Al-Waaqia 56:37

Al-Waaqia · from ayah 37

56:37

عُرُبًا اَتْرَابًا ۟ۙعُرُبًا اَتۡرَابًاۙ

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

— Fateh Muhammad Jalandhari

Devoted [to their husbands] and of equal age,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:37

اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

— مولانا فتح محمد جالندہری

محبت والیاں اور ہم عمر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(شوہروں کے لیے) محبت سے بھری ہوئی، عمر میں برابر

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو خوب محبت کرنے والی ہم عمر (ازواج) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو خاوندوں کی محبوب، ان کی ہم عمر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی اور ان کے ہم عمر ہوں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دل لبھانے والیاں ہم عمر

— مولانا اسحاق مدنی

پیار دینے دلانے والیاں ہم عمر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

شوہروں کی پیاریاں اور ہم عمر

— محترمہ رفعت اعجاز

intensely loving and of matching age.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

amorous to their husbands, matching them in age,

— Muhammad Taqi Usmani

amorous to their husbands, matching them in age,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Devoted [to their husbands] and of equal age,

— Saheeh International

We have made them virgins,

— Muhammad Sarwar

Loving, equals in age,

— Muhammad Habib Shakir

Loving, of equal age.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–40

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْوَاقِعَة 18 اصل میں لفظ عُرُباً استعمال ہوا ہے، یہ لفظ عربی زبان میں عورت کی بہترین نسوانی خوبیوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی عورت ہے جو طرحدار ہو، خوش اطوار ہو، خوش گفتار ہو، جسمانی جذبات سے لبریز ہو، اپنے شوہر کو دل و جان سے چاہتی ہو، اور اس کا شوہر بھی اس کا عاشق ہو۔ سورة الْوَاقِعَة 19 اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سن ہوں گی۔ دوسرا یہ کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، یعنی تمام جنتی عورتیں ایک ہی عمر کی ہوں گی اور ہمیشہ اسی عمر کی رہیں گی۔ بعید نہیں کہ یہ دونوں ہی باتیں بیک وقت صحیح ہوں، یعنی یہ خواتین خود بھی ہم سن ہوں اور ان کے شوہر بھی ان کے ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–38

عُرُبًا، بضم عین و راء، عروبہ کی جمع ہے، اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے شوہر کی عاشق اور اس کی من پسند محبوبہ ہو۔ اتراب، ترب بکسر تاء کی جمع، جس کے معنی ہم عمر کے ہیں، جو مٹی میں ساتھ کھیلا ہو، جنت میں مرد و عورت سب ہم عمر کردیئے جاویں گے، بعض روایات حدیث میں ہے کہ سب کی عمر 33 سال ہوگی (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–37

(فرش مرفوعہ انا انشانھن انشا فجعلنھن ابکاراہ عربا اترابا) (34۔ 37) یہ ان کی نشست گاہوں اور ان کی بیویوں کا ذکر ہے۔ اوپر سابقین مقربین کے ذکر میں یاد ہوگا، ترتیب بیان اس سے مختلف ہے۔ اس فرق کے بعض نفسیاتی وجود ہیں لیکن اس طرح کی تفصیلات میں یہاں جانے کا موقع نہیں ہے۔ فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے اور ان کے لیے بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیویوں کے لیے ضمیر بغیر کسی مرجع کے آگئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ضمیر کے لیے لفظوں میں کوئی مرجع نہیں ہے لیکن قرینہ نہایت واضح موجود ہے عربی میں مثل ہے کہ (الشی بالشی یذکر) بات سے بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 36–38

36-1اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہونگی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہونگی، تو وہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کی بیویوں کے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–39

10: اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، کیونکہ اپنی ہم عمر کے ساتھ ہی رفاقت کا صحیح لطف حاصل ہوتا ہے، اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی، بعض احادیث میں ہے کہ جنتیوں کی عمر 33 سال کردی جائے گی جو شباب کا زمانہ ہوتا ہے (ترمذی عن معاذ)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–38

فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 35–38

12 یعنی حوریں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں ملیں گی وہاں ان کی پیدائش اور اٹھان خدا کی قدرت سے ایسی ہوگی کہ ہمیشہ خوبصورت جوان بنی رہیں گی۔ جن کی باتوں اور طرزو انداز پر بےساختہ پیار آئے اور سب کو آپس میں ہم عمر رکھا جائے گا اور ان کے ازواج کے ساتھ بھی عمر کا تناسب برابر قائم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 عرباً اتراباً کا لغوی مفہوم :۔ عُرُبًا عُرُوْبٌ کی جمع ہے اور عروب کے معنی ہیں اپنے خاوند سے محبت کرنے والی عورت اور بمعنی بہت ہنسنے ہنسانے والی اور خوش ذوق اور ناز و ادا سے اپنے خاوند کو لبھانے والی عورت۔ 21 أتْرَابٌ۔ تُرَابٌ بمعنی مٹی اور تارب ایک ساتھ مٹی میں کھیلنا۔ ہم عمر ہونا۔ دوست ہونا۔ اور ترب بمعنی ہم عصر، ہم عمر ساتھی اور ترب کی مونث تربۃ ہے اور ترب اور تربہ دونوں کی جمع اتراب آتی ہے۔ لیکن اتراب کا لفظ عموماً عورتوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا اتراب سے مراد ایسی دوست اور ہم عمر عورتیں ہیں جن کے مزاج میں بھی پوری ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔ یہ عورتیں آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–38

12۔ اہل جنت کی خوش عیشی کی تکمیل کے لیے دوسری لذتوں کے ساتھ لذت مواصلت کا ذکر بھی ضروری تھا، یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی، ان کا شباب، ان کا حسن و جمال، دلکشی اور اہل جنت کے ساتھ ان کی ہم عمری یہ سب چیزیں مستقل، پائدار اور دائمی ہوں گی، اس دنیا کی نعمتوں کی طرح فناء پذیر نہ ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–38

انا انشاناھن انشاء انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص ادناز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر واسطہ ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جو ان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی میں حضرت انس ؓ ت عالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشاناھن کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی سفید بال بدلکشل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین اور نوجوان بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

محبوبہ ہیں ‘ ہم عمرہیں عُرُبًا : یہ عروب کی جمع ہے۔ شوہروں کی شیفتہ اور حبیبہ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت جعفر بن محمد کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے غُرْبًا کی تشریح میں فرمایا : ان کا کلام عربی ہوگا۔ اَتْرَابًا : ہم عمر۔ بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! عربًا اترابًا کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : دنیا میں جو بوڑھی عورتیں کھچڑی بالوں والی اور آنکھوں سے چیپڑ بہنے والی ہوں گی ‘ اللہ ان کو اس بڑھاپے کے بعد (قیامت کے دن جب) پیدا کرے گا تو ان کو کنواری بنا دے گا۔ عُرُبًا : یعنی محبوبہ (شوہر کو پیاری) اترابًا : ہم عمر۔ سب 33 برس کی ہوں گی اور ان کے شوہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 28–44

(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 37–38

عُرُبًا اَتْرَابًا لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ”عربا“”عروب“ (بفتح عین) کی جمع ہے ، جیسے ”رسول“ کی جمع ”رسل“ ہے۔ یہ ”اعرب فلان فی قولہ“ سے ہے ، جب کوئی شخص فصاحت اور حسن بیان سے بات کرے۔ یعنی میٹھی میٹھی باتوں اور ناز و انداز سے خاوند کا دل لبھانے والی اور اس کی محبت حاصل کرنے والی عورتیں ، خاوند کی محبوب عورتیں۔ ”اترابا“”ترب“ کی جمع ہے، ہم عمر جو مل کر مٹی میں کھیلتے رہے ہوں۔ ”لا صحب الیمین“”اترابا“ سے متعلق ہے ، یعنی وہ اصحاب الیمین کی ہم عمر ہوں گی۔ ہم عمر ی میں جو موافقت پائی جاتی ہے وہ اس کے سوا میں حاصل نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ ان آیات کا یہ مطلب نہیں کہ سابقون کو ملنے والی نعمتیں اور ہوں گی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–38

وفرش مرفوعۃ۔ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” ان کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان دوری ہے یعنی پانچ سو سال “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہچانتے مگر رشدین بن سعد کی سند سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا : فرض درجہ بدرجہ ہوں گے اور درجات میں یوں فاصلہ ہوگا جس طرح زمین و آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں فرش سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جنت میں ہیں ان کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ معنی ہے وہ عورتیں، اپنے حسن اپنے کمال میں بلند شان والی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا انشانھن انشا۔ “ ہم نے انہیں پیدا کیا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–38

14۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے عشق و محبت کرنے والیاں ” اترابا “ یعنی ہم عمر۔ شوہروں سے محبت کرنے والی عورتیں۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے عشق و محبت رکھنے والیاں اور ان کے شوہر بھی ان سے عشق و محبت کرنے والے ہوں گے ” اترابا “ سے مراد ہے سب کی عمر ایک ہوگی یعنی تینتیس سال۔ 26۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العرب “ سے مراد ہے ملاقات کرنے والی اپنے شوہر سے۔ 17۔ ابن جریر نے العوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عُرُبًا : پیار ظاہر کرنے والیاں ] [اَتْرَابًا : ہم عمر ہونے والیاں ] نوٹ۔:3 آیت ۔ 37 ۔ میں ہم عمر ہونے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سن ہوں ۔ دوسرا یہ کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں یعنی جنت کی تمام عورتیں ایک ہی عمر کی ہوں ہمیشہ اسی عمر کی رہیں ۔ بعید نہیں کہ یہ دونوں ہی باتیں بیک وقت صحیح ہوں ۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے ۔ مسیں بھیگ رہی ہوں گی مگر داڑھی نہ نکلی ہوگی ۔ گورے چٹے ہوں گے ۔ گٹھے ہوئے بدن ہوں گے ۔ آنکھیں سرمگیں ہوگی ۔ سب کی عمریں ۔ 33 ۔ سال کی ہوں گی ۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–40

بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی : اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–39

13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عُرُبًا اَتْرَابًا۝ 37 ۙ عُرُباً وامرأةٌ عَرُوبَةٌ: مُعْرِبَةٌ بحالها عن عفّتها ومحبّة زوجها، وجمعها : عُرُبٌ. قال تعالی: عُرُباً أَتْراباً [ الواقعة/ 37] ، وعَرَّبْتُ عليه : إذا رددت من حيث الإعراب . وفي الحدیث : «عَرِّبُوا علی الإمام» . والمُعْرِبُ : صاحب الفرس العَرَبِيّ ہے امرءۃ عروبۃ وہ عورت جو اپنے خاوند سے محبت اور پاک بازی کو ظاہر کرنے والی ہو ۔ اس کی جمع عروب ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : عُرُباً أَتْراباً [ الواقعة/ 37]( اور شوہروں کی ) پیاریاں اور ہم عمر ۔ اور عربت علیہ کے معنی کسی کو اس کی غلطی بتانے کے ہیں حدیث میں ہے (36) عربوا علی الامام ( امام قرآت میں غلطی کرے تو اسے بتادو ) المعرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–40

ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–38

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–40

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37 : عُرُبًا اَتْرَابًا (محبوبہ ہیں، ہم عمر ہیں) قراءت : حمزہ، خلف، یحییٰ ، حمادنے عُرُبًا جمع عروب پڑھا ہے۔ عروبؔ محبوبہ ‘ اپنے خاوند سے محبت کرنے والی خوبصورت، مطیع و فرمانبردار۔ اترابا : عمر میں برابر۔ تینتیس سال کی لڑکیاں اور ان کے خاوند بھی اسی عمر کے ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36 ۔” فجعلناھن ابکارا “ کنواریاں۔ حضرت حسن (رح) سے روایت ہے کہ ایک بوڑھی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی اے اللہ کے رسول ! ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے فلاں کی ماں، بیشک جنت میں بوڑھیاں داخل نہ ہوں گی تو وہ رونے لگی۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اس کو خبردو کہ وہ بوڑھے ہونے کی حالت میں داخل نہ ہوگی بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” انا انشانا ھن انشاء فجعلنا ھن ابکارا “ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” انا انشاناھن انشائ “ کے بارے میں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا دنیا میں بالکل بوڑھیاں تھیں ” فجعلنا ھن ابکار “ اور مسیب بن شریک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–38

27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کی دو شیزائیں بنادیں گے اس کا عموم خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف، یعنی دوشیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا (عُرُبًا اَتْرَابًا) محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔ ہرحال میں وصف لازم ہے۔ العروب اس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیبت، اپنی ناز وادا اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنالیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہوجائیں خاص طور پر جب کہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 34] وہ حددرجہ دلربا ہونگی : سوا رشاد فرمایا گیا کہ وہ دل لبھانے والی ہوگی۔ " عُرب " جمع ہے " عروب " کی جیسے " صُبر " جمع ہے " صبور " کی اور " رسل " جمع ہے " رسول " کی، اور " زبر " کی، وغیرہ وغیرہ، اور عروب کے معنی ہیں بہت محبت کرنے والی، اپنے خاوند سے عشق رکھنے والی اور محبوب و دلربا بیویاں، سو وہاں پر ان کے زرجین کے درمیان کامل درجے کی محبت و انسیت ہوگی، جو کہ حیات زوجیت کی اصل اساس و بنیاد ہے، اور ظاہر ہے کہ جب ان کے حسن وجمال، اخلاق و کردار اور ان کی جوانی اور کنوارپن میں کسی بھی اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوگا تو ان کے شوہروں کی نظر سے گرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ گل ترکی طرح ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:37) عربا : سہاگ والیاں۔ پیار دلانے والیاں۔ محبوبائیں۔ عروب کی جمع جو کہ بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو اپنے ناز و انداز کی وجہ سے اپنے شوہر کی محبوبہ ہو۔ نیز فراست کی بنا پر اس کی مزاج شناس بھی ہو۔ ہنس مکھ عورت۔ اپنے مرد سے محبت رکھنے والی اور اس کا اظہار کرنے والی۔ اپنے خاوند پر عاشق (لسان العرب) اترابا۔ ہم عورتیں ۔ ترب کی جمع۔ عربا، اترابا بھی جعلنا کے مفعول ہیں۔ ہر سہ : ابکارا، عربا، اترابا، ھن سے حال بھی ہوسکتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس ہم نے بنادیا ان کو بایں حالیکہ وہ کنواریاں ، محبت کرنے والیاں اور ہم عمر ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–39

(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–46

[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو ہم عمر بھی ہوں گی اور پیار کرنے والیاں بھی 37۔ { عربا } سہاگ والیاں ‘ پیار دلانے والیاں ‘ محبوبائیں۔ عروب کی جمع جو بروزن فول صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو اپنے ناز و انداز کی وجہ سے اپنے شوہر کی محبوب ہو نیز اپنی فراست کی بنا پر اس کی مزاج شناس بھی ہو۔ عرب کا مادہ چونکہ اظہار کو بتاتا اسی بنا پر امام راغ اصفہانی نے مفرادت میں اس کے معنی یہ لکھے ہیں امراۃ عروب وہ عورت کہ جو زبان حال سے اپنی عفت اور اپنے شوہر کی محبت کا اظہار کرے۔ عرب عرب اس کی جمع ہے۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں عربا کی تفسیر میں لکھا ہے کہ المجبات الی ازواجھنَّ جو اپنے شوہروں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

عُرُ‌بًا (...amorous to their husbands,...56:37). The word ` urub, is the plural of ` arubah. This refers to a woman who loves her husband passionately and is his beloved. أَتْرَ‌ابً (...matching them in age...56:37) The word atrab is the plural of tirb, meaning 'a person of equal age who played together with his mate in dust'. The verse means that men and women will be made of equal ages in Paradise. Some narrations report that they will be about thirty-three years old. [ Mazhari ]

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 The word 'uruban is used for the best feminine qualities of the woman in Arabic. This signifies a woman who is graceful and elegant, well-mannered and eloquent, and brimful of feminine feelings, who loves her husband with all her heart, and whose husband also loves her with all his heart. 19 This can have two meanings: (1) That they will be of equal age with their husbands; and (2) that they will be of equal age among themselves; i.e. all the women in Paradise will be of the same age and will eternally stay young. Both these meanings may be correct at one and the same time, i.e. these…

Read the full tafseer →