Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الْوَاقِعَة 12
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 28۔ 29۔ الدخان، حاشیہ 42۔ جلد پنجم، الرحمٰن، حاشیہ 51۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ، یعنی پرندوں کا گوشت جیسی ان کی خواہش ہو، حدیث میں ہے کہ اہل جنت جس وقت کسی پرندے کے گوشت کی طرف رغبت کریں گے تو اس کا گوشت جس طرح کھانے کی رغبت دل میں آوے گی کہ کباب ہو یا دوسری طرح کا پکا ہوا، اسی طرح کا فوراً تیار ہو کر اس کے سامنے آجائے گا (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔
(متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وحورعین ............ المکنون (6 5: 32) ” اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی ، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ “ چھپے ہوئے موتی جن کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے بوجہ قیمتی ہونے کے ان کو چھوا جاتا ہے اور نہ ان پر نظر لگتی ہے۔ اس لئے نہ کسی ہاتھ نے ان کو استعمال کیا اور نہ آنکھ نے دیکھا اور ان کھلی آنکھوں والی حوروں کی اس تعری میں حسی اور معنوی اشارات ہیں او یہ سب انعامات کیوں دیئے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
6 یعنی صاف موتی کی طرح جس پر گردو غبار کا ذرا بھی اثر نہ آیا ہو۔
Read the full tafseer →آیت 23{ کَاَمْثَالِ اللُّــؤْلُـــؤِ الْمَکْنُوْنِ۔ } ”جیسے موتی ہوں چھپا کر رکھے گئے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
12 تاکہ گردوغبار سے ان کی آب و تاب ماند نہ پڑجائے۔ جنت کی حوریں بھی اپنے حسن دلکشی اور آب و تاب کے لحاظ سے قیمتی موتیوں سے کسی صورت کم نہ ہونگی لہذا ان کی حفاظت بھی ایسے ہی کی جائے گی جیسے زر و جواہر اور موتیوں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
9۔ اس قسم کے مضمون سے مقصود حسن عمل کے لیے ترغیب اور ہمت افزائی ہے اور قرآن مجید ایسی آیتوں سے بھراپڑا ہے۔ جنت کی مادی لذتیں کیا یہاں اور کیا قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں جو بیان ہوئی ہیں، ان میں قدرۃ سب سے مقدم اہل عرب کے مذاق کو رکھا گیا ہے کہ وہی مخاطب اول تھے۔ اگر ایسی نعمتوں کی تصریح کی جاتی جو مذاق عرب سے بالکل مختلف چین یا جاپان یا جرمنی یا فرانس والوں کے ذوق کی ہوتیں تو ظاہر ہے کہ اہل عرب انہیں میں الجھنے لگتے اور مخاطبین اول کو خواہ مخواہ جھگڑے بکھیڑے کے لیے ایک اور موقع نکل آتا۔ قرآن مجید نے غایت ژرف نگاہی اور کامل نکتہ سنجی سے کام لے کر عام اور عالمگیر مذاق کی نعمتوں اور لذتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →جیسے (حفاظت سے) پوشیدہ رکھا ہوا موتی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22۔ 23) اور ان کے لیے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورتیں ہوں گی جیسے حفاظت سے چھپا کر رکھا ہوا موتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُوئِ الْمَکْنُوْنِ اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ رحمن (58) اور سورة ٔ صافات (49) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →گا مثال اللولو المکنون۔ امثال، مثل کی جمع ہے لولو مکنون جسے ہاتھوں نے نہ چھوا ہو اور اس پر غبار نہ پڑا ہو۔ یہ موتی صفائی اور چمک میں دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی وہ تمام اطراف سے حسن میں ایک جیسی ہو۔
کانما خلقت فی قشرلولوۃ
گویا اسے موتی کی سیپی میں پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
قولہ تعالیٰ : آیت وحور عین :
12۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے عاصم بن بہدلہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو عبدالرحمن السلمی (رح) نے مجھے اس طرح پڑھایا آیت وحور عین۔
13 عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت وحور عین یعنی ان دنوں میں رفع اور تنوین کے ساتھ۔
14۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحور عین سے مراد ہے کہ ان میں آنکھیں بہت خوبصورت بنائی گئیں۔
15۔ ابن المنذر نے ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ کأمثال اللؤلؤ المکنون (جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی) یعنی وہ موتی جو ابھی تک صدف میں ہو اور اس پر ہاتھ نہیں لگا ہو۔
16۔ ہناد بن السری نے ضحاک (رح) سے آیت…
Read the full tafseer →كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ : موتی کی مثالیوں کے جیسے ] [الْمَكْنُوْنِ : ڈھانپے ہوئے (پلکوں میں)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سابقین اولین کی مزید نعمتیں :
سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
10:۔ ” وفاکہۃ “ فاکہۃ اور لحم دونوں اکواب پر معطوف ہیں۔ وہ غلمان جنت میں سابقین کی خدمت میں ان کی مرضی اور پسند کے میوے پیش کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت حاضر کریں گے۔ ” وحور الخ “ یہ ولدان پر معطوف ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ای لھم حور کا مثال اللؤلؤ الخ، یہ حور کی صفت ہے یا اس سے حال ہے (روح) حوروں کی سچے موتیوں سے تشبیہ چہرے کی چمک دمک اور صفاء بشرہ میں ہے۔ جنت میں ان کے لیے ایسی عورتیں ہوں گی جن کی آنکھیں سیاہ اور موٹی ہوں گی اور وہ حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک میں ان سچے موتیوں کی مانند ہوں گی جن کو گرد و غبار سے بچا کر بحفاظت رکھا گیا ہو۔ ” جزاء بما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
جنت میں سابقین کی کیفیت :
ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـؤِ الْمَكْنُوْنِ 23 ۚ
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24)
(مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن
ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔
نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →23 : کَاَمْثَالِ اللُّؤْ لُؤِ الْمَکْنُوْنِ (جیسے حفاظت سے پوشیدہ رکھا ہوا موتی) لؤلؤ کے ساتھ صفائی و ستھرائی میں تشبیہ دی۔ اور المکنونؔ محفوظ قول الزجاج (رح) موتیوں کی طرح جب کہ ان کو سیپ سے نکالا جائے اور زمانہ نے اس میں کوئی تبدیلی نہ کی اور نہ استعمال کے مختلف حالات سے وہ گزرا ہو۔
Read the full tafseer →حورعین کی تفسیر
22 ۔” وحورعین “ ابوجعفر، حمزہ، کسائی نے راء اور نون کے کسر ہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی و بحورعین اس کو اللہ تعالیٰ کے قول باکواب واباریق وفاکھۃ ولحم طیر “ کے اعراب میں تابع کردیا ہے۔ اگرچہ معنی میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے ” جب گانے والیاں ایک دن ظاہر ہوئیں، انہوں نے اپنی آبرو اور آنکھوں کو لمبا اور باریک کیا “۔
حالانکہ آنکھ کو لمبا اور باریک نہیں کیا جاتا آنکھ میں تو سرمہ ڈالا جاتا ہے اور اس مثل کلام میں بہت زیادہ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا میوئوں اور پرندوں کے گوشت اور حورعین کے ذریعے اکرام کیا جائے گا اور باقی حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ ) گویا کہ وہ تازہ صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا، سورج سے چھپا ہوا ہو جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اس طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کس بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہوگا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں (جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں اسی…
Read the full tafseer →[ 20] حوران جنت کے ایک امتیازی وصف کا ذکر وبیان :
سو جنتیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے وہاں پر ایسی عظیم الشان حوریں ہونگی جو چھپا کر رکھے گئے موتیوں جیسی ہوں گے۔ یعنی صفائی اور عمدگی میں ایسی ہوں گی جیسے چھپا کر رکھے گئے موتی ہوتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ ان کی صفائی چھپا کر رکھے گئے اس موتی کی سی ہوگی جس کو کسی نے ہاتھ بھی نہ لگایا ہو، جیسا کہ حضرت ام سلمہ ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، [ صفوۃ وغیرہ ] سو جس طرح انسان دنیا میں اس شریک رنج و راحت کا محتاج ہے جس کے بغیر اس کی بزم سونی رہتی ہے، اسی طرح جنت میں بھی اس کی لذت ادھوری رہ جاتی اگر وہاں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ف 5 یعنی نہایت صاف و شفاف جن پر گرد و غبار کا کوئی اثر نہ ہو۔
Read the full tafseer →(56:23) کا مثال اللؤلؤ المکنون : ک تشبیہ کے مبالغہ کے لئے آتا ہے ۔ اللؤلؤ (ل ء ل ء مادہ) موتی، موصوف۔ المکنون اسم مفعول واحد مذکر۔ کن (باب فتح) بمعنی (لڑکی کو) نظروں سے چھپانا۔ صفت۔ جو مثل (آبدار، غیر مس شدہ) چھپائے ہوئے موتی کے (ہوں گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔
(ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…
Read the full tafseer →(23) جیسے سیپ میں حفاظت سے رکھا ہوا موتی۔ یہ تشبیہہ ہے صفائی میں خوبصورتی میں اور ان کے محفوظ ہونے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →جیسے پوشیدہ رکھے ہوئے موتی ہوں
23 ؎ (حورعین) کو تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ عورتیں کیا ہیں ؟ ایسے لگتا ہے کہ گویا حسین موتی ہیں جو کہیں چھپا کر رکھے گئے ہیں۔ (لو لو) کی وضاحت ہم پیچھے سورة رحمن کی آیت 22 کی تفسیر میں کرچکے ہیں اور (مکنون) اسم مفعول واحد مذکر ہے اور (کنون) مصدر باب (نصر) چھپا ہوا۔ صاف ‘ محفوظ (کنان ‘ تکنین) دھوپ کی تیزی سے بچانا (کنان) لباس ‘ ہرچیز کا پردہ۔ زیر نظر آیت میں معنی محفوظ اور چھپا کر رکھنے کے ہیں جو خوبصورت کے اظہار کی خاطر بیان ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ (and the meat of birds that they desire....56:21]. It is recorded in a Prophetic Tradition that the inmates of Paradise will get meat of whatever birds they desire, as and when they desire it.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
12 For explanation, see E.N.'s 28, 29 of As-Saaffat, E.N. 42, of AdDukhan, E. N . 61 of Ar-Rahman.
Read the full tafseer →