Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
سورة الْوَاقِعَة 10
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 27۔ جلد پنجم، ، سورة محمد، حاشیہ 22۔ الطور، حاشیہ 18۔
Read the full tafseer →بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ ڏ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ ، اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی وغیرہ پینے کے ایسے برتن کو کہتے ہیں، جیسے ہمارے عرف میں گلاس ہوتے ہیں، اور اباریق ابریق کی جمع ہے، ٹونٹی دار لوٹے کو کہتے ہیں، کاس خاص شراب کے پیالے کو کہا جاتا ہے، معین سے مراد یہ ہے کہ یہ شراب ایک چشمہ جاریہ سے لائی گئی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔
(متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17-1یعنی وہ بڑے نہیں ہونگے کہ بوڑھے ہوجائیں نہ ان کے خدو خال اور قدو قامت میں کوئی تغیر ہوگا بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسے نو عمر لڑکے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →باکواب ................ معین (6 5: 81) ” شراب چشمہ جاری سے لبریز پیالے اور کنٹر اور ساغر لئے “ اور یہ صاف شراب ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
4 یعنی نتھری اور صاف شراب جس کے قدرتی چشمے جاری ہوں گے اس کے پینے سے نہ سرگرانی ہوگی نہ بکواس لگے گی کیونکہ اس میں نشہ نہ ہوگا۔ خالص سرور اور لذت ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 18{ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ۔ } ”آب خورے ‘ صراحیاں اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے۔“
اہل جنت کی محفلوں میں خوبصورت غلمان نہایت شفاف قسم کی شراب کے مینا و جام لیے ہر وقت محو گردش رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
10 شراب کے نقصانات اور فائدے :۔ دنیا کی شراب میں خرابیاں یہ ہوتی ہے کہ اس کا مزہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔ بو ناگوار ہوتی ہے، پینے سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ سر درد بھی شروع ہوجاتا ہے۔ عقل میں فتور آجاتا ہے اور شراب پینے والا اول فول بکنے لگتا ہے اور بعض دفعہ ناشائستہ حرکات اور گناہ کے کام بھی کر بیٹھتا ہے اور ان سب قباحتوں کے عوض اسے فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے اسے سرور حاصل ہوتا ہے اور غم غلط ہوجاتا ہے۔ جنت کی شراب میں یہ فائدہ تو بدرجہ اتم موجود ہوگا لیکن قباحت کی سب باتوں سے یکسر پاک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
8۔ یعنی اس شراب میں سرور ہی سرور ہوگا۔ باقی جتنے نقصانات اس دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں، وہ کوئی بھی اس میں موجود نہ ہوں گے، یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے کہ دو مختصر فقروں میں اس نے شراب کی ساری ہی خرابیوں کی نفی کردی۔ ھما لفظتان جمعتا جمیع عیوب الخمر (ابن قتیبہ) (آیت) ’ عنھا “۔ عن سببیہ ہے۔ اے بسببھا (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →آبخورے اور آفتابے اور جاری رہنے والی شراب سے بھرے ہوئے جام لئے ہوئے
بِاَکْوَابٍ : اکواب ‘ کُوب کی جمع ہے۔ کو ب وہ آبخورہ جس کا منہ گول ہو اور اس کا قبضہ نہ ہو ‘ ہناد نے مجاہد کا یہی قول نقل کیا ہے لیکن ابن جریر نے بروایت عوفی بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اکواب چاندی کی گھڑیاں۔
وَّاَبَارِیْقَ : آفتابے یعنی لوٹے جن کے قبضے ہوتے ہیں ‘ رنگ کی صفائی اور چمک کی وجہ سے ان کو اباریق کہا گیا ‘ بروق کا معنی ہے چمک۔
وَکَاْسٍ : شراب سے بھرے ہوئے جام کو کاس کہا جاتا ہے۔ اگر جام میں شراب نہ ہو تو اس کو کاس نہیں کہا جاتا۔
مَّعِیْنٍ : ہمیشہ چشمہ سے جاری رہنے والی شراب جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی پاکیزہ شراب سے بھر جائے گا اور دنیا کی شرابوں کی طرح نہ تو اس شراب سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ ان کی عقل میں کسی قسم کا فتور آئے گا اور ان کے لیے قسم قسم کے میوے ہوں گے جن کو وہ پسند کریں گے اور مختلف قسم کے پرندوں کا گوشت جو ان کو پسند ہوگا۔
Read the full tafseer →بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ :”اکواب“ ”کو ب“ کی جمع ہے ، برتن جس کی نہ دستی ہو نہ ٹوٹنی۔”ابایق“ ”ابریق“ کی جمع ہے ، مادہ اس کا ”برق“ (چمک) ہے ، وہ برتن جس کی ٹوٹنی یا پکڑنے کی دستی ہو یا دونوں ہوں۔ چمک کی وجہ سے اس کا نام ”ابریق“ رکھا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ فارسی لفظ ”ابریز“ کا معرب ہے۔
2۔ وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (45) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
باکواب واباریق، اکواب، کو ب کی جمع ہے سورة خرف میں یہ گزر چکا ہے۔ یہ ایسے برتن ہوتے ہیں جن کی سنت اور دستہ نہیں ہوتا۔ اباریق ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے اس کا واحد ابریق ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ صفائی کی وجہ سے اس کا رنگ چمکے گا۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 450 2 ؎۔ ایضاً
وگ اس من معین۔ سورة الصافات میں اس کے بارے میں قول گز چکا ہے۔ معین سے مراد جو پانی یا شراب سے جاری ہو۔ یہاں اس سے مراد ایسی شراب ہے جو چشموں سے جاری ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا : آنکھوں کے لیے ظاہر ہوگی اس صورت میں معین، معانیہ سے مفعول کا صیغہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ معن سے فعیل کا وزن…
Read the full tafseer →29۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابو رجا (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن (رح) سے ” اکواب “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ وہ آفتابے ہوں گے کہ جن سے کسی چیز کو انڈیلا جاتا ہے۔
30۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” اکواب “ سے مراد ہیں پیالے۔
Read the full tafseer →[بِاَكْوَابٍ : جاموں کے ساتھ ] [وَّاَبَارِيْقَ ڏ : اور صراحیوں کے ساتھ ] [وَكَاْسٍ : اور ایسی شراب کے آبخوروں کے ساتھ جو [مِّنْ مَّعِيْنٍ : کسی رواں پانی میں سے ہوگی ]
(آیت ۔ 18) باکواب کی ب پر عطف ہونے کی وجہ سے اباریق ۔ کاس ، فاکھۃ اور لحم حالت جر میں آئے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سابقین اولین کی مزید نعمتیں :
سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
8:۔ ” علی سرر “ یہ ضمیر مقدر کی خبر بعد خبر ہے۔ موضونۃ، زر بافتہ ایسی چارپائیاں جو سونے کی تاروں سے بنی ہوں اور ان میں ہیرے جو ہرات جڑے ہوں۔ خبر اخر للضمیر المحذوف والموضونۃ المنسوجۃ بالذھب مشبکۃ بالدر والیاقوت (بیضاوی) ۔ متکئین اور متقابلین، دونوں علی سرر کے متعلق کے فاعل سے حال ہیں۔ وہ جنت میں زر بافتہ چارپائیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ” یطوف علیہم ولدان مخلدون “ ان کی خدمت کیلئے اور انہیں کھلانے پلانے پر جو خدام مقرر ہیں وہ نہایت خوبصورت کم عمر لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے بڑے نہیں ہوں گے انہم یبقون دائما فی سن الولد ان لا یکبرون ولا یتحولون عن شکل الوصافۃ (بحر ج 8…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
جنت میں سابقین کی کیفیت :
ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ 0ۥۙ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ 18 ۙ
كوب
الْكَوْبُ : قدح لا عروة له، وجمعه أَكْوَابٌ. قال : بِأَكْوابٍ وَأَبارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ [ الواقعة/ 18] . والْكُوبَةُ : الطّبل الّذي يُلْعَبُ به .
( ک و ب ) الکوب ۔ پیالہ جس کا دستہ نہ ہو ۔ اس کی جمع اکواب آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : بِأَكْوابٍ وَأَبارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ [ الواقعة/ 18] یعنی آبخور اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس ۔ الکوبۃ ( ڈکڑگی ) یعنی باریک میاں طبلکجو تماشہ کے وقت مداری بجاتے ہیں ۔
والإِبْريق
معروف اباریق : ابریق کی جمع بمعنی آفتابہ۔ ایسا برتن کہ جس کا دستہ اور ٹوٹی ہو۔ غیر منصرف اس لئے کہ باوجود یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24)
(مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن
ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔
نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →18 : بِاَکْوَابٍ (آبخوروں کے ساتھ) اکواب جمع کو ب ایسا برتن جس کا دستہ نہ ہو اور نہ ٹونٹی۔ وَّاَبَارِیْقَ جمع ابریق (لوٹے) جس برتن کا دستہ اور ٹونٹی دونوں ہوں۔ وَکَاْسٍ (اور جام جن میں شراب ہوگی) اور ان میں شراب نہ ہو تو اس کو کاس نہ کہیں گے۔ مِّنْ مَّعِیْنٍ (جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا) ان کے پاس آبخورے، آفتابے اور جاری رہنے والی شراب سے بھرے ہوئے جام لیئے ہونگے۔ معین ؔ وہ شراب جو چشموں سے جاری ہوگی۔
Read the full tafseer →17 ۔” یطوف علیھم “ خدمت کے لئے ۔ ” ولدان “ لڑکے ” مخلدون “ نہ مریں گے اور نہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان کی حالت تبدیل ہوگی۔ فراء کہتے ہیں جو شخص بوڑھا ہوجائے اور سر کے بال دورنگے جیسے ہوجائیں تو عرب اس کو مخلد کہتے ہیں مقرطون یعنی بالیاں پہنائے ہوئے ہوں گے۔ کہاجاتا ہے ” خلد جاریۃ “ جب اس کو خلد کے ذریعے مزین کرے اور خلد قرط (بالی) ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں یہ اہل دنیا کی وہ اولاد ہوگی جن کی نہ نیکیاں ہوں گی کہ ان پر ثواب دیا جائے اور نہ گناہ ہوں گے جن پر سزا دی جائے اس لئے کہ جنت میں اولاد نہ ہوگی تو یہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →(بِاَكْوَابٍ ) یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ( وَّاَبَارِيْقَ ڏ) اور ایسی صراحتوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں (وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ ) اور شراب کے چھلکتے جام لیے جو پینے میں نہایت لذیذ ہوگی مگر اس میں نشے کی آفت نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →[ 16] مقربین کی بےمثل شراب کا ذکر وبیان :
سو اس ان جنتیوں کی شرب کی صفت بیان فرمائی گئی ہے۔ سو وہاں کی وہ شراب بھی خاص قسم کی ہوگی جس سے نہ ان کو کسی طرح کا کوئی درد لاحق ہوگا، اور نہ ان کی عقلوں میں کسی طرح کا کوئی قصور و فتور آئے گا۔ یعنی وہاں کی شراب جو کہ شراط طہور ہوگی، دنیاوی شراب کی طرح انگوروں وغیرہ کا نچوڑ کر، اور ان کو گلا سڑا کر نہیں بنائی جائے گی، بلکہ وہاں اس کے ایسے عمدہ و صاف اور خاص قسم کے چشمے ہوں گے جن سے وہ اہل رہی ہوگی، اور ان چشموں سے وہ پاکیزہ جاموں کے اندر بھر بھر کر لائی جائے گی، اور بڑے ادب و احترام اور خاص اہتمام کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کی جائیگی اللہ نصیب فرمائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ف 5 یعنی نہایت صاف و شفاف جن پر گرد و غبار کا کوئی اثر نہ ہو۔
Read the full tafseer →(56:18) باکواب : ای یطوف علیہم باکواب ۔۔ الخ ۔ (ہاتھوں میں) آنجوائے ۔۔ لئے (جنتیوں میں خدمت کی خاطر) گردش کرتے رہیں گے۔ اکواب۔ کو ب کی جمع بمعنی کوزہ، پیالہ۔ ایسا برتن جس کا دستہ (ہینڈل) اور ٹوٹی نہ ہو ۔
اباریق : ابریق کی جمع بمعنی آفتابہ۔ ایسا برتن کہ جس کا دستہ اور ٹوٹی ہو۔ غیر منصرف اس لئے کہ باوجود یہ کہ اکواب کا معطوف ہے اس کے آخر میں تنوین نہیں آئی۔
وک اس من معین : واؤ عاطفہ۔ کاس معطوف اس کا عطف بھی اکواب پر ہے یا اباریق پر۔ بمعنی شراب سے برا ہوا جام، (شراب پینے کا برتن) ۔ معین معن (باب نصر) مصدر سے۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی جاری ۔ معن : پانی کا بہنا۔ پانی کا جاری ہونا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔
(ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
اہل جنت کی زندگی
1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…
Read the full tafseer →(18) آب خورے، آفتابے اور ایسی صاف شراب کا جام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →آب خورے اور آفتابے اور پاکیزہ شراب کے پیالے لے کر
18 ؎ (اکواب) کو زے ‘ آب کورے کو ب کی جمع جس کے معنی کو زے اور پیالے کے ہیں۔ قرآن کریم میں چار بار یہ لفظ استعمال ہوا ہے (اباریق) لوٹے اور جگ ابریق کی جم ع ہے جس کے معنی لوٹے اور جگ کے ہیں یہ آب ریز کا معرب ہے۔ کو ب اور ابریق میں فرق یہ ہے کہ کو ب کے ساتھ ہتھی نہیں ہوتی جہاں سے اس کو پکڑا جائے لیکن ابریق کے ساتھ ہتھی ہوتی ہے جہاں سے اس کو پکڑا جاتا ہے۔ اور یہی حال جگ اور لوٹے کا ہے کہ اس کے ساتھ ہتھی یعنی پکڑنے کی جگہ جس کو عربی میں ” عروہ “ کہتے ہیں پکڑنے کا سہارا اس کے ساتھ لگا ہوتا ہے جس سے لوٹے اور جگ کو پکڑا جاتا ہے۔ (کاس) مفرور مجرور۔ جام…
Read the full tafseer →بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ (with bowls and jugs and a goblet of pure wine...56:18). The word akwab, plural of kub, refers to 'cups or glasses used for drinking. The word abariq, plural of ibriq, refers to jugs with sprouts'. The word ka's refers to 'a wine glass'. The word main refers to the fact that the glasses will contain wine drawn from a flowing spring.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
10 For explanation, see E. N . 27 of As-Saaffat, E. N . 22 of Surah Muhammad, E. N. 18 of At-Tur.
Read the full tafseer →