Al-Waaqia 56:22

Al-Waaqia · from ayah 22

56:22

وَحُوْرٌ عِیْنٌ ۟ۙوَحُوۡرٌ عِيۡنٌۙ

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [for them are] fair women with large, [beautiful] eyes,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:22

اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہونگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بڑی آنکھ والیاں حوریں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور خوبصورت کشادہ آنکھوں والی حوریں بھی (اُن کی رفاقت میں ہوں گی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور (ان کے لیے وہاں) سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں ہیں، جو فراخ آنکھوں والی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے لیے غزال چشم حوریں ہوں گی ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی عظیم الشان حوریں ہوں گی

— مولانا اسحاق مدنی

اور گوری بڑی آنکھوں والیاں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور حوریں ہوں گی بڑی بڑی آنکھوں والی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and there shall be wide-eyed maidens,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (for them there will be) houris, having lovely big eyes,

— Muhammad Taqi Usmani

And (for them there will be) houris, having lovely big eyes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (there will be) Hur with wide lovely eyes.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (there are) fair ones with wide, lovely eyes,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [for them are] fair women with large, [beautiful] eyes,

— Saheeh International

They will have maidens with large, lovely black and white eyes,

— Muhammad Sarwar

And pure, beautiful ones,

— Muhammad Habib Shakir

And there will be fair ones large eyed.

— Abdul Majid Daryabadi

And (there will be) Companions with beautiful, big, and lustrous eyes,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–26

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–23

سورة الْوَاقِعَة 12 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 28۔ 29۔ الدخان، حاشیہ 42۔ جلد پنجم، الرحمٰن، حاشیہ 51۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–26

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ، یعنی پرندوں کا گوشت جیسی ان کی خواہش ہو، حدیث میں ہے کہ اہل جنت جس وقت کسی پرندے کے گوشت کی طرف رغبت کریں گے تو اس کا گوشت جس طرح کھانے کی رغبت دل میں آوے گی کہ کباب ہو یا دوسری طرح کا پکا ہوا، اسی طرح کا فوراً تیار ہو کر اس کے سامنے آجائے گا (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–23

(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔ (متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–25

19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–27

5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 22–23

وحورعین ............ المکنون (6 5: 32) ” اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی ، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ “ چھپے ہوئے موتی جن کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے بوجہ قیمتی ہونے کے ان کو چھوا جاتا ہے اور نہ ان پر نظر لگتی ہے۔ اس لئے نہ کسی ہاتھ نے ان کو استعمال کیا اور نہ آنکھ نے دیکھا اور ان کھلی آنکھوں والی حوروں کی اس تعری میں حسی اور معنوی اشارات ہیں او یہ سب انعامات کیوں دیئے جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

6 یعنی صاف موتی کی طرح جس پر گردو غبار کا ذرا بھی اثر نہ آیا ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22{ وَحُوْرٌ عِیْنٌ۔ } ”اور حوریں ہوں گی بڑی بڑی آنکھوں والی۔“ نوٹ کیجیے یہاں اس جنت کی نعمتوں میں حوروں کا ذکر بھی ہوا ہے لیکن اگلی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کے تذکرے میں ”حُوْر“ کا لفظ نہیں آیا۔ یاد رہے کہ سورة الرحمن میں نچلے درجے کی جنت کا ذکر پہلے جبکہ حوروں والی جنت اونچے درجے کی جنت کا ذکر بعد میں آیا ہے۔ دونوں سورتوں کے مضامین کی اسی ترتیب کو میں نے ابتدا میں عکسی ترتیب mirror image کا نام دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–23

12 تاکہ گردوغبار سے ان کی آب و تاب ماند نہ پڑجائے۔ جنت کی حوریں بھی اپنے حسن دلکشی اور آب و تاب کے لحاظ سے قیمتی موتیوں سے کسی صورت کم نہ ہونگی لہذا ان کی حفاظت بھی ایسے ہی کی جائے گی جیسے زر و جواہر اور موتیوں کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 20–24

9۔ اس قسم کے مضمون سے مقصود حسن عمل کے لیے ترغیب اور ہمت افزائی ہے اور قرآن مجید ایسی آیتوں سے بھراپڑا ہے۔ جنت کی مادی لذتیں کیا یہاں اور کیا قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں جو بیان ہوئی ہیں، ان میں قدرۃ سب سے مقدم اہل عرب کے مذاق کو رکھا گیا ہے کہ وہی مخاطب اول تھے۔ اگر ایسی نعمتوں کی تصریح کی جاتی جو مذاق عرب سے بالکل مختلف چین یا جاپان یا جرمنی یا فرانس والوں کے ذوق کی ہوتیں تو ظاہر ہے کہ اہل عرب انہیں میں الجھنے لگتے اور مخاطبین اول کو خواہ مخواہ جھگڑے بکھیڑے کے لیے ایک اور موقع نکل آتا۔ قرآن مجید نے غایت ژرف نگاہی اور کامل نکتہ سنجی سے کام لے کر عام اور عالمگیر مذاق کی نعمتوں اور لذتوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور ان کے لیے گوری گوری بڑی آنکھوں والی عورتیں (یعنی حوریں) ہوں گی مجاہد نے کہا : حور کی پنڈلیوں کا مغز کپڑوں کے باہر سے نمایاں ہوگا۔ حورعین کا ترجمہ سیاہ پتلیوں ‘ بڑی آنکھوں والیاں بھی کہا گیا ہے۔ بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے حورعین کا معنی بتائیے۔ فرمایا : گورے رنگ کی دراز پلک والیاں جیسے گدہ کے پر ‘ مَیں نے عرض کیا کا مثال اللؤلو کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : جیسے سیپ کے اندر موتی چھپا ہوا صاف اور ہاتھوں کے چھونے سے آزاد ہوتا ہے ‘ وہ حوریں صفائی میں ایسے ہی موتی کی طرح شفاف ہوں گی۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ روایت میں آیا ہے کہ جنت میں ایک نور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) اور ان کے لیے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورتیں ہوں گی جیسے حفاظت سے چھپا کر رکھا ہوا موتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَ حُوْرٌ عِیْنٌ :”حورعین“ مرفوع ہے، اس کا عطف ”والدین مخلدون“ پر ہے ، مطلب یہ ہے کہ شراب کے جام ، پھل اور گوشت وغیرہ لے کر ”ولدان مخلدون“ ان پر چکر لگا رہے ہوں گے اور ”حورعین“ بھی۔ بعض نے فرمایا کہ یہ مبتداء ہے اور خبر اس کی محذوف ہے :”ای والھم فیھا حورعین“ یعنی ان کے لیے اس میں حوریں ہوں گی۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ دخان (54)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

وفاکھۃ مما یتخیرون۔ جو چاہتے ہیں اسے لے لیتے ہیں کیونکہ ان پھلوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا پھل جو پسندیدہ ہے تخیر کا معنی اختیار ہے۔ ولحکم طیر مما یشتھون۔ امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کوثر کے بارے میں پوچھا گیا ؟ فرمایا :” وہ ایسی نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کی ہے یعنی جنت میں جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھی ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں ان کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں جیسی ہیں “ (3) حضرت عمر ؓ نے عرض کی : وہ تو بڑی موٹی تازی ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس کا کھانا اس گردن کے کھانے سے زیادہ اچھا ہوگا “۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–24

قولہ تعالیٰ : آیت وحور عین : 12۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے عاصم بن بہدلہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو عبدالرحمن السلمی (رح) نے مجھے اس طرح پڑھایا آیت وحور عین۔ 13 عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت وحور عین یعنی ان دنوں میں رفع اور تنوین کے ساتھ۔ 14۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحور عین سے مراد ہے کہ ان میں آنکھیں بہت خوبصورت بنائی گئیں۔ 15۔ ابن المنذر نے ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ کأمثال اللؤلؤ المکنون (جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی) یعنی وہ موتی جو ابھی تک صدف میں ہو اور اس پر ہاتھ نہیں لگا ہو۔ 16۔ ہناد بن السری نے ضحاک (رح) سے آیت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–24

سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–24

10:۔ ” وفاکہۃ “ فاکہۃ اور لحم دونوں اکواب پر معطوف ہیں۔ وہ غلمان جنت میں سابقین کی خدمت میں ان کی مرضی اور پسند کے میوے پیش کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت حاضر کریں گے۔ ” وحور الخ “ یہ ولدان پر معطوف ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ای لھم حور کا مثال اللؤلؤ الخ، یہ حور کی صفت ہے یا اس سے حال ہے (روح) حوروں کی سچے موتیوں سے تشبیہ چہرے کی چمک دمک اور صفاء بشرہ میں ہے۔ جنت میں ان کے لیے ایسی عورتیں ہوں گی جن کی آنکھیں سیاہ اور موٹی ہوں گی اور وہ حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک میں ان سچے موتیوں کی مانند ہوں گی جن کو گرد و غبار سے بچا کر بحفاظت رکھا گیا ہو۔ ” جزاء بما…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحُوْرٌ عِيْنٌ۝ 22 ۙ حور الحَوْرُ : التّردّد إمّا بالذّات، وإمّا بالفکر، وقوله عزّ وجلّ : إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ [ الانشقاق/ 14] ، أي : لن يبعث، وذلک نحو قوله : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا، قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 17] ، وحَارَ الماء في الغدیر : تردّد فيه، وحَارَ في أمره : تحيّر، ومنه : المِحْوَر للعود الذي تجري عليه البکرة لتردّده، وبهذا النّظر قيل : سير السّواني أبدا لا ينقطع «1» ، والسواني جمع سانية، وهي ما يستقی عليه من بعیر أو ثور، ومَحَارَة الأذن لظاهره المنقعر، تشبيها بمحارة الماء لتردّد الهواء بالصّوت فيه کتردّد الماء في المحارة، والقوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–24

عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : وَ حُورٌ عِیْنٌ ( اور گوری گوری بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی) حورٌ یہ حوراء کی جمع ہے۔ عینعیناء کی جمع ہے۔ یعنی اس جنت میں بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی۔ نمبر 2۔ ان کے لئے بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کا عطف ولدانٌ پر ہو۔ قراءت : حمزہ، علی، یزید نے حورٍ پڑھا اور اس کو جنات النعیم پر عطف کیا۔ گویا اس طرح فرمایا ھم فی جنات وفاکھۃ ولحم و حورٍ وہ باغات اور میوے اور گوشت اور حوروں میں ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” ولحم طیر مما یشتھون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے دل میں پرندے کے گوشت کا خیال آئے گ تو جو وہ چاہے گا اس کے سامنے بن کر آجائے گا اور کہا گیا ہے کہ آدمی کے برتن میں سچ کر آجائے گا، پھر وہ اس کو کھائے جتنا چاہے گا پھر وہ اڑکر چلا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–26

13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی۔ الحورا اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور ان میں ملاحت اور حسن و جمال ہو۔ العین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتاعورت کی آنکھوں کا حسن اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 19] اہل جنت کی حوروں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے آہو چشم حوریں بھی ہونگی، اور حور کا یہ لفظ ماخوذ ہے حور سے جس کے معنی انتہائی سفیدی کے آتے ہیں، اور حوران جنت کی خاص صفت ہے، خواتین بنی آدم کے لئے اگر اس لفظ کا اطلاق ہوگا بھی تو اضافت کے ساتھ ہوگا۔ جیسے حور العیون وغیرہ، اور عین جمع ہے " عینایٔ " کی، جس کے معنی آتے ہیں بڑی گول اور سیاہ آنکھ والی، جو کہ انتہائی خوبصورت ہوتی ہے، اس لئے ہم نے ترجمہ کے اندر اسی حاصل معنی کو اختیار کیا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق وھو الی التوفیق ونعم المولیٰ ونعم النصیر سو کھانے پینے کی ساری نعمتیں ادھوری ہیں اگر ان میں بیوی شریک نہ ہو، جس کو اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:22) وحور عین : واؤ عاطفہ، حور حوراء کی جمع نہایت گوری عورتیں ۔ موصوف۔ عین عیناء کی جمع بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والیاں۔ زنان فراخ چشم۔ صفت۔ حور کا عطف ولدان پر ہے۔ (آیت نمبر 17) یعنی وہاں جنتیوں کے لئے گوری اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں (خدمت کے لئے) ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور حوریں کشادہ آنکھوں والی ان کی معیت میں ہوں گی 22 ؎ (حور) کے متعلق ہم پیچھے بیان کرچکے ہیں کہ وہ انسان کی اپنی ہی جنس کی عورتیں ہوں گی۔ نہ کہ کوئی نوری مخلوق جیسا کہ اکثر سمجھا گیا ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة الطور کی آیت 20 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں اور سورة الرحمن کی آیت 72 میں بھی اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–26

وَلَحْمِ طَيْرٍ‌ مِّمَّا يَشْتَهُونَ (and the meat of birds that they desire....56:21]. It is recorded in a Prophetic Tradition that the inmates of Paradise will get meat of whatever birds they desire, as and when they desire it.

Read the full tafseer →