Al-Waaqia 56:24

Al-Waaqia · from ayah 24

56:24

جَزَآءً بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

As reward for what they used to do.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:24

یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب بدلہ ہوگا ان کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(یہ) اُن (نیک) اعمال کی جزا ہوگی جو وہ کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

صلہ ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ سب کچھ) ان کے ان اعمال کے بدلے میں ہوگا جو وہ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ان کے عمل کے صلہ میں ملے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

All this shall be theirs as a reward for their deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as a reward for what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

as a reward for what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A reward for what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As reward for what they used to do.

— Saheeh International

as reward for their deeds.

— Muhammad Sarwar

A reward for what they used to do.

— Muhammad Habib Shakir

A recompense for that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

A Reward for the deeds of their past (life).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–26

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة الْوَاقِعَة 13 یہ جنت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے، جسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے، کہ انسان کے کان وہاں بیہودگی، یا وہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، گالی، لاف و گزاف، طنز و تمسخر اور طعن وتشنیع کی باتیں سننے سے محفوظ ہوں گے۔ وہ بد زبان اور بد تمیز لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔ وہ شریف اور مہذب لوگوں کا معاشرہ ہوگا جس کے اندر یہ لغویات ناپید ہوں گی۔ اگر کسی شخص کو اللہ نے کچھ بھی شائستگی اور مذاق سلیم سے نواز ہو تو وہ اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے کہ دنیوی زندگی کا یہ کتنا بڑا عذاب ہے جس سے انسان کو جنت میں نجات پانے کی امید دلائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–26

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ، یعنی پرندوں کا گوشت جیسی ان کی خواہش ہو، حدیث میں ہے کہ اہل جنت جس وقت کسی پرندے کے گوشت کی طرف رغبت کریں گے تو اس کا گوشت جس طرح کھانے کی رغبت دل میں آوے گی کہ کباب ہو یا دوسری طرح کا پکا ہوا، اسی طرح کا فوراً تیار ہو کر اس کے سامنے آجائے گا (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(جزاء بما گانو یعملون) (24) (یہ وہ اصل سرفرازی ہے جو ان جانبازوں کو حاصل ہوگی۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ ان کو ملے گا ان کے اعمال کے بدلے میں ملے گا۔ اس کے وہ حقدار ہوں گے اور رب کریم لازماً ان کا یہ حق ادا کرے گا۔ انسان کی فطرت کے اس پہلو پر یہاں نظر رہے کہ اس کی نگاہوں میں جو قدرو قیمت اس چیز کی ہوتی ہے جو اس نے اپنے حق کے طور پر حاصل کی ہو وہ قدر و قیمت اس چیز کی نہیں ہوتی جو اس کو اتفاقاً حاصل ہوگئی ہو یا بطور صدقہ ملی ہو، خواہ یہ پہلی کے مقابل میں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–25

19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–27

5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جزائ ................ یعملون (6 5:4 2) ” یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو دنیا میں کرتے رہے تھے۔ “ یہ بدلہ ہے اس عمل کا جو انہوں نے دارالعمل میں کیا۔ ایسا بدلہ جو نہایت ہی پورا ہے۔ کمال درجے کا ہے اور اس میں وہ تمام کمیاں پوری کردی گئی ہیں جو دارالفنا میں تھیں اور اس کے بعد وہ نہایت آرام اور سکون سے وہاں رہیں گے۔ نہایت بلندی اور پاکیزگی میں۔ کوئی لغو بات وہاں نہ ہوگی۔ کوئی بدل اور مواخذہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–26

7 یعنی لغو اور واہیات باتیں وہاں نہیں ہوں گی نہ کوئی جھوٹ بولے گا نہ کسی پر جھوٹی تہمت رکھے گا۔ بس ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آئیں گی۔ یعنی جنتی ایک دوسرے کو اور فرشتے جنتیوں کو سلام کریں گے۔ اور رب کریم کا سلام پہنچے گا جو بہت ہی بڑے اعزازو اکرام کی صورت ہے اور سلام کی یہ کثرت اس کی طرف اشارہ ہے کہ اب یہاں پہنچ کر تم تمام آفات اور مصائب سے محفوظ اور صحیح وسالم رہو گے نہ کسی طرح کا آزار پہنچے گا نہ موت آئے گی نہ فنا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24{ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ } ”یہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے تھے۔“ یہ ان قربانیوں کا صلہ ہوگا جو انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے دی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–25

13 یعنی وہاں نہ کوئی دوسرے کی غیبت کرے گا، نہ چغلی کھائے گا، نہ بہتان لگائے گا، نہ جھوٹ بولے گا نہ مکروفریب اور ہیرا پھیری کی باتیں کرے گا، نہ گالی گلوچ ہوگا اور نہ طنز اور ایک دوسرے کو تمسخر اور تضحیک گویا کوئی شخص ایسی بات نہ کرے گا جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ سکتی ہو اور نہ اہل جنت وہاں بےہودہ اور بےکار باتیں کریں گے جس کا نتیجہ کچھ نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 20–24

9۔ اس قسم کے مضمون سے مقصود حسن عمل کے لیے ترغیب اور ہمت افزائی ہے اور قرآن مجید ایسی آیتوں سے بھراپڑا ہے۔ جنت کی مادی لذتیں کیا یہاں اور کیا قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں جو بیان ہوئی ہیں، ان میں قدرۃ سب سے مقدم اہل عرب کے مذاق کو رکھا گیا ہے کہ وہی مخاطب اول تھے۔ اگر ایسی نعمتوں کی تصریح کی جاتی جو مذاق عرب سے بالکل مختلف چین یا جاپان یا جرمنی یا فرانس والوں کے ذوق کی ہوتیں تو ظاہر ہے کہ اہل عرب انہیں میں الجھنے لگتے اور مخاطبین اول کو خواہ مخواہ جھگڑے بکھیڑے کے لیے ایک اور موقع نکل آتا۔ قرآن مجید نے غایت ژرف نگاہی اور کامل نکتہ سنجی سے کام لے کر عام اور عالمگیر مذاق کی نعمتوں اور لذتوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–27

(24۔ 27) یہ ثواب جنتیوں کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا اور جنت میں بک بک اور نہ جھوٹی بات سنیں گے اور نہ کوئی گالی گلوچ۔ بس ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی کہ خود ایک دوسرے کو سلام کرتے رہیں گے اور فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام نازل ہوتا رہے گا اور محمد آپ کو کیا معلوم کہ جنت والوں کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 23–24

کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُوئِ الْمَکْنُوْنِ اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ رحمن (58) اور سورة ٔ صافات (49) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جزاء بما کانو یعملون۔ جزاء کا معنی ثواب ہے یہ مفعول لہ ٗ کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہو کیونکہ یطرف علیھم ولدان مخلدون۔ کا معنی ہے۔ انہیں جزا دی جائے گی ایسے بچوں کے ساتھ جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے۔ حورعین کے بارے میں گفتگو سورة طور وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت انس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے حورعین کو زعفران سے پیدا کیا ہے “۔ حضرت خالد بن ولید نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ” ایک جنتی جنت کے سیپوں میں سے ایک پکڑے گا وہ اس کے ہاتھ میں پھٹ جائے گا تو اس سے حور نکلے گی اگر وہ سورج کو دیکھے تو سورج اس کے حسن سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–24

قولہ تعالیٰ : آیت وحور عین : 12۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے عاصم بن بہدلہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو عبدالرحمن السلمی (رح) نے مجھے اس طرح پڑھایا آیت وحور عین۔ 13 عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت وحور عین یعنی ان دنوں میں رفع اور تنوین کے ساتھ۔ 14۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحور عین سے مراد ہے کہ ان میں آنکھیں بہت خوبصورت بنائی گئیں۔ 15۔ ابن المنذر نے ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ کأمثال اللؤلؤ المکنون (جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی) یعنی وہ موتی جو ابھی تک صدف میں ہو اور اس پر ہاتھ نہیں لگا ہو۔ 16۔ ہناد بن السری نے ضحاک (رح) سے آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[جَزَاۗءًۢ بِمَا : بدلہ ہوتے ہوئے بسبب اس کے جو ] [كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–24

سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–24

10:۔ ” وفاکہۃ “ فاکہۃ اور لحم دونوں اکواب پر معطوف ہیں۔ وہ غلمان جنت میں سابقین کی خدمت میں ان کی مرضی اور پسند کے میوے پیش کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت حاضر کریں گے۔ ” وحور الخ “ یہ ولدان پر معطوف ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ای لھم حور کا مثال اللؤلؤ الخ، یہ حور کی صفت ہے یا اس سے حال ہے (روح) حوروں کی سچے موتیوں سے تشبیہ چہرے کی چمک دمک اور صفاء بشرہ میں ہے۔ جنت میں ان کے لیے ایسی عورتیں ہوں گی جن کی آنکھیں سیاہ اور موٹی ہوں گی اور وہ حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک میں ان سچے موتیوں کی مانند ہوں گی جن کو گرد و غبار سے بچا کر بحفاظت رکھا گیا ہو۔ ” جزاء بما…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 24 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–24

عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24 : جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ہوگی) جزاء ً یہ مفعول لہ ہے۔ یعنی یہ سب کچھ سلوک ان کے اعمال کے بدلہ کی خاطر کیا جائے گا۔ یا جزاء مصدر ہے تقدیر اس طرح ہے یجزون جزائً ان کو بدلہ دیا جائے گا بدلہ دیا جانا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” کا مثال الولو المکنون “ جو سیپیوں میں چھپی ہوئی ہیں ان کے ہاتھوں نے نہیں چھوا اور روایت کیا گیا ہے کہ جنت میں نور بلند ہوگا تو وہ کہیں گے یہ کیا ہے تو ان کو کہا جائے گا حور کے دانتوں کی چمک ہے جو اپنے خاوند کے سامنے ہنسی ہے اور روایت کیا گیا ہے کہ حور جب چلے گی تو پازیبوں کی تقدیس اس کی پنڈلیوں سے سنی جائے گی اور کنگنوں کی تمجید اس کی کلائیوں سے اور یاقوت کا ہار اس کی گردن سے ہنسے گا اور اس کے دونوں پائوں میں سونے کے دو جوتے ہوں گے ان کے تسمے موتی کے ہوں گے وہ تسبیح گنگنائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–26

13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

(كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ ) گویا کہ وہ تازہ صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا، سورج سے چھپا ہوا ہو جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اس طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کس بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہوگا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں (جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 21] اہل جنت کیلئے ایک خوش کن اعلان کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کو اس اعلان خوش کن سے نوازا جائے گا کہ ان کو یہ سب کچھ ان کے ان اعمال کے بدلے میں ملے گا جو یہ کرتے رہے تھے یعنی اپنی دنیای زندگی کی فرصت محدود میں۔ سو جنت تو دراصل اللہ پاک کے خاص الخاص کرم اور محض اس کی مہربانی سے عطا ہوگی، مگر اس عطاء و بخشش اور مہربانی کا سبب ان حضرات کے وہ اعمال صالحہ ہوں گے جو انہوں نے اپنی زندگیوں میں انجام دیے ہوں گے، اس لیے اس اکرم الاکرمین کی طرف سے اس کو ان کے ان اعمال کا صلہ و بدلہ قرار دیا جائے گا، تاکہ اس طرح ان کا لفط و سرور دوبالا ہو، فالحمد للّٰہ رب العالمین، انسان کی چونکہ فطرت یہ ہے کہ جو چیز اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:24) جزاء بما کانوا یعملون : جزاء مفعول لہ فعل محذوف۔ ای یفعل بھم ذلک کلہ جزاء باعمالہم جزاء مفعول لہ فعل محذوف کا۔ یعنی یہ سب کچھ ان کے لئے اس لئے کیا گیا کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔ بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کانوا یعملون ماضی استمراری جمع مذکر غائب بہ سبب اس عمل کے جو وہ کیا کرتے تھے یا (دنیا میں کرتے رہے تھے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ اجر ہوگا ان کے نیک اعمال کا 24 ؎ مقربین کو جنت میں جو کچھ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان کو ان کے اعمال کے عوض میں پیش کیا جائے گا اس لئے ہم قبل ازیں اس کی کتنی بار وضاحت کرچکے ہیں کہ جنت اور دوزخ انسان کے اپنے اعمال کے نتائج کا نام ہے اور جیسا کرو گے ویس ابھرو گے محاورہ عام ہے اور اس طرح کہ اجاتا ہے کہ جو بیجو گے وہ کاٹو گے مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جیسے اعمال انسنا کرے گا ویسا ہی اس کا نتیجہ قیامت کے روز اس کے سامنے آجائے گا۔ کیونکہ ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ وابستہ کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–26

وَلَحْمِ طَيْرٍ‌ مِّمَّا يَشْتَهُونَ (and the meat of birds that they desire....56:21]. It is recorded in a Prophetic Tradition that the inmates of Paradise will get meat of whatever birds they desire, as and when they desire it.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

13 This is one of the major blessings of Paradise, which has been mentioned at several places in the Qur'an, viz. that in Paradise human ears will remain secure against idle and frivolous talk, lying, backbiting slander, invective, boasting and bragging, taunts and mockery, satire and sarcasm. It will not be a society of foul-mouthed, indecent people who will throw mud at each other, but a society of noble and civilized people free of such frivolities. A person who has been blessed with some deceney of manner and sense by Allah can very well feel what an agony it is in worldly life a hope of…

Read the full tafseer →