ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۟ۙثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
A company of the former peoples
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۟ۙثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
A company of the former peoples
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
وہ اگلوں میں سے بہت ہوں گے
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
جم غفیر ہے اگلوں میں سے
(جن میں سے) بہت سے شروع کے لوگوں میں سے ہوں گے۔
اگلوں میں سے ایک گروہ،
(ان میں) بڑی جماعت اگلے لوگوں میں سے ہوگی،
ایک بڑی جماعت پہلے لوگوں سے ہیں۔
جو پہلوں میں سے بھی بہت سے ہوں گے
ان میں اگلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ ہو گا
بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے
ان کا ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے بھی ہوگا
جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔
یہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں
a large throng from the ancients,
(comprising) many from the first generations,
(comprising) many from the first generations,
A multitude of those will be from the first generation.
A multitude of those of old
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
A company of the former peoples
These (people of the right hand) consist of many from the ancient
A numerous company from among the first,
A multitude from the ancients.
A (goodly) number from those of old,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 27–40
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
سورة الْوَاقِعَة 20 یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہوگئے تھے۔ اپنی لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔ " گناہ عظیم " کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(39، 40)۔ اوپر سابقون کے ذکر میں بتایا ہے کہ اس گروہ میں بڑی تعداد اگلوں ہی میں سے ہوگی، پچھلوں میں سے اس میں شامل ہونے کی سعادت کم ہی خوش بختوں کو حاصل ہوگی۔ یہاں بتایا کہ اصحب الیمین میں اگلوں اور پچھلوں دونوں میں سے ایک ایک گروہ ہوگا۔ اوپر یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ اگلوں اور پچھلوں سے اپنی امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قیام قیامت تک جتنے مسلمان اس دنیا میں انئیں گے ان میں سے ایسے لوگ برابر نکلتے رہیں گے جن کا شمار (اصحب الیمین) کے طبقہ میں ہوگا اور قیامت کے دن وہ ایک ہی گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں گے۔
Read the full tafseer →39-1یعنی آدم ؑ سے لے کر نبی ﷺ تک کے لوگوں میں سے یا خود امت محمدیہ کے اگلوں میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
10: اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، کیونکہ اپنی ہم عمر کے ساتھ ہی رفاقت کا صحیح لطف حاصل ہوتا ہے، اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی، بعض احادیث میں ہے کہ جنتیوں کی عمر 33 سال کردی جائے گی جو شباب کا زمانہ ہوتا ہے (ترمذی عن معاذ)۔
Read the full tafseer →ثلة ................ الاخرین (6 5: 0 4) ” وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “ ان کی تعداد السابقین الاولین سے زیادہ ہوگی جو مقربین ہوں گے اور یہ اس اعتبار سے جو ہم نے اولین اور آخرین کا بیان کیا ہے۔ اب یہاں بات اصحاب الشمال تک آجاتی ہے۔ اس سے پہلے سورة کے آغاز میں ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
13 یعنی اصحاب یمین پہلوں میں بھی بکثرت ہوئے ہیں اور پچھلوں میں بھی ان کی بہت کثرت ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 39{ ثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
22 یعنی مقربین تو اولین میں زیادہ ہوں گے اور آخرین میں کم جبکہ اصحاب الیمین اولین میں سے بھی بہت ہوں گے اور آخرین میں سے بھی۔ چناچہ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم لوگ سارے اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہوگے (اور تین چوتھائی میں باقی سب امتوں کے لوگ شامل ہوں گے) یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا (اللہ کا شکریہ ادا کیا) پھر آپ نے فرمایا : نہیں تم تہائی حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ پھر آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم آدھا حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة حج۔ وتری الناس سکٰرٰی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
13۔ یعنی عام مومنین اسی امت کے بھی بڑی کثرت سے ہوں گے۔” مقربین کی جزاء میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل شہر کو زیادہ مرعوب ہے۔ اور اصحب الیمین “ کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل قریہ کو زیادہ مرغوب ہے۔ پس اشارہ اس طرف ہوگیا کہ ان میں ایسا تفاوت ہوگا جیسا اہل شہر واہل قریہ میں “۔ (تھانوی (رح)) ” اور بعض روایات میں جو آیا ہے، ھما جمیعان ھذہ الایۃ۔ یہ اس طور پر ماول ہے کہ مقصود تفسیر آیت کی نہ ہو بلکہ مطلب یہ ہو کہ جس طرح قرآن میں مذکور ہے کہ اولین میں مقربین زیادہ ہیں اور آخرین میں کم، اسی طرح خود اس آیت میں بھی یہی نسبت ہوگی کہ قرون اولی میں مقربین زیادہ ہوں گے۔ اور متاخرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–44
(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ : یعنی اصحاب الیمین پہلی امتوں میں سے بہت بڑی جماعت ہوں گے اور آخری امت سے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے۔ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ دونوں میں سے کون سی جماعت تعداد میں دوسری سے زیادہ ہوگی ، یہ بات رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمائی ہے ، عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں :(کا مع رسول اللہ ﷺ فی قبۃ نحوا من اربعین رجلا فقال اترضون ان تکونوا ربع اھل الجنۃ قال قلنا نعم ، قلنا اترضون ان تکونوا ثلث اھل الجنۃ ؟ فقلنا نعم ، فقال والذی نفسی بیدہ ! انی لارجو ان تکونو نصف اھل الجنۃ واذلک ان الجنۃ لا یدخلھا الا نفس مسلمۃ وما انتم فی اھل الشرک الا کا لشعرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ثلۃ من الاولین۔ وکلۃ من الاخرین۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے فرمان واصحب الیمین ما اصحب الیمین۔ کی طراف راجع ہے یعنی ہم ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین اس کے متعلق گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابو العالیہ، مجاہد، عطاء بن ابی رباح اور ضحاک نے کہا : کلۃ من الاولین۔ یعنی اس امت کے سابقین میں سے جماعت وکلۃ من الاخرین۔ اسی امت کے آخرین میں سے جماعت ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ سب میری امت سے تعلق رکھتے ہیں “ (6) واحدی نے کہا : اصحاب جنت نصف نصف ہوں گے نصف سابقہ امتوں میں سے اور نصف اس امت سے۔ ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
43۔ عبد بن حمید نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین۔ (ایک بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے) یعنی بہت لوگ پہلے لوگوں میں سے اور بہت لوگ پچھلے لوگوں میں سے۔ 44۔ مسدد نے اپنی مسند میں وابن النذر والبطرانی وابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں جماعتیں اس امت میں سے ہوں گی۔ 45۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن عدی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰ خرین…
Read the full tafseer →[ثُلَّةٌ : (وہ) انبوہ کثیر ہوں گے ] [مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : اولین میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی : اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40 ۭ ثل الثَّلَّة : قطعة مجتمعة من الصوف، ولذلک قيل للمقیم ثلّة، ولاعتبار الاجتماع قيل : ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ [ الواقعة/ 39- 40] ، أي : جماعة ، وثللت کذا : تناولت ثلّة منه، وثلّ عرشه : أسقط ثلة منه، والثلل . قصر الأسنان لسقوط ثلة منه، وأثلّ فمه : سقطت أسنانه، وتثللت الرکية، أي : تهدّمت . ( ث ل ل ) الثلۃ ( بفتح الثاء ) کے اصل معنی اون کے ڈھیر کے ہیں اس لئے بھیڑبکریوں کے ریوڑ کو بھی ثلۃ کہا جاتا ہے اور معنی اجتماع کے اعتبار سے آدمیوں کی جماعت کو ثلۃ ۔ قرآن میں ہے :۔ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 39، 40) (ان اگلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔ اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ سابقون کی تعداد تو پہلے لوگوں میں زیادہ ہوگی۔ اور پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ سعادت کم خوش بختوں کو حاصل ہوگی۔ لیکن دائیں بازو والے پہلوں میں بھی اور بعد کے آنے والوں میں بھی بڑی تعداد میں ہوں گے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد تو سارے صحابہ ہی اصحاب الیمین میں شامل ہیں اور اسی طرح تابعین بھی بڑی تعداد میں شامل رہے ہوں گے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا حتیٰ کہ قیامت تک جتنے مسلمان آئیں گے ان میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…
Read the full tafseer →39 : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّ لِیْنَ (ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا) یعنی دائیں طرف والے پہلے لوگوں کا بڑا گروہ ہیں۔
Read the full tafseer →38 ۔” لا صحاب الیمین “ مراد یہ ہے کہ ہم نے ان کو پیدا کیا اور اصحاب یمین کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40۔ ترمذی 5 ؎ میں حضرت بریدہ ؓ کی حدیث ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی اور چالیس صفیں اور امتوں کی ہوں گی۔ اس حدیث سے یہ حساب تو صحیح معلوم ہوگیا کہ بہ نسبت اور امتوں کے اس امت کے جنتی لوگ دوگنے ہوں گے۔ اب جنتی لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اور سورة فاطر میں دو قسمیں فرمائی ہیں ایک تو اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جن کو نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے اور مقرب فرمایا ہے دوسرے بیچ کی راس کے لوگ جن کو سیدھے ہاتھ والے فرمایا ہے ان دونوں قسموں کے ذکر میں یہ جو فرمایا ہے مقرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بھی بہت سی تعداد پر مشتمل ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[ 36] اصحاب یمین کی سرفرازیوں کا ذکر وبیان : لاصحاب الیمن کا تعلق " انا انشاناھن " سے بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس صورت میں اس کا معنی و مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کو کنواری بنادیں گے اصحاب یمین کے لیے۔ یعنی ان عورتوں کو خاص طور پر اصحاب یمین کیلئے پیدا کیا گیا ہوگا یعنی " انا انشاناھن لاصحاب الیمین " [ خازن وغیرہ ] اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو مبتدائے محذوف کی خبر قرار دیا جائے۔ یعنی ان تمام نعمتوں کو ہم نے اصحاب یمین کیلئے پیدا کیا ہوگا، [ خازن وغیرہ ] اور ترجمہ کے اندر ہم نے اسی کا لحاظ کیا ہے، بہرکیف ان دونوں صورتوں میں جو بھی اختیار کی جائے معنی اور مدعا کے اعتبار سے کوئی خاص فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1 اگلے اور پچھلے لوگوں کی تفسیر اوپر ایسی سورة میں گزر چکی ہے
Read the full tafseer →(56:39) ثلۃ من الاولین : ثلۃ کے لئے ملاحظہ ہو آیت نمبر 13 متذکرہ الصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–39
(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–46
[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(39) ان اصحاب یمین کا ایک بڑا گروہ تو پہلے لوگوں میں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →ایک بڑا گروہ پہلوں میں سے ہو گا 39۔ یہ وہی آیت ہے جو اس سورت کی آیت 13 کے طور پر بھی بیان ہوئی ہے یعنی ایک بڑا گروہ پہلوں یا اگلوں میں سے اور اس جگہ ثلۃ کی وضاحت ہم نے کردی ہے اس لیے گویا جو تفسیر وہاں بیان کی گئی ہے وہی تفسیر اس جگہ بھی سمجھی جائے گی۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ مقربین کا گروہ تھا اس لیے پہلوں میں سے تو ایک بہت بڑا گروہ مقربین کا ہوگا لیکن پچھلوں میں وہ بہت کم ہی ہوں گے لیکن { اصحاب الیمین } جس طرح پہلے لوگوں میں ایک بہت بڑا گروہ سمجھا گیا ہے اور اسی طرح کا ایک بہت بڑا گروہ پچھلوں میں بھی ہوگا جیسا کہ اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
20 That is, "Their prosperity had an adverse effect on them. Instead of being grateful to Allah Almighty, they had become deniers of His blessings. Lost in pleasure-seeking they had forgotten God and persisted in heinous sinning. "Heinous sinning" includes disbelief, polytheism and atheism as well as every grave sin of morality and conduct."
Read the full tafseer →