Al-Qamar 54:5

Al-Qamar · from ayah 5

54:5

حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۟ۙحِكۡمَةٌ ۢ بَالِغَةٌ‌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُۙ

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Extensive wisdom - but warning does not avail [them].

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:5

اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

دل میں اتر جانے والی دانائی کی باتیں تھیں، پھر بھی یہ تنبیہات (ان پر) کچھ کارگر نہیں ہو رہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ قرآن) کامل دانائی و حکمت ہے کیا پھر بھی ڈر سنانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ان میں) دانائی کی باتیں ہیں جو اتمام حجت کو کافی ہیں لیکن یہ تنبیہات ان کے کسی کام نہ آئیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہایت دل نشین حکمت، لیکن تنبیہات کیا کام دے رہی ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی اعلیٰ درجے کی ایک دانش مندی مگر (ایسوں کے لئے مفید اور) کارگر نہیں ہوسکتیں ایسی تنبیہات

— مولانا اسحاق مدنی

اعلی درجہ کی دانش مندی ہے مگر ڈرانے والی چیزیں انہیں کچھ فائدہ نہیں دیتیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کامل دانائی (کی باتیں) لیکن ان خبردار کرنے والوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کامل دانائی کی کتاب بھی مگر ان کو ڈرانے نے کچھ فائدہ نہیں دیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

narratives that are full of consummate wisdom. But warnings do not avail them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(containing) a perfect wisdom. But the warnings are of no avail (to them).

— Muhammad Taqi Usmani

(containing) a perfect wisdom. But the warnings are of no avail (to them).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Perfect wisdom, but warners benefit them not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Effective wisdom; but warnings avail not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Extensive wisdom - but warning does not avail [them].

— Saheeh International

but the warnings have proved to have no effect on them.

— Muhammad Sarwar

Consummate wisdom-- but warnings do not avail;

— Muhammad Habib Shakir

Wisdom consummate. But warnings avail not.

— Abdul Majid Daryabadi

Mature wisdom;- but (the preaching of) Warners profits them not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–5

سورة الْقَمَر 3 یعنی جو فیصلہ انہوں نے قیامت کو نہ ماننے کا کر رکھا ہے، اس نشانی کو دیکھ کر بھی یہ اسی پر جمے رہے۔ قیامت کو مان لینا چونکہ ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھا اس لیے صریح مشاہدے کے بعد بھی یہ اسے تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ سورة الْقَمَر 4 مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بلا نہایت نہیں چل سکتا کہ محمد ﷺ تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں، اور تم ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل پر جمے رہو، اور ان کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہ ہو۔ تمام معاملات آخر کار ایک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں، اسی طرح تمہاری اور محمد ﷺ کی اس کشمکش کا بھی لا محالہ ایک انجام ہے جس پر یہ پہنچ کر رہے گی۔ ایک وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

اہل مکہ جب اس مشاہدہ کی تکذیب نہ کرسکے تو اس کو جادو یا سخت جادو کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے، وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ، استقر کے لغوی معنی قرار پکڑنے کے ہیں، مفہوم آیت کا یہ ہے کہ ہر کام اور ہر چیز اپنی غایت پر پہنچ کر آخر کار صاف ہوجاتی ہے، کسی جعل سازی سے جو پردہ حقیقت پر ڈالا جاتا ہے وہ انجام کار کھل کر رہتا ہے اور حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر) (5) یعنی ان سرگزشتوں کے اندر نہایت دل نشین حکمت موجود ہے، مگر دیکھ لو یہ تنبیہات کیا نفع دے رہی ہیں ! ’ ما ‘ نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی ؟ لیکن استفہامیہ میں زیادہ زور بھی ہے اور موقع کلام سے زیادہ مناسبت بھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور یا اسے گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–5

3: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کام کا ایک انجام ہوتا ہے لہذا جو کچھ حضور اقدس ﷺ فرما رہے ہیں، اور جو کچھ یہ کافر کر رہے ہیں، اس کا انجام عنقریب معلوم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حکمة ........ النذر (54:5) ” اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں۔ “ ایمان ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ سے قلب انسانی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان کی روگردانی اور کفر پر اصرار کی اس قدر تصویر کشی کرنے کے بعد اور یہ بتا دینے کے بعد کہ یہ خبروں سے بھی مستفید نہیں ہوتے ان کے لئے ڈراوے میں بھی فائدہ نہیں۔ رسول ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ بھی ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ دن جلدی ہی آنے والا ہے شق قمر اس دن کی علامت تھی ، یہ دن بہت قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

3 یعنی قرآن کریم پوری حکمت اور عقل کی باتوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی ذرا نیک نیتی سے توجہ کرے تو دل میں اترتی چلی جائیں مگر افسوس اتنے سامان ہدایت کی موجودگی میں اس پر کچھ اثر نہیں۔ کوئی نصیحت و فہمائش وہاں کام نہیں دیتی۔ کتنا ہی سمجھاؤ پتھر پر جونک نہیں لگتی۔ لہذا ایسے سنگدل بدبختوں کو آپ ﷺ بھی منہ نہ لگائیے۔ آپ فرض تبلیغ و دعوت باحسن اسلوب ادا کرچکے۔ اب زیادہ تعاقب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کو ان کے ٹھکانے کی طرف چلنے دیں۔ 4 یعنی میدان حشر کی طرف حساب دینے کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { حِکْمَۃٌم بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ } ”کامل دانائی کی باتیں ‘ لیکن ان خبردار کرنے والوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 یعنی قرآن میں اقوام سابقہ کی سرگزشت کو اس لیے بار بار دہرایا گیا ہے کہ لوگ ان اقوام کے انجام اور عذاب سے عبرت حاصل کریں اور ان واقعات کا ذکر ان کے لیے تازیانہ کا کام دے۔ (جسے شرعی اصطلاح میں تذکیر با یام اللہ کہا جاتا ہے) ان واقعات میں لوگوں کے عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لیے مواد تو بہت موجود ہے لیکن اگر کوئی شخص ادھر توجہ ہی نہ کرے تو یہ تنبیہات اس کے کس کام آسکتی ہیں ؟۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

5۔ یعنی آپ ایسے لوگوں کے متعلق جن کا یہ حال ہوچکا ہے اور جو اس درجہ مسخ ہوچکے ہیں، کچھ زیادہ فکروتردد میں نہ پڑیے۔ فما تغن النذر۔ یہ بیان ہو رہا ہے ان لوگوں کے غایت جمود وشدت تصلب کا کہ یہ انذاری نشانات سے کچھ بھی عبرت وہدایت حاصل نہیں کرتے۔ حکمۃ بالغۃ۔ یہ قرآن اعلی حکمتوں اور دانشمندیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں جو سامان عبرت پرانے قصص سے رکھ دیا گیا ہے وہ نہایت پر حکمت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر یعنی اعلیٰ درجہ کی دانشمندی ہے لیکن خوف دلانے والی چیزیں ان کو کچھ فائدہ ہی نہیں دیتی ہیں۔ حِکْمَۃٌ لِغَۃٌ : انتہائی دانائی کی بات جس کے اندر کوئی کمی اور خرابی نہیں ہے۔ فَمَا تُغْنِ النُّذْرُ : میں مانافیہ ہے یعنی پیغمبر یا ڈرانا ان کے لیے کوئی مفید نہیں۔ یا مَا سوالیہ انکاریہ ہے۔ یعنی پیغمبروں کا یا ڈرانے کا ان کو کیا فائدہ ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نُذُر ‘ نذیر کی جمع ہے اور نذیر بمعنی منذر (ڈرانے والا) یا بمعنی انذار (ڈرانا) ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) اور ان کہ والوں کے پاس قرآن کریم کے ذریعے گزشتہ قوموں کی خبریں پہنچ چکی ہیں کہ جھٹلانے پر وہ کس طرح ہلاک ہوئے جن میں کافی تنبیہ اور ممانعت ہے اور قرآن کریم اللہ کی طرف سے حکمت سے بھروپور ہے جس سے کافی دانش مندی حاصل ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ فَمَاتُغْنِ النُّذُرُ۔”بالغۃ“ کا لفظی معنی پہنچنے والی ہے ، مراد انتہاء اور کمال کو پہنچی ہوئی حکمت ہے۔”النذر“ ”نذیر“ کی جمع ہے ، ڈرانے والی چیزیں۔ ”نذیر“ مصدر بھی ہوسکتا ہے ، جس طرح ”نکیر“ ہے یعنی تنبیہات ، ڈراوے۔”حکمۃ“ پچھلی آیت میں مذکور ”مافیہ مزدجر“ سے بدل ہے۔ یعنی پچھلی امتوں کے واقعات میں سے وہ واقعات جن میں کفر و تکذیب سے باز آنے کا سامان موجود ہے ، کامل حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں ، مگر یہ ڈرانے اور خبردار کرنے والی چیزیں نہ ماننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔ دیکھیئے۔ سورة ٔ یونس (101)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

ولقد جآء ھم من الانبآء یہاں من بعضیہ ہے اللہ تعالیٰ نے خبروں میں سے ان کا ذکر کیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ اس کے محتاج ہوں گے اور ان کے لئے اس میں شفاء ہے وہاں اس سے بھی زیادہ امور تھے۔ ہمارے اوپر ان کو ہی بیان کیا گیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ہمیں اس کی حاجت ہے اور باقی سے خاموشی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مقصود ہے۔ یعنی ان کفار تک سابقہ امتوں کی خبریں پہنچیں۔ مافیہ مزدجر۔ جو انہیں کفر سے جھکڑنے والی ہے اگر وہ اس کو قبول کریں۔ یہ اصل میں مزتجر تھا اس کی تاء کو دال سے بدل دیا۔ کیونکہ تاء حرف مہموس ہے اور زاء حرف مہجور ہے تاء کو دال سے بدل دیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–6

قرآن کریم عبرت و نصیحت کی کتاب ہے : 1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' (اور ان لوگوں کے پاس خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں کافی عبرت ہے) یعنی یہ قرآن عبرت ہے پھر فرمایا یہ قرآن منتہی ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور یہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' تلاوت فرمائی (پھر) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں حلال کو حلال قرار دیا اور حرام کو حرام قرار دیا اور تم کو اس میں بتادیا گیا جو تم کرتے ہو (یعنی جو تم عمل کرتے ہو) اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ [ جو سمجھ میں آنے والی دانائی ہے ] فَمَا تُغْنِ [ تو بےپرواہ نہیں کرتے ] النُّذُرُ [خبردار کرنے والے ] (آیت ۔ 5) النذر، نذیر کی جمع مکسر ہے۔ اس لحاظ سے فعل واحد مؤنث تغن آیا ہے ۔ یہاں کوئی ایسا عامل نہیں ہے جس کی وجہ سے تغن کو منصوب یا مجزوم مانا جاسکے ۔ اس لیے یہ مضارع معروف تغنی ہی ہے ۔ اس آیت میں اس کی یا کو گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–5

﴿وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ002﴾ منکرین کا یہ طریقہ ہے کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں۔ حق کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے۔ جس کا اثر دیرپا نہیں ہے عنقریب ہی ختم ہوجائے گا۔ ﴿ وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴾ (اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا) اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور ان کے نفسوں میں جو باطل نے جگہ پکڑ رکھی تھی اسی کو امام بنایا اور اسی کے پیچھے چلتے رہے اور انکار نبوت پر اصرار کرتے رہے۔ ﴿ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ003﴾ (اور ہر بات قرار پانے والی ہے) یعنی حق کا حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5:۔ ” ولقد جاءھم “ مزدجر، رک جانے کا مقام اور جائے عبرت۔ ” حکمۃ بالغۃ یہ ما سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ بدل من ما او علی ھو حکمۃ (مدارک ج 4 ص 103) ۔ یعنی ان معاندین کے پاس قرآن میں گذشتہ سرکش قوموں کے عبرتناک انجام کے اس قدرت واقعت آچکے ہیں کہ ان میں کافی سامانِ عبرت ہے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ سرکشی اور عناد سے باز آنا چاہے اس کے لیے ان واقعات میں زجر و تہدید کا کافی مواد موجود ہے اور وہ سراپا حکمت و دانش ہے اور اس کی ہر بات حکمت زجر کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یعنی القران حکمۃ تامۃ قد بلغت الغایۃ فی الزجر (معالم و خازن ج 6 ص 274) ۔ ” فما تغن النذر “ مصدر ہے۔ بمعنی الانذار۔ یعنی جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حِكْمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۝ 5 ۙ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بلغ البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : وانشق عطف علی اقترب وان شرطیۃ یعرضوا ویقولوا جوا بہ سحر خبرمبتداء محذوف ای ھذا وکل امر مبتداء مستقر خبرہ و یقرء بالجر صفۃ لامر من الانباء بیان لمزد جر ھو اسم مکان او مصدر میمی یقال از دجرتہ اذانہیۃ عن السوء ووعظتہ بغلظ واصلہ فرتجر فتاء الافتعال قلبت والاً لوقوعہا بعد الزاء وماموصولۃ اوموصوفۃ حکمۃ خبرمبتداء محذوف اوبدل من ما اومن مزدجر فما استفہامیۃ اونافۃ تغن اصلہ تغنی لم یکتب الیاء بعد النون اتباعاً لرسم المصحف والنذر جمع نذیر بمعنی المنذر ای الامور المنذرۃ لھم کا خبار الماضیۃ والامور الھائلۃ۔ تفسیر : یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر بھی یہی فرماتے ہیں۔ آیات کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ الْاَنْـبَـآئِ مَافِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ حِکْمَۃٌ م بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۔ (القمر : 4، 5) (ان لوگوں کے پاس (گزشتہ قوموں کی) سرگزشتیں آچکی ہیں جن میں کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ اور ایسی حکمت جو دلوں میں اتر جانے والی ہے۔ پس کیا کام آئیں تنبیہات ؟ ) انسان کی بےبصیرتی انشقاقِ قمر جیسی نشانی دیکھنے کے بعد بھی قریش نے جو رویہ اختیار کیا اور انکار کی جس روش پر وہ آگے بڑھتے رہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں ایسی قومیں گزر چکی ہیں جن کے حالات سینہ بہ سینہ جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ قریش جیسا طرزعمل اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–8

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کے پاس شق قمر کا معجزہ اور دیگر دلائل آچکے ہیں لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے ظہور سے پہلے اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ہی عبرت حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہ صرف قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے ہیں بلکہ کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے سا تھیوں کے سامنے مردوں کو زندہ کرکے بھی دکھلایا ہے اور جو لوگ دلائل اور تنبیہات کے باوجود قیامت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ اس دن سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جس دن انہیں بلانے والا اس چیز کی طرف بلائے گا۔ جیسے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 5: حِکْمَۃٌ (وہ دانشمندی ہے) ۔ نحو : یہ ما سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ ہو حکمۃ۔ بَالِغَۃٌ (اعلیٰ درجہ کی) ۔ انتہائی درست یا نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تک پہنچنے والی ہے۔ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ لیکن خوف دلانے والی چیز ان کو کچھ فائدہ ہی نہیں دیتی ہے۔ : ما نفی کیلئے ہے اور النذر مصدر بمعنی انذار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ولقدجاء ھم “ یعنی اہل مکہ ” من الانبائ “ جھٹلانے والی امتوں کی خبریں قرآن میں۔ ” مافیہ مزدجر “ اس کی انتہاء نہیں مصدر ہے ” ازدجار “ کے معنی میں۔ یعنی نہی اور نصیحت ۔ کہا جاتا ہے ” زجرتہ وازدجرتہ “ جب تو اس کی برائی سے روک دے اور اس کی اصل مزتجر ہے تاء کو دال سے تبدیل کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی ‘ مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ چاہا۔ اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض علما نے اس آیت کے معنی میں یہ جو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا معجزہ جو ہوا ہے اس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ بلکہ جس شق القمر کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک قیامت کی نشانی ہے جب اور نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی۔ اس وقت یہ نشانی بھی ظاہر ہوگی۔ یہ قول قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ) یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔ (فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ) پھ رمحض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لایومنون ولو جاءتھم کل اٰیۃ حتی یروالعذاب الالیم۔ یونس 96۔ 97) وہ ایمان نہیں لائیں گے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آجائے حتی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 7] تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین کا ذکرو بیان : سو اس سے دوسروں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ چناچہ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان کے پاس پہنچ چکیں ایسی سرگزشتیں جن میں بڑا سامان عبرت ہے۔ یعنی اس قرآن حکیم کے ذریعے جو کہ حقانیت و صداقت، اور عبرت و نصیحت کا کامل و اکمل نمونہ و مرقع ہے، جس جیسا دوسرا کوئی نمونہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتا ہے، سو ان لوگوں کو گزشتہ قوموں کی جو سرگزشتیں سنائی گئیں ان میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے، اور ان سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جس قوم نے بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:5) حکمۃ : یہ آیت سابقہ میں جو ما ہے (جو فعل جاء کا فاعل ہے) اس کا بدل ہے۔ بالغۃ : صفت ہے حکمۃ کی، پہنچی ہوئی۔ پہنچنے والی۔ بلوغ (باب نصر) سے مصدر۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے (ایمان بالغۃ (68:39) تاکید میں انتہاء کو پہنچی ہوئی قسمیں۔ حکمۃ بالغۃ۔ حکمت اور دانائی میں انتہاء کو پہنچی ہوئی بات، سراسر دانائی۔ فما تغن النذر : ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ انکار بھی تغن مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اغناء (افعال) مصدر سے۔ کام آنا۔ کفایت کرنا۔ تغن اصل میں تغنی تھا۔ عامل کے سبب سے ی حذف ہوگئی ہے (لغات القرآن) اصلہ تغنی لم تکتب لیاء بعد النون اتباعا لرسم المصاحف (تفسیر حقانی) اصل میں تغنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

معجزہ شق القمر۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر زاہدی میں یوں مذکور ہے کہ ایک شب میں ایک یہودی اور ابوجہل نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھایے ، آپ نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو، تب یہودی نے ابوجہل سے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور سحر آسمان میں اثر نہیں کرتا، تو ان سے یہ کہا کہ ہمارے لیے چاند کے دوٹکڑے کریں، ابوجہل نے آپ سے یوں ہی کہا، آپ نے اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا، چاند اسی وقت دوٹکڑے ہوگیا پھر ابوجہل نے کہا کہ آپ اس کو حکم فرماویں کہ یہ دونوں مل جاویں، آپ نے اس طرف اشارہ کیا جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا، یہودی تو یہ دیکھتے ہی ایمان لایا اور ابوجہل نے کہا میری آنکھوں پر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–5

[2] یعنی ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے ان لوگوں کو عذاب بھی اپنے وقت پر آئے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة القمر اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اعلیٰ درجے کی حکمت اور انتہائی دانائی اور پوری عقل کی بات موجود ہے مگر ان کو ڈرانے والی باتیں اور خوف دلانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ حکمۃ بالغتہ یا تو مبتدا محذوف کی خبر ہے یا مافیہ میں جو ما ہے اس سے بدل ہے اور ہوسکتا ہے مزدجر سے بدل ہو مطلب یہ ہے کہ وہ خبریں اور وہ واقعات پوری دانائی اور حکمت ہیں یا ان واقعات میں انتہائی حکمت و دانائی ہے یا یہ واقعات جس قرآن میں مذکور ہیں وہ قرآن حکمت بانو ہے یا وہ جھڑکی اور ڈانٹ انتہائی حکمت و دانائی ہے مگر ان کو ان ڈرانے والی باتوں سے کچھ نفع نہیں ہوتا اور ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا خواہ وہ ڈرانے والے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوں یا امم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–11

ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حکمت ان کو پہنچ گئی لیکن انہوں نے ڈرانے والوں سے کوئی فائدہ نہ پایا 5 ؎ گزشتہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کی داستانیں جو ہم نے ان کو بار بار سنائیں اور اشارات و استعارات ان کی طرف کئے وہ ایسی نصیحتیں کیں تھیں کہ اگر یہ لوگ چاہتے تو ان سے نصیحت حاصل کرسکتے تھے اور اپنی آخرت کو سنوار سکتے تھے خصوصاً جونہی نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد ہوئی اور آپ ﷺ نے اپنی بعثت کا اعلان کیا اور جو اخلاق و کردار سے سبق ان کو دیا ایسی نصیحتیں جو حکمت سے بھری ہوئی ہوں وہ تو ہدایت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہیں لیکن کوئی ہدایت کا طلب گار بھی تو ہو جو خودہدایت کو پسند نہ کرے اس کو ڈرانے والے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

وَكُلُّ أَمْرٍ‌ مُّسْتَقِرٌّ‌ (...while every matter has to be settled....54:3). The literal meaning of the word istiqrar is to settle. The verse means that everything must ultimately reach its end and the matter must become clear. If a veil is fabricated and cast over the truth or reality, eventually [ in its designated time ] the false veil will be removed and the truth and falsehood will be clearly distinguished.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–5

3 That is, "They still persisted in the same decision that they had made of denying the Hereafter and have not changed their mind even after having witnessed this manifest Sign, mainly because it clashed with their desires of the flesh. " 4 That is, "It cannot be so endlessly that Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) should go on inviting you to the Truth while you persist in your falsehood stubbornly and his Truth and your falsehood should never be established. AII affairs ultimately have to reach an appointed end. Likewise, inevitably this conflict between you and Muhammad…

Read the full tafseer →