کی بھی قرآن کی بھی اور دوسری چیزوں کی بھی، اور سب کے معانی اختلاف ہے کریم : الکرم (باب کرم) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ لغات القرآن میں ہے :۔ امام راغب نے لکھا ہے :۔ کرم اللہ کی صفت بھی ہے، انسان کی بھی، فرشتے کی بھی، قرآن کی بھی اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–46
[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(44) وہ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا نہ وہ باعزت اور فرحت بخش ہوگا یعنی اہل شقاوت مختلف اور گونا گوں عذابوں میں مبتلا ہوں گے۔ اسی کی یہ تفصیل ہے سموم گرم بھاپ جو آگ کی طرح تیز ہوا اور آگ کا کام کریاسی لئے کسی نے آگ کا ترجمہ کیا اور کسی نے لو اور گرم ہوا ترجمہ کیا اور گرم پانی پینے کو یا گرم کھولتا ہوا پانی سروں پر ڈالا جائے گا۔ سیاہ دھوئیں کے سائے تلے یعنی سروں پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہوں گے یعنی نہ اس سائے تلے سائے کی سی ٹھنڈک نہ کو ب آبرو مندانہ فرحت ومنفعت اور نہ وہ سایہ نفع بخش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 1۔ یعنی سایہ سے ایک جسمانی نفع ہوتا ہے راحت و برودت، اور ایک روحانی نفع ہوتا ہے لذت و فرحت اہل دوزخ دونوں سے منتفع نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →نہ تو اس سایہ میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی فرحت بخشے گا 44۔ سائے کا اصل تصور ہی یہ ہے کہ آدمی سائے میں چلا جائے تو اس کو ٹھنڈ محسوس ہو اور اس کی طبیعت کی گھبراہٹ دور ہوجائے لیکن ایسا سایہ جو گرمی کے موسم میں مزید گرمی بنائے اور اس سایہ میں انسان کا دم گھٹنے لگے تو وہ یہ سایہ سایہ نہیں بلکہ عذا بِ الٰہی ہو سکتا ہے اور اس جگہ عذاب ہی کے مفہوم میں یہ استعمال ہوا ہے کہ نہ تو اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی اس فرحت حاصل ہوگی بلکہ گرم ماحول میں وہ مزید حبس پیدا کر دے گا۔ { بارِد } ٹھنڈا نہیں ہوگا کریمٍصفت مشبہ واحد کرام جمع اور اس کے معنی ہیں عزت والا ‘ خوش کن اور اس جگہ فی کا صیغہ ہے یعنی وہ سایہ خوش کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
20 That is, "Their prosperity had an adverse effect on them. Instead of being grateful to Allah Almighty, they had become deniers of His blessings. Lost in pleasure-seeking they had forgotten God and persisted in heinous sinning. "Heinous sinning" includes disbelief, polytheism and atheism as well as every grave sin of morality and conduct."
Read the full tafseer →