Al-Qamar 54:6

Al-Qamar · from ayah 6

54:6

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ— یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّكُرٍ ۟ۙفَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ‌ۘ يَوۡمَ يَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰى شَىۡءٍ نُّكُرٍۙ

تو تم بھی ان کی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So leave them, [O Muhammad]. The Day the Caller calls to something forbidding,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:6

پس اے نبیؐ، اِن سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم بھی ان کی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) تم بھی ان کی پرواہ مت کرو۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم ان سے منہ پھیرلو جس دن بلانے والا ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ اُن سے منہ پھیر لیں، جس دن بلانے والا (فرشتہ) ایک نہایت ناگوار چیز (میدانِ حشر) کی طرف بلائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا آپ ان کی پروا نہ کیجئے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن پکارنے والا ان کو ایک نہایت ہی نا مطلوب چیز کی طرف پکارے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ منہ موڑ لیں ان (ناہنجاروں) سے (ان کو خود معلوم ہوجائے گا اس دن) جس دن کہ پکارے گا (حشر کا) وہ داعی ایک بڑی ہی ناگوار چیز کی طرف

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے۔ جس روز ایک بلانے والا (فرشتہ) انہیں ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے صرفِ نظر کر لیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم بھی ان کی کچھ پرواہ نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So turn away from them, (O Prophet). On the Day when a caller shall call them to a thing most terrible,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Therefore, turn aside (O Prophet,) from them. (They will see the reality) on the day in which the caller will call (them) to a gruesome object.

— Muhammad Taqi Usmani

Therefore, turn aside (O Prophet,) from them. (They will see the reality) on the day in which the caller will call (them) to a gruesome object.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So withdraw from them. The Day that the caller will call (them) to a terrible thing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So withdraw from them (O Muhammad) on the day when the Summoner summoneth unto a painful thing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So leave them, [O Muhammad]. The Day the Caller calls to something forbidding,

— Saheeh International

(Muhammad), leave them alone. On the day when they will be called to a terrible punishment,

— Muhammad Sarwar

So turn (your) back on them (for) the day when the inviter shall invite them to a hard task,

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore withdrew thou from them. The Day whereon the sum- moner Will summon mankind Unto a thing unpleasant.

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore, (O Prophet,) turn away from them. The Day that the Caller will call (them) to a terrible affair,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

معجزات بھی بےاثر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کار آمد نہیں چھوڑ دو ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو ، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لئے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہوگی جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہوگی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر ٹڈی دل کی طرح یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے نہ مخالفت کی تاب ہے نہ دیر لگانے کی طاقت، اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَمَر 5 بالفاظ دیگر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جب انہیں زیادہ سے زیادہ معقول طریقہ سے سمجھایا جا چکا ہے، اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بھی بتادیا گیا ہے کہ انکار آخرت کے نتائج کیا ہیں اور رسولوں کی بات نہ ماننے کا کیا عبرتناک انجام دوسری قومیں دیکھ چکی ہیں، پھر بھی یہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے، تو انہیں اسی حماقت میں پڑا رہنے دو۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب مرنے کے بعد قبروں سے نکل کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ وہ قیامت واقعی برپا ہوگئی جسے قبل از وقت خبردار کر کے راہ راست اختیار کرلینے کا مشورہ انہیں دیا جا رہا تھا۔ سورة الْقَمَر 6 دوسرا مطلب انجانی چیز بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

اہل مکہ جب اس مشاہدہ کی تکذیب نہ کرسکے تو اس کو جادو یا سخت جادو کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے، وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ، استقر کے لغوی معنی قرار پکڑنے کے ہیں، مفہوم آیت کا یہ ہے کہ ہر کام اور ہر چیز اپنی غایت پر پہنچ کر آخر کار صاف ہوجاتی ہے، کسی جعل سازی سے جو پردہ حقیقت پر ڈالا جاتا ہے وہ انجام کار کھل کر رہتا ہے اور حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(فتول عنھم یوم یدع الداع الی شی نکیر) (6) (نبی ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت)۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت ہے کہ ایسے اندھوں کی آنکھوں کی پٹی کھولنا اور ان کو راہ دکھانا تمہارے بس میں نہیں۔ اب تم ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن اسرافیل صور پھونکیں گے اور یہ قیامت کے عذاب کی طرف پکارے جائیں گے۔ ’ تول ‘ یہاں ’ انتظر ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یہی مضمون دوسری آیت میں یوں آیا ہے۔ (واستمع یوم ینا دالمنا من مکان قریب) (ق : 41) (اور کان لگائو اس دن کی پکار کے لیے جس دن پکارنے والا نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا) ’ نکر ‘ سے اشارہ ہوں قیامت کی طرف ہے۔ اس کی ہولناکی کی شدت ظاہر کرنے کے لیے ابہام کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–11

4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اسلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–8

فتول ............ عسر (54: 8) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “ یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔ یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

3 یعنی قرآن کریم پوری حکمت اور عقل کی باتوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی ذرا نیک نیتی سے توجہ کرے تو دل میں اترتی چلی جائیں مگر افسوس اتنے سامان ہدایت کی موجودگی میں اس پر کچھ اثر نہیں۔ کوئی نصیحت و فہمائش وہاں کام نہیں دیتی۔ کتنا ہی سمجھاؤ پتھر پر جونک نہیں لگتی۔ لہذا ایسے سنگدل بدبختوں کو آپ ﷺ بھی منہ نہ لگائیے۔ آپ فرض تبلیغ و دعوت باحسن اسلوب ادا کرچکے۔ اب زیادہ تعاقب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کو ان کے ٹھکانے کی طرف چلنے دیں۔ 4 یعنی میدان حشر کی طرف حساب دینے کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ 7 } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صرفِ نظر کر لیجیے۔“ { یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّـکُرٍ۔ } ”جس دن ایک پکارنے والا پکارے گا ایک بہت ناگوار چیز کی طرف۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ ابتدائی مکی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں حضور ﷺ کو ملتے جلتے الفاظ میں یہ ہدایت بار بار دی گئی ہے کہ آپ ﷺ صبر کریں ‘ آپ ﷺ درگزر سے کام لیں ‘ انہیں نظر انداز کردیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ایسے ضدی انسانوں کی ہدایت کے لالچ میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ 7 نکر کا ایک معنی ناگوار ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا معنی انجانی اور اجنبی چیز ہے یعنی جب وہ حساب کتاب کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ بات ان کے لیے بالکل انوکھی ہوگی جس کا انہیں خواب و خیال تک نہ تھا کہ اس طرح انہیں زندہ کرکے حساب کتاب کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

5۔ یعنی آپ ایسے لوگوں کے متعلق جن کا یہ حال ہوچکا ہے اور جو اس درجہ مسخ ہوچکے ہیں، کچھ زیادہ فکروتردد میں نہ پڑیے۔ فما تغن النذر۔ یہ بیان ہو رہا ہے ان لوگوں کے غایت جمود وشدت تصلب کا کہ یہ انذاری نشانات سے کچھ بھی عبرت وہدایت حاصل نہیں کرتے۔ حکمۃ بالغۃ۔ یہ قرآن اعلی حکمتوں اور دانشمندیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں جو سامان عبرت پرانے قصص سے رکھ دیا گیا ہے وہ نہایت پر حکمت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فتول عنھم . سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے۔ “ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ : سو آپ ﷺ ان سے رخ پھیر لیجئے۔ آپ ﷺ کی تبلیغ سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آیت قتال (آیت جہاد) سے اس آیت کا حکم منسوخ ہے۔ یوم یدع الداع الی شیء نکر . جس دن ایک بلانے والا (فرشتہ) ایک ناگوار یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ : یوم سے مراد ہے قیامت کا دن۔ پکارنے والے اسرافیل ہوں گے جو صخرۂ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر پکاریں گے۔ اے کھوکھلی ‘ بوسیدہ ہڈیو ! اے پارہ پارہ کھالو ! اور اے ٹوٹے ہوئے بالو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ آخری فیصلے کے لیے جمع (اکٹھے) ہوجاؤ۔ (رواہ ابن عساکر عن زید بن جابر الشافعی) شَیْ ءٍ نُّکُرٍ : اتنی بری چیز کہ اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–8

(6۔ 8) سو جو قوم علم خداوندی پر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے گی اسے رسولوں کا ڈرانا کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا۔ اے محمد سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے۔ جس روز یعنی قیامت کے دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک سخت ترین ناگوار چیز کی طرف بلائے گا اہل جنت کو جنت کی طرف اور دوزخیوں کو دوزخ کی طرف ان کی آنکھییں ذلت سے جھکی ہوں گی قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے اور پھر نکل کر بلانے والے کی طرف دوڑے چلے جارہے ہوں گے کہ کس چیز کا ان کو حکم ہوتا ہے کافر قیامت کے دن کہتے ہوں گے کہ یہ دن ان کے حق میں بڑا سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَتَوَلَّ عَنْہُمْ : یعنی جب ان لوگوں کو کسی تنبیہ یا ڈرانے کا کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا تو آپ بھی ان سے منہ پھیر لیں اور انہیں ان کے حال پر رہنے دیں۔ آپ کے ذمے پہنچانا تھا ، وہ آپ نے پہنچا دیا۔ 2۔ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّکُرٍ :”یوم“ منصوب بنزع الخافض ہے ، یعنی اس سے پہلے حرف جار ”الی“ ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے (بغوی) آلوسی نے کہا : ”ھذاقول الحسن“ کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی ”فتول عنھم الی یوم یدع الداع فی الا شی نکر“ ”سو ان سے منہ پھیر لے ، اس دن تک جس میں پکارنے ولا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا“۔ یا ”یوم“ فعل محذوف ”انظر“ کے ساتھ منصوب ہے ، یعنی ”ان سے منہ پھیر لے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فتول عنھم ان سے اعراض کیجیے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام کا تتمہ ہے پھر فرمایا : یوم یدع الداع یوم میں عامل یخرجون یا خشعا ہے یا ایسا فعل ہے جو مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہے واذکر یوم۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، یہاں حرف فاء محذوف ہے اور وہ بھی جس میں اس نے عمل کیا یعنی جواب امر۔ تقدیر کلام ہوگی فتول عنھم فان لھم مریدعوالداعی ایک قول یہ کیا گیا : اے محمد چ ان سے اعراض کیجیے آپ نے حجت قائم کردی اور جس دن داعی بلائے گا اس دن انہیں دیکھو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، قیامت کے روز ان سے اعراض کیجیے ان کے بارے میں اور ان کے احوال کے بارے میں سوال نہ کیجیے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–6

قرآن کریم عبرت و نصیحت کی کتاب ہے : 1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' (اور ان لوگوں کے پاس خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں کافی عبرت ہے) یعنی یہ قرآن عبرت ہے پھر فرمایا یہ قرآن منتہی ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور یہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' تلاوت فرمائی (پھر) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں حلال کو حلال قرار دیا اور حرام کو حرام قرار دیا اور تم کو اس میں بتادیا گیا جو تم کرتے ہو (یعنی جو تم عمل کرتے ہو) اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَتَوَلَّ [تو آپ منہ پھیر لیں ] عَنْهُمْ ۘ [ ان لوگوں سے ] يَوْمَ يَدْعُ [ جس دن پکارے گا ] الدَّاعِ [ وہ پکارنے والا ] اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ [ ایک ناگوار چیز کی طرف ] (آیت ۔ 6) اسی طرح سے یدع اور الداع دراصل یدعو اور الداعی ہیں ۔ یہاں پر ان کی واو ار یا کو گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–8

قیامت کے دن کی پریشانی، قبروں سے ٹڈی دل کی طرح نکل کر میدان حشر کی طرف جلدی جلدی روانہ ہونا ان آیات میں اول تو رسول اللہ تعالیٰ ﷺ کو بطور تسلی حکم فرمایا کہ آپ ان سے اعراض کریں یعنی ان کے انکار اور تکذیب سے دلگیر نہ ہوں (حق قبول نہ کرنے کا انجام خود ان کے سامنے آجائے گا) پھر فرمایا کہ جس دن بلانے والا بلائے گا یعنی فرشتہ صور پھونکے گا اس دن قیامت کا ظہور سامنے آجائے گا جو آنکھوں دیکھا ہوگا اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کے خبر دینے سے اس وقت نہیں مانتے لیکن جب واقع ہوگا تو ماننا ہی پڑے گا فرشتے کا صور پھونکنا قبروں سے نکلنے کے لیے ہوگا۔ (یہ دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے سے متعلق ہے) جب صور کی آواز سنیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

6:۔ ” یوم یدع “ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف یخرجون متاخر کے ساتھ متعلق ہے۔ اور ” خشعا ابصارہم “ جملہ یخرجون کی ضمیر سے حال ہے۔ نکر، ایک دہشتناک چیز جس سے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو قیامت کا ہول اور خوف وہراس مراد ہے (مدارک) اور داعی سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں (روح) ۔ جس دن حضرت اسرائیل (علیہ السلام) صورت پھونکیں گے اور سب کو میدان حشر میں قیامت کے ہولناک اور دہشت انگیز منظر کی طرف بلائیں گے تو سب لوگ قبروں سے نکل آئیں گے، دہشت و خوف سے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور وہ ٹڈی دل کی طرح زمین پر پھیلے ہوں گے اور بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کفار و مشرکین اس وقت پکار اٹھیں گے کہ آج کا دن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَتَوَلَّ عَنْہُمْ۝ 0 ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ۝ 6 ۙ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–8

فَتَوَلَّ عَنْھُمْ م یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْ ئٍ نُّـکُرٍ ۔ خُشَّعًا اَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّھُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ مُّھْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ ط یَقُوْلُ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۔ (القمر : 6 تا 8) (پس اے پیغمبر ! آپ ان سے اعراض کیجیے، (اور اس دن کا انتظار کیجیے) جس دن پکارنے والا انھیں ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔ ان کی نگاہیں سراسیمگی سے جھکی ہوئی ہوں گی، اور یہ قبروں سے نکلیں گے گویا کہ وہ منتشر ٹڈیاں ہیں۔ دوڑتے ہوئے پکارنے والے کی طرف، کافر کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت آیت میں تَوَلَّکا لفظ انتظر کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–8

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کے پاس شق قمر کا معجزہ اور دیگر دلائل آچکے ہیں لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے ظہور سے پہلے اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ہی عبرت حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہ صرف قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے ہیں بلکہ کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے سا تھیوں کے سامنے مردوں کو زندہ کرکے بھی دکھلایا ہے اور جو لوگ دلائل اور تنبیہات کے باوجود قیامت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ اس دن سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جس دن انہیں بلانے والا اس چیز کی طرف بلائے گا۔ جیسے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کا ہولناک منظر : آیت 6: فَتَوَلَّ عَنْہُمْ (پس آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے) ۔ اس لئے کہ آپ جانتے ہیں کہ ڈرانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ (جس دن ایک بلانے والا فرشتہ بلائے گا) ۔ نحو ٗ قراءت : یہ یخرجون کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اذکر کا ظرف ہونے کی وجہ۔ الداعی الی الداعی۔ میں سہل ‘ یعقوب و مکی نے دونوں میں یاء پڑھے۔ اور مدنی نے ان کی موافقت کی۔ ابوعمرو نے وصل میں جنہوں نے یاء کو ساکت کیا اور کسرہ پر اکتفاء کیا۔ اور یدع سے وائو کو حذف کیا کتابت میں اتباع لفظی کی وجہ سے۔ الداعی۔ یہ اسرافیل (علیہ السلام) ہونگے۔ اِلٰی شَیْئٌ نُّکُرٍ (ناگوار چیز کی طرف) ناگوار سوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” حکمۃ بالغۃ “ یعنی قرآن مکمل حکمت ہے روکنے میں انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ ” فما تغن النذر “ یہ بھی جائز ہے کہ ” ما “ نفی ہو اس معنی پر کہ پس ان کو ڈرانے والوں نے نفع نہ دیا اور یہ بھی جائز ہے کہ استفہام ہو اور معنی پس کون سی چیز ڈرانے والوں کو نفع دے گی جب انہوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وماتغنی الآیات والنذر عن قوم لا یومنون “ کی طرح اور نذر ونذیر کی جمع ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–8

6۔ 8۔ اوپرذکر تھا کہ علم الٰہی کے موافق ازلی کمبختی جن کے سر پر سوار ہے ڈرانے والوں کی ڈر کی باتوں کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے بلکہ ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف شرمندہ شکل نیچی نگاہ کئے ہوئے دوڑیں گے اس وقت ان کا کیا سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے بعض علماء کے قول کے موافق جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی رسول سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں ان کے اندر گردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہاتو فرمایا۔ (فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ) چناچہ اے نبی آپ بھی ان سے اعراض کریں۔ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجئے یہ دن وہ ہوگا جب (یدع الداع) پکارنے والا پکارے گا۔ یعنی حضرت اسرافیل (الی شئی نکر) یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف طبیعت جس کا انکار کرے گی۔ تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر دردناک منظر نہیں دیکھا ہوگا پس اسرافیل صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت کے میدان میں کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 10] ہٹ دھرموں سے اعراض و رُوگردانی کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کو چھوڑ دو ان کے حال پر اور مزید ان کی فجر میں نہ پڑیں کیونکہ منوا لیتا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے بلکہ آپ ﷺ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے اور بتمام و کمال کرچکے۔ { لیس علیک ھداھم } [ البقرۃ : 272] سو ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے، بہرکیف اس میں پیغمبر کے لئے تسکین و تسلی آمیز خطاب ہے کہ آپ نے تبلیغ حق کا فریضہ ادا کردیا اور یہی آپ کی اصل ذمہ داری تھی۔ آگے ایسے اندھوں کی آنکھوں سے پٹی کھولنا اور ایسے ہٹ دھرموں کی راہ حق و ہدایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:6) فتول عنہم :سببیہ ہے اور عدم اغناء اس کا سبب۔ پس ، تول امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، تولی (تفعل) مصدر ۔ تو پھر آ۔ تو ہٹ آ۔ تو منہ پھیرلے۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔ اگر تولیٰ کا تعدیہ بلاواسطہ ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی سے دوستی رکھنا ۔ مثلاً ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ یا والیو حاکم ہونا۔ مثلا : فہل عسیتم ان تولیتم (47:22) پھر تم سے یہ تو قع ہے کہ اگر تم والی ہو۔ یا کسی کام کو اٹھانا ۔ مثلا : والذی تولی کبرہ منھم (24:11) اور جس نے اٹھایا اس بڑی بات کو۔ اور اگر عن کے ساتھ متعدی ہو۔ خواہ عن لفظوں میں موجود ہو یا پوشیدہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–8

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے ، بلکہ ایسے لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دو ۔ دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف کھنیچے چلے آئیں گے اس وقت ان کا کیا سب انکی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اس دن یہ کافر یہ حالت دیکھ کر کہیں گے افسوس، یہ دن تو بڑی آفت ومصیبت کا بڑاکٹھن اور سخت دشوار ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة القمر اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) سوائے پیغمبر آپ ان کو منہ نہ لگائیے اور ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے جس دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک ناخوش اور ان دیکھی چیز کی طرف ان کو بلائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–11

ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غار حرا میں کیا تھا ؟ گوشہ تنہائی میں حق کی تلاش میں غور و فکر۔ آپ ﷺ ان سے اپنی توجہ ہٹالیں عنقریب ان کو ایک ناگوار چیز کی طرف بلایا جائے گا 6 ؎ (فتولیٰ عنھم) آپ ﷺ ان سے اپنی توجہ ہٹا لیں۔ اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ان تک پیغام ہی نہ پہنچائیں یا ان کو وعظ و تلقین نہ کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنا کام اپنے منہ دھیان کرتے جائیں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ اگر وہ آپ ﷺ کی دعوت پر کان نہیں دھرتے تو آپ ﷺ ان کی زیادہ فکر نہ کریں کہ ہر انسان خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے جب آپ ﷺ اپنا کام اپنی طرف سے پورا کر رہے ہیں تو ان کے ہدایت یافتہ ہونے کی ذمہ داری ان ہی پر ہے نہ کہ آپ ﷺ پر۔ جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

وَكُلُّ أَمْرٍ‌ مُّسْتَقِرٌّ‌ (...while every matter has to be settled....54:3). The literal meaning of the word istiqrar is to settle. The verse means that everything must ultimately reach its end and the matter must become clear. If a veil is fabricated and cast over the truth or reality, eventually [ in its designated time ] the false veil will be removed and the truth and falsehood will be clearly distinguished.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 In other words, "Leave them to themselves. When every effort has been made to make them understand the Truth in the most rational ways, when instances have been cited from history to show them the evil results of the denial of the Hereafter, when the dreadful fates suffered by the other nations in consequence of their rejecting the Prophetic messages have been brought to their notice and yet they are disinclined to give up their stubbornness, they should be left alone to gloat over their follies. Now, they would believe only when after death they arise from their graves to see with their…

Read the full tafseer →