عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ۟ۙعَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍۙ
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
— Fateh Muhammad Jalandhari
On thrones woven [with ornament],
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ۟ۙعَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍۙ
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
— Fateh Muhammad Jalandhari
On thrones woven [with ornament],
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
مرصع تختوں پر
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر
سونے کے تاروں سے بنی ہوئی اونچی نشستوں پر۔
جڑاؤ تختوں پر ہوں گے
(یہ مقرّبین) زر نگار تختوں پر ہوں گے،
سونے اور جواہر سے بنے ہوئے تختوں پر (آرام کر رہے ہوں گے)۔
مرصع تختوں پر
جڑا، تختوں پر ،
(برا جمان ہوں گے یہ) سونے کی تاروں سے بنے ہوئے عظیم الشان تختوں پر
یہ (مقربین) سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر
جڑائو تختوں پر
قیمتی پتھروں سے جڑاؤ تختوں پر۔
They (will be seated) on gold-encrusted couches,
(They will be sitting) on thrones woven with gold,
(They will be sitting) on thrones woven with gold,
(They will be) on thrones, Mawdunah.
On lined couches,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
On thrones woven [with ornament],
They will recline on jewelled couches
On thrones decorated,
On couches in wrought with gold.
(They will be) on Thrones encrusted (with gold and precious stones),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
سورة الْوَاقِعَة 9 اس سے مراد ہیں ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، انکی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر ٹھری رہے گی۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہیں جو بالغ ہونے سے پہلے مر گئے، اس لیے نہ ان کی کچھ نیکیاں ہونگی کہ ان کی جزا پائیں اور نہ بدیاں ہونگی کہ ان کی سزا پائیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد صرف وہی اہل دنیا ہو سکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو۔ رہے مومنین صالحین، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی ذریت ان کے ساتھ جنت میں لا ملائی جائے گی (الطور، آیت 21)۔ اسی کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو داؤد طیالسی، طبرانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ، موضونۃ کے متعلق حضرت ابن عباس سے ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ وہ کپڑا جس پر سونے کے تاروں سے کام بنایا گیا ہو۔ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ یہ لڑکے ہمیشہ اسی حالت میں لڑکے ہی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر عمر وغیرہ کا نہ ہوگا، ان جنت کے غلمان کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ حوروں کی طرح یہ بھی جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گے، روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ایک ایک جنتی کے پاس ہزاروں خادم ہوں گے (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔ (متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ 1 کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی ﷺ تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہوجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →علی ............ موضونة (6 5: 61) ” مرصع تختوں پر “ جن کے اندر نہایت ہی قیمتی موتی اور دھاتیں لگی ہوں گی۔
Read the full tafseer →1 جو سونے کے تاروں سے بنے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 15 ‘ 16{ عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ - مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ۔ } ”جڑائو تختوں پر ‘ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔“
Read the full tafseer →9 مَوْضُوْنَۃٍ ۔ وَضَنٌ کے اصل معنی زرہ بافی کے ہیں اور استعارۃً کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ بننے پر بولا جاتا ہے اور مَوْضُوْنٌ یا مَوْضُوْنَۃٌ یعنی باریک بنی ہوئی یا سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
8۔ یعنی اس شراب میں سرور ہی سرور ہوگا۔ باقی جتنے نقصانات اس دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں، وہ کوئی بھی اس میں موجود نہ ہوں گے، یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے کہ دو مختصر فقروں میں اس نے شراب کی ساری ہی خرابیوں کی نفی کردی۔ ھما لفظتان جمعتا جمیع عیوب الخمر (ابن قتیبہ) (آیت) ’ عنھا “۔ عن سببیہ ہے۔ اے بسببھا (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ثلۃ من الاولین و قلیل من الآخرین، ثلۃ ثاء کے ضمہ کے ساتھ، جماعت کو کہتے ہیں، زمخشری نے کہا ہے کہ بڑی جماعت کو کہتے ہیں (روح المعانی) یہاں اولین و آخرین سے کیا مراد ہے اولین و آخرین کے مصداق کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت سے نبی ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گذری ہیں وہ اولین ہیں اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں، اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزار ہابرس کے دوران جتنے انسان گذرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی…
Read the full tafseer →وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر مَّوْصُوْنَۃٍ : وضن ‘ زرہ کی بناوٹ۔ بطور استعارہ ہر مضبوط بناوٹ کو وضن کہا جاتا ہے۔ سعید بن منصور ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بوساطت مجاہد اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ موضونۃ کا معنی ہے سونے (کے تاروں) سے بنے ہوئے کچھ مفسروں نے کہا : ملے ہوئے سونے اور جواہر بنے ہوئے۔ ضحاک نے کہا : قطار میں لگے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15۔ 16) او وہ مقرب لوگ سونے اور چاندی کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر جن پر موتی اور یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے تکیہ لگائے آمنے سامنے خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ :”سرر“ ”سریر“ کی جمع ہے ، جس کا معنی تخت بھی ہے اور چار پائی بھی اور ”وضنن بضن وضنا“ (ض) بننا ، مضبوطی اور باریکی سے بننا ، سونے اور جواہر کے ساتھ بننا۔ طبری نے مجاہد کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول ذکر فرمایا ہے :”مرمولۃ بالذھب ، ای منسوجۃ بالذھب“ یعنی سونے کے تاروں کے ساتھ بنے ہوئے“۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
علی سرر موضونۃ۔ سبقت لے جانے والے جنت میں پلنگوں پر ہوں گے۔ سرر، سریر کی جمع ہے موضونۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سونے سے بنے ہوں گے۔ عکرمہ نے کہا : ان میں موتی اور یاقوت جڑیں گے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا : موضونۃ وہ صف در صف ہوں گے جس طرح ایک اور موقع پر فرمایا : علی سرر موضونۃ ان سے اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : وہ سونے سے بنے ہوں گے۔ تفاسیر میں وہ سونے کی تاروں سے بنے ہوں گے جن میں موتی، یاقوت اور زبر جد جڑیں ہوں گے۔ وضن کا معنی بننا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : وضن فلان الحجر ولآجر بعضہ فوق بعض فھو موضون فلاں نے پتھر اور اینٹ کو ایک دوسرے پر رکھا پس انہیں پیوست کردیا گیا۔ درع…
Read the full tafseer →جنت کے پلنگ کا ذکر 19۔ ابن جریر وابن المنذر و بیہقی نے البعث ونشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علی سرر موضونۃ (وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر ہوں گے) یعنی ان پلنگوں پر جو بچجھے ہوئے ہوں گے۔ 20۔ سعید بن منصور وہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے آیت علی سرر موضونۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ان پلنگوں پر جو بنے ہوئے ہوں گے سونے کی تاروں سے۔ 21۔ ابن ابی شیبہ وہناد ووعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت موضونہ سے مراد ہے سونے کی تاروں سے بنا ہوا۔ 22۔ ہناد نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 23۔ عبد بن…
Read the full tafseer →[عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ : قیمتی جڑاؤ کئے ہوئے تختوں پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
8:۔ ” علی سرر “ یہ ضمیر مقدر کی خبر بعد خبر ہے۔ موضونۃ، زر بافتہ ایسی چارپائیاں جو سونے کی تاروں سے بنی ہوں اور ان میں ہیرے جو ہرات جڑے ہوں۔ خبر اخر للضمیر المحذوف والموضونۃ المنسوجۃ بالذھب مشبکۃ بالدر والیاقوت (بیضاوی) ۔ متکئین اور متقابلین، دونوں علی سرر کے متعلق کے فاعل سے حال ہیں۔ وہ جنت میں زر بافتہ چارپائیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ” یطوف علیہم ولدان مخلدون “ ان کی خدمت کیلئے اور انہیں کھلانے پلانے پر جو خدام مقرر ہیں وہ نہایت خوبصورت کم عمر لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے بڑے نہیں ہوں گے انہم یبقون دائما فی سن الولد ان لا یکبرون ولا یتحولون عن شکل الوصافۃ (بحر ج 8…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ 15 ۙ سَّرِيرُ : الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ، وسُرُرٌ ، قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] ، وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] ، وسَرِيرُ الميّت تشبيها به في الصّورة، وللتّفاؤل بالسّرور الذي يلحق الميّت برجوعه إلى جوار اللہ تعالی، وخلاصه من سجنه المشار إليه بقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الدّنيا سجن المؤمن» «1» . السریر ( تخت ) وہ جس کی ( ٹھاٹھ سے ) بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →جنت کے مناظر : 15 : عَلٰی سُرُرٍ (تختوں پر) سرر جمع سریر جیسا کثیب و کثب۔ مَّوْضُوْنَۃٍ (سونے کے تاروں سے بنے ہوئے) جو سونے کے تاروں اور موتیوں اور یاقوت سے بنے ہوئے ہونگے۔
Read the full tafseer →14 ۔” وقلیل من الآخرین “ یعنی اس امت میں سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں جن لوگوں نے آدم (علیہ السلام) کے وقت سے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا معائنہ کیا اور ان کی تصدیق کی۔ یہ ان سے زیادہ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا معائنہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →اور مقربین اللہ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو (عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ) سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چارپائیوں پر ہوں گے جو سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گی ان چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →[ 12] مقربین کے کیف و سرور کی ایک جھلک کا ذکر وبیان : سو اس سے مقربین کے جنت میں کیف و سرور کی ایک جھلک پیش فرمائی گئی ہے۔ چناچہ پہلے ان کی وہاں پر نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ براجمان ہوں گے وہاں پر سونے کی تاروں سے بنے ہوئے عظیم الشان تختوں پر " سررٌ " جمع ہے سریر کی، جیسے کتب جمع ہے کتاب کی اور تنوین تعظیم و تفحیم ہے، یعنی وہ تخت نہایت ہی عظیم الشان ہوں گے، اور ان کی عظمت شان کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ سونے کی تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، اور ان میں ہیروں اور موتیوں کا جڑاؤ کیا گیا ہوگا، جیسا کہ تمام ثقہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 4 یعنی کبھی جوان یا بوڑھے نہ ہوگے۔
Read the full tafseer →(56:15) سرر جمع ہے۔ سریر کی ، بمعنی تخت ، چارپائی۔ پلنگ وغیرہ موصوف۔ مرضونۃ صفت، اسم مفعول کا صیغہ مؤنث، وضن (باب ضرب) مصدر سے سونے کے پتروں اور تاروں سے بنے ہوئے ۔ جڑاؤ۔ (محلی) زرہ کی کڑیوں کی طرح بنے ہوئے (بغوی) قطار در قطار رکھے ہوئے (ضحاک) ۔ سونے کے تاروں سے گھنی بناوٹ والے۔ جواہرات سے جڑے ہوئے (عام اہل تفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[4] یہ غلمان (لڑکے) مشرکین کے بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے ہی مرگئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
اہل جنت کی زندگی 1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…
Read the full tafseer →(15) یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے جڑائو تختوں پر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →مقربین سونے کے مرصع تختوں پر ہوں گے 15 ؎ زیر نظر آیت سے ان (المقربون) اور (السابقون) کے انعامات کا ذکر شروع ہو رہا ہے کہ جنت میں جو انعامات ان کو دیئے جانے والے ہیں ان میں سے پہلے انعام کا ذکر اس جگہ جو کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ جنت میں مرصع تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (سرر) تخت سریر کی جم ع ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ سریر وہ ہے جس پر سرور سے بیٹھا جائے اور ظاہر ہے کہ یہ ارباب نعمت اور حکتم ہی کے پاس ہوتا ہے اس کی جمع اسرۃ اور سرر ہے موضرنۃ اسم مفعول واحد مونث وضن مصدر باب ضرب سونے کے پتھروں اور تاروں سے بنے ہوئے جڑائو (محلی) زرہ کی کڑیوں کی طرح بنے ہوئے۔ (بغوی) سونے کے تاروں سے گھنی بناوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
The reward of As-Sabiqun عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ([ They will be sitting ] on thrones woven with gold...56:15) The word مَّوْضُونَةٍ mawdunah, according to Ibn ` Abbas ؓ ، as recorded by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Baihaqi and others, means 'fabric woven or inwrought with gold thread'. وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ (...by Immortal boys...56:17) meaning that the boys will never grow up, get old or change in shape. The preferred opinion is that the youths of Paradise, like the fair damsels of Paradise, will have been born in Paradise. They will be the servants of the inmates of Paradise. Hadith…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
9 This implies boys who will ever remain boys and stay young. Hadrat 'AIi and Hadrat Hasan Basri say that these will be those children of the people, who died before reaching their maturity; therefore, they will neither have any good works to their credit for which they may be rewarded, nor any evil deeds for which they may be punished, But obviously, this could imply those people who would not deserve Paradise. For, as for the true believers, about them Allah has guaranteed in the Qur'an that their children will be joined with them in Paradise (At-Tur: 21). This is also supported by the…
Read the full tafseer →