فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۟ۙفِىۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ
(یعنی) بےخار کی بیریوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
[They will be] among lote trees with thorns removed
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۟ۙفِىۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ
(یعنی) بےخار کی بیریوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
[They will be] among lote trees with thorns removed
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
وہ بے خار بیریوں
(یعنی) بےخار کی بیریوں
وه بغیرکانٹوں کی بیریوں
(وہ عیش کریں گے) کانٹوں سے پاک بیریوں میں۔
بے کانٹوں کی بیریوں میں
وہ بے خار بیریوں میں،
(وہ) ایسی بیریوں میں ہوں گے جن کے کانٹے دور کیے ہوئے ہیں۔
جو بےخار بیریوں،
بےخار بیریوں ،
(جو رہیں گے) بےخار بیریوں میں
وہ وہاں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی
وہ ہوں گے بیری کے درختوں میں جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔
یعنی بغیر کانٹوں کی بیریوں کے درختوں
They shall be in the midst of thornless lote trees,
(They will be) amid lote-trees with no thorns,
(They will be) amid lote-trees with no thorns,
(They will be) among Sidri Makhdud,
Among thornless lote-trees
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[They will be] among lote trees with thorns removed
They will live amid the thornless lot trees
Amid thornless lote-trees,
Midst lote-trees thornless.
(They will be) among Lote-trees without thorns,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 27–40
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الْوَاقِعَة 15 یعنی ایسی بیریاں جن کے درختوں میں کانٹے نہ ہوں گے۔ ایک شخص تعجب کا اظہار کرسکتا ہے کہ بیر ایسا کونسا نفیس پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جنت کے بیروں کا تو کیا ذکر، خود اس دنیا کے بھی بعض علاقوں میں یہ پھل اتنا لذیذ خوشبو دار اور میٹھا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ منہ کو لگنے کے بعد اسے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور بیر جتنے اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں، ان کے درختوں میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ اسی لیے جنت کے بیروں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ ان کے درخت بالکل ہی کانٹوں سے خالی ہوں گے، یعنی ایسی بہترین قسم کے ہوں گے جو دنیا میں نہیں پائی جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۔ وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ ، جنت کی نعمتیں بیشمار اور بےمثال و بےقیاس ہیں، ان میں سے جو نعمتیں قرآن کریم ذکر کرتا ہے وہ مخاطبین کے انداز فکر اور ان کی محبوب و پسندیدہ چیزوں کا ذکر کرتا ہے، عرب کے لوگ جن تفریحات اور جن پھلوں کے خوگر تھے، یہاں ان میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ، سدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں، مخضود وہ بیری جس کے کانٹے قطع کردیئے گئے ہوں اور پھل کے بوجھ سے شاخ جھکی ہوئی ہو اور یہ جنت کے بیر دنیا کے بیروں کی طرح نہیں ہوں گے، بلکہ یہ بیر مٹکوں کے برابر بڑے اور ذائقہ میں بھی دنیا کے بیر سے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
(فی سدر محضود و طلح منضود وظل ممدود وما مسکوب وفا کھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ) (28، 33)۔ یہ ان کی جنت پھلوں، اس کے سایہ اور اس کی طرادت کا ذکر ہے۔ (فی سدرمخضود، سدر) بیری کو کہتے ہیں۔ ہمارے علاقوں میں بیری کی کچھ زیادہ وقعت نہیں ہے اس وجہ سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ یہ کیا ایسا پھل ہے جس کا قرآن نے ذکر فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی بعض علاقوں میں اس کے پھل نہایت لذیز، خوشبو دار اور خوش رنگ ہوتے ہیں۔ ثانیاً یہ جنت کی بیری ہے، جس کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل ہی کے پیرا یہ میں ہوسکتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27-1اب تک سابقین کا ذکر تھا اب عام مومنین کا ذکر ہو رہا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
6: جنت کے پھلوں کے نام تو ہمارے سمجھانے کے لئے وہی ہیں جنہیں ہم دنیا میں جانتے ہیں، لیکن ان کی کیفیت ان کی لذت اور ان کا حجم ہر چیز یہاں سے کہیں زیادہ خوشنما اور لذیذ ہوگی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ بیری کا درخت تو عام طور سے تکلیف دہ ہی ہوتا ہے قرآن کریم نے اس کا تذکرہ کیسے فرمایا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کانٹوں سے پاک ہوگا ؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل پیدا فرمائیں گے اور اس ایک پھل میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے اور کوئی ذائقہ دوسرے سے ملتا جلتا نہیں ہوگا۔ (روح المعانی بحوالہ حاکم و بیھقی، و صححہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اور دائیں بازو والے وہ ہیں جن کی طرف سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا تھا۔ میمنہ والے۔ ان کی تواضعات کی تفصیلات ذرا موخر کردی گئیں کیونکہ پہلے سابقین اولین کی مراعات کا ذکر مطلوب تھا۔ ان کے بارے میں وہی مبالغہ اور اظہار عظمت بذریعہ اجمال ما اصحاب الیمین (کیا ہی لوگ ہیں وہ) ان لوگوں کے لئے بھی مادی اور محسوس انعامات ، یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بدوی معاشرے میں اہم ہوتی ہیں اور ان کے لئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ جن کو وہ سمجھتے اور برتتے ہیں۔ یہ لوگ فی سدرمخضود (بےخار بیریوں میں ہوں گے) السدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کانٹے ہوں گے لیکن وہاں اس کو کانٹوں سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی مخضود ہوں گے وہ درخت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
8 جو قسم قسم کے مزیدار پھلوں سے لدے ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 28{ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۔ } ”وہ ہوں گے بیری کے درختوں میں جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
15 مَخْضُوْدٍ ۔ خَضَدَ (الشجر) کسی خاردار درخت کے کانٹے توڑ کر یا کاٹ کر اسے بےخار بنادینا۔ صاف کردینا۔ کہتے ہیں کہ بیری کے درخت کے کانٹے جتنے کم ہوں اتنا ہی اس کا پھل اچھا اور مزے دار ہوتا ہے اور جنت کی بیریاں بالکل بےخار ہوں گی۔ یعنی ان بیریوں کا پھل دنیا کی بیریوں جیسا نہیں بلکہ بہت لذیذ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
11۔ بخلاف دنیا کے میووں اور پھلوں کے کہ فصل کے ختم پر یہ بھی ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے لیے روک ٹوک بھی ان کے مالکوں کی طرف سے جاری رہتی ہے۔ اب بیان المقربون السابقون “۔ (حضرت انبیاء وغیرھم) کے بعد (آیت) ” اصحب الیمین “۔ (عامہ مومن ین) کی خوش عیشیوں کا ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →وہ (ایسے باغوں میں) ہوں گے ‘ جہاں بےخار بیریاں فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ : مخضود کا معنی ہے بےخار یعنی جس کے کانٹے کاٹ دیئے گئے ہوں یا وہ شاخ جو پھلوں کی کثرت کی وجہ سے بوجھ کے مارے دوہری ہو رہی ہو۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : خضد الشجر : درخت کے کانٹے کاٹ دیئے اور خضد الغصن : تر اور نرم ہونے کی وجہ سے شاخ کو دوہرا کردیا۔ بیہقی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی نے دریافت کیا ‘ یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ نے قرآن میں ایسے درخت کا ذکر کیا جس (کے چھونے اور چبھنے) سے آدمی کو تکلیف ہوتی ہے ‘ فرمایا : وہ کونسا درخت ہے ؟ اعرابی نے عرض کیا : بیری کا درخت ‘ جس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–44
(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…
Read the full tafseer →فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ :”سدر“ (بیری) اسم جنس ہے جو ایک اور زیادہ سب پر بولا جاتا ہے۔ لفظ مفرد ہونے کی وجہ سے صفت ”مخضود“ مفرد آئی ہے۔ ”طلح منضود“ بھی اسی طرح ہے۔ ایک بیری کہنا ہو تو ”سدرۃ“ کہتے ہیں۔ ”خضدا“ (ض) ”الشجر“ درخت کے کاٹنے کاٹ دینا۔ دنیا کی بیریوں میں کاٹنے ہوتے ہیں ، جنت کے بیری کے درختوں میں کاٹنے نہیں ہوں گے۔ اس کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرب بیری سے آشنا تھے ، کیونکہ ان کے بادیہ میں یہ درخت بہت ہوتا ہے ، مگر اکثر خاردار ہوتا ہے۔ باغوں میں کاشت کیے جانے والے درختوں کے کاٹنے کم اور پھل لذیز ہوتا ہے ، پھر کاٹنے جتنے کم ہوں گے پھل اتنا ہی زیادہ لذیز اور نفیس ہوتا ہے۔ جنت کی بیریوں میں…
Read the full tafseer →فی سدر مخصود۔ ایسے بیری کے درختوں کے سایوں میں جس کے کاٹنے کاٹ دیئے گئے ہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے۔ صفوان نے سلیم بن عامر سے حدیث نقل کی ہے (1) کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کہا کرتے تھے کہ بدو اور ان کے سوالات ہمیں نفع دیا کرتے تھے کہا : ایک روز ایک بدو آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تکلیف دہ درخت کا ذکر کیا ہے میرا خیال نہیں کہ جنت میں کوئی ایسا درخت ہوگا جو جنتی کو اذیت دے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ کون سا درخت ہے ؟ “ عرض کی بیری کا درخت اس کا کاٹنا اذیت دینے والا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کیا اللہ…
Read the full tafseer →22۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اعراب اور ان کے مسائل کے سبب نفع پہنچاتا ہے ایک دیک دیہاتی آیا اور کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے درخت کا ذکر کیا ہے جو تکلیف دینے والا ہے اور میں نہیں دیکھتا ہوں کہ جنت میں ایسا درخت ہو جو اپنے مالک کے لیے تکلیف دینے والا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا وہ کون سا درکت ہے۔ اس نے کہا بیری کا درخت کہ اس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا آیت فی سدر مخضود کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کانٹوں کو کاٹ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ پھل لگا دے…
Read the full tafseer →[فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ : (وہ ہوں گے) کانٹے صاف کیے ہوئے بیری کے درختوں میں ] خ ض د : (ض) ۔ خضدا۔ درخت کے کانٹے صاف کرنا ۔ مخضود ۔ اسم المفعول ہے ۔ کانٹے صاف کیا ہوا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 28 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
اصحاب الیمین کی نعمتیں : اس کے بعد ﴿اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ﴾ کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِؕ0027﴾ (اور داہنے ہاتھ والے کیا خوب ہیں داہنے ہاتھ والے) ﴿ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ0028﴾ (وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی) سدر کو لفظ مخضود کے ساتھ متصف فرمایا یعنی ان کے درختوں میں کانٹے نہیں ہوں گے جیسا کہ دنیا والی بیریوں میں کا نٹے ہوتے ہیں۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن ایک اعرابی حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو ایذا دینے والا ہے، آپ نے فرمایا ہے وہ کون سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
12:۔ ” واصحب الیمین “ یہ پہلی جماعت یعنی اصحاب المیمنۃ کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الیمین کا کیا کہنا انکا حال نہایت اچھا اور اعلی ہوگا۔ ” فی سدر مخضود “ مخضود، کانٹوں کے بغیر، جنت کے میوہ دار درخت کانٹوں سے عاری ہوں گے تاکہ میوہ تناول کرتے وقت کانٹے رنگ میں بھنگ نہ ملا دیں۔ چناچہ بیری کا درخت دنیا میں کانٹوں سے لیس ہوتا ہے، لیکن جنت میں جو بیری کے مشابہ درخت ہوں گے وہ کانٹوں سے عاری ہوں گے اور ان کا پھل حجم میں مٹکوں کے برابر ہوگا اور نہایت خوشذائقہ اور خوشبودار ہوگا۔ سدر فی الجنۃ شجر علی خلقہ لہ ثمر کقلال ھجر طیب الطعم والریح (مخضود، ، من الشوک (بحر ج 8 ص 206) ۔ ” وطلح منضود “ اور کیلے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ 28 ۙ سدر السِّدْرُ : شجر قلیل الغناء عند الأكل، ولذلک قال تعالی: وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ [ سبأ/ 16] ، وقد يخضد ويستظلّ به، فجعل ذلک مثلا لظلّ الجنة ونعیمها في قوله تعالی: فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ [ الواقعة/ 28] ، لکثرة غنائه في الاستظلال، وقوله تعالی: إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ ما يَغْشى[ النجم/ 16] ، فإشارة إلى مکان اختصّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم فيه بالإفاضة الإلهية، والآلاء الجسیمة، وقد قيل : إنها الشجرة التي بویع النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم تحتها»، فأنزل اللہ تعالیٰ السّكينة فيها علی المؤمنین، والسّدر : تحيّر البصر، والسَّادِرُ : المتحيّر، وسَدَرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…
Read the full tafseer →28 : فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ (جہاں بےخاربیریاں) السِّدْر بیری کا درخت۔ المخضودؔ جس میں کانٹا نہ ہو گویا اس کے کانٹے کو کاٹ دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →27 ۔” واصحاب الیمین ما اصحاب الیمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…
Read the full tafseer →یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے گہراسایہ اور راحت، جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
[ 26] جنت کی بیریاں بےخار : سو ارشاد فرمایا گیا جو بےخاربیریوں میں ہوں گے، یعنی وہاں کی دو بیری دنیاوی بیری کی طرح نہیں ہوگی جس میں کانٹے ہوتے ہیں، اور جس کے حاصل کرنے کیلئے ہاتھوں کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔ سو وہاں کی دو بیری الگ اور ایک امتیازی شان کی ہوگی کہ اس میں کانٹے نہیں ہوں گے، کہ کانٹے تکلیف دہ چیز ہے اور جنت میں تکلیف دہ کوئی چیز نہیں ہوگی، بلکہ صحیح حدیث کے مطابق وہاں کی بیریوں میں ہر کانٹے کی جگہ پھل ہوں گے، اخرجہ الحاکم والبیہقی وحمھما اللہ فی قصۃ سوال الاعرابی، [ روح، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ ] سو یہ بیری جنت کی بیری ہوگی جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، اور اس کی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 6 مثلاً گالی گلوچ، غیبت، جھوٹ اور بہتان وغیرہ
Read the full tafseer →(56:28) فی سدر مخضود اس سے پہلے ھم (مبتدائ) محذوف ہے فی سدر اس کی خبر۔ سدر موصوف مخضود اس کی صفت ۔ سدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں ۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ سدر ایسا درخت ہے کو کھانے میں ناکافی ہوتا ہے اسی لئے ارشاد ہوتا ہے واتل وشیء من سدر قلیل (34:16) (اور جھاؤ اور کچھ بیر تھوڑے سے) اور چونکہ اس کے کانٹے جھاڑ کر اس کے ذریعے سایہ حاصل کیا جاتا ہے اس لئے یہ ارشاد الٰہی فی سدر مخضود میں یہ جنت کے سایہ اور اس کی مثال قرار دیا گیا ہے کہ سایہ حاصل کرنے کے لئے بہت کافی ہوتا ہے۔ مخصود : اسم مفعول واحد مذکر خضد (باب ضرب) مصدر سے، جس سے کانٹا دور کیا گیا ہو۔ بےخار۔ یہ صفت ہے اپنے موصوف سدر کی بہ معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–39
(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(28) یہ اصحاب یمین اور اہل سعادت ان باغوں میں ہوں گے جن میں بےکانٹوں کی اور بےخار کی بریاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →وہ بےخار بیریوں میں ہوں گے 28 ؎ (سدر) بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور بیری کا درخت معروف درخت ہے اور یہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک اصل بیری اور دوسرا پیوند لگایا گیا ج کے بیروں میں کافی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کا پھل بھی بہت بڑا ہوجاتا ہے اور پھر اس جنت کے درخت کی خاص علامت بھی بتائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پر کانٹے نہیں ہوں گے اور پیوند کاری سے جو درخت تیار کئے جاتے ہیں ان پر کانٹے فی الواقع نہیں ہوتے اور ان کا پھل بھی بہت بڑا ہوتا ہے ممکن ہے کہ یہ تشبیہہ ان پیوند لگائے گئے درختوں سے دی گئی ہو۔ بہرحال (سدر وہ درخت ہے جو کھانے میں ناکافی ہوتا ہے کیونکہ اس پر کھانے کی چیز بہت کم مقدار میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ (..amid lote-trees with no thorns - 58:28). The word sidr refers to 'lote-tree' and makhdud refers to 'a tree having its thorns removed'. It also means 'a tree having the branches bent because of abundance of its fruit'. Unlike the lote-trees of this world, the Heavenly lote-trees have a different description. Their fruits will be as large as the clay jugs, and their taste cannot be compared to those found in this world, (as described in a Hadith).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
15 That is, lote-trees without thorns on them. This will be a superior kind of the lote-tree to be only found in Paradise, and its fruit likewise will be much superior to that found in the world.
Read the full tafseer →