وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۟ؕوَقَلِيۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِيۡنَؕ
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And a few of the later peoples,
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۟ؕوَقَلِيۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِيۡنَؕ
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And a few of the later peoples,
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
اور پچھلوں میں سے کم
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے
اور بعد کے لوگوں میں سے تھوڑے۔
اور پچھلوں میں سے تھوڑے
اور پچھلے لوگوں میں سے (ان میں) تھوڑے ہوں گے،
اور تھوڑے سے پچھلوں سے ہوں گے۔
اور پچھلوں میں سے کم
اور تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔
اور تھوڑے پچھلوں میں سے
اور تھوڑے سے پچھلوں میں۔
اور تھوڑے ہوں گے پچھلوں میں سے۔
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
and a few from later times.
and a few from the later ones.
and a few from the later ones.
And a few of those will be from the later ones.
And a few of those of later time.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And a few of the later peoples,
and only a few of them from the later generations.
And a few from among the latter.
And a few from the later generations.
And a few from those of later times.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
سورة الْوَاقِعَة 8 مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اولین اور آخرین یعنی اگلوں اور پچھلوں سے مراد کون ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ آدم ؑ کے وقت سے نبی ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گزری ہیں وہ اولین ہیں، اور نبی ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزارہا برس کے دوران میں جتنے انسان گزرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی، اور حضور کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی تعداد کم ہوگی۔ دوسرا گروپ کہتا ہے کہ یہاں اولین و آخرین سے مراد نبی ﷺ کی امت کے اولین و آخرین ہیں جن میں سابقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، لفظ ثلہ بضم ثاء جماعت کو کہتے ہیں اور زمخشری نے کہا کہ بڑی جماعت کو ثلہ کہا جاتا ہے (روح) اولین و آخرین سے کیا مراد ہے یہاں اولین و آخرین کی تقسیم کا دو جگہ ذکر آیا ہے، اول سابقین مقربین کے سلسلہ میں، دوسرا اصحاب الیمین یعنی عامہ مومنین کے سلسلے میں، پہلی جگہ یعنی سابقین میں تو یہ فرق کیا گیا ہے کہ یہ سابقین مقربین اولین میں سے ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور آخرین میں سے کم ہوں گے، جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے اور دوسری جگہ اصحاب الیمین کے بیان میں اولین و آخرین دونوں میں لفظ ثلہ وارد ہوا ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ اصحاب یمین اولین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(سالقون کا صلہ)۔ چونکہ گل سر سبد اور سر خیل قافلہ کی حیثیت انہی (سابقون) کو حاصل ہوگی اس درجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہوگا۔ ’ مقربین ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانہ (جنت النعیم) ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے آگے ان کی جنت سے متعلق بعض ارشادات آ رہے ہیں۔ (ثلثۃ من الاولین و قلیل من الاخرین)۔ اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ 1 کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی ﷺ تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہوجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ثلة ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم “ یہ محدود تعداد کے لوگ ہوں گے۔ نہایت پاک لوگ ، اگلوں میں سے یہ زیادہ ہوں گے۔ روایات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ وہ ایمان کی طرف لپکنے والے عالی مقام لوگ ہیں جو اسلام سے پہلے کی امتوں میں سے کسی نبی کی دعوت پر پہلے آئے اور آخرین وہ ہوں جو اسلام کی طرف پہلے لپکے اور جنہوں نے اسلام کی راہ میں آزمائش برداشت کیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اولین اور آخرین امت محمدیہ میں سے ہیں۔ پس اولین صدر اول کے لوگ ہیں اور آخرین بعد کے ادوار میں آنے والے لوگ ہیں۔ اس قول کو علامہ ابن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ حسن اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " پہلے کہا، پہلی امتوں کو، اور پچھلی یہ امت (محمدیہ ﷺ یا پہلے اسی امت کے (مراد ہوں) یعنی اعلیٰ درجہ کے لوگ پہلے بہت ہوچکے ہیں۔ پیچھے کم ہوتے ہیں۔ " (تنبیہ) اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہ دونوں احتمال بیان کیے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے دوسرے احتمال کو ترجیح دی اور روح المعانی میں طبرانی وغیرہ سے ایک حدیث ابو بکرہ کی بسند حسن نقل کی ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے آیت کے متعلق فرمایا " ہُمَا جَمِیْعًا مِنْ ہٰذِہِ الامۃ۔ " واللہ اعلم۔ ابن کثیر نے ایک تیسرا مطلب آیت کا بیان کیا ہے۔ احقر کو وہ پسند ہے۔ یعنی ہر امت کے پہلے طبقہ میں نبی کی صحبت یا قرب عہد کی برکت سے اعلیٰ درجہ کے…
Read the full tafseer →آیت 14{ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ } ”اور تھوڑے ہوں گے پچھلوں میں سے۔“ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں اَوَّلِیْنسے پہلی امتیں اور آخَرِین سے یہ امت مراد ہے۔ لیکن اگر اس مفہوم کو درست سمجھا جائے تو اس سے الٹا یہ ثابت ہوگا کہ پہلی امتیں اس امت کے مقابلے میں بہتر اور افضل تھیں۔ اس لیے زیادہ صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے کو ہر امت کے اولین اور آخرین سے متعلق سمجھا جائے۔ یعنی ہر امت کے اَوَّلِیْن ہر نبی کے ابتدائی پیروکاروں میں سے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی ‘ جبکہ ہر امت کے آخِرِیْنَ میں سے بہت کم لوگ اس درجے تک پہنچ پائیں گے۔ اور یہی معاملہ اس امت کا بھی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
8 سابقون اوّلون سے مراد ؟ ان دو آیات میں اولین اور آخرین کی تعیین میں اختلاف کی بنا پر ان آیات کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اولین سے مراد سابقہ امتوں کے لوگ لیے جائیں اور آخرین سے مراد اس امت کے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ سابقہ انبیاء پر ایمان لانے والوں، حق کے معرکہ میں دوسروں سے آگے نکل جانے والوں اور خیر و بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے والوں کی تعداد اس امت کے سابقین کی تعداد سے بہت زیادہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہماری ہی امت مسلمہ کے لوگ ہوں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اولین یعنی صحابہ کرام ؓ تابعین، تبع تابعین۔ میں سے سابقین کی تعداد آخرین سے بہت زیادہ ہوگی۔…
Read the full tafseer →7۔ یعنی امت محمدیہ میں۔ والمراد بالاخرین ھذہ الامۃ (ابن کثیر) ملاحظہ ہو حاشیہ ماقبل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ثلۃ من الاولین و قلیل من الآخرین، ثلۃ ثاء کے ضمہ کے ساتھ، جماعت کو کہتے ہیں، زمخشری نے کہا ہے کہ بڑی جماعت کو کہتے ہیں (روح المعانی) یہاں اولین و آخرین سے کیا مراد ہے اولین و آخرین کے مصداق کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت سے نبی ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گذری ہیں وہ اولین ہیں اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں، اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزار ہابرس کے دوران جتنے انسان گذرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی…
Read the full tafseer →و قلیل من الاخرین . اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(13۔ 14) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں۔ ان مقربین کا ایک بڑا گروہ تو اگلی امتوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے یعنی رسول اکرم کی امت میں سے اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں گروہ رسول اللہ کی امت میں سے ہوں گے۔ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول اکرم اور صحابہ کرام اس آیت کے نزول کی وجہ سے غمگین ہوئے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ شان نزول : ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (الخ) امام احمد بن منذر اور ابن ابی حاتم نے سند غیر معروف کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ :”ثلۃ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے ، ایک بڑی جماعت۔ اللہ تعالیٰ نے سابقون کے متعلق ”ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ“ اور اصحاب الیمین کے متعلق ”ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ“ فرمایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں جگہ ”الاولین“ اور ”الاخرین“ سے مراد کیا ہے ؟ تو اس کے متعلق اہل علم کے دو قول ہیں ، ایک یہ کہ ”الاولین“ سے مراد پہلی امتیں ہیں اور ’ ’ الاخرین“ سے مراد ہماری امت ہے۔ انہیں ”الاخرین“ اس لیے کہا گیا کہ وہ تمام امتوں میں سے آخری امت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سابقون پہلی امتوں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(ثلۃ من الاولین۔۔۔۔ ) ثلۃ من الاولین۔ گزری ہوئی امتوں میں سے ایک جماعت (1) وقلیل من الاخرین۔ یعنی جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ایک جماعت ان میں سے جو اس امت سے قبل گزر چکے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کے صحابہ میں سے تھوڑے (2) اے اللہ ! ہمیں اپنے کرم کے ساتھ ان میں سے بنا دے۔ انہیں قلیل ما قبل کی طرف نسبت کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔ کیونکہ پہلے انبیاء بہت زیادہ ہیں تو ان میں سے ایمان کی طرف سبقت لے جانے والے بھی زیادہ ہیں۔ ہماری امت میں سے جنہوں نے تصدیق کی طرف سبقت کی ان پر ان کی تعداد بہت زیادہ ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
4 سبقت کرنے والوں کی چار قسمیں 6۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسبقون السبقون سے مراد ہے کہ یوشع بن نون آگے بڑھے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف۔ اور آل یسین کے مومن آگے بڑھے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اور علی بن ابی طالب ؓ آگے بڑھے رسول اللہ ﷺ کی طرف (اور سبقت لے گئے ) ۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبقت کرنے والے قیامت کے دن چار قسم کے ہوں گے۔ بس میں عربوں سے سبقت لے جانے والا ہوں اور سلمان ؓ اہل فارس سے سبقت لے جانے والے ہیں اور حضرت بلال ؓ اہل حبشہ سے سبقت لے جانے والے ہیں اور صہیب ؓ اہل روم میں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ 8۔…
Read the full tafseer →[وَقَلِيْلٌ: اور تھوڑے ہوں گے ] [مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ : آخری لوگوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
سابقین اولین کے لیے سب سے بڑا انعام : حضرات سابقین کے بارے میں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ0011﴾ فرمایا، قرب الٰہی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ساتھ ہی ﴿فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ 0012﴾ بھی فرمایا کہ یہ حضرات نعمت والے باغیچوں میں ہوں گے، پھر ان حضرات کی اجمالی تعداد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ0013 وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ0014﴾ یعنی یہ جو سابقین مقربین بندے ہوں گے ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے سے لوگ بعدوالوں میں سے ہوں گے، معلوم ہوا کہ پہلی امتوں میں سے بشمول حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سابقین اولین زیادہ ہوں گے جنہیں ﴿ ثُلَّةٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
7:۔ ” ثلۃ من الاولین۔ الایۃ “ ثلۃ، کثیرۃ یعنی بکثرت۔ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ خبر مبتدا محذوف ای ھم ثلۃ (مظہری ج 9 ص 167) ۔ ای ھم ثلہ والثلۃ الامۃ من الناس کثیرہ (مدارک ج 4 ص 163) ۔ اولین سے مراد امت محمدیہ کے اولین اور آخرین سے امت محمدیہ کے آخرین مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ سے جو لوگ سابقین کا رتبہ پائیں گے وہ اکثر اور زیادہ تر صدر اول کے مومنین (صحابہ، تابعین اور اتباع تابعین ؓ ہوں گے اور بعد والوں میں یہ رتبہ پانے والے تھوڑے ہوں گے کیونکہ یہ مرتبہ کامل اتباع سے ملتا ہے اور کمال اتباع صدر اول ہی میں تھا اور اس کے بعد مرور ایام کے ساتھ ساتھ اتباع میں ضعف آتا چلا گیا لیکن اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ثُـلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 14 ۭ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ترکیب : ثلۃ مبتدائ۔ وھی القطعۃ والفرقۃ من ثللت الشیء اذاقطعۃ وقلیل معطوف علی المبتداء علی سررا لخ خبروقیل ھم ثلۃ سرر بضم السین والراء الاولیٰ وقریٔ بفتح الراء وھی لغۃ جمع سر 1 ؎ یر موضونۃ منسوجۃ والضن النسج المضاعف یقال وضن الشیء یضنہ فھوموضون ووضین متکئین و متقابلین حالان من الضمیر فی الخبر وقیل متقابلین حال من الضمیر فی متکئین یطوف مستانقہ ویجوزان یکون حالا باکواب متعلق بیطوف اکواب جمع کو ب (کوزہ بےدستہ) صراح۔ واباریق جمع ابریق کو زہ بادستہ معطوف علی اکواب وحوربالرفع علیٰ انہ معطوف علیٰ ولدان اولھم حورویقرء بالنصب علی تقدیر یعطون وبالجر عطفاً علی اکواب والحورجمع حوراء والعین جمع عیناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
اُوْلٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ ثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 11 تا 14) (وہی لوگ مقرب ہوں گے۔ نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ اگلوں میں سے بہت ہوں گے۔ اور پچھلوں میں تھوڑے ہوں گے۔ ) سابقون کا اعزاز جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی تائید و نصرت کے لیے سب سے آگے بڑھ کر قربانیاں دیں اور خدمت انجام دی وہی لوگ سب سے آگے بڑھنے والے ہوں گے۔ اور وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوں گے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنھیں گل سرسبد اور سرخیلِ قافلہ کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس لیے سب سے پہلے ان کا ذکر فرمایا گیا۔ انھیں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔ اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں…
Read the full tafseer →14 : وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ (اور پچھلے لوگوں میں سے تھوڑے ہونگے) اور یہ آدم (علیہ السلام) سے محمد ﷺ تک تمام امتوں سے ہونگے۔ قلیل من الآخرین اس سے محمد ﷺ کی امت مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ من الاولین سے اس امت کے متقدمین اور آخرینؔ سے امت کا پچھلا طبقہ مراد ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ دونوں طبقے میری امت سے ہیں۔ ( طبری۔ ابن عدی، بحو الٰہ کشاف)
Read the full tafseer →13 ۔ ثلۃ من الاولین “ گزشتہ امتوں میں سے آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ہمارے نبی (علیہ السلام) کے زمانہ تک اور ” ثلۃ “ وہ جماعت جن کی تعداد شمار میں نہ آسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →یہ آیت کریمہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔
Read the full tafseer →[ 11] زمرہ مقربین میں شامل پچھلوں کا ذکر وبیان : سو زمرہ مقربین میں شامل دوسرے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تھوڑے سے پچھلوں میں سے ہوں گے۔ یہاں کثرت سے مراد پہلی امتوں کی کثرت ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بھی ہوگی، اور ان کے خواص کی بھی، اور قلت سے مراد اس امت مسلمہ کی قلت ہے، پس امتوں کے خواص اس امت کے خواص سے زیادہ ہوں گے، اس قول کو بہت سے ثقہ علمائِ کرام نے اختیار کیا اور ترجیح دی ہے، جیسے ابن حریر الطبری، قرطبی، بیضاوی اور آلوسی وغیرہ، جب کہ دوسرا قول بعض دوسرے حضرات اہل علم کا اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد اسی امت کے اولین و آخرین ہیں، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 3 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور قدیم مفسرین سے یہ دونوں مقنول ہیں۔ شاہ صاحب نے بھی اپنے فوائد میں بلا ترجیح دونوں نقل کئے ہیں ایک یہ کہ پہلے تمام انبیائو کے پیروں میں سے اعلیٰ درجہ کے لوگ ملا کر لغت محمدیہ کے اعلیٰ درجہ کے لوگ سے تعداد ہیں زیادہ ہوں گ۔ دوسرا یہ کہ خود امت محمدیہ میں اعلیٰ درجہ کے لوگ پہلے بہت ہوں گے اور بعد میں کم۔ اس دوسرے مطلب کی تائید ابوبکرہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ھما جمیعاً من ھذہ الامتہ کہ ان دونوں سے مراد اسی امت کے لوگ ہیں مگر یہ روایت اسناد کمزور ہے اس لئے علماء تفسیر نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ پہلے مطلب کو ابن جریز طبری نے دوسرے مطب کو حافظ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(56:13) ثلۃ : ابنوہ کثیر۔ بڑی جماعت۔ اصل میں ثلۃ لغت میں اون کے گھ بےکو کہتے ہیں کثرت اجتماع کی مناسبت سے انبوہ کثیر کے لئے بھی ثلثۃ کا استعمال ہوتا ہے ۔ اولین : اول کی جمع ہے۔ اگلے ۔ پہلے، اس سے کون مراد ہیں ؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ : ثلۃ من الاولین سے مراد وہ تمام امتیں ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ کے عہد نبوت تک گزریں۔ اور قلیل من الاخرین سے مراد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ہے۔ بعض کے نزدیک اولین سے مراد صدر اول کے مسلمان یعنی تینوں قرون ، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین، ؓ تفسیر حقانی میں ہے :۔ ابن سیر کا قول ہے کہ ثلۃ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(ف 1) یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں ورپچھلوں میں تھوڑے، اور اگلے سے مراد یا تو پہلی امتیں ہیں زمانہ آدم (علیہ السلام) سے ہمارے سرکار سید عالم کے عہد مبارک تک کی جیسا کہ اکثر مفسرین کا قول ہے لیکن یہ قول نہایت ضعیف ہے اگرچہ مفسرین نے اس کے وجوہ ضعف کے جواب میں بہت سی توجیہات بھی کی ہیں قول صحیح تفسیر میں یہ ہے کہ اگلوں سے امت محمدیہ ہی کے پہلے لوگ مہاجرین وانصار میں سے جو سابقین اولین ہیں وہ مراد ہیں اور پچھلوں سے ان کے بعد والے، احادیچ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے حدیث مرفوع میں ہے کہ اولین وآخرین یہاں اسی امت کے پہلے اور پچھلے ہیں اور یہ بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
[3] اگلوں سے مراد آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک ساری امتوں کے لوگ ہیں۔ اس آخری امت کا زمانہ کیونکہ قرب قیامت کا زمانہ ہے اس لئے ظاہر ہے کہ اگلی امتوں کے مجموعے نے اس امت سے زیادہ زمانہ پایا ہے اور اسی لئے ان میں مقربین کی تعداد اسی نسبت سے زیادہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
اہل جنت کی زندگی 1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…
Read the full tafseer →(14) اور تھوڑے لوگ پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے۔ پہلے لوگ یعنی امم سابقہ کے حضرات اور تھوڑے لوگ اس امت کے صحابہ ؓ اور اولیائ ؓ چونکہ سابقہ امتوں کی تعداد بہت زیادہ اور پیغمبروں کی تعداد بھی بہت ہے اس لئے ان مقربین زیادہ ہوں گے اور اس امت کے مقربین کم ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امت محمدیہ ﷺ ہی کے متقدمین اور متاخرین مراد ہوں۔ کما قال بعض مفسرین یہ آگے بڑھنے والے بھلائیوں میں یا اسلام میں سبقت کرنے والے ہیں یا ہجرت میں آگے بڑھنے والے مراد ہیں بعض نے کہا اس سے حافظ قرآن اور عالم باعمل مراد ہیں۔ واللہ اعلم آگے ان کے آرام و آسائش اور ان کی نعمتوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →اور پچھلوں میں وہ بہت کم ہوں گے 14 ؎ (السبقون) اور (المقربون) کی تعداد پچھلوں میں بہت کم ہوگی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ دن بدن بھلائی کی دعوت کم دی جا رہی ہے اور دعوت دینے والے اللہ کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے بلکہ خود غرض ہوچکے ہیں ‘ ان کی غرض پوری ہوگی تو وہ دین کی بات بھی کریں گے ورنہ دین کی بات بھی مفت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ دعوت دینے والوں کا حال ہے اور دعوت قبول کرنے والوں کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے کہ اگر ان کے رواج اور رسم کا نام دین رکھ کر ان کی رسوم کی پابندی کی جائے اور اس کا نام کار خیر رکھ دیا جائے تو وہ کھلانے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر رسومات کی مخالفت کرتے ہوئے فقط دین کی ابت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (...many from the earlier generations, and of a small number from the later ones....56:13-14) The word ثُلَّةٌ thullatun, means 'a party, group, company'. Zamakhshari says that thullatun refers to 'a throng or a large number of people '. Who are الْأَوَّلِينَ Awwalin (earlier generations) and الْآخِرِينَ 'Akhirin (later ones)? The words 'awwalin' (earlier generations) and ` akhirin' (later ones) are used twice: First, in connection with As-sabiqun (the Foremost) who are favoured with special Divine nearness; and secondly, in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
8 The commentators have differed as to who are implied by athe former And the latter people '`One group of them has expressed the view that the "former people" were the communities that passed away since the time of the Prophet Adam (peace be upon him) till the time of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), and the °people of the latter day" those who will have lived in the world since the advent of the Holy Prophet till the Day of Resurrection. Accordingly the verse would mean: "The number of the Sabqin (the Foremost in Faith and good deeds) among the people who…
Read the full tafseer →