Explained with ayahs 27–40
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
سورة الْوَاقِعَة 17
اس سے مراد دنیا کی وہ نیک خواتین ہیں جو اپنے ایمان و عمل صالح کی بنا پر جنت میں جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنا دے گا، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں۔ نہایت خوبصورت بنا دے گا، خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں۔ باکرہ بنا دیگا، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہو کر۔ ان کے شوہر بھی اگر ان کے ساتھ جنت میں پہنچیں گے تو وہ ان سے ملا دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جنتی سے ان کو بیاہ دے گا۔ اس آیت کی یہی تشریح متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ شمائیل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا نے حضور سے عرض کیا میرے حق میں جنت کی…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً ، انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، ہُنَّ کی ضمیر جنت کی عورتوں کی طرف راجع ہے، اگرچہ سابقہ قریبی آیات میں ان کا ذکر نہیں ہے، مگر ذرا فاصلہ سے سابقون کے بیان میں ان کا ذکر آ چکا ہے، اس لئے ضمیر ان کی طرف راجع ہو سکتی ہے اور اگر آیت مذکورہ میں فراش سے مراد جنت کی عورتیں ہیں، تو ضمیر ان کی طرف ہونا ظاہر ہے، نیز فرش و بستر وغیرہ عیش کی چیزوں کے ذکر میں خود ایک دلالت عورت کی طرف پائی جاتی ہے، اس لئے بھی ضمیر اس طرف راجع ہو سکتی ہے۔
معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی پیدائش و تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص انداز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(فرش مرفوعہ انا انشانھن انشا فجعلنھن ابکاراہ عربا اترابا) (34۔ 37) یہ ان کی نشست گاہوں اور ان کی بیویوں کا ذکر ہے۔ اوپر سابقین مقربین کے ذکر میں یاد ہوگا، ترتیب بیان اس سے مختلف ہے۔ اس فرق کے بعض نفسیاتی وجود ہیں لیکن اس طرح کی تفصیلات میں یہاں جانے کا موقع نہیں ہے۔
فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے اور ان کے لیے بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیویوں کے لیے ضمیر بغیر کسی مرجع کے آگئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ضمیر کے لیے لفظوں میں کوئی مرجع نہیں ہے لیکن قرینہ نہایت واضح موجود ہے عربی میں مثل ہے کہ (الشی بالشی یذکر) بات سے بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34-1بعض نے فرشوں سے بیویوں اور مرفوعہ سے بلند مرتبہ کا مفہوم مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →8: قرآن کریم نے ان خواتین کا ذکر بڑے لطیف انداز میں فرمایا ہے کہ بس ضمیر سے ان کی طرف اشارہ فرمادیا ہے، صراحت کے ساتھ نام نہیں لیا، اس میں بڑی بلاغت بھی ہے اور ان خواتین کی پردہ داری بھی، بعض مفسرین نے اس سے مراد حوریں لی ہیں جو جنتیوں کے لئے خاص طور پر پیدا کی گئی ہیں یا پیدا کی جائیں گی، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد نیک لوگوں کی وہ نیک بیویاں ہیں جو دنیا میں ان کی شریک حیات تھیں، آخرت میں ان کو نئی اٹھان دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وہ کیسی ہی رہی ہوں جنت میں انہیں اپنے شوہروں کے لئے بہت خوبصورت بنادیا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تصریح فرمائی ہے، اسی طرح جو…
Read the full tafseer →انا ............ انشاء (6 5:5 3) ” ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر پیدا کریں گے۔ “ اگر ابتداء انہیں پیدا کیا گیا تو وہ حوریں ہیں اور اگر انہیں نئے سرے سے پیدا کیا گیا ہے تو یہ دو بیویاں ہیں جو دنیا میں تھیں اور اب جوان بنا کر اٹھالی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
12 یعنی حوریں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں ملیں گی وہاں ان کی پیدائش اور اٹھان خدا کی قدرت سے ایسی ہوگی کہ ہمیشہ خوبصورت جوان بنی رہیں گی۔ جن کی باتوں اور طرزو انداز پر بےساختہ پیار آئے اور سب کو آپس میں ہم عمر رکھا جائے گا اور ان کے ازواج کے ساتھ بھی عمر کا تناسب برابر قائم رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 35{ اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَآئً۔ } ”ان کی بیویوں کو اٹھایا ہے ہم نے بڑی اچھی اٹھان پر۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
19 أنْشَاْنَاھُنَّ میں ھُنَّ کا مرجع ان کی دنیا میں ساتھ دینے والی بیویاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور جنت میں ملنے والی حوریں بھی۔ ان دونوں قسم کی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نوجوان اور نوخیز بنادیں گے اور وہ کنواری بھی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ خوبصورت اور جوان ہی رہیں گی جن کی باتوں اور طرز و ادا پر بےساختہ پیار آجائے گا۔
شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا رسول اللہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے حق میں جنت کی دعا فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : اسے بتاؤ کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
12۔ اہل جنت کی خوش عیشی کی تکمیل کے لیے دوسری لذتوں کے ساتھ لذت مواصلت کا ذکر بھی ضروری تھا، یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی، ان کا شباب، ان کا حسن و جمال، دلکشی اور اہل جنت کے ساتھ ان کی ہم عمری یہ سب چیزیں مستقل، پائدار اور دائمی ہوں گی، اس دنیا کی نعمتوں کی طرح فناء پذیر نہ ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
انا انشاناھن انشاء انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص ادناز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر واسطہ ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جو ان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی میں حضرت انس ؓ ت عالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشاناھن کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی سفید بال بدلکشل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین اور نوجوان بنا…
Read the full tafseer →ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے
اگر فرش سے مراد عورتیں ہوں تو ہُن کی ضمیر فرش کی طرف راجع ہوگی اور اگر فرش سے عورتیں مراد نہ ہوں تو مرجع مذکور نہ ہوگا کیونکہ سیاق کلام سے سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ عورتیں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔
اِنْشَاءً : یعنی نئی تخلیق کی یا بغیر طریق ولادت کے ابتدائی تخلیق کی یا دوبارہ تخلیق کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–44
(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔
اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…
Read the full tafseer →اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـہُنَّ اِنْشَآئً :”انشانھن“ میں ”ھن“ کی ضمیر ان عورتوں کی طرف جا رہی ہے جن کا پچھلی آیت ”وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ“ کے ضمن میں ذکر ہے ، کیونکہ جنتیوں کے بستروں میں ان کے ساتھ ان کی بیویاں بھی ہوں گی ، جیسا کہ فرمایا :(ہُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِـلٰـلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّکِئُوْنَ) (یٰسین : 56)”وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے“۔ ”انشا ینشی انشاء“ کا معنی نیا پیدا کرنا“ ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مومن عورتیں بوڑھی یا بد صورت جیسی بھی تھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں نئے سرے سے جوان، کنواری ، خوبصورت اور ان اوصاف والی بنا دے گا جس کا ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
وفرش مرفوعۃ۔ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” ان کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان دوری ہے یعنی پانچ سو سال “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہچانتے مگر رشدین بن سعد کی سند سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا : فرض درجہ بدرجہ ہوں گے اور درجات میں یوں فاصلہ ہوگا جس طرح زمین و آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں فرش سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جنت میں ہیں ان کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ معنی ہے وہ عورتیں، اپنے حسن اپنے کمال میں بلند شان والی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا انشانھن انشا۔ “ ہم نے انہیں پیدا کیا اور…
Read the full tafseer →6۔ الفریابی وعبد بن حمید وہناد والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں انس ؓ سے ورایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشأنہن انشاء کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ وہ عورتیں جن کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا دنیا میں بوڑھی سفید بالوں والی، کم بینائی والی اور آنکھوں میں میل بہنے والی تھیں۔
7۔ الطیالسی وابن جریر وابن ابی الدنیا والطبرانی وابن مردویہ وابن القانع و بیہقی نے الکبعث میں سلمۃ بن زید جعنفی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ آیت انا انشأنہن انشاء سے مراد ہے کہ ہم نے ان کی بیوہ اور کنواری بیویوں کو پیدا کیا جو دنیا میں تھیں۔
8۔ عبد بن…
Read the full tafseer →[اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ : بیشک ہم نے اٹھایا ان عورتوں کو ] [اِنْشَاۗءً : جیسے بہترین اٹھان کا حق ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی :
اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
جنت میں سابقین کی کیفیت :
ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَاۗءً 35 ۙ
نشأ
النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔
تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38)
(اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔
” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟
” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…
Read the full tafseer →35 : اِنَّآ اَنْشَاْ نٰھُنَّ اِنْشَآ ئً (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے) ہم نے ان کی خلقت کی ابتداء محض قدرت سے کی ہے۔ وہ ولادت سے پیدا نہیں ہوئیں۔ پھر یا تو وہ مرادہوں جن کو ابتداء ًپیدا فرمایا یا ان کو دوبارہ پیدا کیا گیا۔ اس تاویل کے علاوہ تاویلات کیلئے ھُنَّ کی ضمیر لائی گئی کیونکہ فرش کا تذکرہ جو کہ بستر ہیں۔ ان پر دلالت کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →34 ۔” وفرش مرفوعۃ “ حضرت علی ؓ نے فرمایا ” وفرش مرفوعۃ “ تختوں پر اور مفسرین رحمہم اللہ کی ایک جماعت نے کہا ہے ایک دوسرے کے اوپر پس وہ بلند رکھے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول ” وفرش مرفوعۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کا بلند ہونا آسمان اور زمین کے درمیان کی طرح ہے اور بیشک آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور کہا گیا ہے کہ فرش سے عورتیں مراد ہیں اور عرب عورت کا نام فراش اور لباس رکھتے ہیں استعارہ کی بناء پر۔ ” مرفوعۃ “ خوبصورتی اور مرتبہ میں دنیا کی عورتوں پر بلند ہوں گی۔ اس تاویل کی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…
Read the full tafseer →یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔
Read the full tafseer →[ 32] اہل جنت کی بیویوں کی عظمت کا ذکر وبیان :
سو اس کی بیویوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ہم نے ایک ایسی نئی اٹھان دی ہوگی۔ کہ اس کے بعد وہ حسن و جمال اور فضل و کمال کے اعتبار سے درجہء کمال کو پہنچ جائیں گی، اور دنیاوی زندگی میں ان کے اندر جو بھی کچھ عیوب و نقائص اور خامیاں اور کمزوریاں پائی جاتی ہونگی وہ بھی وہاں ختم ہوجائیں گی، چناچہ بوڑھیاں جو ان ہوجائیں گی، اور کالیاں گوری ہوجائیں گے، اور بدخلق خوش خلق بن جائیں گی، وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ ما وغیرہ سے اس کی تصریح منقول ہے، اور جیسا کہ مختلف روایات میں وارد ہے، [ روح، ابن کثیر، جامع، صفوۃ، وغیرہ ] اور حوران جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 10 ان سے مراد دنیا کی عوتریں ہیں جو چاہے بوڑھی ہو کر مری ہوں لیکن انہیں جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے اس آیت کو یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(56:35) انا انشانا ھن انشائ۔ انشانا ماضی جمع متکلم انشاء (افعال) مصدر۔ بمعنی پیدا کرنا۔ پر وش کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب انشاء مفعول مطلق فعل کی تاکید کے لئے۔ ھن کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) قال بعض العلماء ھو راجع الیٰ قولہ : فرش مرفوعۃ، قال لان المراد بالفرش النسائ۔ والعرب تسمی المراۃ لباسا وازارا وفراشا ونعلا۔ ھن کی ضمیر کلام الٰہی فرش مرفوعۃ میں فرش کی طرف راجع ہے۔ فرش سے مراد عورتیں ہیں، عرب عورت کو لباس، ازار، فراش، نعل بھی نام دیتے ہیں۔
(2) وقال بعض العلمائ : ھو راجع الیٰ غیر مذکور۔ انہ راجع الیٰ نساء لم یذکرن ولکن ذکر الفراش دل علیہن۔ لانھن یتکئن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–39
(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–46
[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(35) ہم نے وہاں کی عورتوں ک وایک خاص طور پر بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ان کے لئے ہم نے خاص طرح کی عورتیں پیدا کی ہیں
35 ؎ (انشانھن) ہم نے ان عورتوں کو پیدا کیا ہے اور ہم نے ان کی پرورش کی ہے۔ ھن ضمیر جمع مونث غائب ہے۔ انشاء پیدا کرنا ‘ پرورش کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جہاں اہل جنت کے لئے ان کے کھانے پینے ‘ بیٹھنے ‘ لیٹنے اور نشست و برخاست کا بندوبست جنت میں کردیا ہے اسی طرح ان کی لئے ایسی عورتیں بھی پیدا کردی ہیں جو بلاسبہ ان کے سکون کا باعچ ہوں گی اور اہل جنت کو جہاں دوسرے انعامات عطا کئے جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی اس عطاء سے بھی محروم نہیں رہیں گے اور یہ بھی کہ وہ عورتیں دنیا کی عورتوں کی طرح نفسانی خواہش کے ازالہ کے لئے نہیں بلکہ زندگی میں ایک پر لطف…
Read the full tafseer →إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً (Surely We have created those [ females ] a fresh creation...56:35) The word insha' means 'to create'. The pronoun هُنَّ hunna refers to the women of Paradise, although there is no mention of them in the immediately preceding verses. However, they have been mentioned in connection with 'the Foremost' in distantly foregoing verses [ 22-23]. If the word firash in the foregoing verse (34) refers to the women of Paradise, the antecedent of the pronoun is quite obvious. Likewise, the mention of beds, couches, thrones and other delightful items gives the pronoun the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
17 This signifies the virtuous women of the world, who will enter Paradise on the basis of their faith and good works. Allah will make them young no matter how aged they might have died in the world; will make them beautiful whether or not they were beautiful in the world; and will make them virgins whether they died virgins in the world or after bearing children. If their husbands also entered Paradise with them, they would be joined with them, otherwise AIIah will wed them to another dweller in Paradise. This very explanation of this verse has been reported from the Holy Prophet (upon whom…
Read the full tafseer →