Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الْوَاقِعَة 13
یہ جنت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے، جسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے، کہ انسان کے کان وہاں بیہودگی، یا وہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، گالی، لاف و گزاف، طنز و تمسخر اور طعن وتشنیع کی باتیں سننے سے محفوظ ہوں گے۔ وہ بد زبان اور بد تمیز لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔ وہ شریف اور مہذب لوگوں کا معاشرہ ہوگا جس کے اندر یہ لغویات ناپید ہوں گی۔ اگر کسی شخص کو اللہ نے کچھ بھی شائستگی اور مذاق سلیم سے نواز ہو تو وہ اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے کہ دنیوی زندگی کا یہ کتنا بڑا عذاب ہے جس سے انسان کو جنت میں نجات پانے کی امید دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ، یعنی پرندوں کا گوشت جیسی ان کی خواہش ہو، حدیث میں ہے کہ اہل جنت جس وقت کسی پرندے کے گوشت کی طرف رغبت کریں گے تو اس کا گوشت جس طرح کھانے کی رغبت دل میں آوے گی کہ کباب ہو یا دوسری طرح کا پکا ہوا، اسی طرح کا فوراً تیار ہو کر اس کے سامنے آجائے گا (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما الا قیلاسلما سلما) (25۔ 26)
یہ ان کے بےنمل دغش عیش کی طرف اشارہ ہے کہ دشمنوں، معزضوں اور نکتہ چینوں کی جتنی ژاحقائیاں اور بکواسیں سننی ہیں وہ دنیا میں سن چکے ہوں گے اور جتنے چرکے سہنے ہیں وہ سہہ چکیں گے۔ وہاں نہ کسی بکواس کرنے والے کی بکواس ہوگی اور نہ کوئی گناہ کی بات ان کے کانوں میں پڑے گی۔ وہاں ان کے لیے رحمت ہی رحمت اور سلام ہی سلام ہے۔ رب رحیم و غفور کی طرف سے بھی سلام، فرشتوں کی طرف سے بھی سلام اور ساتھیوں کی طرف سے بھی سلام ! ! صبح بھی سلام اور شام بھی سلام پایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
لا یسمعون ................ تائیما (6 5:5 2) ” وہاں کوئی بےہودہ کلام یا گناہ کی بات وہ نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔ “ ان کی پوری زندگی سلامتی ہوگی۔ ہر طرف سے ان پر سلام کی شبنم آئے گی۔ سلام ہی سلام ہوگا۔ اس خوبصورت ماحول میں ملائکہ کی طرف سے سلامت مبارک ہوگی اور پھر رحمان کی طرف سے سلام ہوگا۔ لہٰذا پوری فضا اسلام ہی اسلام ہوگی۔
اس برگزیدہ فریق کی بات یہاں ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد اصحاب الیمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
7 یعنی لغو اور واہیات باتیں وہاں نہیں ہوں گی نہ کوئی جھوٹ بولے گا نہ کسی پر جھوٹی تہمت رکھے گا۔ بس ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آئیں گی۔ یعنی جنتی ایک دوسرے کو اور فرشتے جنتیوں کو سلام کریں گے۔ اور رب کریم کا سلام پہنچے گا جو بہت ہی بڑے اعزازو اکرام کی صورت ہے اور سلام کی یہ کثرت اس کی طرف اشارہ ہے کہ اب یہاں پہنچ کر تم تمام آفات اور مصائب سے محفوظ اور صحیح وسالم رہو گے نہ کسی طرح کا آزار پہنچے گا نہ موت آئے گی نہ فنا۔
Read the full tafseer →آیت 25{ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ } ”وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ ہی کوئی الزام۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
13 یعنی وہاں نہ کوئی دوسرے کی غیبت کرے گا، نہ چغلی کھائے گا، نہ بہتان لگائے گا، نہ جھوٹ بولے گا نہ مکروفریب اور ہیرا پھیری کی باتیں کرے گا، نہ گالی گلوچ ہوگا اور نہ طنز اور ایک دوسرے کو تمسخر اور تضحیک گویا کوئی شخص ایسی بات نہ کرے گا جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ سکتی ہو اور نہ اہل جنت وہاں بےہودہ اور بےکار باتیں کریں گے جس کا نتیجہ کچھ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
10۔ (فرشتوں کی طرف سے بھی اور باہم اہل جنت کی زبان سے بھی) خلاصہ یہ کہ لذت ومسرت ہی ہر طرح حاصل رہے گی، جسمانی بھی، روحانی بھی۔ (آیت) ” لا ..... تاثیما “۔ یعنی کوئی آواز ان کے عیش کو مکدر کرنے والی ان کے کان میں نہ پڑنے پائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →اور وہاں وہ نہ بک بک سنیں گے اور نہ کوئی بیہودہ بات
لَغْوًا : باطل (بیہقی از ابن عباس ؓ یا بیہودہ بات (ہناد از ضحاک)
تَاْثِیْمًا : یعنی گناہ کی طرف ان کو کوئی منسوب نہیں کرے گا ‘ ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم نے گناہ کیا یا برا کام کیا۔
بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ اور ہناد کا قول بیان کیا کہ تاثیما سے مراد ہے جھوٹ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
(24۔ 27) یہ ثواب جنتیوں کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا اور جنت میں بک بک اور نہ جھوٹی بات سنیں گے اور نہ کوئی گالی گلوچ۔
بس ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی کہ خود ایک دوسرے کو سلام کرتے رہیں گے اور فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام نازل ہوتا رہے گا اور محمد آپ کو کیا معلوم کہ جنت والوں کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔۔۔۔۔”تاثیماً“ ”اثم“ سے باب تفعیل کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، گناہ گار کرنے والی بات۔ ”قیل“ اور ”قول“ دونوں ”قال یقول“ کے مصدر ہیں۔ ”سلما ً سلما ً“ ”قلیلاً“ سے بدل ہے یا اس کا مقولہ ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ مریم (62) اور سورة ٔ نبا (35)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
لا یسمعون فیھا لعواولا تاثیما۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ باطل اور جھوٹ نہ سنیں گے (2) لغوا سے کہتے ہیں جو کلام میں سے لہو ہو۔ تاثیم یہ اثمتہ کا مصدر ہے یعنی میں نے اسے کہا : تو نے گناہ کیا۔ محمد بن کعب نے کہا ولا تاثیما وہ ایک دوسرے کو گناہگار نہیں کہیں گے۔ مجاہد نے کہا : وہ اس میں گالی گلوچ نہیں سنیں گے (3) الا قلیلا سلما سلما، قلیلا اور یہ یسمعون کی وجہ سے منصوب ہے یا یہ استثناء منقطع ہے لیکن وہ قیل کہتے ہیں یا سلام سلام بنتے ہیں یہ قول کی وجہ سے منصوب ہے یعنی مگر وہ خیر کہتے ہیں یا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے، مگر وہ ایک دوسرے کو سلام کہتے ہیں یا یہ قیلا کی صفت ہے دوسراسلام پہلے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
قولہ تعالیٰ آیت لا یسمعون فیہا لغوا الایۃ۔
جنت میں جھوٹ نہ ہوگا
17۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا یسمعون فیہا لغوا (کہ وہاں وہ بیہودہ بات نہ سنیں گے) یعنی لغو سے مراد ہے باطل کلام آیت ولا تأثیما، اور تاثیما سے مراد ہے جھوٹ (یعنی وہ جنت میں باطل کلام اور جھوٹ کو نہیں سنیں گے )
18۔ ہناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایسمعون فیہا لغوا سے مراد ہے بےکار بات اور ” التاثیم “ سے مراد ہے جھوٹ آیت ما اصحب الیمین۔
19۔ سعید بن منصور ابن المنذر و بیہقی نے البعث میں حصین کے طریق سے عطاء اور مجاہد دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اہل طائف نے جب وادی کا سوال کیا جو ان کی حفاظ…
Read the full tafseer →[لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا : وہ نہیں سنیں گے اس میں ] [لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا : کوئی واہی تباہی اور نہ الزام تراشی کرنا ]
(آیت ۔ 25 ۔ 26) یہ جملہ منفی ہے اس لیے اس میں الا کوئی اعرابی عمل نہیں کرے گا ۔ لا یسمعون کا مفعول ہونے کی وجہ سے لغوا ، تاثیما حالت نصب میں ہیں ۔ پھر الا نے لا یسمعون کے لا کو قطع کیا تو اب یسمعون کا مثبت مفعول قیلا آیا ہے جبکہ قیلا کا بدل ہونے کی وجہ سے سلما ، سلما حالت نصب میں ہیں ۔
نوٹ ۔ 1: گزشتہ سورتوں میں سورة ق سے لے کر سورة رحمن تک جزاء وسزا سے متعلق ہونے والی بحث کا خلاصہ اس سورة واقعہ میں رکھ دیا گیا ہے پچھلی سورتوں میں آفاق وانفس اور عقل و فطرت کی روشنی میں…
Read the full tafseer →ناگوار کلمات نہ سنیں گے :
دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ انسان اچھے حال میں ہے جمال بھی ہے ازواج بھی ہیں اور اولاد بھی لیکن بےتکی تکلیف دینے والی آرام میں خلل ڈالنے والی کانوں کو تکلیف دینے والی آوازیں بھی آتی رہتی ہیں اور بعض مرتبہ انسان ان کو دفع کرنے اور ناگوار آوازیں بند کرنے پر قدرت نہیں رکھتا جنت میں ایسا نہ ہوگا وہاں وئی ناگوار بات اور لغویات نہیں سنیں گے اسی کو فرمایا ﴿لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًاۙ0025﴾ (وہاں نہ بک بک سنیں گے اور نہ اور کوئی بےہودہ بات) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ٖف 11:۔ ” لایسمعون “۔ جنت ہر لحاظ سے پر امن اور سلامتی کی جگہ ہوگی، وہاں کوئی جسمانی اور ذہنی اذیت نہیں ہوگی، وہاں جس طرح کام و دہن کی لذتیں حاصل ہوں گی اسی طرح اہل جنت کے کان بھی پسندیدہ آوازوں سے لطف اندوز ہوں گے اور ہر ایذا رساں آواز سے ان کے کان محفوظ ہوں گے۔ وہاں کوئی بےہودہ بات اور خلاف طبع ہذیان وغیرہ سنائی نہیں دے گا۔ وہاں ہر طرف سے سلام کی آواز ہی آئے گی فرشتے اہل جنت کو سلام کا تحفہ پیش کریں گے اور اہل جنت آپس میں بھی ایک دوسرے کا اسی تحیہ سے خیر مقدم کریں گے۔ (ابن کثیر۔ مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
جنت میں سابقین کی کیفیت :
ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ
[ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ،
( س…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ تَاْثِیْمًا۔ اِلاَّ قِیْلاً سَلٰـمًا سَلٰـمًا۔ (الواقعۃ : 25، 26)
(وہ اس جنت میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ مگر ایک بولنا سلام سلام۔ )
اہلِ جنت کے ذوق کی پاسداری
اہلِ جنت جس پاکیزہ ذوق کے مالک ہوں گے اگر تمام نعمتوں کے باوجود ان کے ذوق کی تسکین کا سامان نہ ہوتا تو وہ نعمتیں شاید انھیں وہ خوشی مہیا نہ کرسکتیں جو انھیں ملنی چاہیے تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذوق کا لحاظ کرتے ہوئے اس بہت بڑی نعمت کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کو کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ وہ چونکہ دنیا میں مخالفین کی طرف سے ہر طرح کی تہمتوں، نکتہ چینیوں اور ژاژ خائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن
ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔
نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →25 : لَایَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّ لَاتَاْ ثِیْمًا (اور وہاں وہ نہ بک بک سنیں گے اور نہ کوئی بیہودہ بات) وہ جنتوں میں کوئی باطل بات اور نہ ہی ہذیان سنیں گے۔
Read the full tafseer →24 ۔” جزآء بما کانو یعملون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فاہدہ نہ ہوا ہو کوئی ایسی بات سنین جس کو کہنے والے گناہ گار ہوں۔
Read the full tafseer →[ 22] لغو اور بےکار باتوں سے حفاظت و پناہ کا ذکر وبیان :
سو اس سے جنتیوں کے عیش بےغل و غش کے ایک اور نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ کوئی لغو اور بےکار بات نہیں سنیں گے، اور نہ ہی کوئی گناہ میں ڈالنے والی بات، معلوم ہوا کہ بےکار باتیں کرنا معیوب شئی اور برائی ہے، اسی لئے اہل جنت کے اس سے محفوظ ہونے کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا، سو لغو اور و تاثیم دونوں چیزیں انسان کیلئے اذیت اور عذاب کا باعث بنتی ہیں اور پھر اس سے متاع وقت کا جو ضیاع ہوتا ہے وہ اور بھی خسارہ و نقصان ہے، مگر افسوس کہ آج کتنی ہی دنیا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 6 مثلاً گالی گلوچ، غیبت، جھوٹ اور بہتان وغیرہ
Read the full tafseer →(56:25) لغوا۔ لغا یلغوا (باب نصر) کا مصدر ہے۔ اول فول بکنا۔ بغیر سمجھے بوجھے بولنا۔ بےہودہ واہیات بکواس کرنا۔ یہاں بطور مفعول استعمال ہے۔
تاثیما : بروزن تفعیل مصدر ہے گناہ کی باتیں کرنا۔ گناہ میں ڈالنا۔ یہاں بطور مفعول استعمال ہوا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ :۔ (وہاں بہشت میں) ان کو بےہودہ کلام اور گناہ کی باتیں سننے میں نہ آئیں گی۔ وہاں کلام نہیں سنیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لا یسمعون فیہا لغوا ولا کذابا (78:35) وہاں نہ تو بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ (خرافات) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔
(ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(25) وہاں نہ لغو بکواس سنیں گے اور نہ کوئی اور بےہودہ اور فحش بات سننے میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →اس میں نہ وہ فضول بکواس سنیں گے اور نہ ہی گناہ کی باتیں
25 ؎ گزشتہ آیات میں جنت کی جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں وہی چیزیں بیان کی گئی ہیں جو اس دنیاوی زندگی میں انسان کے لئے مرغوب بنائی گئی ہیں اور ہر انسان کے دل میں ان کی چاہت موجود ہے لیکن جن لوگوں کو اس دنیا میں وہ فراوانی سے میسر ہیں اور وہ ان کو استعمال کرتے ہیں ان کی زندگیاں پاکیزہ نہیں بلکہ ان کی زندگیوں میں شور و غوغا اور شر و فساد زیادہ پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان چیزوں کی فراوانی ہو تو شاید شرو فساد لازم و ضروری ہے کیونکہ انسان جب کھانے پینے اور پہننے میں آزاد ہو اور اس کو ہر طرح کی سہولت فراہم ہو تو وہ جو گل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ (and the meat of birds that they desire....56:21]. It is recorded in a Prophetic Tradition that the inmates of Paradise will get meat of whatever birds they desire, as and when they desire it.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
13 This is one of the major blessings of Paradise, which has been mentioned at several places in the Qur'an, viz. that in Paradise human ears will remain secure against idle and frivolous talk, lying, backbiting slander, invective, boasting and bragging, taunts and mockery, satire and sarcasm. It will not be a society of foul-mouthed, indecent people who will throw mud at each other, but a society of noble and civilized people free of such frivolities. A person who has been blessed with some deceney of manner and sense by Allah can very well feel what an agony it is in worldly life a hope of…
Read the full tafseer →