Al-Waaqia 56:33

Al-Waaqia · from ayah 33

56:33

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ۟ۙلَّا مَقۡطُوۡعَةٍ وَّلَا مَمۡنُوۡعَةٍۙ

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Neither limited [to season] nor forbidden,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:33

اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو نہ ختم ہوں نہ روک لیے جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان پر کوئی روک ٹوک ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو نہ ختم ہوں اور نہ روکے جائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو نہ (کبھی) ختم ہوں گے اور نہ اُن (کے کھانے) کی ممانعت ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ روکے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ کبھی منقطع ہونے والے نہ کبھی ممنوع

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو نہ کبھی ختم ہونگے اور نہ ان میں کوئی روک ٹوک ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

جو نہ ختم ہوں گے اور نہ ان کی روک ٹوک ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہ ٹوٹے ہوئے اور نہ ہی پہنچ سے باہر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی ان سے روکے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

never-ending and unforbidden.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

neither interrupted (in any season), nor prohibited,

— Muhammad Taqi Usmani

neither interrupted (in any season), nor prohibited,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whose supply is not cut off nor are they out of reach.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Neither out of reach nor yet forbidden,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Neither limited [to season] nor forbidden,

— Saheeh International

and abundant fruits,

— Muhammad Sarwar

Neither intercepted nor forbidden,

— Muhammad Habib Shakir

Neither ending nor forbidden.

— Abdul Majid Daryabadi

Whose season is not limited, nor (supply) forbidden,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–40

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–33

سورة الْوَاقِعَة 16 اصل الفاظ ہیں لَا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ لا مقطوعہ سے مراد یہ ہے کہ یہ پھل نہ موسمی ہوں گے کہ موسم گزر جانے کے بعد نہ مل سکیں، نہ ان کی پیداوار کا سلسلہ کبھی منقطع ہوگا کہ کسی باغ کے سارے پھل اگر توڑ لیے جائیں تو ایک مدت تک وہ بےثمر رہ جائے، بلکہ ہر پھل وہاں ہر موسم میں ملے گا اور خواہ کتنا ہی کھایا جائے، لگاتار پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ اس لا ممنوعہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے باغوں کی طرح وہاں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی، نہ پھلوں کے توڑنے اور کھانے میں کوئی امر مانع ہوگا کہ درختوں پر کانٹے ہونے یا زیادہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے توڑنے میں کوئی زحمت پیش آئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

وَّفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ ، کثیرة کے معنی میں یہ بھی داخل ہیں کہ پھلوں کی تعداد بہت ہوگی اور یہ بھی کہ ان کے اقسام و اجناس بیشمار ہوں گے، لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ، مقطوعہ سے مراد جو فصل ختم ہونے پر ختم ہوجاویں جیسے دنیا کے عام پھلوں کا یہی حال ہے کوئی گرمی میں ہوتا ہے، موسم ختم ہونے پر ختم ہوجاتا ہے، کوئی سردی یا برسات میں ہوتا ہے اور موسم کے ختم پر اس کا نام و نشان نہیں رہتا، جنت کا ہر پھل دائمی ہر وقت ہر موسم میں موجود رہے گا ممنوعہ سے مراد بھی یہ ہے کہ دنیا میں جس طرح درختوں پر لگے ہوئے پھلوں کے نگراں ان کو توڑنے سے منع کرتے ہیں جنت کے پھل اس سے بھی آزاد ہوں گے، ان کو توڑنے میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–33

(فی سدر محضود و طلح منضود وظل ممدود وما مسکوب وفا کھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ) (28، 33)۔ یہ ان کی جنت پھلوں، اس کے سایہ اور اس کی طرادت کا ذکر ہے۔ (فی سدرمخضود، سدر) بیری کو کہتے ہیں۔ ہمارے علاقوں میں بیری کی کچھ زیادہ وقعت نہیں ہے اس وجہ سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ یہ کیا ایسا پھل ہے جس کا قرآن نے ذکر فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی بعض علاقوں میں اس کے پھل نہایت لذیز، خوشبو دار اور خوش رنگ ہوتے ہیں۔ ثانیاً یہ جنت کی بیری ہے، جس کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل ہی کے پیرا یہ میں ہوسکتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33-1یعنی یہ پھل موسمی نہیں ہونگے کہ موسم گزر گیا تو پھل بھی آئندہ فصل تک ناپید ہوجائیں، یہ پھل اس طرح فصل گل و لالہ کے پابند نہیں ہونگے، بلکہ بہار و خزاں اور گرمی و سردی ہر موسم میں دستیاب ہوں گے۔ اس طرح ان کے حصول کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–33

6: جنت کے پھلوں کے نام تو ہمارے سمجھانے کے لئے وہی ہیں جنہیں ہم دنیا میں جانتے ہیں، لیکن ان کی کیفیت ان کی لذت اور ان کا حجم ہر چیز یہاں سے کہیں زیادہ خوشنما اور لذیذ ہوگی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ بیری کا درخت تو عام طور سے تکلیف دہ ہی ہوتا ہے قرآن کریم نے اس کا تذکرہ کیسے فرمایا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کانٹوں سے پاک ہوگا ؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل پیدا فرمائیں گے اور اس ایک پھل میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے اور کوئی ذائقہ دوسرے سے ملتا جلتا نہیں ہوگا۔ (روح المعانی بحوالہ حاکم و بیھقی، و صححہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–33

وفاکھة ............ ممنوعة (6 5: 33) ” اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بےروک ٹوک پھل۔ “ ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا اور سابقہ انواع کی طرح متعین نہیں کیا گیا۔ جو اہل بادیہ کے ہاں مرغوب تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–33

10 بہت قسم کا میوہ، نہ پہلے اس میں سے کسی نے توڑا نہ دنیا کے موسمی میووں کی طرح آئندہ ختم ہو نہ اس کے لینے میں کسی قسم کی روک ٹوک پیش آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33{ لَّا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ۔ } ”نہ ٹوٹے ہوئے اور نہ ہی پہنچ سے باہر۔“ جنت کے پھل درختوں سے توڑ کر انہیں پیش نہیں کیے جائیں گے بلکہ جب وہ پھل حاصل کرنا چاہیں گے درخت خود ان کے سامنے جھک جائیں گے۔ تمام پھل بکثرت بےروک ٹوک ملیں گے۔ کوئی پھل ایسا نہیں ہوگا جو ان کی پہنچ سے باہر ہو یا اسے کھانا ممنوع قرار دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–33

18 یعنی نہ تو جنت کے پھلوں کی سپلائی کسی وقت بند ہوگی جس طرح دنیا میں پھل اپنے موسم میں ہی مل سکتے ہیں۔ آگے پیچھے نہیں ملتے۔ اور نہ ہی ان کو حاصل کرنے، توڑنے یا کھانے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش آئے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–33

11۔ بخلاف دنیا کے میووں اور پھلوں کے کہ فصل کے ختم پر یہ بھی ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے لیے روک ٹوک بھی ان کے مالکوں کی طرف سے جاری رہتی ہے۔ اب بیان المقربون السابقون “۔ (حضرت انبیاء وغیرھم) کے بعد (آیت) ” اصحب الیمین “۔ (عامہ مومن ین) کی خوش عیشیوں کا ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جو نہ ختم ہوں گے اور (اہل جنت کے لیے) نہ ان کی روک ٹوک ہوگی لَا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ : بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ پھل درختوں سے توڑے جانے کے بعد بھی منقطع نہیں ہوں گے (فوراً دوسرے پھل پیدا ہوجائیں گے) اور جو بھی ان کو توڑنا چاہے گا ‘ اس کو روکا نہیں جائے گا (یعنی ہر جنتی جو ان کا خواہش مند ہوگا ہر حالت میں توڑے گا) اس مضمون کی تائید وہ حدیث بھی کرتی ہے جس کو حضرت ثوبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جو کوئی جنتی کسی پھل کو درخت سے چن لے گا ‘ فوراً دوبارہ اسکی جگہ اسکی مثل دوسرا پھل پیدا کردیا جائے گا۔ (رواہ البزار والطبرانی) بغوی نے ان الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 28–44

(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ا مَقْطُوْعَۃٍ“: دنیا میں ہر پھل کا ایک موسم ہے ، اس کے بعد وہ ختم ہوجاتا ہے ، اسی طرح اس کا ایک علاقہ ہے دوسرے علاقے میں نہیں ملتا۔ جنت کے پھل ایسے نہیں کہ کسی موسم یا کسی جگہ میں نہ ملیں ، بلکہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت تیار ملیں گے۔ 2۔ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ : دنیا میں پھلوں کے حصول میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں ، مثلاً یہ کہ کسی اور کی ملکیت ہیں ، خریدنے کے لیے قیمت موجود نہیں ، اپنے بھی ہیں تو ابھی تیار نہیں یا درختوں سے اتارنا مشکل ہے۔ جنت کے پھلوں کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں ، ان کی ملکیت وراثتی ملکیت ہے اور دائمی ہے، فرمایا :(اُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْوٰرِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَط ہُمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–33

وما مسکوب۔ یعنی جاری پانی ہوگا جو ختم نہیں ہوگا۔ سکب کا اصل معنی بہانا ہے جو جملہ بولا جاتا ہے : سکبہ سکبا، سکوب کا معنی اس کا بہنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : سکب کو با، انسکب انسکابا یعنی بہایا گیا پانی رات، دن بغیر کھائی کے جاری رہے گا وہ ان سے ختم نہ ہوگا۔ عرب باد یہ نشین اور گرم علاقوں کے رہائشی تھے ان کے علاقوں میں نہریں نادر و نایاب تھیں وہ ڈولوں کے ذریعے ہی پانی تک پہنچ پاتے تو اس کے برعکس ان سے نہروں کا وعدہ کیا گیا۔ ان کے لیے سیر و سیاحت کے اسباب کا ذکر کیا گیا جو دنیا میں معروف ہیں جیسے درخت، ان کے سائے، پانی، نہریں اور ان کا عام ہونا۔ وفاکھۃ کثیرہ۔ وہ تھوڑے اور نادر و نایاب پھل نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

43۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وماء مسکوب سے مراد ہے جاری پانی۔ 44۔ ہناد وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے کھجور کی شاخوں سے ان کے چھوٹ کپڑے اور ان کا لباس بنا ہوا ہوگا۔ 45۔ ہناد وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے پھلوں کے خوشے تیرے اور صنعاء کے درمیان فاصلہ کے برابر ہوں گے۔ اور صنعا سے مراد شام ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَّا مَقْطُوْعَةٍ : نہ قطع کیے ہوئے ہوں گے ] [وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ : اور نہ منع کیے ہوئے ] نوٹ۔ 2 لامقطوعۃ ولا ممنوعۃ سے مراد ہے کہ یہ پھل موسمی نہیں ہوں گے کہ موسم گزر جانے کے بعد نہ مل سکیں ۔ ان کی پیداوار کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا بلکہ ہر پھل وہاں ہر موسم میں ملے گا اور لاممنوعۃ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے باغوں کی طرح وہاں کوئی باغ کا مالی یا چوکیدار منع کرنے والا نہ ہوگا ۔ (تفہیم قرآن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–33

﴿ وَّ فَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍۙ0032 لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ0033﴾ اور اصحاب الیمین خوب زیادہ فوا کہ یعنی میووں میں ہوں گے یہ میوے ہمیشہ رہیں گے کبھی بھی ختم نہ ہوں گے اور کبھی بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ جب چاہیں گے کھائیں گے، جتنا چاہیں گے کھائیں گے حدیث شریف میں ہے کہ جنتی آدمی جب بھی جنت میں کوئی پھل توڑے گا اس کی جگہ دوسرا پھل لگ جائے گا۔ (مجمع الزوائد صفحہ 414: ج 10)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–39

13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَّا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ۝ 33 ۙ قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا منع المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–40

ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–38

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–40

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33 : لَّا مَقْطُوْعَۃٍ (جو نہ ختم ہونگے) وہ کسی وقت میں منقطع نہ ہونگے جیسے دنیا کے پھل ہیں۔ بلکہ وہ دائمی ہونگے۔ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ (نہ ان کی روک ٹوک ہوگی) کسی طرح سے لینے والے کو روکا نہ جائے گا۔ ایک قول یہ ہے وقت کے ساتھ منقطع نہ ہونگے اور نہ قیمت کے بغیر ممنوع ہونگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–38

27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہوجاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہوجاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے ان کو بہت قریب سے چنا جاسکے گا۔ بندہ مومن ہرحال میں ان کو حاصل کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–33

[ 26] جنت کی بیریاں بےخار : سو ارشاد فرمایا گیا جو بےخاربیریوں میں ہوں گے، یعنی وہاں کی دو بیری دنیاوی بیری کی طرح نہیں ہوگی جس میں کانٹے ہوتے ہیں، اور جس کے حاصل کرنے کیلئے ہاتھوں کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔ سو وہاں کی دو بیری الگ اور ایک امتیازی شان کی ہوگی کہ اس میں کانٹے نہیں ہوں گے، کہ کانٹے تکلیف دہ چیز ہے اور جنت میں تکلیف دہ کوئی چیز نہیں ہوگی، بلکہ صحیح حدیث کے مطابق وہاں کی بیریوں میں ہر کانٹے کی جگہ پھل ہوں گے، اخرجہ الحاکم والبیہقی وحمھما اللہ فی قصۃ سوال الاعرابی، [ روح، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ ] سو یہ بیری جنت کی بیری ہوگی جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، اور اس کی اصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–34

ف 9 یعنی خوب دبیز اور اونچے ہوں گے۔ عربی زبان میں ” فرش “ کا لفظ عورت کے لئی بھی بطور کیا یہ استعمال ہوتا ہے اس لئے آیت وفرش مرفوعۃ کا ترجمہ ” شاندار عورتیں “ بھی کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–34

(56:33) لا مقطوعۃ : لا نافیہ مقطوعۃ اسم مفعول واحد مؤنث ۔ نہ ختم ہونے والے۔ یعنی ایسے پھل یا میوے جو موسمی نہیں ہوں گے بلکہ ہر وقت درختوں پر موجود رہیں گے (اور وہاں) نہ ختم ہونے والے پھل ہوں گے۔ ولا ممنوعۃ : اور نہ ان کے توڑنے سے کسی کو منع کیا جائے گا۔ کیونکہ توڑنے سے وہ پھل ختم نہ ہوں گے بلکہ ان کی جگہ فوراً دوسرا پھل اسی طرح پختہ و ہمہ صفت موصوف لگ جائے گا۔ یہ صفت ہے فاکھۃ کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–39

(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–46

[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) جن کی نہ کبھی فصل ختم ہوگی اور نہ ان پر کوئی پابندی عائد کی جائیگی۔ یعنی وہ بکثرت میوے ایسے ہیں جو نہ کبھی منقطع اور ختم ہوں گے اور نہ ان کے توڑنے اور کھانے پر کوئی روک ٹوک ہوگی جیسا کہ دنیا کے باغات میں یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو پھل نہ تو کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان کے حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہو گی 33 ؎ (مقطوعۃ) اسم مفعول اور مونث قطع مصدر۔ قطع کردہ جن کا سلسلہ عطا کاٹ دیا گیا ہو اور ختم کردیا گیا ہو نفی کا صیغہ ہے یعنی وہ پھل جو (اصحاب الیمین) کے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ کبھی مقطوع یعنی ختم نہیں ہوں گے نہ ہی اہل جنت کو ان کو کھانے اور حاصل کرنے کی کبھی ممانعت ہوگی کہ ان کو روک دیا جائے کہ اب تم ان کو استعمال نہیں کرسکتے نہ روزوں کی طرح جزوی طور پر اور نہ ابدی طور پر بلکہ عام اجازت ہوگی کہ وہ جب چاہیں اور مہیا کرانا چاہیں ان کو یقینا ملے گا ہاں ! کسی پھل کے کھانے اور استعمال کرنے پر ان کو مجبور نہیں کی اجائے گا وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ (neither interrupted [ in any season ], nor prohibited ...56:33) The word maqtu` ah means the fruits the supply of which is cut off at the end of the season. In this world most fruits are seasonal; some bear in summer, some in winter and others in rainy season. Once the season of the fruit is over, it ceases to be available. However, the supply of the fruits of Paradise never runs out in any season. Rather they will always be available for those who want to eat from them. Whenever these fruits are desired, they will be available and easy to grasp by Allah's…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–36

17 This signifies the virtuous women of the world, who will enter Paradise on the basis of their faith and good works. Allah will make them young no matter how aged they might have died in the world; will make them beautiful whether or not they were beautiful in the world; and will make them virgins whether they died virgins in the world or after bearing children. If their husbands also entered Paradise with them, they would be joined with them, otherwise AIIah will wed them to another dweller in Paradise. This very explanation of this verse has been reported from the Holy Prophet (upon whom…

Read the full tafseer →