Al-Waaqia 56:34

Al-Waaqia · from ayah 34

56:34

وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ ۟ؕوَّ فُرُشٍ مَّرۡفُوۡعَةٍؕ

اور اونچے اونچے فرشوں میں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [upon] beds raised high.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:34

اور اونچی نشست گاہوں میں ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اونچے اونچے فرشوں میں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اونچے اونچے فرشوں میں ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اونچے رکھے ہوئے فرشوں میں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بلند بچھونوں میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ) اونچے (پرشکوہ) فرشوں پر (قیام پذیر) ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اونچے بستروں میں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اونچی نشست گاہوں پر بیٹھے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلند (مرتبہ و شان کے) بچھونوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اونچے اونچے بچھونے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اونچے اونچے بچھونوں میں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall be on upraised couches,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and mattresses of high quality.

— Muhammad Taqi Usmani

and mattresses of high quality.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on couches, raised high.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [upon] beds raised high.

— Saheeh International

undiminished and never denied

— Muhammad Sarwar

And exalted thrones.

— Muhammad Habib Shakir

And carpets raised.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–40

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–36

سورة الْوَاقِعَة 17 اس سے مراد دنیا کی وہ نیک خواتین ہیں جو اپنے ایمان و عمل صالح کی بنا پر جنت میں جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنا دے گا، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں۔ نہایت خوبصورت بنا دے گا، خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں۔ باکرہ بنا دیگا، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہو کر۔ ان کے شوہر بھی اگر ان کے ساتھ جنت میں پہنچیں گے تو وہ ان سے ملا دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جنتی سے ان کو بیاہ دے گا۔ اس آیت کی یہی تشریح متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ شمائیل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا نے حضور سے عرض کیا میرے حق میں جنت کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ ، فرش، فراش کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں بسترہ یا فرش، فرش کی بلندی اول تو اس لئے ہے کہ یہ مقام خود ہی بلند ہے، دوسرے خود یہ فرش زمین پر نہیں بلکہ تختوں اور چارپائیوں کے اوپر ہوں گے، تیسرے خود فرش بھی دبیز ہوگا اور بعض مفسرین نے اس جگہ فراش سے مراد عورت کو قرار دیا ہے کیونکہ عورت کو بھی لفظ فراش سے تعبیر کیا جاتا ہے، حدیث میں ہے الولد للفراش، اس میں فراش سے بیوی مراد ہے اور اگلی آیتوں میں جو جنتی عورتوں کی صفات مذکور ہیں وہ بھی اس معنی کا قرینہ ہیں (مظہری) اس صورت میں لفظ مرفوعہ رفعت درجہ کے اعتبار سے ہوگا بمعنی بلند پایہ۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–37

(فرش مرفوعہ انا انشانھن انشا فجعلنھن ابکاراہ عربا اترابا) (34۔ 37) یہ ان کی نشست گاہوں اور ان کی بیویوں کا ذکر ہے۔ اوپر سابقین مقربین کے ذکر میں یاد ہوگا، ترتیب بیان اس سے مختلف ہے۔ اس فرق کے بعض نفسیاتی وجود ہیں لیکن اس طرح کی تفصیلات میں یہاں جانے کا موقع نہیں ہے۔ فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے اور ان کے لیے بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیویوں کے لیے ضمیر بغیر کسی مرجع کے آگئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ضمیر کے لیے لفظوں میں کوئی مرجع نہیں ہے لیکن قرینہ نہایت واضح موجود ہے عربی میں مثل ہے کہ (الشی بالشی یذکر) بات سے بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

34-1بعض نے فرشوں سے بیویوں اور مرفوعہ سے بلند مرتبہ کا مفہوم مراد لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: جنت کی اونچی نشستوں کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے، انہی نشستوں پر یہ فرش بچھے ہوں گے، اس لیے انہیں اونچے رکھے ہوئے فرشوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وفروش مرفوعة (6 5:4 3) ” اونچی نشست گاہیں “ یہاں ان کی نرمی اور ان کی ترتیب کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ یہاں صرف یہ ہے کہ اونچی نشست گاہیں۔ اونچے کے دو معنی ہوتے ہیں ، مادی اور معنوی ، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ اونچا مکان ہو تو وہ پاک بھی ہوگا اور وہاں گندگی نہ جمع ہوگی اور معنوی رفعت بھی ناپاکی سے دوری ہے۔ اونچی نشست گاہوں میں پھر بیٹھا ہوا کون ہے ؟ اس لئے یہاں بیویوں کا ذکر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

19 أنْشَاْنَاھُنَّ میں ھُنَّ کا مرجع ان کی دنیا میں ساتھ دینے والی بیویاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور جنت میں ملنے والی حوریں بھی۔ ان دونوں قسم کی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نوجوان اور نوخیز بنادیں گے اور وہ کنواری بھی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ خوبصورت اور جوان ہی رہیں گی جن کی باتوں اور طرز و ادا پر بےساختہ پیار آجائے گا۔ شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا رسول اللہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے حق میں جنت کی دعا فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : اسے بتاؤ کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–38

12۔ اہل جنت کی خوش عیشی کی تکمیل کے لیے دوسری لذتوں کے ساتھ لذت مواصلت کا ذکر بھی ضروری تھا، یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی، ان کا شباب، ان کا حسن و جمال، دلکشی اور اہل جنت کے ساتھ ان کی ہم عمری یہ سب چیزیں مستقل، پائدار اور دائمی ہوں گی، اس دنیا کی نعمتوں کی طرح فناء پذیر نہ ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃِ : بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اور مسہریوں پر بچھے ہوئے بستر۔ مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ مرفوعہ سے مراد ہیں اونچے اونچے۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ بیہقی اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں بستروں کے درمیان اتنا فرق ہوگا جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ترمذی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : ” اور ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے اور دونوں کے درمیان فاصلہ پانچ سو برس کی راہ (کے برابر) ہے۔ “ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 28–44

(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ : اونچے بستروں سے مراد عالی شان ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ ان کی بلندی اتنی ہے جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے ، جو پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، مگر ایسی کوئی روایت صححی نہیں اور نہ ہی بظاہر ایسی بلندی سے کچھ فائدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–38

وفرش مرفوعۃ۔ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” ان کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان دوری ہے یعنی پانچ سو سال “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہچانتے مگر رشدین بن سعد کی سند سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا : فرض درجہ بدرجہ ہوں گے اور درجات میں یوں فاصلہ ہوگا جس طرح زمین و آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں فرش سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جنت میں ہیں ان کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ معنی ہے وہ عورتیں، اپنے حسن اپنے کمال میں بلند شان والی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا انشانھن انشا۔ “ ہم نے انہیں پیدا کیا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ احمد والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ابی الدنیا فی الصفۃ الجنۃ وابن حبان وابن جریر وابن ابی حاتم والرویانی وابن مردویہ وابو لشیخ فی العظمہ اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت وفرش مرفوعہ (اور اونچے اونچے بستر) سے مراد ہے کہ ان کی اونچائی اتنی ہے جتنی زمین و آسمان کے درمیان ہے اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ 2۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت وفرش مرفوعۃ کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا اگر بستر کو اس کے اوپر سے گرایا جائے تو اسے اس کی قرار کی جہگ تک پہنچتے پہنچتے سو سال لگ جائیں۔ 3۔ ابن ابی شیبہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ0034﴾ (اور اصحاب الیمین بلند بستروں پر ہوں گے) حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کی بلندی اتنی ہوگی جیسے آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے یعنی پانچ سو سال کی مسافت کے بقدر۔ (رواہ الترمذی وقال غریب کمافی المشکوٰۃ صفحہ 497)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–39

13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ۝ 34 ۭ فرش الفَرْشُ : بسط الثّياب، ويقال لِلْمَفْرُوشِ : فَرْشٌ وفِرَاشٌ. قال تعالی: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِراشاً [ البقرة/ 22] ، أي : ذلّلها ولم يجعلها ناتئة لا يمكن الاستقرار عليها، والفِرَاشُ جمعه : فُرُشٌ. قال : وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ [ الواقعة/ 34] ، فُرُشٍ بَطائِنُها مِنْ إِسْتَبْرَقٍ [ الرحمن/ 54] . والفَرْشُ : ما يُفْرَشُ من الأنعام، أي : يركب، قال تعالی: حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وكنّي بِالْفِرَاشِ عن کلّ واحد من الزّوجین، فقال النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «الولد للفراش» وفلان کريم المَفَارِشِ أي : النّساء . وأَفْرَشَ الرّجل صاحبه، أي :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–40

ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–38

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–40

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بلند مرتبہ والے : 34 : وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ (اور اونچے فرش ہونگے) بلند مرتبے والے یا نمبر 2۔ ان کو بچھایا جائے۔ یہاں تک کہ اٹھانا پڑے۔ نمبر 3۔ چار پایوں پر بلند ہونگے۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد عورتیں ہیں کنایۃً عورت کو فراش کہا جاتا ہے۔ بلند ہونگی مسہریوں پر دوسرے مقام پر فرمایا : ہم وازواجہم فی ظلال علی الارائک متکئون ] یسؔ : 56[ اور اگلی آیت اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33 ۔” لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب ان کو توڑا جائے گا تو ختم نہ ہوں گے اور جو ان کو لینے لگے گا اس کو روکا نہ جائے گا اور ان میں سے بعض نے کہا ہے زمانوں کی وجہ سے ختم نہ ہوں گے اور قیمت کی وجہ سے روکانہ جائے گا۔ جیسا کہ دنیا کے اکثر پھل جب سردی آجائے تو ان تک قیمت کے بغیر نہیں پہنچا جاسکتا اور قتیمی (رح) فرماتے ہیں یعنی ان پر باڑ نہ لگائی جائے گی جیسا کہ دنیا کے پھلوں پر لگائی جاتی ہے اور حدیث میں آیا ہے جنت کے پھلوں میں سے کوئی نہیں توڑا جاتا مگر اللہ اس کی جگہ دوگنا کردیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–38

27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہوگا یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 31] اہل جنت کی نشست گاہوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بلند مرتبہ بچھونوں پر ہوں گے۔ جو حسی طور پر بھی بلند وبالا ہوں گے، اور قدر ومنزلت کے اعتبار سے بھی اعلیٰ وارفع ہوں گے، چناچہ سننن ترمذی وغیرہ کی روایت کے مطابق ان کی بلندی ایسے ہوگی جیسے آسمان و زمین کے درمیان کی بلندی [ ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] اور اس پر یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اب بستروں سے استفادہ کس طرح کریں گے ؟ کیونکہ وہ ایک جہاں ہوگا جس کے قوانین و ضوابط الگ ہوں گے، اور وہاں کے وہ بستر ہی نہیں، بلکہ وہاں کی ہر چیز اہل جنت کے ارادہ اور ان کی مرضی کے تابع ہوگی۔ [ روح المعانی وغیرہ ] اور بعض حضرات اہل علم نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–34

ف 9 یعنی خوب دبیز اور اونچے ہوں گے۔ عربی زبان میں ” فرش “ کا لفظ عورت کے لئی بھی بطور کیا یہ استعمال ہوتا ہے اس لئے آیت وفرش مرفوعۃ کا ترجمہ ” شاندار عورتیں “ بھی کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–34

(56:33) لا مقطوعۃ : لا نافیہ مقطوعۃ اسم مفعول واحد مؤنث ۔ نہ ختم ہونے والے۔ یعنی ایسے پھل یا میوے جو موسمی نہیں ہوں گے بلکہ ہر وقت درختوں پر موجود رہیں گے (اور وہاں) نہ ختم ہونے والے پھل ہوں گے۔ ولا ممنوعۃ : اور نہ ان کے توڑنے سے کسی کو منع کیا جائے گا۔ کیونکہ توڑنے سے وہ پھل ختم نہ ہوں گے بلکہ ان کی جگہ فوراً دوسرا پھل اسی طرح پختہ و ہمہ صفت موصوف لگ جائے گا۔ یہ صفت ہے فاکھۃ کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–39

(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–46

[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) اور اونچے اونچے فرش اور بچھونے ہوں گے - یا تو یہ فرش اونچے تختوں پر بچھے ہوئے ہوں گے یا مکان اور محل بلند ہوں گے اس لئے بچھونے بھی بلند ہوں گے آگے ان عورتوں کا ذککر ہے جو ان اہل سعادت کو ملیں گی خواہ وہ حوریں ہوں یا دنیا کی عورتیں ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے لئے اونچے فرش ہوں گے 34 ؎ (فرش) جمع ہے فراش بچھی ہوئی چیز کو کہا جاتا ہے۔ (مرفوعۃ) اس مفعول واحد مونث مجرور اور مرفوع۔ اونچے یا عالی مرتبہ یعنی ان کے لئے جو بستر بچھائے جائیں گے وہ عالی مرتبہ ہوں گے اور اونچے اونچے پلنگوں پر بچھائے جائیں گے تاکہ اہل جنت پائوں لٹکا کر نہ بیٹھیں بلکہ پائوں ان پلنگوں کے اوپر رکھیں اور آرام سے بیٹھیں گویا ان کے بستر زمین سے اوپر بھی ہوں گے اور نہایت خوبصورت بستروں سے سجے ہوئے بھی تاکہ (اصحاب الیمین) نہایت آرام و سکون کی ساتھ بیٹھ سکیں اور وہ بہت ہی پر تکلف ہوں گے لیکن استعمال کرنے والوں کے لئے نہایت آرام دہ کہ ان کا نام سن کر ہی آدمی لطف اندوز ہوجائے بلاشبہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَفُرُ‌شٍ مَّرْ‌فُوعَةٍ (...and mattresses of high quality....56:34). The word rush is the plural of firash which means 'bed, couch, mattress'. The word marfu'ah lexically means 'upraised, elevated'. The couches could be upraised or elevated for one of several reasons: [ 1] because the place itself is high; [ 2] because the mattresses will not be on the ground, but on the thrones or beds; or [ 3] because the couches themselves will be thick (and of high quality). Some exegetes have taken the word 'rush' in the sense of 'women', because it is one of the meaning of 'firash' is referred as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–36

17 This signifies the virtuous women of the world, who will enter Paradise on the basis of their faith and good works. Allah will make them young no matter how aged they might have died in the world; will make them beautiful whether or not they were beautiful in the world; and will make them virgins whether they died virgins in the world or after bearing children. If their husbands also entered Paradise with them, they would be joined with them, otherwise AIIah will wed them to another dweller in Paradise. This very explanation of this verse has been reported from the Holy Prophet (upon whom…

Read the full tafseer →