Al-Qamar 54:4

Al-Qamar · from ayah 4

54:4

وَلَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌ ۟ۙوَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۡۢبَآءِ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌۙ

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there has already come to them of information that in which there is deterrence -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:4

اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ان کے پاس وه خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان لوگوں کو (پچھلی قوموں کے) واقعات کی اتنی خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں تنبیہ کا بڑا سامان تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آئیں جن میں کافی روک تھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک اُن کے پاس (پہلی قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (کفر و نافرمانی پر بڑی) عبرت و سرزنش ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس کئی خبریں آئی ہیں، جن میں باز آنے کا سامان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں کو (پہلی قوموں کی) خبریں مل چکی ہیں جن میں کافی تنبیہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو ماضی کی سر گزشتیں پہنچ گئیں ہیں جن میں کافی سامان عبرت موجود ہے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ان لوگوں کے پاس (پچھلی قوموں کی) اتنی سرگذشتیں پہنچ چکی ہیں جن میں بڑا سامان عبرت ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان لوگوں کے پاس خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ جن میں کافی عبرت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہہ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو ایسے حالات۔ (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely there came to them narratives (of the ancient nations) that should suffice to deter (them from transgression),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And there has come to them as much news (of the earlier communities) as it is enough to deter,

— Muhammad Taqi Usmani

And there has come to them as much news (of the earlier communities) as it is enough to deter,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed there has come to them news wherein there is Muzdajar.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And surely there hath come unto them news whereof the purport should deter,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there has already come to them of information that in which there is deterrence -

— Saheeh International

They have certainly received the kind of news in which there is a lesson and strong words of wisdom,

— Muhammad Sarwar

And certainly some narratives have come to them wherein is prevention--

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly there hath come Unto them tidings wherein is a deterrent.

— Abdul Majid Daryabadi

There have already come to them Recitals wherein there is (enough) to check (them),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–5

سورة الْقَمَر 3 یعنی جو فیصلہ انہوں نے قیامت کو نہ ماننے کا کر رکھا ہے، اس نشانی کو دیکھ کر بھی یہ اسی پر جمے رہے۔ قیامت کو مان لینا چونکہ ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھا اس لیے صریح مشاہدے کے بعد بھی یہ اسے تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ سورة الْقَمَر 4 مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بلا نہایت نہیں چل سکتا کہ محمد ﷺ تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں، اور تم ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل پر جمے رہو، اور ان کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہ ہو۔ تمام معاملات آخر کار ایک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں، اسی طرح تمہاری اور محمد ﷺ کی اس کشمکش کا بھی لا محالہ ایک انجام ہے جس پر یہ پہنچ کر رہے گی۔ ایک وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

اہل مکہ جب اس مشاہدہ کی تکذیب نہ کرسکے تو اس کو جادو یا سخت جادو کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے، وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ، استقر کے لغوی معنی قرار پکڑنے کے ہیں، مفہوم آیت کا یہ ہے کہ ہر کام اور ہر چیز اپنی غایت پر پہنچ کر آخر کار صاف ہوجاتی ہے، کسی جعل سازی سے جو پردہ حقیقت پر ڈالا جاتا ہے وہ انجام کار کھل کر رہتا ہے اور حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزد جز) (4) (عاقل دوہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے)۔ یہ اسی اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ اگر ان پر ابھی عذاب نہیں آیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی جو سر گزشتیں سنائی گئی ہیں اگر وہ غور کریں تو ان کے اندرکافی سامان عبرت موجود ہے۔ ان سرگزشتوں سے انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس قوم نے بھی رسول کے انداز کی تکذیب کی بالآخر عذاب الٰہی کی گرفت میں آگئی۔ تاخیر عذاب سے وہ قومیں بھی انہی کی طرح اس مغالطے میں مبتلا ہوئیں کہ پیغمبر کی دھمکی محض خالی خولی دھمکی ہے لیکن وہ بالکل سچی ثابت ہوئی۔ مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–5

3: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کام کا ایک انجام ہوتا ہے لہذا جو کچھ حضور اقدس ﷺ فرما رہے ہیں، اور جو کچھ یہ کافر کر رہے ہیں، اس کا انجام عنقریب معلوم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد ............ مزدجر (54:4) ” ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے۔ “ ان کے پاس اس کائنات کی آیات کے بارے میں قرآن نے کافی خبریں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں۔ ان کے پاس اہم سابقہ کے مکذبین کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان کے پاس مناظر قیامت کی شکل میں آخرت کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان سب امور میں عبرت آموزی ، رکاوٹ ، خطرے کی علامات موجود ہیں اور ان کے اندر ایسی حکیمانہ باتیں بھی ہیں جو سیدھی دل میں اترنے والی ہیں اور اچھی ہدایات ہیں لیکن جو دل اندھے ہوچکے ہیں وہ آیات کو نہیں دیکھ پاتے اور ان خبروں سے فائدہ نہیں اٹھائے نہ خبروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی قرآن کے ذریعہ سے ہر قسم کے احوال اور تباہ شدہ قوموں کے واقعات معلوم کرائے جا چکے ہیں جن میں اگر غور کریں تو خداوند قہار کی طرف سے بڑی ڈانٹ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنَ الْاَنْبَـآئِ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ } ”اور ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہہ ہے۔“ گزشتہ اقوام کے اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے اور پھر اس کے نتیجے میں عذاب الٰہی کے ذریعے تباہ ہوجانے کی خبریں انباء الرسل ان لوگوں کو تفصیل سے بتائی جا چکی ہیں۔ ان خبروں میں مشرکین مکہ کے لیے یقینا کافی تنبیہہ و تہدید اور سامانِ عبرت موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3 یعنی نبیوں اور ان کے معجزات سے انکار کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ نبی کی لائی ہوئی شریعت کی پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ 4 یعنی ہر عمل کا کوئی نہ کوئی انجام یا نتیجہ ضرور نکلتا ہے اور اس وقت تمہارے اور اللہ کے رسول کے درمیان جو کشمکش جاری ہے۔ اس کا بھی نتیجہ نکل کے رہے گا اور ایسا وقت لازماً آنے والا ہے جب تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ نبی حق پر تھا اور جس بات پر تم اڑے ہوئے تھے وہ غلط تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اور ان سے پورا اور واضح نتیجہ عقوبت عاجل سے متعلق نکل سکتا ہے) من الانبآء۔ عینی پرانی نافرمان قوموں کے زیر عذاب آنے اور ہلاک و برباد ہونے کے متعلق خبریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجر ” اور ان لوگوں کے پاس (گزشتہ اقوام کی) خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں کافی عبرت ہے وَلَقَدْ جَآءَ ھُمْ : یعنی کفار مکہ کے پاس قرآن میں اقوام گزشتہ کی خبریں اور دوسری زندگی کی اطلاعات آچکی ہیں جو نافرمانیوں سے بازداشت کے لیے کافی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن میں بری باتوں سے روکا گیا ہے اور نصیحت کردی گئی ہے اور گزشتہ نافرمان امتوں کی ہلاکت کا بیان کردیا گیا ہے۔ نصیحت اندوزی اور نافرمانیوں سے بازداشت کے لیے یہ کافی ہے۔ مُزْدَجَرٌ : مصدر میمی جس کا معنی ہے ازدجار (بازداشت ‘ تنبیہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) اور ان کہ والوں کے پاس قرآن کریم کے ذریعے گزشتہ قوموں کی خبریں پہنچ چکی ہیں کہ جھٹلانے پر وہ کس طرح ہلاک ہوئے جن میں کافی تنبیہ اور ممانعت ہے اور قرآن کریم اللہ کی طرف سے حکمت سے بھروپور ہے جس سے کافی دانش مندی حاصل ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ اْلاَ نْبَآئِ۔۔۔:”نبائ“ کسی اہم خبر کو کہتے ہیں ، ”الانبائ“ اس کی جمع ہے۔ ”مزدجر“”زجر یز جز زجرا“ (ن) روکنا ، منع کرنا ، ڈانٹنا) سے بات افتعال کا مصدر میمی ہے ، جس کا معنی ”باز آنا“ ہے۔ کہا جاتا ہے :”زجرتہ فازدجر“ میں نے اسے منع کیا تو وہ باز آگیا۔“ یہ اصل میں ”مزتجر“ (بروزن مفتعل) تھا ، ”زائ“ کی وجہ سے باب افتعال کی ”تائ“ کو دال سے بدل دیا تو ’ ’ مزدجر“ ہوگیا۔ تنوین اس میں تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی قرآن کی صورت میں ان کے پاس رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کی خبروں میں سے ایسی اہم خبریں یقینا پہنچی ہیں جن میں آدمی کے لیے ہوائے نفس کی پیرو ی اور رسولوں کی تکذیب سے باز آنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

ولقد جآء ھم من الانبآء یہاں من بعضیہ ہے اللہ تعالیٰ نے خبروں میں سے ان کا ذکر کیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ اس کے محتاج ہوں گے اور ان کے لئے اس میں شفاء ہے وہاں اس سے بھی زیادہ امور تھے۔ ہمارے اوپر ان کو ہی بیان کیا گیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ہمیں اس کی حاجت ہے اور باقی سے خاموشی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مقصود ہے۔ یعنی ان کفار تک سابقہ امتوں کی خبریں پہنچیں۔ مافیہ مزدجر۔ جو انہیں کفر سے جھکڑنے والی ہے اگر وہ اس کو قبول کریں۔ یہ اصل میں مزتجر تھا اس کی تاء کو دال سے بدل دیا۔ کیونکہ تاء حرف مہموس ہے اور زاء حرف مہجور ہے تاء کو دال سے بدل دیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–6

قرآن کریم عبرت و نصیحت کی کتاب ہے : 1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' (اور ان لوگوں کے پاس خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں کافی عبرت ہے) یعنی یہ قرآن عبرت ہے پھر فرمایا یہ قرآن منتہی ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور یہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' تلاوت فرمائی (پھر) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں حلال کو حلال قرار دیا اور حرام کو حرام قرار دیا اور تم کو اس میں بتادیا گیا جو تم کرتے ہو (یعنی جو تم عمل کرتے ہو) اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ [ اور بیشک آچکی ہے ان کے پاس ] مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ [ خبروں میں سے ] مَا [ وہ ] فِيْهِ [ جس میں ] مُزْدَجَرٌ [ ایک روکی ہوئی بات (نصیحت آمیز جھڑکی ) ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 4) جاء کا فاعل ما ہے ۔ فیہ کی ضمیر ما کی ضمیر عائد ہے ۔ مزدجر کا مادہ ” ز ج د “ ہے یہ باب افتعال سے اسم المفعول ہے اور مبتدا مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو موجود ہوسکتی ہے۔ جبکہ فیہ قائم مقام خبر مقدم ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–5

﴿وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ002﴾ منکرین کا یہ طریقہ ہے کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں۔ حق کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے۔ جس کا اثر دیرپا نہیں ہے عنقریب ہی ختم ہوجائے گا۔ ﴿ وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴾ (اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا) اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور ان کے نفسوں میں جو باطل نے جگہ پکڑ رکھی تھی اسی کو امام بنایا اور اسی کے پیچھے چلتے رہے اور انکار نبوت پر اصرار کرتے رہے۔ ﴿ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ003﴾ (اور ہر بات قرار پانے والی ہے) یعنی حق کا حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5:۔ ” ولقد جاءھم “ مزدجر، رک جانے کا مقام اور جائے عبرت۔ ” حکمۃ بالغۃ یہ ما سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ بدل من ما او علی ھو حکمۃ (مدارک ج 4 ص 103) ۔ یعنی ان معاندین کے پاس قرآن میں گذشتہ سرکش قوموں کے عبرتناک انجام کے اس قدرت واقعت آچکے ہیں کہ ان میں کافی سامانِ عبرت ہے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ سرکشی اور عناد سے باز آنا چاہے اس کے لیے ان واقعات میں زجر و تہدید کا کافی مواد موجود ہے اور وہ سراپا حکمت و دانش ہے اور اس کی ہر بات حکمت زجر کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یعنی القران حکمۃ تامۃ قد بلغت الغایۃ فی الزجر (معالم و خازن ج 6 ص 274) ۔ ” فما تغن النذر “ مصدر ہے۔ بمعنی الانذار۔ یعنی جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ مَا فِيْہِ مُزْدَجَرٌ۝ 4 ۙ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : وانشق عطف علی اقترب وان شرطیۃ یعرضوا ویقولوا جوا بہ سحر خبرمبتداء محذوف ای ھذا وکل امر مبتداء مستقر خبرہ و یقرء بالجر صفۃ لامر من الانباء بیان لمزد جر ھو اسم مکان او مصدر میمی یقال از دجرتہ اذانہیۃ عن السوء ووعظتہ بغلظ واصلہ فرتجر فتاء الافتعال قلبت والاً لوقوعہا بعد الزاء وماموصولۃ اوموصوفۃ حکمۃ خبرمبتداء محذوف اوبدل من ما اومن مزدجر فما استفہامیۃ اونافۃ تغن اصلہ تغنی لم یکتب الیاء بعد النون اتباعاً لرسم المصحف والنذر جمع نذیر بمعنی المنذر ای الامور المنذرۃ لھم کا خبار الماضیۃ والامور الھائلۃ۔ تفسیر : یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر بھی یہی فرماتے ہیں۔ آیات کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ الْاَنْـبَـآئِ مَافِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ حِکْمَۃٌ م بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۔ (القمر : 4، 5) (ان لوگوں کے پاس (گزشتہ قوموں کی) سرگزشتیں آچکی ہیں جن میں کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ اور ایسی حکمت جو دلوں میں اتر جانے والی ہے۔ پس کیا کام آئیں تنبیہات ؟ ) انسان کی بےبصیرتی انشقاقِ قمر جیسی نشانی دیکھنے کے بعد بھی قریش نے جو رویہ اختیار کیا اور انکار کی جس روش پر وہ آگے بڑھتے رہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں ایسی قومیں گزر چکی ہیں جن کے حالات سینہ بہ سینہ جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ قریش جیسا طرزعمل اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : سورة النجم کا اختتام اس مضمون پر ہوا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سورة القمر کی بتدا میں قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ دین کا تیسرا بڑا عنوان قیامت ہے جس کی نشانیوں اور ہولناکیوں کا قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وہ بات کو الجھانے کے لیے قیامت کے بارے میں کئی قسم کے سوالات کرتے تھے۔ نبی محترم ﷺ نے انہیں ہر طرح سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش فرمائی کہ قیامت ہر صورت آکر رہے گی۔ مگر مکہ والے اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 4: وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ (اور ان لوگوں کے پاس آچکی ہیں) ۔ ہم سے اہل مکہ مراد ہیں۔ مِنَ الْاَنْبَآئِ (اتنی خبریں) ۔ قرآن مجید میں جو قرون گزشتہ کی خبریں دی گئی ہیں۔ یا آخرت کے حالات اور خبریں اور کفار کو ہونے والے عذاب کی تفصیلات جو بیان کردی گئی ہیں۔ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ (کہ ان میں کافی عبرت ہے) ۔ کفر سے روک ٗ تنبیہ و ممانعت ہے جیسا تم کہو۔ زجرتہ و ازدجرتہ ٗ یعنی میں نے اس کو روکا۔ نحو : ازدجر اصل میں ازتجر ہے۔ تاء کو دال سے بدل دیا کیونکہ تاء حرف مہموس ہے۔ اور راء مجھور ہے۔ تاء کو حرف مجھور سے بدل لیا۔ تاکہ مناسب ہوجائیں یہ کتاب سیبویہ کے آخر میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” وکذبوا واتبعوا اھواء ھم “ یعنی نبی کریم ﷺ کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا معائنہ کیا اس کی بھی اور اس کی اتباع کی جو شیطان نے ان کے لئے مزین کیا۔ ” وکل امر مستقر “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ہر امر کی حقیقت جو دنیا کا ہے تو عنقریب ظاہرہوجائے گا اور جو آخرت کا ہے وہ عنقریب معلوم ہوجائے گا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہر امر مستقر ہے۔ پس خیر اہل خیر کے ساتھ ثابت اور شر اہل شر کے ساتھ ثابت ہے۔ اورکہا گیا ہے کہ ہر امر خیر ہو یا شر اس کا ٹھکانہ ثابت ہے۔ پس خیر اہل خیر کے ساتھ جنت میں ثابت ہے اور شر اہل شر کے ساتھ جہنم میں ثابت ہے اور کہا گیا ہے کہ تصدیق کرنے والوں کا قول اور تکذیب کرنے والوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی ‘ مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ چاہا۔ اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض علما نے اس آیت کے معنی میں یہ جو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا معجزہ جو ہوا ہے اس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ بلکہ جس شق القمر کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک قیامت کی نشانی ہے جب اور نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی۔ اس وقت یہ نشانی بھی ظاہر ہوگی۔ یہ قول قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد نہ اتباع ہدایت (وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ) اور یقینا ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں یعنی سابقہ اور موجود خبریں اور معجزات ظاہرہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر وتوبیخ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 7] تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین کا ذکرو بیان : سو اس سے دوسروں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ چناچہ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان کے پاس پہنچ چکیں ایسی سرگزشتیں جن میں بڑا سامان عبرت ہے۔ یعنی اس قرآن حکیم کے ذریعے جو کہ حقانیت و صداقت، اور عبرت و نصیحت کا کامل و اکمل نمونہ و مرقع ہے، جس جیسا دوسرا کوئی نمونہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتا ہے، سو ان لوگوں کو گزشتہ قوموں کی جو سرگزشتیں سنائی گئیں ان میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے، اور ان سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جس قوم نے بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:4) ولقد : واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ اور قد ماضی سے قبل آنے پر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے جارہم : ای الیٰ اہل مکۃ۔ اہل مکہ کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ الانبائ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ بنا کی جمع ہے جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ اسے نبا کہتے ہیں۔ جس خبر میں یہ باتیں موجود نہ ہوں اس کو بنأ نہیں بولتے کیونکہ کوئی خبر اس وقت تک نبا کہلانے کی مستحق نہیں جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو تواتر سے ثابت ہو۔ یا جس کو اللہ اور رسول نے بیان کیا ہو۔ یہاں الاانباء سے مراد وہ خبریں ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوئیں۔ الانباء سے قبل من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے اور بیانیہ بھی۔ ولقد جاء ھم من…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

معجزہ شق القمر۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر زاہدی میں یوں مذکور ہے کہ ایک شب میں ایک یہودی اور ابوجہل نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھایے ، آپ نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو، تب یہودی نے ابوجہل سے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور سحر آسمان میں اثر نہیں کرتا، تو ان سے یہ کہا کہ ہمارے لیے چاند کے دوٹکڑے کریں، ابوجہل نے آپ سے یوں ہی کہا، آپ نے اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا، چاند اسی وقت دوٹکڑے ہوگیا پھر ابوجہل نے کہا کہ آپ اس کو حکم فرماویں کہ یہ دونوں مل جاویں، آپ نے اس طرف اشارہ کیا جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا، یہودی تو یہ دیکھتے ہی ایمان لایا اور ابوجہل نے کہا میری آنکھوں پر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–5

[2] یعنی ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے ان لوگوں کو عذاب بھی اپنے وقت پر آئے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة القمر اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اور بلا شبہ سابقہ واقعات میں سے ان کے پاس اس قدر خبریں پہنچ چکی ہیں کہ ان میں ان کے لئے کافی نصیحت اور عبرت اور ڈانٹ ہوسکتی ہے۔ قادہ ہے کہ افتعال کی تاکودال مشدد یا ڈال سے یا زا سے بدل لیا کرتے ہیں۔ ازدجار کسی کو جھڑک کر کسی بات سے روکنا اور منع کرنا مطلب یہ ہے کہ امم سابقہ کی تعذیب کے جو واقعات ان تک آئے ہیں اور جو خبریں ان تک پہنچی ہیں ان خبروں میں کافی جھڑکی اور منع ہے یہاں بھی کہا کرتے ہیں خبردارایسا نہ کرنا کبھی چیخ کر کہتے ہیں کبھی تیز آواز سے منع کرتے ہیں اسی کو فرمایا کہ وہ واقعات خود اس قسم کی جھڑکی اور روک ہیں یا ان میں سے اس قدر جھڑکی اور ڈانٹ ہے کہ ایک سمجھ دار آدمی کو انہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–11

ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے پاس خبریں پہنچ چکی ہیں کہ ان میں لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے 4 ؎ (مزدجر) مصدر میمی یا ظرف مکان از دجار مصدر باب افتعال زجر مادہ۔ بازگشت ‘ جھڑ کی یا جھڑکنی اور روکنے کا مقام۔ یہ لفظ اصل میں مزتجر تھا تا کو ” د “ سے بدل دیا گیا۔ ازدجار لازم بھی ہے۔ رک جانا اور باز رہنا اور متعدی بھی باز رکھنا اور روک دینا۔ انز جار باب انفعال لازم ہے رک جانا ‘ ٹھہر جانا۔ زجر کسی کو روکنا ‘ باز رکھنا اور جھڑکنا۔ مطلب یہ ہے کہ مخالفین و معاندین اگر درس عبرت حاصل کرنا چاہیں تو ان کے لئے گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکار پڑھ کر سنائے گئے تھے اور ان میں ان لووں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا بہت سامان موجود تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

وَكُلُّ أَمْرٍ‌ مُّسْتَقِرٌّ‌ (...while every matter has to be settled....54:3). The literal meaning of the word istiqrar is to settle. The verse means that everything must ultimately reach its end and the matter must become clear. If a veil is fabricated and cast over the truth or reality, eventually [ in its designated time ] the false veil will be removed and the truth and falsehood will be clearly distinguished.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–5

3 That is, "They still persisted in the same decision that they had made of denying the Hereafter and have not changed their mind even after having witnessed this manifest Sign, mainly because it clashed with their desires of the flesh. " 4 That is, "It cannot be so endlessly that Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) should go on inviting you to the Truth while you persist in your falsehood stubbornly and his Truth and your falsehood should never be established. AII affairs ultimately have to reach an appointed end. Likewise, inevitably this conflict between you and Muhammad…

Read the full tafseer →