Al-Waaqia 56:26

Al-Waaqia · from ayah 26

56:26

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ۟اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Only a saying: "Peace, peace."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:26

جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہاں جو بات ہوگی، سلامتی ہی سلامتی کی ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر ایک ہی بات (کہ یہ سلام والے ہر طرف سے) سلام ہی سلام سنیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بس (ایک دوسرے کو) سلام، سلام ہی کہا کریں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

صرف مبارک سلامت کے چرچے ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بس سلام ہی سلام کی آواز سنائی دے گی

— مولانا اسحاق مدنی

(ہرطرف) سلام ہی سلام کی آواز آئے گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

مگر (ان کے لیے ہر طرف سے) سلام سلام ہی کی آوازیں ہوں گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر ہر طرف سلام ہی سلام ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All talk will be sound and upright.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but (they will hear) the words of Salam , Salam (as greetings).

— Muhammad Taqi Usmani

but (they will hear) the words of Salam , Salam (as greetings).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But only the saying of: "Salaman! Salaman!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Naught) but the saying: Peace, (and again) Peace.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Only a saying: "Peace, peace."

— Saheeh International

except each other's greetings of, "Peace be with you".

— Muhammad Sarwar

Except the word peace, peace.

— Muhammad Habib Shakir

Nought but the saying: peace! peace!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–26

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْوَاقِعَة 14 اصل الفاظ ہیں الا قیلاً سلٰماً سلٰماً۔ بعض مفسرین و مترجمین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہاں ہر طرف سلام سلام ہی کی آوازیں سننے میں آئیں گی۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہے قول سلیم، یعنی ایسی گفتگو جو عیوب کلام سے پاک ہو جس میں وہ خرابیاں نہ ہوں جو پچھلے فقرے میں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں سلام کا لفظ قریب قریب اسی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے جس کے لیے انگریزی میں لفظ sahe استعمال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–26

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ، یعنی پرندوں کا گوشت جیسی ان کی خواہش ہو، حدیث میں ہے کہ اہل جنت جس وقت کسی پرندے کے گوشت کی طرف رغبت کریں گے تو اس کا گوشت جس طرح کھانے کی رغبت دل میں آوے گی کہ کباب ہو یا دوسری طرح کا پکا ہوا، اسی طرح کا فوراً تیار ہو کر اس کے سامنے آجائے گا (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

(لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما الا قیلاسلما سلما) (25۔ 26) یہ ان کے بےنمل دغش عیش کی طرف اشارہ ہے کہ دشمنوں، معزضوں اور نکتہ چینوں کی جتنی ژاحقائیاں اور بکواسیں سننی ہیں وہ دنیا میں سن چکے ہوں گے اور جتنے چرکے سہنے ہیں وہ سہہ چکیں گے۔ وہاں نہ کسی بکواس کرنے والے کی بکواس ہوگی اور نہ کوئی گناہ کی بات ان کے کانوں میں پڑے گی۔ وہاں ان کے لیے رحمت ہی رحمت اور سلام ہی سلام ہے۔ رب رحیم و غفور کی طرف سے بھی سلام، فرشتوں کی طرف سے بھی سلام اور ساتھیوں کی طرف سے بھی سلام ! ! صبح بھی سلام اور شام بھی سلام پایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26-1وہاں سلام ہی سلام کی آوازیں سننے میں آئیں گی، فرشتوں کی طرف سے بھی اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–27

5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

لا یسمعون ................ تائیما (6 5:5 2) ” وہاں کوئی بےہودہ کلام یا گناہ کی بات وہ نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔ “ ان کی پوری زندگی سلامتی ہوگی۔ ہر طرف سے ان پر سلام کی شبنم آئے گی۔ سلام ہی سلام ہوگا۔ اس خوبصورت ماحول میں ملائکہ کی طرف سے سلامت مبارک ہوگی اور پھر رحمان کی طرف سے سلام ہوگا۔ لہٰذا پوری فضا اسلام ہی اسلام ہوگی۔ اس برگزیدہ فریق کی بات یہاں ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد اصحاب الیمین۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–26

7 یعنی لغو اور واہیات باتیں وہاں نہیں ہوں گی نہ کوئی جھوٹ بولے گا نہ کسی پر جھوٹی تہمت رکھے گا۔ بس ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آئیں گی۔ یعنی جنتی ایک دوسرے کو اور فرشتے جنتیوں کو سلام کریں گے۔ اور رب کریم کا سلام پہنچے گا جو بہت ہی بڑے اعزازو اکرام کی صورت ہے اور سلام کی یہ کثرت اس کی طرف اشارہ ہے کہ اب یہاں پہنچ کر تم تمام آفات اور مصائب سے محفوظ اور صحیح وسالم رہو گے نہ کسی طرح کا آزار پہنچے گا نہ موت آئے گی نہ فنا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۔ } ”مگر ان کے لیے ‘ ہر طرف سے سلام سلام ہی کی آوازیں ہوں گی۔“ یہ تو تھا مقربین اور ان کی جنت کا بیان ‘ اب آگے اصحاب الیمین اور ان کی جنت کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کہا کریں گے۔ فرشتے بھی ان کے حق میں سلامتی کی دعا کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر سلامتی نازل ہوگی اور سلام بھیجا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنتی آپس میں جو بات بھی کریں گے وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور سلامتی پر مشتمل ہوگی۔ اس کی گفتگو بامعنی، نتیجہ خیز اور معلوماتی ہوگی۔ بڑے پاکیزہ موضوع ان کے زیر بحث آتے رہا کریں گے۔ ان کی مجالس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تہلیل بکثرت ہوا کرے گی اور ان کی ہر گفتگو کسی نہ کسی بھلائی اور ایک دوسرے کی سلامتی کا پہلو لیے ہوئے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

10۔ (فرشتوں کی طرف سے بھی اور باہم اہل جنت کی زبان سے بھی) خلاصہ یہ کہ لذت ومسرت ہی ہر طرح حاصل رہے گی، جسمانی بھی، روحانی بھی۔ (آیت) ” لا ..... تاثیما “۔ یعنی کوئی آواز ان کے عیش کو مکدر کرنے والی ان کے کان میں نہ پڑنے پائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

(ہر طرف سے) سلام ہی سلام کی آواز آئے گی۔ “ قِیْلًا : قیل بمعنی قول۔ سَلاَ ما : یعنی سلامتی والا۔ امام احمد ‘ بزار اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر کی روایت سے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مخلوق خدا میں سب سے پہلے جنت کے اندر وہ فقراء مہاجرین داخل ہوں گے جن کے ذریعے سے (اسلامی) سرحدوں کی حفاظت ہوتی ہے اور مکروہات دفع کیے جاتے ہیں اور (اس کے باوجود) وہ اپنی حاجت اپنے سینوں میں لیے مرجاتے ہیں ‘ پوری نہیں کر پاتے۔ اللہ اپنے فرشتوں سے جس کو چاہے گا ‘ حکم دے گا کہ ان مہاجرین کے پاس جاؤ اور ان کو سلام کرو۔ فرشتے عرض کریں گے : ہم آسمان کے باشندے اور تیری مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ اس پر بھی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–27

(24۔ 27) یہ ثواب جنتیوں کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا اور جنت میں بک بک اور نہ جھوٹی بات سنیں گے اور نہ کوئی گالی گلوچ۔ بس ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی کہ خود ایک دوسرے کو سلام کرتے رہیں گے اور فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام نازل ہوتا رہے گا اور محمد آپ کو کیا معلوم کہ جنت والوں کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

ا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔۔۔۔۔”تاثیماً“ ”اثم“ سے باب تفعیل کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، گناہ گار کرنے والی بات۔ ”قیل“ اور ”قول“ دونوں ”قال یقول“ کے مصدر ہیں۔ ”سلما ً سلما ً“ ”قلیلاً“ سے بدل ہے یا اس کا مقولہ ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ مریم (62) اور سورة ٔ نبا (35)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 25–26

لا یسمعون فیھا لعواولا تاثیما۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ باطل اور جھوٹ نہ سنیں گے (2) لغوا سے کہتے ہیں جو کلام میں سے لہو ہو۔ تاثیم یہ اثمتہ کا مصدر ہے یعنی میں نے اسے کہا : تو نے گناہ کیا۔ محمد بن کعب نے کہا ولا تاثیما وہ ایک دوسرے کو گناہگار نہیں کہیں گے۔ مجاہد نے کہا : وہ اس میں گالی گلوچ نہیں سنیں گے (3) الا قلیلا سلما سلما، قلیلا اور یہ یسمعون کی وجہ سے منصوب ہے یا یہ استثناء منقطع ہے لیکن وہ قیل کہتے ہیں یا سلام سلام بنتے ہیں یہ قول کی وجہ سے منصوب ہے یعنی مگر وہ خیر کہتے ہیں یا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے، مگر وہ ایک دوسرے کو سلام کہتے ہیں یا یہ قیلا کی صفت ہے دوسراسلام پہلے کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–26

قولہ تعالیٰ آیت لا یسمعون فیہا لغوا الایۃ۔ جنت میں جھوٹ نہ ہوگا 17۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا یسمعون فیہا لغوا (کہ وہاں وہ بیہودہ بات نہ سنیں گے) یعنی لغو سے مراد ہے باطل کلام آیت ولا تأثیما، اور تاثیما سے مراد ہے جھوٹ (یعنی وہ جنت میں باطل کلام اور جھوٹ کو نہیں سنیں گے ) 18۔ ہناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایسمعون فیہا لغوا سے مراد ہے بےکار بات اور ” التاثیم “ سے مراد ہے جھوٹ آیت ما اصحب الیمین۔ 19۔ سعید بن منصور ابن المنذر و بیہقی نے البعث میں حصین کے طریق سے عطاء اور مجاہد دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اہل طائف نے جب وادی کا سوال کیا جو ان کی حفاظ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ ِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا 0026﴾ (بس سلام ہی سلام کی آواز آئے گی) یہ سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوگا جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا ﴿ سَلٰمٌ1۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ 0058﴾ او آپس میں بھی سلام کریں گے سورة یونس میں فرمایا ﴿ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ﴾ اور فرشتے بھی سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ0024﴾ غرض یہ کہ ہمیشہ باسلامت رہیں گے اور سلام پیش کیا جاتا رہے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

ٖف 11:۔ ” لایسمعون “۔ جنت ہر لحاظ سے پر امن اور سلامتی کی جگہ ہوگی، وہاں کوئی جسمانی اور ذہنی اذیت نہیں ہوگی، وہاں جس طرح کام و دہن کی لذتیں حاصل ہوں گی اسی طرح اہل جنت کے کان بھی پسندیدہ آوازوں سے لطف اندوز ہوں گے اور ہر ایذا رساں آواز سے ان کے کان محفوظ ہوں گے۔ وہاں کوئی بےہودہ بات اور خلاف طبع ہذیان وغیرہ سنائی نہیں دے گا۔ وہاں ہر طرف سے سلام کی آواز ہی آئے گی فرشتے اہل جنت کو سلام کا تحفہ پیش کریں گے اور اہل جنت آپس میں بھی ایک دوسرے کا اسی تحیہ سے خیر مقدم کریں گے۔ (ابن کثیر۔ مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۝ 26 «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ {…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ تَاْثِیْمًا۔ اِلاَّ قِیْلاً سَلٰـمًا سَلٰـمًا۔ (الواقعۃ : 25، 26) (وہ اس جنت میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ مگر ایک بولنا سلام سلام۔ ) اہلِ جنت کے ذوق کی پاسداری اہلِ جنت جس پاکیزہ ذوق کے مالک ہوں گے اگر تمام نعمتوں کے باوجود ان کے ذوق کی تسکین کا سامان نہ ہوتا تو وہ نعمتیں شاید انھیں وہ خوشی مہیا نہ کرسکتیں جو انھیں ملنی چاہیے تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذوق کا لحاظ کرتے ہوئے اس بہت بڑی نعمت کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کو کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ وہ چونکہ دنیا میں مخالفین کی طرف سے ہر طرح کی تہمتوں، نکتہ چینیوں اور ژاژ خائیوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا (سلام ہی سلام کی آواز آئے گی) مگر سلامتی والی بات۔ نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ اور سلاماً یہ قیلاً سے بدل ہے یا قیلاً یہ مفعول بہٖ ہے۔ یعنی وہ اس میں کوئی چیز نہ سنیں گے سوائے سلام سلام کہنے کے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو السلام علیکم کھل کر کہیں گے۔ وہ سلام کے بعد سلام کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–26

13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعین سوائے اچھی بات کے کوئی بات نہیں سنیں گے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہوگا اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہوگا۔ ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہوگا ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کردے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 24] اہل جنت کیلئے سلامتی ہی سلامتی کی دعاؤں اور صداؤں کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہاں پر سلامتی ہی کی صدائیں ہونگی جو سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہونگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ وہاں تو سلامتی ہی سلامتی کی آواز سنائی دے گی۔ یعنی سلامتی والی بات جو کہ ہر طرح کے نقص و عیب اور آزار و ایذاء سے خالی اور پاک ہوگی۔ نیز سلامتی کی وہ دعائیں اور صدائیں بھی جو کہ وہ خود بھی آپس میں ایک دوسرے کے لئے کریں گے اور فرشتوں کی طرف سے بھی ان کو سننے کے لئے ملیں گی اور حضرت رب رحیم و غفور کی طرف سے بھی ان کو نوازا جائے گا۔ { سلامٌ قولاً من رب رحیمٍ ۔ سو صبح و شام ہر وقت وہاں پر سلامتی ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:26) الا قلیلا سلما : الا حرف استثناء ۔ قیلا سے۔ سلم بمعنی سلامتی ۔ سلام۔ یہ سلم بسلم (باب سمع) کا مصدر ہے۔ اس کے معنی عیوب و آفات سے سلامت رہنے ان سے چھٹکارا پانے اور بری ہونے کے ہیں۔ ترجمہ : نہیں سنیں گے وہاں کوئی بکواس اور نہ کوئی گناہ کی بات مگر صرف ایک بول سلام ، سلام۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) بس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آتی ہوگی۔ یعنی یہ حضرات نہ تو بک بک کی آواز سنیں گے اور نہ کوئی بیہودہ اور فحش اور گناہ کی بات سننے میں آئے گی میر ایک بولناسلام سلام۔ یعنی سلام کی آوازیں آتی ہوں گی فرشتوں کا سلام حضرت حق تعالیٰ کا سلام اور آپس میں ایک دوسرے کا سلام اب آگے اصحاب یمین یعنی عوام مسلمین کا ذکر فرماتے ہیں، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز وہاں آئے گی 26 ؎ وہاں جنت میں ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو آنے جانی والے وہاں منہ اٹھا کر چلے نہیں آئیں گے بلکہ اجازت طلب کریں گے ‘ سلام علیکم کی خوشخبری کی ساتھ ایک دوسرے کو ملین گے اور دوسری بات یہ ہے کہ ان میں جو گفتگو ہوگی اس میں کسی طرح کی کوئی معیوب بات نہیں ہوگی بلکہ پاک اور منزہ موضوع پر گفتگو ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کے گیت گائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–26

وَلَحْمِ طَيْرٍ‌ مِّمَّا يَشْتَهُونَ (and the meat of birds that they desire....56:21]. It is recorded in a Prophetic Tradition that the inmates of Paradise will get meat of whatever birds they desire, as and when they desire it.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 Some commentators and translators have taken the words, illa gilan salam-an salama, to mean that in Paradise one will hear only the greeting of 'Peace, peace' on every side; the correct view, however, is that it implies healthy and wholesome speech, i.e. such speech as may be free of the vices and blemishes, faults and evils, that have been mentioned in the preceding sentence. Here the word salam has been used nearly in the same sense as the English word sane.

Read the full tafseer →