لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۟ؕ۠لِّاَصۡحٰبِ الۡيَمِيۡنِؕ
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
For the companions of the right [who are]
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juzع
لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۟ؕ۠لِّاَصۡحٰبِ الۡيَمِيۡنِؕ
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
For the companions of the right [who are]
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لیے ہے
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
دائیں ہاتھ والوں کے لیے ہیں
سب کچھ دائیں ہاتھ والوں کے لیے۔
دہنی طرف والوں کے لیے،
یہ (حوریں اور دیگر نعمتیں) دائیں جانب والوں کے لئے ہیں،
دائیں ہاتھ والوں کے لیے۔
یہ کچھ ہوگا داہنے ہاتھ والوں کے لئے
یہ نعمتیں داہنے والوں کے لیے ہوں گی۔
یہ سب کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہوگا
(انہیں) داہنے والوں کے لئے۔
یہ سب کچھ ہوگا) اصحاب الیمین کے لیے۔
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لیے
All this will be for the People on the Right;
for the People of the Right,
for the People of the Right,
For those on the right.
For those on the right hand;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
For the companions of the right [who are]
loving and of equal age.
For the sake of the companions of the right hand.
For the fellows on the right hand.
For the Companions of the Right Hand.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 27–40
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
سورة الْوَاقِعَة 20 یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہوگئے تھے۔ اپنی لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔ " گناہ عظیم " کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
عُرُبًا، بضم عین و راء، عروبہ کی جمع ہے، اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے شوہر کی عاشق اور اس کی من پسند محبوبہ ہو۔ اتراب، ترب بکسر تاء کی جمع، جس کے معنی ہم عمر کے ہیں، جو مٹی میں ساتھ کھیلا ہو، جنت میں مرد و عورت سب ہم عمر کردیئے جاویں گے، بعض روایات حدیث میں ہے کہ سب کی عمر 33 سال ہوگی (مظہری)
Read the full tafseer →(لا صحب الیمین) (38)۔ اس کو (انا انشانھن انشاء) سے متعلق بھی مان سکتے ہیں اور بمتدائے مخدوف کی خبر بھی قرار دے سکتے ہیں، اگر پہلی صورت مانیں تو معنی یہ ہوں گے کہ اس خاص اٹھان اور ان خاص اوصاف کی حوریں ہم نے اصحاب الیمین کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ دوسری صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ یہ ساری نعمتیں جو اوپر بیان ہوئیں، ہمارے ہاں اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ میرا رجحان پہلی صورت کی طرف ہے، لیکن دونوں صورتوں میں سے جو بھی اختیار کی جائے با اعتبار مدعا کوئی خاص فرق نہیں ہوگا، صرف بلاغت بیان کے اعتبار سے نازک سا فرق واقعہو گا جس کا اندازہ اہل ذوق خود کرسکتے ہیں اس وجہ سے وہ وجوہ ترجیح کی بحث میں پڑنے کی ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
36-1اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہونگی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہونگی، تو وہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کی بیویوں کے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
10: اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، کیونکہ اپنی ہم عمر کے ساتھ ہی رفاقت کا صحیح لطف حاصل ہوتا ہے، اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی، بعض احادیث میں ہے کہ جنتیوں کی عمر 33 سال کردی جائے گی جو شباب کا زمانہ ہوتا ہے (ترمذی عن معاذ)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
12 یعنی حوریں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں ملیں گی وہاں ان کی پیدائش اور اٹھان خدا کی قدرت سے ایسی ہوگی کہ ہمیشہ خوبصورت جوان بنی رہیں گی۔ جن کی باتوں اور طرزو انداز پر بےساختہ پیار آئے اور سب کو آپس میں ہم عمر رکھا جائے گا اور ان کے ازواج کے ساتھ بھی عمر کا تناسب برابر قائم رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 38{ لّاَِصْحٰبِ الْیَمِیْنِ۔ } ”یہ سب کچھ ہوگا اصحاب الیمین کے لیے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
22 یعنی مقربین تو اولین میں زیادہ ہوں گے اور آخرین میں کم جبکہ اصحاب الیمین اولین میں سے بھی بہت ہوں گے اور آخرین میں سے بھی۔ چناچہ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم لوگ سارے اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہوگے (اور تین چوتھائی میں باقی سب امتوں کے لوگ شامل ہوں گے) یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا (اللہ کا شکریہ ادا کیا) پھر آپ نے فرمایا : نہیں تم تہائی حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ پھر آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم آدھا حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة حج۔ وتری الناس سکٰرٰی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
12۔ اہل جنت کی خوش عیشی کی تکمیل کے لیے دوسری لذتوں کے ساتھ لذت مواصلت کا ذکر بھی ضروری تھا، یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی، ان کا شباب، ان کا حسن و جمال، دلکشی اور اہل جنت کے ساتھ ان کی ہم عمری یہ سب چیزیں مستقل، پائدار اور دائمی ہوں گی، اس دنیا کی نعمتوں کی طرح فناء پذیر نہ ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
انا انشاناھن انشاء انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص ادناز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر واسطہ ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جو ان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی میں حضرت انس ؓ ت عالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشاناھن کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی سفید بال بدلکشل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین اور نوجوان بنا…
Read the full tafseer →دائیں طرف والوں کیلئے لِاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ : اس کا تعلق انشانا سے ہے یا جعلنا سے یا یہ ابکار اً کی صفت یا مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی : ہُنَّ لِاَصْحَابِ الْیَمِیْنِ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–44
(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
عُرُبًا اَتْرَابًا لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ”عربا“”عروب“ (بفتح عین) کی جمع ہے ، جیسے ”رسول“ کی جمع ”رسل“ ہے۔ یہ ”اعرب فلان فی قولہ“ سے ہے ، جب کوئی شخص فصاحت اور حسن بیان سے بات کرے۔ یعنی میٹھی میٹھی باتوں اور ناز و انداز سے خاوند کا دل لبھانے والی اور اس کی محبت حاصل کرنے والی عورتیں ، خاوند کی محبوب عورتیں۔ ”اترابا“”ترب“ کی جمع ہے، ہم عمر جو مل کر مٹی میں کھیلتے رہے ہوں۔ ”لا صحب الیمین“”اترابا“ سے متعلق ہے ، یعنی وہ اصحاب الیمین کی ہم عمر ہوں گی۔ ہم عمر ی میں جو موافقت پائی جاتی ہے وہ اس کے سوا میں حاصل نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ ان آیات کا یہ مطلب نہیں کہ سابقون کو ملنے والی نعمتیں اور ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
وفرش مرفوعۃ۔ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” ان کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان دوری ہے یعنی پانچ سو سال “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہچانتے مگر رشدین بن سعد کی سند سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا : فرض درجہ بدرجہ ہوں گے اور درجات میں یوں فاصلہ ہوگا جس طرح زمین و آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں فرش سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جنت میں ہیں ان کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ معنی ہے وہ عورتیں، اپنے حسن اپنے کمال میں بلند شان والی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا انشانھن انشا۔ “ ہم نے انہیں پیدا کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
14۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے عشق و محبت کرنے والیاں ” اترابا “ یعنی ہم عمر۔ شوہروں سے محبت کرنے والی عورتیں۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے عشق و محبت رکھنے والیاں اور ان کے شوہر بھی ان سے عشق و محبت کرنے والے ہوں گے ” اترابا “ سے مراد ہے سب کی عمر ایک ہوگی یعنی تینتیس سال۔ 26۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العرب “ سے مراد ہے ملاقات کرنے والی اپنے شوہر سے۔ 17۔ ابن جریر نے العوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ”…
Read the full tafseer →[لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ : داہنی طرف والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی : اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ 38 ۭ ۧ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…
Read the full tafseer →38 : لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ (دائیں طرف والوں کیلئے ) نحو : اس میں لام انشا ٔ نا کے صلہ میں لائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →37 ۔” عربا “ حمزہ اور اسماعیل نے نفع اور ابوبکر رحمہما اللہ سے پڑھا ہے ” عربا “ راء کے سکون کے ساتھ باقی حضرات نے اس کو پیش کے ساتھ پڑھا اور وہ عروب کی جمع ہے۔ یعنی عشق کرنے والیاں اپنے خاوندوں کی محبوب، حسن اور مجاہد اور قتادہ اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ نے فرمایا ہے اور والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور عکرمہ نے ان سے روایت کیا ہے ” ملقۃ “ دل لبھانے والیاں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ناز کرنے والیاں۔ اسامہ نے اپنے والد سے کہا ہے عربا عمدہ کلام والیاں ” اترابا “ عمر میں برابر ایک عمر پر۔ آیت عرباً اتراباً کی تفسیر حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل جنت جنت میں داخل ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…
Read the full tafseer →یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لی تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[ 36] اصحاب یمین کی سرفرازیوں کا ذکر وبیان : لاصحاب الیمن کا تعلق " انا انشاناھن " سے بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس صورت میں اس کا معنی و مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کو کنواری بنادیں گے اصحاب یمین کے لیے۔ یعنی ان عورتوں کو خاص طور پر اصحاب یمین کیلئے پیدا کیا گیا ہوگا یعنی " انا انشاناھن لاصحاب الیمین " [ خازن وغیرہ ] اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو مبتدائے محذوف کی خبر قرار دیا جائے۔ یعنی ان تمام نعمتوں کو ہم نے اصحاب یمین کیلئے پیدا کیا ہوگا، [ خازن وغیرہ ] اور ترجمہ کے اندر ہم نے اسی کا لحاظ کیا ہے، بہرکیف ان دونوں صورتوں میں جو بھی اختیار کی جائے معنی اور مدعا کے اعتبار سے کوئی خاص فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1 اگلے اور پچھلے لوگوں کی تفسیر اوپر ایسی سورة میں گزر چکی ہے
Read the full tafseer →(56:38) لاصحب الیمین : اس کا تعلق انشانا سے ہے یا جعلنا سے۔ یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای ھن لاصحب الیمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–39
(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–46
[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(38) یہ سب چیزیں داہنی طرف والوں کے لئے ہیں۔ یعنی دنیا میں جو عورت بڑھیا تھی وہ وہاں جو ان ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو حوریں ملیں گی وہ جوان اور ہمیشہ باکرہ رہیں گی۔ لا مقطوعۃ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان اہل سعادت سے پہلے ان میووں کو کسی نے توڑا نہ ہوگا عورتوں میں جو وصف اوصاف ہونے چاہئیں وہ سب ابکار، عرب اور اتراب میں آگئے تاکہ انتفاع اور لذت کی تکمیل ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →یہ عورتیں دائیں طرف والوں کی ہوں گی 38۔ یہ عورتیں جن کی صفات اوپر گزر چکی ہیں یعنی آیت 35 سے آیت 37 تک جن کی صفات بتائی گئی ہیں یہ عورتیں { اصحاب الیمین } کے لیے ہوں گی اور { اصحاب الیمین } وہی ہیں جو مقربین اور سابقین کے درجہ سے تو یقیناً کم ہوں گے لیکن { اصحاب الیمین } بھی اہل جنت ہی ہوں گے اور جنت کے انعامات کے مستحق قرار پائیں گے خصوصاً وہ انعامات جو زیر نظر سورت میں ان کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں جن کی تفصیل پیچھے گزر چکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
عُرُبًا (...amorous to their husbands,...56:37). The word ` urub, is the plural of ` arubah. This refers to a woman who loves her husband passionately and is his beloved. أَتْرَابً (...matching them in age...56:37) The word atrab is the plural of tirb, meaning 'a person of equal age who played together with his mate in dust'. The verse means that men and women will be made of equal ages in Paradise. Some narrations report that they will be about thirty-three years old. [ Mazhari ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
20 That is, "Their prosperity had an adverse effect on them. Instead of being grateful to Allah Almighty, they had become deniers of His blessings. Lost in pleasure-seeking they had forgotten God and persisted in heinous sinning. "Heinous sinning" includes disbelief, polytheism and atheism as well as every grave sin of morality and conduct."
Read the full tafseer →