Explained with ayahs 27–40
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الْوَاقِعَة 15
یعنی ایسی بیریاں جن کے درختوں میں کانٹے نہ ہوں گے۔ ایک شخص تعجب کا اظہار کرسکتا ہے کہ بیر ایسا کونسا نفیس پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جنت کے بیروں کا تو کیا ذکر، خود اس دنیا کے بھی بعض علاقوں میں یہ پھل اتنا لذیذ خوشبو دار اور میٹھا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ منہ کو لگنے کے بعد اسے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور بیر جتنے اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں، ان کے درختوں میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ اسی لیے جنت کے بیروں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ ان کے درخت بالکل ہی کانٹوں سے خالی ہوں گے، یعنی ایسی بہترین قسم کے ہوں گے جو دنیا میں نہیں پائی جاتی۔
Read the full tafseer →وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ، اصحاب یمین، دراصل مومنین متقین اور اولیاء اللہ میں گناہ گار مسلمان بھی ان کے ساتھ مل جائیں گے، بعض تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض کسی نبی ولی کی شفاعت سے مغفرت اور معافی ہوجانے کے بعد اور بعض کو عذاب ہوگا، مگر اپنے گناہ کا عذاب بھگتنے کے بعد یہ بھی گناہ سے پاک صاف ہو کر اصحاب الیمین کے گروہ میں شامل ہوجائیں گے، کیونکہ گناہ گار مومن کے لئے جہنم کی آگ درحقیقت عذاب نہیں بلکہ کھوٹ سے پاک صاف کرنے کی ایک تدبیر ہے (مظہری)
Read the full tafseer →(واصحب ایمین ما اصحب الیمین) (27)۔
(اصحب الیمین کی جنت)۔ یہ اصحاب الیمین کی جنت کا بیان آ رہا ہے۔ اوپر ان کا ذکر (اصحب المیمنۃ) کے الفاظ سے ہوا ہے جس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ قرآن میں (اصحب المیمنۃ) اور (اصحب الیمین) کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی وہ لوگ جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ (ما اصحب الیمین) کا مفہوم بھی وہی ہے جو اوپر (ما اصحب المیمنۃ) کا بیان ہوا۔ یعنی کیا کہنے میں ان کے مرتبہ کے ! کیا پوچھنا ہے ان کی عظمت و شان کا ! کیا بیان ہو ان کے عیش و آرام کا !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27-1اب تک سابقین کا ذکر تھا اب عام مومنین کا ذکر ہو رہا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اور دائیں بازو والے وہ ہیں جن کی طرف سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا تھا۔ میمنہ والے۔ ان کی تواضعات کی تفصیلات ذرا موخر کردی گئیں کیونکہ پہلے سابقین اولین کی مراعات کا ذکر مطلوب تھا۔ ان کے بارے میں وہی مبالغہ اور اظہار عظمت بذریعہ اجمال ما اصحاب الیمین (کیا ہی لوگ ہیں وہ)
ان لوگوں کے لئے بھی مادی اور محسوس انعامات ، یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بدوی معاشرے میں اہم ہوتی ہیں اور ان کے لئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ جن کو وہ سمجھتے اور برتتے ہیں۔
یہ لوگ فی سدرمخضود (بےخار بیریوں میں ہوں گے) السدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کانٹے ہوں گے لیکن وہاں اس کو کانٹوں سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی مخضود ہوں گے وہ درخت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
8 جو قسم قسم کے مزیدار پھلوں سے لدے ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 27{ وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۔ } ”اور اصحاب الیمین ! کیا کہنے ہیں اصحاب الیمین کے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
15 مَخْضُوْدٍ ۔ خَضَدَ (الشجر) کسی خاردار درخت کے کانٹے توڑ کر یا کاٹ کر اسے بےخار بنادینا۔ صاف کردینا۔ کہتے ہیں کہ بیری کے درخت کے کانٹے جتنے کم ہوں اتنا ہی اس کا پھل اچھا اور مزے دار ہوتا ہے اور جنت کی بیریاں بالکل بےخار ہوں گی۔ یعنی ان بیریوں کا پھل دنیا کی بیریوں جیسا نہیں بلکہ بہت لذیذ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
11۔ بخلاف دنیا کے میووں اور پھلوں کے کہ فصل کے ختم پر یہ بھی ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے لیے روک ٹوک بھی ان کے مالکوں کی طرف سے جاری رہتی ہے۔ اب بیان المقربون السابقون “۔ (حضرت انبیاء وغیرھم) کے بعد (آیت) ” اصحب الیمین “۔ (عامہ مومن ین) کی خوش عیشیوں کا ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →اور دائیں طرف والے وہ کیسے اچھے ہوں گے۔ دائیں طرف والے
بیہقی کی ایک روایت میں مجاہد کا قول آیا ہے کہ ان لوگوں کے لیے اور بیری کے سائے عجیب معلوم ہوتے تھے ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ : وہ پاک باطن ‘ نفوس مطمئنہ والے متقی ہوں گے ‘ جن کے دل روشن ہیں ‘ پھر آخرت میں انہیں کے ساتھ گناہ گار اہل ایمان کو بھی شامل کردیا جائے گا اور انبیاء اور صلحاء کی سفارش سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا یا اللہ بغیر شفاعت کے ان کی خطاؤں کو بخش دے گا یا عذاب دینے کے بعد پاک صاف کر کے صلحاء اور اہل تقویٰ کے ساتھ ملا دے گا ‘ کیونکہ جہنم سے مؤمن کے گناہوں کا میل ایسا صاف ہوجائے گا جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
(24۔ 27) یہ ثواب جنتیوں کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا اور جنت میں بک بک اور نہ جھوٹی بات سنیں گے اور نہ کوئی گالی گلوچ۔
بس ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی کہ خود ایک دوسرے کو سلام کرتے رہیں گے اور فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام نازل ہوتا رہے گا اور محمد آپ کو کیا معلوم کہ جنت والوں کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہیں۔
Read the full tafseer →وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ : سابقون کا حال بیان کرنے کے بعد اب اصحاب الیمین یعنی عام مومنوں کی خوش حالی اور عین و تنعیم کا بیان ہے۔”وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ“ سے وہی مراد ہیں جو فاصحب الیمنۃ ما اصحب المیمنۃ“ سے ہیں۔
Read the full tafseer →(واصحب الیمین۔۔۔۔۔۔۔ )
واصحب الیمین ما اصحب الیمین۔ اصحاب میمنہ کی منازل کے ذکر کی طرف رجوع کیا وہ سابقون ہیں جس طرح پہلے گزرا ہے۔ یہ تکرار ان نعمتوں کی عظمت شان کو بیان کرنے کے لیے ہے جس میں وہ ہیں۔
Read the full tafseer →21۔ احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت آیت واصحب الیمین ما اصحب الیمین، واصحب الشمال ما اصحب الشمال۔ تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ بند کرتے ہوئے فرمایا یہ جنت میں ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ دوزخ میں ہے مجھے کوئی پروا نہیں۔
جنت میں بیری کا درکت بغیر کانٹے کے
Read the full tafseer →[وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ : اور داہنی طرف والے ] [مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ : کیا (ہوں گے) داہنے طرف والے ]
نوٹ۔ 1: پیچھے آیت ۔ 8 ۔ 9 ۔ میں لفظ ما آیا ہے اور اب آیت ۔ 27 ۔ میں اس کا اعادہ ہوا ہے اور آگے آیت ۔ 41 میں پھر اعادہ ہوگا ۔ ان میں جو استفہام ہے یہ اظہار شان و عظمت کے لیے بھی آتا ہے اور اظہار نفرت و کراہیت کے لیے بھی ۔ اظہار عظمت کے لیے ہو تو مطلب ہوتا ہے کہ ان کے عالی مقامی کا کیا کہنا ہے اور اظہار نفرت کے لیے ہو تو مطلب ہوتا ہے ان کی بدحالی اور بدانجامی کا کیا پوچھتے ہو ، یہ اسلوب کلام اس صورت میں اختیار کیا جاتاجب صورتحال کی تصویر الفاظ میں کھینچنی ممکن نہ ہو اور صورت واقعہ قیاس و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
اصحاب الیمین کی نعمتیں :
اس کے بعد ﴿اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ﴾ کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِؕ0027﴾ (اور داہنے ہاتھ والے کیا خوب ہیں داہنے ہاتھ والے) ﴿ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ0028﴾ (وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی) سدر کو لفظ مخضود کے ساتھ متصف فرمایا یعنی ان کے درختوں میں کانٹے نہیں ہوں گے جیسا کہ دنیا والی بیریوں میں کا نٹے ہوتے ہیں۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن ایک اعرابی حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو ایذا دینے والا ہے، آپ نے فرمایا ہے وہ کون سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
12:۔ ” واصحب الیمین “ یہ پہلی جماعت یعنی اصحاب المیمنۃ کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الیمین کا کیا کہنا انکا حال نہایت اچھا اور اعلی ہوگا۔ ” فی سدر مخضود “ مخضود، کانٹوں کے بغیر، جنت کے میوہ دار درخت کانٹوں سے عاری ہوں گے تاکہ میوہ تناول کرتے وقت کانٹے رنگ میں بھنگ نہ ملا دیں۔ چناچہ بیری کا درخت دنیا میں کانٹوں سے لیس ہوتا ہے، لیکن جنت میں جو بیری کے مشابہ درخت ہوں گے وہ کانٹوں سے عاری ہوں گے اور ان کا پھل حجم میں مٹکوں کے برابر ہوگا اور نہایت خوشذائقہ اور خوشبودار ہوگا۔ سدر فی الجنۃ شجر علی خلقہ لہ ثمر کقلال ھجر طیب الطعم والریح (مخضود، ، من الشوک (بحر ج 8 ص 206) ۔ ” وطلح منضود “ اور کیلے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
جنت میں سابقین کی کیفیت :
ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ 0ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ 27
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة،
ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40]
( ص ح ب ) الصاحب
۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔
تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38)
(اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔
” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟
” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…
Read the full tafseer →27 : وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ( اور دائیں طرف والے، وہ کیسے اچھے ہونگے دائیں طرف والے)
Read the full tafseer →26 ۔” الا قیلا “ یعنی قول ” سلاما سلاما “ ان دونوں پر نصب اللہ تعالیٰ کے قول قیلا کے اتباع کی وجہ سے ہے۔ یعنی وہ سنیں گے قول ” سلاما سلاما “ کا۔ عطائؒ فرماتے ہیں وہ ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ پھر اصحاب الیمین کو ذکر کیا اور ان کی شان سے تعجب کیا۔ پس فرمایا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمیین کے لیے کچھ تیار کررکھا ہے چناچہ فرمایا (وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ) اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے۔ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔
Read the full tafseer →[ 25] اصحٰب الیمین کی جنت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور دائیں بازو والے، کیا کہنے دائیں بازو والوں کے ؟ اصحاب یمین یعنی دائیں بازو والوں کی عظمت شان کے بارے میں یعنی وہ وایسی عظیم الشان نعمتوں اور کیفیات سے سرفراز و سرشار ہوں گے جو احاطہ ذکر وبیان سے باہر ہیں بہرکیف مقربین کے ذکر کے بعد اب یہ ابرار کا ذکر فرمایا جا رہا ہے، یہ وہی حضرات ہیں جن کا ذکر اوپر " اصحٰب المیمنہ " کے الفاظ سے کیا گیا ہے، سو " اصحٰب الیمین " اور " اصحٰب المینہ " کا مفہوم ایک ہی ہے، یعنی وہ خوش نصیب حضرات جن کا ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے، اور جو کامیاب اور فائز المرام لوگ ہوں گے اور " ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 6 مثلاً گالی گلوچ، غیبت، جھوٹ اور بہتان وغیرہ
Read the full tafseer →(56:27) واصحب الیمین ما اصحب الیمین : ملاحظہ ہو آیت 8 متذکرہ بالا۔ اصحب الیمین۔ دائیں ہاتھ والے۔ ان کو اصحب الیمین یا اصحب المیمنہ کہنے کے متعلق مندرجہ ذیل اقوال ہیں :۔
(1) یہ لوگ رب العزت کے تخت کے دائیں جانب کھڑے ہوں گے۔
(2) ان کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
(3) ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر بہشت میں لے جایا جائے گا۔
(4) ان کی روحیں حضرت آدم کی دائیں جانب تھیں۔ (جب حضرت آدم کی پشت سے ان کی ساری نسل برآمد کی گئی تھی۔ ان کے دو گروہ بنا دئیے گئے تھے ایک گروہ دائیں طرف جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ یہ جنتی ہے۔
مندرجہ بالا صورتوں میں یہ یمین سے مشتق ہے جس کا معنی دایاں (ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–39
(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(27) اور داہنی طرف والے سو کیسی اچھی حالت میں ہیں داہنی طرف والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →اور داہنی طرف والے بس کیا کہنا ہے ان داہنی طرف والوں کا
27 ؎ (اصحاب الیمین) وہی ہیں جو پیچھے (اصحاب الیمین) کے تحت ذکر کئے گئے ہیں دائیں طرف والے وہی ہیں وار ان کو دائیں طرف والے کیوں کہا گیا ہے اس کی وضاحت پیچھے آیت 8 ‘ 9 میں کی جا چکی ہے۔ زیر نظر آیت سے ان پر کی جانے والی نوازشات کا ذکر شروع ہو رہا ہے اور زیر نظر آیت سے لے کر آیت 40 تک مسلسل ان کا ذکر چلا گیا ہے۔ یہ وہ پاک باطن لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی متقی اور پرہیزگار رہ کر گزاری اور آخرت میں ان کے ساتھ ان مسلمانوں کو بھی شامل کر دیاجائے گا جن کے اسلام لانے میں تو کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہوگا لیکن ان سے مختلف غلطیاں سرزد ہوئی ہوں…
Read the full tafseer →The Reward of Those on the Right
وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ As for the People of the right, How (lucky) are the People of the Right!...56:27). The People of the Right are initially the God-fearing and the righteous believers. Sinful believers will also join the People of the Right, some through the sheer grace of Allah, and others will be forgiven through the intercession of a prophet or a friend of Allah. Some sinful believers will be punished for their sins, but after serving their punishment, they too will be purified and cleansed of the dross of their sins, after…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
15 That is, lote-trees without thorns on them. This will be a superior kind of the lote-tree to be only found in Paradise, and its fruit likewise will be much superior to that found in the world.
Read the full tafseer →