Al-Waaqia 56:36

Al-Waaqia · from ayah 36

56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا ۟ۙفَجَعَلۡنٰهُنَّ اَبۡكَارًاۙ‏

تو ان کو کنواریاں بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And made them virgins,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:36

اور انہیں با کرہ بنا دیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان کو کنواریاں بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ انہیں کنواریاں بنایا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے اِن کو کنواریاں بنایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس ہم نے انھیں کنواریاں بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ انہیں کنواری بنادیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی ہم نے انہیں ایسا بنادیا ہے کہ وہ کنواری رہیں گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو کنواریاں بنایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and shall have made them virgins,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and have made them virgins,

— Muhammad Taqi Usmani

and have made them virgins,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And made them virgins.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And made them virgins,

— Saheeh International

that We have created (for the people of the right hand).

— Muhammad Sarwar

Then We have made them virgins,

— Muhammad Habib Shakir

And have made them virgins.

— Abdul Majid Daryabadi

And made them virgin - pure (and undefiled), -

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–40

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–36

سورة الْوَاقِعَة 17 اس سے مراد دنیا کی وہ نیک خواتین ہیں جو اپنے ایمان و عمل صالح کی بنا پر جنت میں جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنا دے گا، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں۔ نہایت خوبصورت بنا دے گا، خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں۔ باکرہ بنا دیگا، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہو کر۔ ان کے شوہر بھی اگر ان کے ساتھ جنت میں پہنچیں گے تو وہ ان سے ملا دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جنتی سے ان کو بیاہ دے گا۔ اس آیت کی یہی تشریح متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ شمائیل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا نے حضور سے عرض کیا میرے حق میں جنت کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَبْكَارًا۔ بکر، بکسر الباء کی جمع ہے، کنواری لڑکی کو کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ جنت کی عورتوں کی تخلیق اس شان کی ہوگی کہ ہر صحبت و مباشرت کے بعد پھری کنواری جیسی ہوجاویں گی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–37

(فرش مرفوعہ انا انشانھن انشا فجعلنھن ابکاراہ عربا اترابا) (34۔ 37) یہ ان کی نشست گاہوں اور ان کی بیویوں کا ذکر ہے۔ اوپر سابقین مقربین کے ذکر میں یاد ہوگا، ترتیب بیان اس سے مختلف ہے۔ اس فرق کے بعض نفسیاتی وجود ہیں لیکن اس طرح کی تفصیلات میں یہاں جانے کا موقع نہیں ہے۔ فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے اور ان کے لیے بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیویوں کے لیے ضمیر بغیر کسی مرجع کے آگئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ضمیر کے لیے لفظوں میں کوئی مرجع نہیں ہے لیکن قرینہ نہایت واضح موجود ہے عربی میں مثل ہے کہ (الشی بالشی یذکر) بات سے بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 36–38

36-1اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہونگی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہونگی، تو وہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کی بیویوں کے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–38

فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 35–38

12 یعنی حوریں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں ملیں گی وہاں ان کی پیدائش اور اٹھان خدا کی قدرت سے ایسی ہوگی کہ ہمیشہ خوبصورت جوان بنی رہیں گی۔ جن کی باتوں اور طرزو انداز پر بےساختہ پیار آئے اور سب کو آپس میں ہم عمر رکھا جائے گا اور ان کے ازواج کے ساتھ بھی عمر کا تناسب برابر قائم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36{ فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا۔ } ”پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

19 أنْشَاْنَاھُنَّ میں ھُنَّ کا مرجع ان کی دنیا میں ساتھ دینے والی بیویاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور جنت میں ملنے والی حوریں بھی۔ ان دونوں قسم کی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نوجوان اور نوخیز بنادیں گے اور وہ کنواری بھی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ خوبصورت اور جوان ہی رہیں گی جن کی باتوں اور طرز و ادا پر بےساختہ پیار آجائے گا۔ شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا رسول اللہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے حق میں جنت کی دعا فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : اسے بتاؤ کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–38

12۔ اہل جنت کی خوش عیشی کی تکمیل کے لیے دوسری لذتوں کے ساتھ لذت مواصلت کا ذکر بھی ضروری تھا، یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی، ان کا شباب، ان کا حسن و جمال، دلکشی اور اہل جنت کے ساتھ ان کی ہم عمری یہ سب چیزیں مستقل، پائدار اور دائمی ہوں گی، اس دنیا کی نعمتوں کی طرح فناء پذیر نہ ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–38

انا انشاناھن انشاء انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص ادناز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر واسطہ ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جو ان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی میں حضرت انس ؓ ت عالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشاناھن کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی سفید بال بدلکشل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین اور نوجوان بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعنی انکو اس طور پر بنایا کہ وہ کنواری ہیں اگر فرش سے مراد عورتیں ہوں تو ہُن کی ضمیر فرش کی طرف راجع ہوگی اور اگر فرش سے عورتیں مراد نہ ہوں تو مرجع مذکور نہ ہوگا کیونکہ سیاق کلام سے سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ عورتیں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔ اِنْشَاءً : یعنی نئی تخلیق کی یا بغیر طریق ولادت کے ابتدائی تخلیق کی یا دوبارہ تخلیق کی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد وہ بوڑھی عورتیں ہیں جن کے کچھ بال سفید اور کچھ سیاہ ہوں ‘ اللہ ان کی پیری کے بعد از سر نوجوان کر دے گا۔ اَبْکَارًا : کنواریاں ‘ جب ان کے شوہر ان کے پاس جائیں گے ‘ ان کو دوشیزہ پائیں گے اور کوئی دکھ نہ ہوگا۔ سعید بن منصور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 28–44

(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَجَعَلْنٰـہُنَّ اَبْکَارًا :”ابکارا“ ”بکر“ کی جمع ہے ، کنواریاں۔ جمع دنیا میں شوہر والی مومن عورتوں کو بھی اللہ تعالیٰ باکرہ بنا دے گا۔ اس کے علاوہ دنیا کی عورتیں ہوں یا جنتیوں کے لیے پیدا کی گئی نئی عورتیں سب ہمیشہ باکرہ رہیں گی ، ان کے خاوند جب بھی ان سے ملاپ کریں گے انہیں باکرہ پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–38

وفرش مرفوعۃ۔ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” ان کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان دوری ہے یعنی پانچ سو سال “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہچانتے مگر رشدین بن سعد کی سند سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا : فرض درجہ بدرجہ ہوں گے اور درجات میں یوں فاصلہ ہوگا جس طرح زمین و آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں فرش سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جنت میں ہیں ان کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ معنی ہے وہ عورتیں، اپنے حسن اپنے کمال میں بلند شان والی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا انشانھن انشا۔ “ ہم نے انہیں پیدا کیا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

13۔ ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فجلعنہن ابکارا سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو کنواریاں بنادیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–40

بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی : اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–39

13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَجَــعَلْنٰہُنَّ اَبْكَارًا۝ 36 ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ بكر أصل الکلمة هي البُكْرَة التي هي أوّل النهار، فاشتق من لفظه لفظ الفعل، فقیل : بَكَرَ فلان بُكُورا : إذا خرج بُكْرَةً ، والبَكُور : المبالغ في البکرة، وبَكَّر في حاجته وابْتَكَر وبَاكَرَ مُبَاكَرَةً. وتصوّر منها معنی التعجیل لتقدمها علی سائر أوقات النهار، فقیل لكلّ متعجل في أمر : بِكْر، قال الشاعر بكرت تلومک بعد وهن في النّدى ... بسل عليك ملامتي وعتاب وسمّي أول الولد بکرا، وکذلك أبواه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–40

ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–38

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–40

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36 : فَجَعَلْنٰھُنَّ اَبْکَارًا (پس ان کو اس طور پر بنایا کہ وہ کنواری ہیں) ابکارؔ کنواری۔ جب بھی خاوند ان کے پاس جائیں گے تو ان کو کنواری پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35 ۔” انا انشانا ھن انشائ “ ہم نے ان کو نئی پیدائش دی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی بوڑھی کھچڑی بالوں والی عورتوں کو۔ فرماتے ہیں ہم نے ان کو بڑھاپے کے بعد دوسری پیدائش دی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–38

27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کی دو شیزائیں بنادیں گے اس کا عموم خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف، یعنی دوشیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا (عُرُبًا اَتْرَابًا) محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔ ہرحال میں وصف لازم ہے۔ العروب اس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیبت، اپنی ناز وادا اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنالیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہوجائیں خاص طور پر جب کہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 33] اہل جنت کی بیویوں کی ایک منفرد صفت کا ذکر وبیان : کہ وہ ہمیشہ کنواری ہی رہیں گی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم انہیں کنواری بنادیں گے کہ صحبت اور مقاربت کے باوجود وہ کنواری کی کنواری ہی رہیں گی، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] اور یہ شان بھی وہیں کی ان عورتوں کی ایک خصوصی اور امتیازی شان ہوگی جو اس دنیا میں نہیں پائی جاسکتی، سو ان کی اس خاص اٹھان کی بناء پر ان کی شان اور صفت یہ ہوگی کہ وہ کنواری اور جوان کی جوان ہی رہیں گی، ان کا حال دنیا کی عورتوں سے بالکل مختلف ہوگا، ان کے مرد جب بھی ان سے ملاقات کریں گے ان کی ملاقات اس اعتبار سے گویا پہلی ہی ملاقات ہوگی، وہاں پر ان کی اس مختلف نشوونما کے نتیجے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 35–36

ف 10 ان سے مراد دنیا کی عوتریں ہیں جو چاہے بوڑھی ہو کر مری ہوں لیکن انہیں جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے اس آیت کو یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:36) فجعلنھن ای فصیرنھن۔ پس ہم نے ان کو بنادیا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ابکارا : مفعول ثانی۔ کنواریاں۔ بکر کی جمع۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–39

(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–46

[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس ہم نے ان کو اہل جنت کے لیے کنواریاں بنایا ہے 36۔ ایک عورت کی جتنی خوبیاں بیان کی جاسکتی ہیں ان ساری خوبیوں سے بڑی خوبی جو سر فہرست ہے وہ عورت کا کنوارا پن ہے اور اہل جنت کی عورتوں کے لیے یہ صفت بھی واضح ارشاد فرما دی گئی ہے۔ { ابکار } بکر جمع ہے اور بکر کے معنی کنواری عورت کے ہیں جو ابھی شادی شدہ نہ ہو۔ سب اہل جنت کی عمریں جوانی ہی کی عمریں ہوں گی۔ مرد ہوں یا عورتیں لیکن جوان ہونا اور بکر ہونا دونوں میں خاص فرق ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں جو اہل جنت کے لیے ہیں وہ دنیا میں خواہ کسی عمر میں بھی مری ہوں گی لیکن آخرت میں ان کو جوان ہی بنایا گیا ہوگا اور جوان ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بکر بھی ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَبْكَارً‌ا - 56:36). The word abkaran, being the plural of bikr, means 'virgins'. The sense is the creation of the maidens of Paradise will be of such a nature that, even after every sexual intercourse, they will remain like virgins.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–36

17 This signifies the virtuous women of the world, who will enter Paradise on the basis of their faith and good works. Allah will make them young no matter how aged they might have died in the world; will make them beautiful whether or not they were beautiful in the world; and will make them virgins whether they died virgins in the world or after bearing children. If their husbands also entered Paradise with them, they would be joined with them, otherwise AIIah will wed them to another dweller in Paradise. This very explanation of this verse has been reported from the Holy Prophet (upon whom…

Read the full tafseer →