Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
سورة الْوَاقِعَة 10
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 27۔ جلد پنجم، ، سورة محمد، حاشیہ 22۔ الطور، حاشیہ 18۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لَّا يُصَدَّعُوْنَ ، صداع سے مشتق ہے جس کے معنی درد سر کے ہیں، دنیا میں شراب زیادہ پینے سے سر میں درد اور چکر جیسے ہوتے ہیں، جنت کی یہ شراب اس سے پاک ہوگی۔ لَا يُنْزِفُوْنَ ، نزف کے اصلی معنی کنویں کا تمام پانی سینچ لینے کے ہیں، یہاں مراد عقل سے خالی ہوجانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔
(متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →لا یصدعون ینزفون (6 5: 91) ” جسے نہ ان سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ختم ہوگی۔ “ یعنی نہ ان کو اس سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ان کے سامنے ختم ہوگی کیونکہ وہاں تو ہر چیز دوام کے لئے ہے اور کسی چیز کے ختم ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
4 یعنی نتھری اور صاف شراب جس کے قدرتی چشمے جاری ہوں گے اس کے پینے سے نہ سرگرانی ہوگی نہ بکواس لگے گی کیونکہ اس میں نشہ نہ ہوگا۔ خالص سرور اور لذت ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 19{ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ۔ } ”اس سے نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔“
دنیا کی شراب پینے سے تو سر چکرانے لگتا ہے اور آدمی مدہوش ہوجاتا ہے ‘ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ‘ لیکن جنت کی ”شرابِ طہور“ کو اس شراب پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ایسی کسی خرابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
10 شراب کے نقصانات اور فائدے :۔ دنیا کی شراب میں خرابیاں یہ ہوتی ہے کہ اس کا مزہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔ بو ناگوار ہوتی ہے، پینے سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ سر درد بھی شروع ہوجاتا ہے۔ عقل میں فتور آجاتا ہے اور شراب پینے والا اول فول بکنے لگتا ہے اور بعض دفعہ ناشائستہ حرکات اور گناہ کے کام بھی کر بیٹھتا ہے اور ان سب قباحتوں کے عوض اسے فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے اسے سرور حاصل ہوتا ہے اور غم غلط ہوجاتا ہے۔ جنت کی شراب میں یہ فائدہ تو بدرجہ اتم موجود ہوگا لیکن قباحت کی سب باتوں سے یکسر پاک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
8۔ یعنی اس شراب میں سرور ہی سرور ہوگا۔ باقی جتنے نقصانات اس دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں، وہ کوئی بھی اس میں موجود نہ ہوں گے، یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے کہ دو مختصر فقروں میں اس نے شراب کی ساری ہی خرابیوں کی نفی کردی۔ ھما لفظتان جمعتا جمیع عیوب الخمر (ابن قتیبہ) (آیت) ’ عنھا “۔ عن سببیہ ہے۔ اے بسببھا (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →نہ اس (شراب) سے ان کو درد سر ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا
لَّا یُصَدَّعُوْنَ : شراب پینے سے درد سر ہوجاتا ہے لیکن جنت کی شراب سے درد سر پیدا نہ ہوگا۔
وَلاَ یُنْزِفُوْنَ : کو فیوں نے ینزفون بکسر زاء (انزاف مصدر باب افعال) پڑھا ہے اور باقی قراء نے بفتح زاء ینزفون پڑھا ہے۔
قاموس میں ہے نزف بروزن عنی اس کی عقل جاتی رہی یا اس کو نشہ ہوگیا اور اسی سے ہے : لا ینزفون۔
صاحب صحاح نے لکھا ہے : انزف القوم ماء بئر ہم لوگوں نے اپنے کنویں کا سارا پانی کھینچ لیا۔ (نزفہ ‘ ثلاثی مجرد کا بھی یہی معنی ہے لیکن) انزف زیادہ بلیغ ہے کو فیوں کی قراءت پر یہ معنی ہوگا کہ ان کی شراب کبھی ختم نہیں ہوگی اور دوسرے قاریوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی پاکیزہ شراب سے بھر جائے گا اور دنیا کی شرابوں کی طرح نہ تو اس شراب سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ ان کی عقل میں کسی قسم کا فتور آئے گا اور ان کے لیے قسم قسم کے میوے ہوں گے جن کو وہ پسند کریں گے اور مختلف قسم کے پرندوں کا گوشت جو ان کو پسند ہوگا۔
Read the full tafseer →لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ :”الصداع“ دردسر کو کہتے ہیں،”صد ع و صدع فلان“ (مجہول) اسے درد سر ہوگیا۔”ینزفون“ سورة ٔ صافات (47) ک میں ”زائ“ کے فتحہ کے ساتھ مضارع مجہول ہے ، یہاں ”زائ“ کے کسرہ کے ساتھ مضارع معلوم ہے۔”نزف ماء البئر“ کنویں کا سارا پانی نکال لیا گیا۔ ”نزف الرجل“ آدمی کی عقل جاتی رہی وہ نشے میں مدہوش ہوگیا۔”انزف الرجل“ آدمی کے پاس کوئی چیز باقی نہ رہی۔ اس کی عقل جاتی رہی ، نشے میں مدہوش ہوگیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ”ینزفون“ معروف و مجہول دونوں کا معنی نشے میں بےہوش ہونا اور عقل کا مارا جانا ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (47)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
باکواب واباریق، اکواب، کو ب کی جمع ہے سورة خرف میں یہ گزر چکا ہے۔ یہ ایسے برتن ہوتے ہیں جن کی سنت اور دستہ نہیں ہوتا۔ اباریق ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے اس کا واحد ابریق ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ صفائی کی وجہ سے اس کا رنگ چمکے گا۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 450 2 ؎۔ ایضاً
وگ اس من معین۔ سورة الصافات میں اس کے بارے میں قول گز چکا ہے۔ معین سے مراد جو پانی یا شراب سے جاری ہو۔ یہاں اس سے مراد ایسی شراب ہے جو چشموں سے جاری ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا : آنکھوں کے لیے ظاہر ہوگی اس صورت میں معین، معانیہ سے مفعول کا صیغہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ معن سے فعیل کا وزن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
31۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکأس من معین “ سے مراد ہے وہ جام جو شراب سے چھلکتے ہوئے ہوں گے۔ اور شراب وہاں پر جاری ہوگی ” معین “ سے مراد ہے جاری آیت ” لایصدعون عنہا ولا ینزفون “ یعنی اس کی وجہ سے نہ تو درد سر ہوگا اور نہ کسی کی عقل مغلوب ہوگی۔ (یعنی عقل میں فتور نہیں آئے گا)
32۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لا یصدعون عنہا ولا ینزفون “ سے مراد ہے کہ نہ ان کے سروں میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں ضائع ہوں گی۔
جنتیوں کو سر درد نہ ہوگا۔
33۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایصدعون عنہا ولا…
Read the full tafseer →[لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا : ان کو سردرد نہیں ہوگا اس سے ] [وَلَا يُنْزِفُوْنَ : اور نہ وہ بد مست ہوں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سابقین اولین کی مزید نعمتیں :
سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →9:۔ ” لا یصدعون۔ الایۃ “ شراب جنت دنیا کی شراب سے بالکل مختلف ہوگی۔ ” لا یصدعون عنہا “ شراب جنت سے نہ تو سر کا درد ہوگا۔ ” ولا ینزفون “ اور نہ اس سے نشہ کی کیفیت طاری ہوگی۔ ای لاتصدع رؤوسہم من شربھا ولا یغلب علی عقولہم ولا یسکرون منہا (خازن ج 7 ص 16) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
جنت میں سابقین کی کیفیت :
ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا يُنْزِفُوْنَ 19
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24)
(مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن
ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔
نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →19 : لَّایُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا (نہ اس شراب سے ان کو درد سر ہوگا) عنہاؔ اس کے سبب سے۔ حقیقت میں یہ اس طرح ہے لا یصدر صداعھم عنھا ان کا سر درد اس کی وجہ سے صادر نہ ہوگا۔۔ وَلَا یُنْزِفُوْنَ (اور نہ عقل میں فتور آئے گا) نہ ان کو نشہ چڑھے گا۔ عرب کہتے ہیں۔ نزف الرجلؔ اس کی عقل جاتی رہی نشے کی وجہ سے۔
قراءت : ینزفون زاء کا کسرہ کو فیوں نے پڑھا۔ ان کی شراب ختم نہ ہوگی کہتے ہیں۔ اَنْزَفَ القَوْم جبکہ ان کی شراب ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →18 ۔” باکواب واباریق “ اکواب کو ب کی جمع ہے اور یہ گول منہ والے پیالے ان کے کڑے نہ ہوں اور ” اباریق وھی ذوات الخر اطیم “ سمیت ” اباریق لبریق لونھا من الصفاء وک اس من معین “ چھلکتی ہوئی شراب کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →(لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا) یہ شراب ان کو سردد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے سردرد میں مبتلا کرتی ہے۔ (وَلَا يُنْزِفُوْنَ ) یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہوگی نہ ہوش حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہوگی جیسا کہ اللہ نے فرمایا (فیھا انھر من ما۔۔۔ تا۔۔۔ مصفی۔ محمد۔ 15) اسمیں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں جس کا ذائقہ کبھی تبدیل نہ ہوا ہوگا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[ 17] جنت کی شراب ہر عیب سے پاک :
سو ارشاد فرمایا گیا کہنہ تو اس سے ان کے سرچکرآئیں گے اور نہ ہی ان کی عقلوں میں کوئی فتور آئے گا، جیسا کہ دنیاوی شراب کا خاصہ و لازمہ ہے، کہ یہ خانہ خراب جو ہر عقل کی دشمن اور اس کو زائل کردینے والی ہے، اور انسان اس کے پینے سے ایسا دیوانہ اور مجنون بن جاتا ہے کہ بچے بھی اس پر ہنسنے لگتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ سو جنت کی وہ شراب طہور اس طرح کے تمام لوازم و اثرات سے پاک و صاف ہوگی، اللہ نصیب فرمائے آمین، سو جنت کی اس شراب سے شراب نوشی کا اصل فائدہ تو حاصل ہوگا یعنی سرور و نشاط، لیکن ان مضر اثرات سے وہ پاک اور صاف ہوگی جو کہ دنیاوی شراب کیلئے لوازم کی حیثیت رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ف 5 یعنی نہایت صاف و شفاف جن پر گرد و غبار کا کوئی اثر نہ ہو۔
Read the full tafseer →(56:19) لا یصدعون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب تصدیع (تفعیل) مصدر بمعنی سردرد ہونا۔ سرکا چکرانا ۔ نہ ان کو درد سر ہوگا۔ ان کے سر نہیں چکرائیں گے، صدع (باب فتح) مصدر سے بمعنی پھاڑنا۔ دو ٹکڑے کردینا۔ الگ الگ کردینا ۔ (باب تفعل) تصدع سے بمعنی منتشر ہونا۔
عنھا ای بسببھا۔ اس کی وجہ سے ، اس کے سبب سے۔
ولا ینزفون : واؤ عاطفہ، لا تنزفون مضارع منفی جمع مذکر غائب ، انزاف (افعال) مصدر ۔۔ وہ بےہوش اور خبطی نہ ہوں گے۔ انزاف (افعال) ونزف (باب ضرب) بمعنی مست و بیہوش ہوجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔
(ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
اہل جنت کی زندگی
1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…
Read the full tafseer →(19) جس شراب سے نہ ان کو دوران سر ہوگا اور نہ عقل میں کوئی فتور آئے گا۔ کوب، وہ برتن جس میں ٹونٹی اور ڈنڈی لگی ہوئی نہ ہو۔ آب خورہ گلاس پیالہ وغیرہ ۔ ابریق جس برتن میں ٹونٹی بھی ہو اور ڈنڈی بھی ہندی میں آفتابہ کہتے ہیں جس سے ہاتھ دھوئے جائیں اور ہاتھ صاف کئے جائیں۔
آفتابہ بڑے لوٹے کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی بھی ہوتی ہے اور ڈنڈی بھی اور اوپر ڈھکنا بھی ہوتا ہے۔ کاس، جام، گلاس شراب کی پیالی معین صاف اور بہنے والی شراب نتھری ہوئی جنت کی شراب دنیا کی شراب سے بالکل علیحدہ کوئی چیز ہوگی۔ اس کے پینے سے دوران سر بھی نہیں ہوگا اور نہ اس کے پینے سے عقل کو کوئی نقصان پہنچے گا سر میں درد بھی نہیں اور سکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →جس سے نہ تو سردرد ہوگا اور نہ ہی عقل میں فتور آئے گا
19 ؎ (یصدعون) جمع مذکر غائیب مضارع مجہول اس جگہ نفی کا صیغہ ہے تصدیع مصدر (لا یصدعون ) یعنی ان کو دوران سر نہ ہوگا۔ ان کی سر نہیں چکرائیں گے۔ دراصل شراب پینے والوں کو جب عادت بن جاتی ہے تو ان کے سر پھٹنے لگتے ہیں اور وہ بےچین ہوجاتے ہیں اس لئے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس کو پئیں اور اس طرح کرتے کرتے اگر ان کو کسی وقت میسر نہ آئی تو وہ گویا درد سر سے پاگل ہونے کو ہوتے ہیں۔ فرمایا یہ شراب مہض نام کے لحاظ سے ہے اس سے پینے والوں کو درد سر نہیں ہوگا اور نہ طبیعت ان کو مجبور کرے گی۔ (ینزفون) بھی جمع مذکر غائب مضارع مجہول نفی کا صیغہ ہے یعنی ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا (from which they will neither suffer headache ....56:19). The Arabic verb is derived from suda' which means 'headache'. When worldly wine is taken in large quantity, it gives the drinker excruciating headache and makes him feel dizzy. The Heavenly wine is free from such harmful effects.
لَا يُنزِفُونَ nor will they be intoxicated...56:19). The Arabic verb is derived from nazf, the root-meaning of which being 'the well became empty, all the water having been taken out of it.' Here it means 'the spring of his brain or mind or senses became exhausted.'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
10 For explanation, see E. N . 27 of As-Saaffat, E. N . 22 of Surah Muhammad, E. N. 18 of At-Tur.
Read the full tafseer →