وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۟ۙوَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوۡنَۙ
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And fruit of what they select
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۟ۙوَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوۡنَۙ
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And fruit of what they select
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
اور وہ اُن کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
اور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں
اور وہ پھل لے کر جو وہ پسند کریں۔
اور میوے جو پسند کریں
اور (جنّتی خدمت گزار) پھل (اور میوے) لے کر (بھی پھر رہے ہوں گے) جنہیں وہ (مقرّبین) پسند کریں گے،
اور ایسے پھل لے کر جنھیں وہ پسند کرتے ہیں۔
انہیں وہ پھل (کھانے کو) ملیں گے جو وہ پسند کریں گے
اور میوے ان کی پسند کے
نیز وہ ان کے سامنے طرح طرح کے ایسے پھل لئے پھر رہے ہوں گے جنہیں وہ خود پسند کریں گے
اور میوے جن کو وہ پسند کریں
اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
they will also go about them with the fruits of which they may choose,
_and with fruits that they choose,
_and with fruits that they choose,
And with fruit that they may choose.
And fruit that they prefer
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And fruit of what they select
Also, they will be served with the fruits of their choice
And fruits such as they choose,
And with fruit from that which they choose.
And with fruits, any that they may select:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 13–26
مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة الْوَاقِعَة 11 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة طور، حاشیہ 17۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لَّا يُصَدَّعُوْنَ ، صداع سے مشتق ہے جس کے معنی درد سر کے ہیں، دنیا میں شراب زیادہ پینے سے سر میں درد اور چکر جیسے ہوتے ہیں، جنت کی یہ شراب اس سے پاک ہوگی۔ لَا يُنْزِفُوْنَ ، نزف کے اصلی معنی کنویں کا تمام پانی سینچ لینے کے ہیں، یہاں مراد عقل سے خالی ہوجانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔ (متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–27
5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وفاکھة ............ یشتھون (6 5: 12) ” اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے جس پرندے کا چاہیں۔ “ وہاں تو کوئی چیز نہ ممنوع ہوگی اور نہ کوئی ایسی چیز وہاں ہوگی جسے اہل جنت پسند نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
5 یعنی جس وقت جو میوہ پسند ہو اور جس قسم کا گوشت مرغوب ہو بدون محنت و تعب کے پہنچے گا۔
Read the full tafseer →آیت 20{ وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ۔ } ”اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
11 پرندوں کا گوشت لذت، غذائیت اور قوت تینوں اعتبار سے چوپایوں کے گوشت سے اعلیٰ اور عمدہ ہوتا ہے۔ لہذا بالخصوص پرندوں کے گوشت کا ذکر کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
9۔ اس قسم کے مضمون سے مقصود حسن عمل کے لیے ترغیب اور ہمت افزائی ہے اور قرآن مجید ایسی آیتوں سے بھراپڑا ہے۔ جنت کی مادی لذتیں کیا یہاں اور کیا قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں جو بیان ہوئی ہیں، ان میں قدرۃ سب سے مقدم اہل عرب کے مذاق کو رکھا گیا ہے کہ وہی مخاطب اول تھے۔ اگر ایسی نعمتوں کی تصریح کی جاتی جو مذاق عرب سے بالکل مختلف چین یا جاپان یا جرمنی یا فرانس والوں کے ذوق کی ہوتیں تو ظاہر ہے کہ اہل عرب انہیں میں الجھنے لگتے اور مخاطبین اول کو خواہ مخواہ جھگڑے بکھیڑے کے لیے ایک اور موقع نکل آتا۔ قرآن مجید نے غایت ژرف نگاہی اور کامل نکتہ سنجی سے کام لے کر عام اور عالمگیر مذاق کی نعمتوں اور لذتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–34
یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →اور ان کے پسندیدہ میوے یَتَخَیَّرُوْنَ : جو کچھ وہ پسند کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی پاکیزہ شراب سے بھر جائے گا اور دنیا کی شرابوں کی طرح نہ تو اس شراب سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ ان کی عقل میں کسی قسم کا فتور آئے گا اور ان کے لیے قسم قسم کے میوے ہوں گے جن کو وہ پسند کریں گے اور مختلف قسم کے پرندوں کا گوشت جو ان کو پسند ہوگا۔
Read the full tafseer →وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتََََخَیَّرُوْنَ ”فَاکِہَۃٍ“ کا عطف ”باکواب“ پر ہے ، یعنی سونے سے بنے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے جنتوں پر ”والدین مخلدون“ شراب کے جام اور ان کے پسند کردہ پھل اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت لے کر چکر لگا رہے ہوں گے۔ خدمت گاروں کے پھل لا کر پیش کرنے میں جو لطف ہے وہ بھی انہیں حاصل ہوگا اور اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھانا چاہیں گے تو وہ بھی انہیں ہر وقت میسر ہوگا، جیسا کہ فرمایا :(وجنا الجنتین دان) (الرحمن : 54)”اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے“۔ اور فرمایا (قطوفھا دانیۃ) (الحاقۃ : 123)”جس کے میوے قریب ہوں گے“۔”فاکھۃ“ کے معنی کے لیے دیکھئے سورة ٔ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
وفاکھۃ مما یتخیرون۔ جو چاہتے ہیں اسے لے لیتے ہیں کیونکہ ان پھلوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا پھل جو پسندیدہ ہے تخیر کا معنی اختیار ہے۔ ولحکم طیر مما یشتھون۔ امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کوثر کے بارے میں پوچھا گیا ؟ فرمایا :” وہ ایسی نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کی ہے یعنی جنت میں جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھی ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں ان کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں جیسی ہیں “ (3) حضرت عمر ؓ نے عرض کی : وہ تو بڑی موٹی تازی ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس کا کھانا اس گردن کے کھانے سے زیادہ اچھا ہوگا “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
31۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکأس من معین “ سے مراد ہے وہ جام جو شراب سے چھلکتے ہوئے ہوں گے۔ اور شراب وہاں پر جاری ہوگی ” معین “ سے مراد ہے جاری آیت ” لایصدعون عنہا ولا ینزفون “ یعنی اس کی وجہ سے نہ تو درد سر ہوگا اور نہ کسی کی عقل مغلوب ہوگی۔ (یعنی عقل میں فتور نہیں آئے گا) 32۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لا یصدعون عنہا ولا ینزفون “ سے مراد ہے کہ نہ ان کے سروں میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں ضائع ہوں گی۔ جنتیوں کو سر درد نہ ہوگا۔ 33۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایصدعون عنہا ولا…
Read the full tafseer →[وَفَاكِهَةٍ : اور کچھ میوہ کے ساتھ ] [مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ : اس میں سے جو وہ پسند کریں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
10:۔ ” وفاکہۃ “ فاکہۃ اور لحم دونوں اکواب پر معطوف ہیں۔ وہ غلمان جنت میں سابقین کی خدمت میں ان کی مرضی اور پسند کے میوے پیش کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت حاضر کریں گے۔ ” وحور الخ “ یہ ولدان پر معطوف ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ای لھم حور کا مثال اللؤلؤ الخ، یہ حور کی صفت ہے یا اس سے حال ہے (روح) حوروں کی سچے موتیوں سے تشبیہ چہرے کی چمک دمک اور صفاء بشرہ میں ہے۔ جنت میں ان کے لیے ایسی عورتیں ہوں گی جن کی آنکھیں سیاہ اور موٹی ہوں گی اور وہ حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک میں ان سچے موتیوں کی مانند ہوں گی جن کو گرد و غبار سے بچا کر بحفاظت رکھا گیا ہو۔ ” جزاء بما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…
Read the full tafseer →وَفَاكِہَۃٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ 20 ۙ فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی…
Read the full tafseer →20 : وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ( اور پسندیدہ میوے) ان میں سے افضل و عمدہ وہ پسند کر کے لیں گے۔
Read the full tafseer →19 ۔” لا یصدعون عنھا “ اس کے پینے سے ان کے سروں میں درد نہ ہوگا۔ ” ولا ینزفون “ یعنی نشہ نہ ہوگا۔ یہ اس وقت جب زاء کے زبر کے ساتھ پڑھا جائے اور جس کی زیر دی تو اس کا معنی ان کی شراب ختم نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن…
Read the full tafseer →یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے وہ کامل ترین اور بہتر صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[ 17] جنت کی شراب ہر عیب سے پاک : سو ارشاد فرمایا گیا کہنہ تو اس سے ان کے سرچکرآئیں گے اور نہ ہی ان کی عقلوں میں کوئی فتور آئے گا، جیسا کہ دنیاوی شراب کا خاصہ و لازمہ ہے، کہ یہ خانہ خراب جو ہر عقل کی دشمن اور اس کو زائل کردینے والی ہے، اور انسان اس کے پینے سے ایسا دیوانہ اور مجنون بن جاتا ہے کہ بچے بھی اس پر ہنسنے لگتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ سو جنت کی وہ شراب طہور اس طرح کے تمام لوازم و اثرات سے پاک و صاف ہوگی، اللہ نصیب فرمائے آمین، سو جنت کی اس شراب سے شراب نوشی کا اصل فائدہ تو حاصل ہوگا یعنی سرور و نشاط، لیکن ان مضر اثرات سے وہ پاک اور صاف ہوگی جو کہ دنیاوی شراب کیلئے لوازم کی حیثیت رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ف 5 یعنی نہایت صاف و شفاف جن پر گرد و غبار کا کوئی اثر نہ ہو۔
Read the full tafseer →(56:20) وفاکہۃ : واؤ عاطفہ۔ فاکھۃ اس کا عطف اکواب پر ہے اور وہ غلمان جنتیوں کی پسند کے میوے لئے ان کی خدمت میں گردش کر رہے ہوں گے۔ مما : مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔ یتخیرون : مضارع جمع مذکر غائب، تخیر (تفعل) مصدر سے پسند کرنا ۔ انتخاب کرلینا۔ خار یخیر (باب ضرب) سے مصدر خیرۃ وخیر اختیار کرنا۔ اگر دوسرے مفعول پر علی ہو تو فضیلت دینے کے معنی ہوں گے۔ مثلاً خار الرجل علی غیرہ۔ اس نے اس آدمی کو دوسروں پر فضیلت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
جنتیوں کی صفات۔ (ف 2) مقربین کی جنت میں سازوسامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور نوعمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لیے ہوئے حاضر ہوں گے شراب وہ ہوگی جس سے دنیا کی طرح نہ سردرد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت میں حوریں ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی پھر فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کس طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزرچکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[5] یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ کیا بیری ایسا پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں یہ پھل نہایت لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اور بیری جتنی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اس کے درخت میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ ثانیاً جنت کی بیری کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل کے پیرایہ میں ہوسکتا ہے، اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
اہل جنت کی زندگی 1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر…
Read the full tafseer →(20) اور نیز وہ میوے جن میووں کو یہ لوگ پسند کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–43
ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔
Read the full tafseer →اور میوے جو وہ پسند کریں گے ان کے سامنے پیش کئے جائیں گے 20 ؎ (یتخیرون) کی اصل خ ی ر ہے جمع مذکر غائب مضارع تخیر مصدر (تفعل ) وہ پسند کریں گے۔ (فاکھۃ) ہر قسم کا میوہ ہے اور پھل جیسے انگور ‘ انار ‘ سنگترہ ‘ انجیر ‘ گولر ‘ بہی ‘ آلو بکارا ‘ آلو چا ‘ لیچی ‘ لوکاٹ ‘ آڑو ‘ سیب ‘ ناشپاتی ‘ چوٹا ‘ کیلا ‘ امرود ‘ توت ‘ شتوت ‘ آم ‘ کھٹل ‘ پیپتا ‘ خوبانی ‘ فالسہ ‘ جامن ‘ بیر ‘ لسوڑا ‘ گوندی ‘ عناب ‘ پستہ ‘ چلغوزہ ‘ ناریل ‘ کھوپرا ‘ کھرنی ‘ اخروٹ ‘ چلغوزہ ‘ رس بھری ‘ شاہ بلوط ‘ لیمون ‘ نارنگی ‘ کتھا ‘ گل گل ‘ میٹھا ‘ کھٹا ‘ مالٹا ‘ مسمی ‘ کینو ریڈ بلڈ ‘ خربوزہ ‘ تربوز اور ککڑی وغیرہ سب کے سب پھلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا (from which they will neither suffer headache ....56:19). The Arabic verb is derived from suda' which means 'headache'. When worldly wine is taken in large quantity, it gives the drinker excruciating headache and makes him feel dizzy. The Heavenly wine is free from such harmful effects. لَا يُنزِفُونَ nor will they be intoxicated...56:19). The Arabic verb is derived from nazf, the root-meaning of which being 'the well became empty, all the water having been taken out of it.' Here it means 'the spring of his brain or mind or senses became exhausted.'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
11 For explanation, see E.N. 17 of Surah At-tur.
Read the full tafseer →