Al-Waaqia 56:17

Al-Waaqia · from ayah 17

56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۟ۙيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَۙ‏

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

There will circulate among them young boys made eternal

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:17

اُن کی مجلسوں میں ابدی لڑکے شراب چشمہ جاری سے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے آمدورفت کریں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

سدا رہنے والے لڑکے ان کے سامنے گردش میں ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے گرد لیے پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہمیشہ ایک ہی حال میں رہنے والے نوجوان خدمت گار ان کے اردگرد گھومتے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان پر چکر لگا رہے ہوں گے وہ لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رکھے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہمیشہ نوجوان رہنے والے خدمتگار لڑکے ان کے پاس پھرتے رہینگے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کی خدمت میں غلمان، جو ہمیشہ غلمان ہیں رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کر رہے ہوں گے جو سدا لڑکے ہی رہیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

ان کے پاس لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نوجوان خدمت گزار لڑکے جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

immortal youths shall go about them

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Immortal boys will rotate around them

— Muhammad Taqi Usmani

Immortal boys will rotate around them

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Immortal boys will go around them (serving),

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There will circulate among them young boys made eternal

— Saheeh International

Immortal youths will serve them

— Muhammad Sarwar

Round about them shall go youths never altering in age,

— Muhammad Habib Shakir

There shall go round Unto them youths ever-young.

— Abdul Majid Daryabadi

Round about them will (serve) youths of perpetual (freshness),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–26

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–17

سورة الْوَاقِعَة 9 اس سے مراد ہیں ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، انکی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر ٹھری رہے گی۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہیں جو بالغ ہونے سے پہلے مر گئے، اس لیے نہ ان کی کچھ نیکیاں ہونگی کہ ان کی جزا پائیں اور نہ بدیاں ہونگی کہ ان کی سزا پائیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد صرف وہی اہل دنیا ہو سکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو۔ رہے مومنین صالحین، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی ذریت ان کے ساتھ جنت میں لا ملائی جائے گی (الطور، آیت 21)۔ اسی کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو داؤد طیالسی، طبرانی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ، موضونۃ کے متعلق حضرت ابن عباس سے ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ وہ کپڑا جس پر سونے کے تاروں سے کام بنایا گیا ہو۔ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ یہ لڑکے ہمیشہ اسی حالت میں لڑکے ہی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر عمر وغیرہ کا نہ ہوگا، ان جنت کے غلمان کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ حوروں کی طرح یہ بھی جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گے، روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ایک ایک جنتی کے پاس ہزاروں خادم ہوں گے (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–23

(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔ (متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17-1یعنی وہ بڑے نہیں ہونگے کہ بوڑھے ہوجائیں نہ ان کے خدو خال اور قدو قامت میں کوئی تغیر ہوگا بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسے نو عمر لڑکے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–27

5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یطوف ................ مخلدون (6 5: 71) ” ان کی مجلس میں “ ابدی لڑکے “ دوڑتے پھریں گے۔ “ زمانہ ان کی صحت پر اثر انداز نہ ہوگا ، ان کی جوانی اور نہ ان کی تروتازگی پر اثر انداز ہوگا جبکہ زمین پر مرور زمانے کے ساتھ لڑکپن چلا جاتا تھا۔ اور یہ کیا لئے ہوئے پھریں گے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۔ } ”ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔“ عام طور پر گھروں میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو ملازم رکھا جاتا ہے اور وہ آپ کے مزاج اور ذوق سے واقف ہوجاتے ہیں ‘ لیکن بڑے ہونے پر انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکالنا پڑتا ہے۔ جبکہ جنت میں چھوٹے لڑکے غلمان جو اہل جنت کی خدمت پر مامور ہوں گے وہ ”بڑے“ نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ لڑکپن کی عمر میں ہی رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–19

10 شراب کے نقصانات اور فائدے :۔ دنیا کی شراب میں خرابیاں یہ ہوتی ہے کہ اس کا مزہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔ بو ناگوار ہوتی ہے، پینے سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ سر درد بھی شروع ہوجاتا ہے۔ عقل میں فتور آجاتا ہے اور شراب پینے والا اول فول بکنے لگتا ہے اور بعض دفعہ ناشائستہ حرکات اور گناہ کے کام بھی کر بیٹھتا ہے اور ان سب قباحتوں کے عوض اسے فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے اسے سرور حاصل ہوتا ہے اور غم غلط ہوجاتا ہے۔ جنت کی شراب میں یہ فائدہ تو بدرجہ اتم موجود ہوگا لیکن قباحت کی سب باتوں سے یکسر پاک ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–19

8۔ یعنی اس شراب میں سرور ہی سرور ہوگا۔ باقی جتنے نقصانات اس دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں، وہ کوئی بھی اس میں موجود نہ ہوں گے، یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے کہ دو مختصر فقروں میں اس نے شراب کی ساری ہی خرابیوں کی نفی کردی۔ ھما لفظتان جمعتا جمیع عیوب الخمر (ابن قتیبہ) (آیت) ’ عنھا “۔ عن سببیہ ہے۔ اے بسببھا (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان کے آس پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ‘ آتے جاتے رہیں گے۔ یَطُوْفُ : یعنی خدمت کے لیے ان کے پاس آمدورفت رکھیں گے۔ وِلْدَانٌ : بعض اہل علم نے ترجمہ کیا وہ لڑکے جو خدمت اہل جنت کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ مُخَلَّدُوْنَ : یعنی وہ نہ مریں گے ‘ نہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان میں اور کوئی تغیر آئے گا بلکہ ہمیشہ لڑکوں ہی کی شکل پر رہیں گے۔ فراء نے کہا جو شخص زیادہ عمر کا ہوجائے اسکے بال دو رنگے (کچھ سیاہ ‘ کچھ سفید) ہوجائیں تو عربی میں اسکو مخلد کہتے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا : وہ لڑکے ہی رہیں گے ‘ ان کی حالت میں کوئی تغیر نہیں آئے گا۔ سعید بن جبیر نے مخلدون کا ترجمہ کیا : کانوں میں بالے پہنائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو موت آئے گی اور نہ وہ نکالے جائیں گے یا یہ کہ کفار کی اولاد یہ چیزیں لے کر جنت میں ان کے پاس آمد و رفت کیا کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ : اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ دہر کی آیت (19) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(یطوف علیھم ولدان۔۔۔ ) یطوف علیھم ولدان مخلدون۔ یعنی ایسے لڑکے جو نہیں مریں گے : یہ مجاہد، حسن اور کلبی کا قول ہے۔ نہ وہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان میں کوئی تبدیلی ہوں گی۔ سعید بن جبیر نے کہا : مخلدون کا معنی ہے انہیں بالیاں پہنائی گئیں ہوں گی (1) بالی کو خلدہ کہتے ہیں زیورات کے مجموعہ کو خلدہ کہتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں کنگن پہنائے گئے ہوں گے اس کی مثل فراء سے مروی ہے : شاعر نے کہا : ومخلداب باللحین (2) انہوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں بالیاں پہنائی گئی ہوں گی۔ عکرمہ نے کہا : مخلدون ان پر انعام کیا گیا ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ سب ہم عمر ہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

27۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یطوف علیہ ولدان مخلدون “ (ان کے پاس ایسے لڑکے آتے جاتے رہیں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے) سے مراد ہے کہ ان کی نیکیاں نہیں ہوں گی کہ ان کو بدلہ دیا جائے اور نہ ان کی برائیں ہوں گی کہ ان کو سزادی جائے تو ان کو ہمیشہ ان جگہوں میں رکھا جائے گا (یعنی وہ ہمیشہ جنت والوں کے ارد گرد گشت کرتے رہیں گے۔ 28۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یطوف علیہ ولدان مخلدون سے مراد ایسے آبخورے جن کے دستے نہیں ہوتے اور اباریق سے مراد ایسے آفتابے جن کے دستے ہوتے ہیں۔ آیت ” وکأس من معین “ (اور جاری ہونے والی شراب سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ : گھومیں پھریں گے ان کے گرد ] [وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ : ہمیشگی دیئے ہوئے لڑکے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–24

سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–18

8:۔ ” علی سرر “ یہ ضمیر مقدر کی خبر بعد خبر ہے۔ موضونۃ، زر بافتہ ایسی چارپائیاں جو سونے کی تاروں سے بنی ہوں اور ان میں ہیرے جو ہرات جڑے ہوں۔ خبر اخر للضمیر المحذوف والموضونۃ المنسوجۃ بالذھب مشبکۃ بالدر والیاقوت (بیضاوی) ۔ متکئین اور متقابلین، دونوں علی سرر کے متعلق کے فاعل سے حال ہیں۔ وہ جنت میں زر بافتہ چارپائیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ” یطوف علیہم ولدان مخلدون “ ان کی خدمت کیلئے اور انہیں کھلانے پلانے پر جو خدام مقرر ہیں وہ نہایت خوبصورت کم عمر لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے بڑے نہیں ہوں گے انہم یبقون دائما فی سن الولد ان لا یکبرون ولا یتحولون عن شکل الوصافۃ (بحر ج 8…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَطُوْفُ عَلَيْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۝ 17 ۙ طوف الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها . قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه قيل للخیال : طَيْفٌ. قال تعالی: فَطافَ عَلَيْها طائِفٌ […

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–24

عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ (اور ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے) ان کی خدمت کریں گے۔ وِلْدَانٌ (لڑکے) جمع ولید بمعنی لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ (ہمیشہ رہنے والے ہونگے) وہ لڑکوں کی شکل میں ہمیشہ رہیں گے اس حالت سے نہیں پھریں گے۔ ایک قول یہ ہے ان کے کانوں میں بالیاں ڈالی جائیں گی۔ عرب الْخُلدۃ بالی کو کہتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے یہ اہل دنیا کی وہ اولاد ہے کہ جن کی کوئی نیکی نہ تھی کہ ان کو ثواب ملے اور نہ کوئی گناہ تھا کہ ان کو عذاب دیا جائے۔ حدیث میں ہے جس کو بزاز نے کشف الاستار میں ذکر کیا ہے۔ اولاد کفار اہل جنت کے خدام ہونگے۔ مجمع الزوائد 7/219 کشف الاستار 2172۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–26

13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ) یعنی اہل جنت کی خدمت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔ (کانھم لولوا مکنون۔ الطور 24) ۔ گویا کہ وہ چھپا کر رکھے گئے موتی ہیں۔ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں ُ پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کردے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھو میں پھریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 15] اہل جنت کے خودموں کی صفت کا ذکر وبیان : سو ان مقربین اہل جنت کے خادموں کی صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے پس نہ وہ بوڑھے ہوں گے، اور نہ بگڑیں بدلیں گے، اور صحیح قول کے مطابق یہ جنت ہی کی ایک خاص مخلوق ہوگی، جن کو اہل جنت کی خدمت کے لئے بطور خاص پیدا فرمایا جائے گا، جیسا کہ حوریں کہ وہ بھی وہیں کی ایک خاص مخلوق ہوں گی، جسے اہل جنت کیلئے بطور خاص پیدا فرمایا جائے گا، [ خازن، ابن کثیر، مدارک وغیرہ ] بہرکیف اہل جنت کے خادم ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے، ان کی حیثیت دائمی خدام کی ہوگی اور مجلسی خدام کیلئے ایک خاص سن کے لڑکے ہی زیادہ موزوں، خوش آداب، اور مستعد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:17) یطوف علیہم ولدان مخلدون۔ جملہ مستانفہ ہے۔ یطوف مضارع واحد مذکر غائب طوف طواف (باب نصر) مصدر۔ چکر لگائیں گے۔ چکر لگاتے رہیں گے۔ یعنی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ علیہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان جنتیوں کے لئے ہے جو سابقون میں سے ہوں گے۔ ولدان۔ جنت کے غلمان۔ مخلدون اسم مفعول جمع مذکر۔ اس کا واحد مخلد۔ تخلید (تفعیل) مصدر۔ خلد ایک قسم کی بالیاں ہیں مخلد وہ جس کو بالیاں پہنائی ہوئی ہوں۔ یعنی ایسے غلمان جن کو بالیاں پہنا رکھی ہوں گی۔ یا یہ الخلود سے ہے جس کے معنی فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں اور جب کسی چیز میں عرصہ دراز تک فساد و تغیر پیدا نہ ہو اہل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[4] یہ غلمان (لڑکے) مشرکین کے بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے ہی مرگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–21

اہل جنت کی زندگی 1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) ان لوگوں کے اردگرد اور ان کے روبرو ایسے غلمان اور لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اشیاء ذیل لئے پھرتے ہوں گے۔ یعنی جو چیزیں آگے مذکور ہیں وہ لئے ہوئے ان کے رو برو پیش کرتے ہوں گے وہ چیزیں یہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہیں گے اور ان کے درمیان آئیں جائیں گے 17 ؎ نوجوان لڑکے جو پھرتی سے کام کاج کو کرسکتے ہیں اور نہایت چستی اور پھرتی سے ادھری ادھر جاتے ہیں اور خدمت کے لئے ہر وقت تیار ت ہے ہیں نہ تو وہ اتنے چھوٹے ہوں کہ کام کاج کو جلد نہ انجام دے سکیں اور نہ ہی اتنے بڑے کہ ان کا آنا جانا کسی کے لئے ناگوار گزرے ‘ جو خوبصورت بھی ہوں اور خوب سیرت بھی اور جس کام پر ان کو لگایا جائے نہایت تیزی اور پھرتی سے اس کو سرانجام دے دیں اور اتنی طاقت و قوت بھی رکھتے ہوں کہ ادھر ادھر آنے جانے میں ان کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے وہ لا ریب ہر طبعت کو لبھاتے ہیں اور ان کے آنے جانے سے آدمی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

The reward of As-Sabiqun عَلَىٰ سُرُ‌رٍ‌ مَّوْضُونَةٍ ([ They will be sitting ] on thrones woven with gold...56:15) The word مَّوْضُونَةٍ mawdunah, according to Ibn ` Abbas ؓ ، as recorded by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Baihaqi and others, means 'fabric woven or inwrought with gold thread'. وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ (...by Immortal boys...56:17) meaning that the boys will never grow up, get old or change in shape. The preferred opinion is that the youths of Paradise, like the fair damsels of Paradise, will have been born in Paradise. They will be the servants of the inmates of Paradise. Hadith…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

9 This implies boys who will ever remain boys and stay young. Hadrat 'AIi and Hadrat Hasan Basri say that these will be those children of the people, who died before reaching their maturity; therefore, they will neither have any good works to their credit for which they may be rewarded, nor any evil deeds for which they may be punished, But obviously, this could imply those people who would not deserve Paradise. For, as for the true believers, about them Allah has guaranteed in the Qur'an that their children will be joined with them in Paradise (At-Tur: 21). This is also supported by the…

Read the full tafseer →