مُّتَّكِـِٕیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۟مُّتَّكِــئِيۡنَ عَلَيۡهَا مُتَقٰبِلِيۡنَ
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Reclining on them, facing each other.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
مُّتَّكِـِٕیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۟مُّتَّكِــئِيۡنَ عَلَيۡهَا مُتَقٰبِلِيۡنَ
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Reclining on them, facing each other.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
تکیے لگا ئے آمنے سامنے بیٹھیں گے
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
ایک دوسرے کےسامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
ایک دوسرے کے سامنے ان پر تکیہ لگائے ہوئے۔
ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے
اُن پر تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے،
ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھنے والے (ہوں گے)۔
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوں گے
ٹیک لگائے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
(نہایت آرام و سکون سے) ان پر ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے۔
reclining on them, arrayed face to face;
reclining on them, facing each other.
reclining on them, facing each other.
Reclining thereon, face to face.
Reclining therein face to face.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Reclining on them, facing each other.
facing one another.
Reclining on them, facing one another.
Reclining thereon facing each other.
Reclining on them, facing each other.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
سورة الْوَاقِعَة 9 اس سے مراد ہیں ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، انکی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر ٹھری رہے گی۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہیں جو بالغ ہونے سے پہلے مر گئے، اس لیے نہ ان کی کچھ نیکیاں ہونگی کہ ان کی جزا پائیں اور نہ بدیاں ہونگی کہ ان کی سزا پائیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد صرف وہی اہل دنیا ہو سکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو۔ رہے مومنین صالحین، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی ذریت ان کے ساتھ جنت میں لا ملائی جائے گی (الطور، آیت 21)۔ اسی کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو داؤد طیالسی، طبرانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ، موضونۃ کے متعلق حضرت ابن عباس سے ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ وہ کپڑا جس پر سونے کے تاروں سے کام بنایا گیا ہو۔ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ یہ لڑکے ہمیشہ اسی حالت میں لڑکے ہی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر عمر وغیرہ کا نہ ہوگا، ان جنت کے غلمان کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ حوروں کی طرح یہ بھی جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گے، روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ایک ایک جنتی کے پاس ہزاروں خادم ہوں گے (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔ (متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ 1 کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی ﷺ تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہوجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →متکئین .................... متقبلین (6 5: 61) ” تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ “ نہایت آرام سے اور بےفکری سے۔ کوئی غم نہیں ، کوئی مشکل نہیں ، نعمتوں میں ڈوبے ہوئے نہایت اطمینان سے۔ ان نعمتوں کے چلے جانے اور ختم ہوجانے کا تو کوئی خوف نہیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے محو گفتگو ہوں گے۔
Read the full tafseer →2 یعنی نشست ایسی ہوگی کہ کسی ایک کی پیٹھ دوسرے کی طرف نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 15 ‘ 16{ عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ - مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ۔ } ”جڑائو تختوں پر ‘ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
10 شراب کے نقصانات اور فائدے :۔ دنیا کی شراب میں خرابیاں یہ ہوتی ہے کہ اس کا مزہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔ بو ناگوار ہوتی ہے، پینے سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ سر درد بھی شروع ہوجاتا ہے۔ عقل میں فتور آجاتا ہے اور شراب پینے والا اول فول بکنے لگتا ہے اور بعض دفعہ ناشائستہ حرکات اور گناہ کے کام بھی کر بیٹھتا ہے اور ان سب قباحتوں کے عوض اسے فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے اسے سرور حاصل ہوتا ہے اور غم غلط ہوجاتا ہے۔ جنت کی شراب میں یہ فائدہ تو بدرجہ اتم موجود ہوگا لیکن قباحت کی سب باتوں سے یکسر پاک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
8۔ یعنی اس شراب میں سرور ہی سرور ہوگا۔ باقی جتنے نقصانات اس دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں، وہ کوئی بھی اس میں موجود نہ ہوں گے، یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے کہ دو مختصر فقروں میں اس نے شراب کی ساری ہی خرابیوں کی نفی کردی۔ ھما لفظتان جمعتا جمیع عیوب الخمر (ابن قتیبہ) (آیت) ’ عنھا “۔ عن سببیہ ہے۔ اے بسببھا (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ثلۃ من الاولین و قلیل من الآخرین، ثلۃ ثاء کے ضمہ کے ساتھ، جماعت کو کہتے ہیں، زمخشری نے کہا ہے کہ بڑی جماعت کو کہتے ہیں (روح المعانی) یہاں اولین و آخرین سے کیا مراد ہے اولین و آخرین کے مصداق کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت سے نبی ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گذری ہیں وہ اولین ہیں اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں، اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزار ہابرس کے دوران جتنے انسان گذرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی…
Read the full tafseer →تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے مُتَقَابِلِیْنَ : ہناد نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ (کسی کی پشت کسی کی طرف نہیں ہوگی) کوئی دوسرے کی پشت نہیں دیکھے گا۔ بغوی نے متقابلین کا یہی مطلب بیان کیا۔ اللہ نے اہل جنت کے حسن معاشرت ‘ تہذیب اخلاق اور خلوص دوستی کو متقابلین کے لفظ سے ظاہر کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15۔ 16) او وہ مقرب لوگ سونے اور چاندی کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر جن پر موتی اور یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے تکیہ لگائے آمنے سامنے خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (44) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
علی سرر موضونۃ۔ سبقت لے جانے والے جنت میں پلنگوں پر ہوں گے۔ سرر، سریر کی جمع ہے موضونۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سونے سے بنے ہوں گے۔ عکرمہ نے کہا : ان میں موتی اور یاقوت جڑیں گے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا : موضونۃ وہ صف در صف ہوں گے جس طرح ایک اور موقع پر فرمایا : علی سرر موضونۃ ان سے اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : وہ سونے سے بنے ہوں گے۔ تفاسیر میں وہ سونے کی تاروں سے بنے ہوں گے جن میں موتی، یاقوت اور زبر جد جڑیں ہوں گے۔ وضن کا معنی بننا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : وضن فلان الحجر ولآجر بعضہ فوق بعض فھو موضون فلاں نے پتھر اور اینٹ کو ایک دوسرے پر رکھا پس انہیں پیوست کردیا گیا۔ درع…
Read the full tafseer →25۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” متکئین علیہا متقبلین “ (تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے) یعنی ان میں کوئی اپنے ساتھی کی گدی کو نہیں دیکھے گا۔ (کیونکہ وہ آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے) ۔ 26۔ ابن جریر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت ” متکئین علیہا ناعمین “۔
Read the full tafseer →[مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْهَا : ٹیک لگانے والے ہوتے ہوئے ان پر ] [مُتَقٰبِلِيْنَ : باہم آمنے سامنے ہونے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
8:۔ ” علی سرر “ یہ ضمیر مقدر کی خبر بعد خبر ہے۔ موضونۃ، زر بافتہ ایسی چارپائیاں جو سونے کی تاروں سے بنی ہوں اور ان میں ہیرے جو ہرات جڑے ہوں۔ خبر اخر للضمیر المحذوف والموضونۃ المنسوجۃ بالذھب مشبکۃ بالدر والیاقوت (بیضاوی) ۔ متکئین اور متقابلین، دونوں علی سرر کے متعلق کے فاعل سے حال ہیں۔ وہ جنت میں زر بافتہ چارپائیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ” یطوف علیہم ولدان مخلدون “ ان کی خدمت کیلئے اور انہیں کھلانے پلانے پر جو خدام مقرر ہیں وہ نہایت خوبصورت کم عمر لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے بڑے نہیں ہوں گے انہم یبقون دائما فی سن الولد ان لا یکبرون ولا یتحولون عن شکل الوصافۃ (بحر ج 8…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْہَا مُتَقٰبِلِيْنَ 16 تكأ المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله، ( ت ک ء ) التکاء ( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔ ( قبل) مُقَابَلَةُ والتَّقَابُلُ : أن يُقْبِلَ بعضهم علی بعض، إمّا بالذّات، وإمّا بالعناية والتّوفّر والمودّة . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →16 : مُّتَّکِئِیْنَ (وہ تکیہ لگانے والے ہونگے) یہ علیؔ کی ضمیر سے حال ہے۔ اور وہی اس میں عامل ہے تقدیر کلام اس طرح ہے استقروا علیھا متکئینتم استقرار اختیار کرو اس پر اس حال میں کہ وہ تکیہ لگانے والے ہونگے۔ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ (آمنے سامنے بیٹھنے والے ہونگے) وہ ایک دوسرے کے چہرہ کو دیکھیں گے ایک دوسرے کی پشت کی طرف دیکھنا نہ ہوگا۔ ان کی یہ صفت اس لئے بیان کی گئی تاکہ ان کے حسن معاشرت، تہذیب اخلاق اور خالص مودت پر دلالت کرے۔ نحو : متقابلین بھی حال ہے۔
Read the full tafseer →15 ۔” علی سرر موضونۃ “ بنے ہوئے۔ جیسا کہ چٹائی بنی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہوتے ہیں۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جو سونے اور جواہرات کے ساتھ بنی جائے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” موضونۃ مصفوفۃ “ کے معنی میں ہے یعنی صف در صف بچھے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →(مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْهَا) یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے (مُتَقٰبِلِيْنَ ) آمنے سامنے۔ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہوگا۔
Read the full tafseer →[ 13] ان کے انداز نشست کا ذکر وبیان : سو ان کے انداز نشست کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے جو کہ علامت ہے صحت جسم، اطمینان قلب اور فارغ البالی کی، جو کہ اللہ پاک کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہیں، اور یہ چیز وہاں پر اہل جنت کو بدرجہء کمال نصیب ہوں گی، اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین، سو یہ خوش نصیب وہاں پر نہایت آرام و سکون اور امن و اطمینان کے ساتھ ان عظیم الشان تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، اور پھر ان کا یہ سرور و کیف عارضی اور وقتی نہیں ہوگا بلکہ ابدی و دائمی ہوگا جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر " خالدین فیہا " اور "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 4 یعنی کبھی جوان یا بوڑھے نہ ہوگے۔
Read the full tafseer →(56:16) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ تکیہ لگانے والے۔ علیہا ای علی سرر (پلنگوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے) ۔ متقبلین : اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ تقابل (تفاعل) مصدر آمنے سامنے (بیٹھے ہوں گے) ۔ متکئین ، متقبلین دونوں حال ہیں ضمیر فی الجز علی سرر سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[4] یہ غلمان (لڑکے) مشرکین کے بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے ہی مرگئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
اہل جنت کی زندگی 1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…
Read the full tafseer →(16) تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یعنی ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے ہونگے۔ موضونتہ سونے کے تاروں سے بنا ہوا تخت جس میں موتی اور یاقوت کی مرصع کاری ہو اور جواہرات جڑے ہوئے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →ایک دوسرے کے آمنے سامنے تکئے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے 16 ؎ یہ سب اہل جنت جو (المقربون) اور (السبقون) کے خطاب سے نوازے گیی ہیں اکٹھے ایک مجلس میں بیٹھیں گے یا اپنے محلات میں جو جنت میں ان خے لئے بنائے گئے ہیں ان میں اپنے اپنے محلات میں بیتھنے کا ذکر ہے اگر یہ بات ہے تو آمنے سامنے بیٹھنی سے مراد اہل جنت کا اپنی ازواج کے ساتھ مل کر بیٹھنے کا ذکر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے پلنگوں پر جو نہایت خوبصورت بستروں والے اور نہایت ترتیب کے ساتھ بچھائے گئے ہوں گے وہاں وہ بیٹھیں گے اور اگر یہ بیٹھنا اہل مجلس کا ہے تو بھی سب کامل کر بیٹھنا اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور اچھی تعریف کے گیت گانا ان کا کام ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
The reward of As-Sabiqun عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ([ They will be sitting ] on thrones woven with gold...56:15) The word مَّوْضُونَةٍ mawdunah, according to Ibn ` Abbas ؓ ، as recorded by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Baihaqi and others, means 'fabric woven or inwrought with gold thread'. وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ (...by Immortal boys...56:17) meaning that the boys will never grow up, get old or change in shape. The preferred opinion is that the youths of Paradise, like the fair damsels of Paradise, will have been born in Paradise. They will be the servants of the inmates of Paradise. Hadith…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
9 This implies boys who will ever remain boys and stay young. Hadrat 'AIi and Hadrat Hasan Basri say that these will be those children of the people, who died before reaching their maturity; therefore, they will neither have any good works to their credit for which they may be rewarded, nor any evil deeds for which they may be punished, But obviously, this could imply those people who would not deserve Paradise. For, as for the true believers, about them Allah has guaranteed in the Qur'an that their children will be joined with them in Paradise (At-Tur: 21). This is also supported by the…
Read the full tafseer →