Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
سورة الْقَمَر 3
یعنی جو فیصلہ انہوں نے قیامت کو نہ ماننے کا کر رکھا ہے، اس نشانی کو دیکھ کر بھی یہ اسی پر جمے رہے۔ قیامت کو مان لینا چونکہ ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھا اس لیے صریح مشاہدے کے بعد بھی یہ اسے تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔
سورة الْقَمَر 4
مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بلا نہایت نہیں چل سکتا کہ محمد ﷺ تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں، اور تم ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل پر جمے رہو، اور ان کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہ ہو۔ تمام معاملات آخر کار ایک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں، اسی طرح تمہاری اور محمد ﷺ کی اس کشمکش کا بھی لا محالہ ایک انجام ہے جس پر یہ پہنچ کر رہے گی۔ ایک وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
اہل مکہ جب اس مشاہدہ کی تکذیب نہ کرسکے تو اس کو جادو یا سخت جادو کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے، وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ، استقر کے لغوی معنی قرار پکڑنے کے ہیں، مفہوم آیت کا یہ ہے کہ ہر کام اور ہر چیز اپنی غایت پر پہنچ کر آخر کار صاف ہوجاتی ہے، کسی جعل سازی سے جو پردہ حقیقت پر ڈالا جاتا ہے وہ انجام کار کھل کر رہتا ہے اور حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →(وکذبوا واتبعوا اھواء ھم و کل امر مستقر) (3)
(کفار کو ڈھیل دینے کی حکمت)۔ یہ ان کی تکذیب، سبب تکذیب اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ انہوں نے (یعنی قریش نے) خدا کے نذیر اور اس کے انداز کی تکذیب کردی اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے سبب سے وہ سنت الٰہی کے سابق عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کام ایک معین پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ جب ان کی اجل معین پوری ہوجائے گی تو پکڑ لیے جائیں گے۔ یعنی ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ پیغمبر ﷺ کا انداز محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کر رکھا ہے…
Read the full tafseer →3۔ 1 یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع کی تردید کے لئے فرمایا کہ ہر کام کی ایک انتہا ہوتی ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کا نتیجہ اچھا اور برے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہور دنیا میں بھی ہوسکتا ہے اگر اللہ کی مشیت مقتضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کام کا ایک انجام ہوتا ہے لہذا جو کچھ حضور اقدس ﷺ فرما رہے ہیں، اور جو کچھ یہ کافر کر رہے ہیں، اس کا انجام عنقریب معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →وکل امر مستقر (54: 3) ” ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے “ اس عظیم کائنات میں ہر چیز اپنے مقام پر رکھی ہوتی ہے اور وہ اپنی جگہ پر پختہ ہے۔ نہ ہلتی ہے اور نہ اس کے اندر اضطراب ہے۔ اس کائنات کا ہر معاملہ ثبات وقرار پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق اصول بھی بدلتے ہیں اور بادشاہوں کی ھنازک مزاجیوں کی طرح اصول اور قوانین بھی بدل جاتے ہیں۔ یوں بھی نہیں ہے کہ یہاں معاملات بخت واتفاق کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ ہر چیز اپنی جگہ اور اپنے زمان اور وقت پر رونما ہوتی ہے۔ انسان کو دیکھنا چاہئے کہ اس کے ماحول میں زمان ومکان میں ، واقعات وحادثات میں ایک ترتیب ہے اور یہ ترتیب…
Read the full tafseer →1 یعنی ان کا عذاب بھی اپنے وقت پر آئے گا۔ اور اللہ کے علم میں ان کی گمراہی اور ہلاکت ٹھہر چکی ہے وہ کسی صورت سے ٹلنے والی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 3 { وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی“
{ وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور اللہ کا ہر امر ایک وقت ِمعین کے لیے قرار پا چکا ہے۔“
اللہ تعالیٰ کی منصوبہ بندی میں ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ کوئی کام اللہ کے طے شدہ وقت سے نہ تو پہلے انجام پاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے موخر ہوسکتا ہے۔ انسان کا کام ہے کہ وہ کوشش کرتا رہے اور نتائج اللہ پر چھوڑ دے۔ جیسے یہ طے شدہ امر ہے کہ اللہ کے دین کا غلبہ دنیا میں ہو کر رہے گا ‘ مگر اللہ کی مشیت میں اس کے لیے کون سا وقت مقرر ہے ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چناچہ ہمیں چاہیے کہ ہم اقامت دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 یعنی نبیوں اور ان کے معجزات سے انکار کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ نبی کی لائی ہوئی شریعت کی پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔
4 یعنی ہر عمل کا کوئی نہ کوئی انجام یا نتیجہ ضرور نکلتا ہے اور اس وقت تمہارے اور اللہ کے رسول کے درمیان جو کشمکش جاری ہے۔ اس کا بھی نتیجہ نکل کے رہے گا اور ایسا وقت لازماً آنے والا ہے جب تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ نبی حق پر تھا اور جس بات پر تم اڑے ہوئے تھے وہ غلط تھی۔
Read the full tafseer →3۔ عینی بعد چندے ہر امر کی اصلی حالت معین ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس دین سے متعلق بھی نظر آجائے گا کہ آیا یہ کوئی سحر یا ڈھکوسلا ہے اور یا کوئی باقی رہ جانے والی حقیقت۔ واتبعوا اھوآء ھم۔ اس سے اس جانب اشارہ ہوگیا کہ تکذیب واعراض بھی محض ہو ائے نفس سے تھا اس کی تہ میں کوئی عقلی اشتباہ نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…
Read the full tafseer →و کذبوا واتبعوا اھواء ھم و کل امر مستقر .
” اور ان لوگوں نے جھٹلایا اور اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر بات کو قرار آجاتا ہے۔ “
وَکَذَّنُبْوا واتَّبَعُوْآ : یعنی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اور قرآن مجید کی اور دیکھ لینے کے باوجود قدرت خداوندی کی تکذیب کی اور وحی کی پیروی نہیں کی بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے رہے۔ کَذَّبُوْا اور اتَّبَعُوْا بلفظ ماضی ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کافروں کی پرانی عادت ہے (کہ وحی کو چھوڑ کر اتباع خواہشات کرتے ہیں) ۔
وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ : یعنی ہر امر اپنی انتہا پر ٹھہرا ہوا ہے۔ دنیا میں ناکامی اور کامیابی اور آخرت میں بدبختی اور خوش…
Read the full tafseer →اور خود ان لوگوں نے معجزوں اور قیامت کے قائم ہونے کو جھٹلایا اور معجزوں اور قیامت کی تکذیب اور بتوں کی پوجا میں اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور ہر ایک بات جو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہو حقیقت ہے اور وہ واقع ہوجاتی ہے۔ خواہ جنت و رحمت یا دوزخ و عذاب کے بیان میں ہو جو ان باتوں میں سے دنیا میں ہونے والی ہیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور جو اخروی ہیں وہ واضح ہوجاتی ہیں۔
یا یہ کہ بندوں سے جو بھی کوئی قول و فعل صادر ہوتا ہے اس کی ایک حقیقت ہے اور وہ حقیقت ان کے دل میں ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَآئَ ھُمْ :”اھوائ“”ھویٰ“ کی جمع ہے، خواہشات۔ یعنی کفار کے رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے معجزات کو جھٹلانے کا باعث کوئی معقول بات نہ تھی ، بلکہ صرف اپنی خواہشا ت کی پیروی تھی۔ لفظ ”ھوی“ (خواہش) اسم جنس ہے جو واحد پر صادق آتا ہے اور جمع پر بھی ، مگر یہاں ”اھوا“ (جمع) اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ کفار کے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے کا باعث ان کی ایک خواہش نہ تھی بلکہ بہت سی خواہشیں تھیں جو انہیں آپ کے تابع فرمان ہونے سے روکتی تھیں ، مثلاً سرداری کی خواہش ، حسد ، آباء کی پیروی کی خواہش ، اپنے داتاؤں پر جمے رہنے کی خواہش ، شتر بےمہار رہنے اور کسی کے تابع فرمان نہ ہونے کی خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وان یروا ایۃ یعرضوا یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے چاند کو پھٹتے ہئوے دیکھا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مشرکین رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے انہوں نے کہا اگر آپ سچے ہیں تو چاند کو دو حصوں میں پھاڑ دو ۔ اس کا صنف ابی قبیس پر ہو اور نصف قعیقعان پر ہو (2) رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’ د اگر میں ایسا کر دوں تو تم ایمان لے آئو گے۔ “ انہوں نے کہ: ہاں۔ چودہویں کی رات تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ انہوں نے جو مطالبہ کیا وہ عطا فرما دے تو چاند دو حصوں میں پھٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ مشرکوں کو ندا دے رہے تھے :” اے فلاں ! اے فلاں ! گواہ رہنا۔ “
حضرت ابن مسعود کی حدیث میں ہے : رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قمر مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' مکہ میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اقتربت '' کے پڑھنے والے کو رات میں مبیضہ پکارا جاتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے چہرے کو سفید کردے گی۔ جس دن چہرے سفید ہوں گے (بیہقی (رح) نے کہا یہ حدیث منکر ہے ) ۔
5:۔ الدیلمی (رح) نے عائشہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جس شخص نے (سورۃ) '' الم تنزیل '' '' یسین ''''…
Read the full tafseer →وَكَذَّبُوْا [ اور انھوں نے جھٹلایا ] وَاتَّبَعُوْٓا [اور پیروی کی ] اَهْوَاۗءَهُمْ [ اپنی خواہشات کی ] وَكُلُّ اَمْرٍ [ اور ہر معاملہ ] مُّسْتَقِرٌّ [ قرار پانے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
﴿وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ002﴾ منکرین کا یہ طریقہ ہے کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں۔ حق کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے۔ جس کا اثر دیرپا نہیں ہے عنقریب ہی ختم ہوجائے گا۔ ﴿ وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴾ (اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا) اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور ان کے نفسوں میں جو باطل نے جگہ پکڑ رکھی تھی اسی کو امام بنایا اور اسی کے پیچھے چلتے رہے اور انکار نبوت پر اصرار کرتے رہے۔ ﴿ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ003﴾ (اور ہر بات قرار پانے والی ہے) یعنی حق کا حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…
Read the full tafseer →ٖف 4:۔ ” وکذبوا۔ الایۃ “ ان سرکشوں نے ایسے عظیم معجزے کو بھی جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے ہی دوڑے، لیکن ان کی تکذیب سے اللہ کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ دین حق کو غالب اور اپنے پیغمبر ﷺ کے مشن کو کامیاب فرمائے اور دشمنان اسلام کو ذلیل و رسوا کرے اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ اپنے منتہا کو پہنچ کر رہے گا۔ ای وکل امر من الامور منتہ الی غایۃ لیستقر علیہا لا محالۃ ومن جمل تھا امر النبی ﷺ فسیصیر الی غایۃ یتبین عدنھا حقیقۃ وعلو شانہ (روح ج 27 ص 78) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…
Read the full tafseer →وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْ وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ 3
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : وانشق عطف علی اقترب وان شرطیۃ یعرضوا ویقولوا جوا بہ سحر خبرمبتداء محذوف ای ھذا وکل امر مبتداء مستقر خبرہ و یقرء بالجر صفۃ لامر من الانباء بیان لمزد جر ھو اسم مکان او مصدر میمی یقال از دجرتہ اذانہیۃ عن السوء ووعظتہ بغلظ واصلہ فرتجر فتاء الافتعال قلبت والاً لوقوعہا بعد الزاء وماموصولۃ اوموصوفۃ حکمۃ خبرمبتداء محذوف اوبدل من ما اومن مزدجر فما استفہامیۃ اونافۃ تغن اصلہ تغنی لم یکتب الیاء بعد النون اتباعاً لرسم المصحف والنذر جمع نذیر بمعنی المنذر ای الامور المنذرۃ لھم کا خبار الماضیۃ والامور الھائلۃ۔
تفسیر : یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر بھی یہی فرماتے ہیں۔ آیات کے…
Read the full tafseer →وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَٓائَ ھُمْ وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ۔ (القمر : 3)
(اور انھوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، اور ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ )
اتنی بڑی نشانی دیکھنے کے بعد بھی نہ ماننے کی وجہ
قریش اور دیگر مشرکینِ مکہ نے اتنے بڑے واقعہ کو دیکھنے یا معتبر راویوں سے سننے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کردیا۔ اور انھوں نے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی جاری رکھی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم کرلیں اور یہ بھی مان لیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کتاب نازل ہوئی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : سورة النجم کا اختتام اس مضمون پر ہوا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سورة القمر کی بتدا میں قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔
دین کا تیسرا بڑا عنوان قیامت ہے جس کی نشانیوں اور ہولناکیوں کا قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وہ بات کو الجھانے کے لیے قیامت کے بارے میں کئی قسم کے سوالات کرتے تھے۔ نبی محترم ﷺ نے انہیں ہر طرح سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش فرمائی کہ قیامت ہر صورت آکر رہے گی۔ مگر مکہ والے اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔…
Read the full tafseer →آیت 3: وَکَذَّبُوْا اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو جھٹلایا۔ وَاتَّبَعُوْا اَہْوَآئَ ہُمْ اہواء جو شیطان نے ان کے سامنے پیش کیا کہ ظاہر ہونے کے بعد بھی حق کو روکا۔ وَکُلُّ اَمْرٍ امر سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ مراد ہے۔ مُسْتَقِرٌّ اپنے وقت میں ہو کر رہے گا۔ ایک قول یہ ہے : کل ہر مقدرہ پر واقع ہوگی اور ایک قول : ہر کام ان کے کاموں میں عنقریب ثابت اور ثواب و عقاب کے ظہور کے وقت قائم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →2 ۔” وان یروا آیۃ یعرضوا یقولوا سحر مستمر “ یعنی جانے والا عنقریب چلا جائے گا اور باطل ہوجائے گا۔ یہ ان کے قول ” مر الشیء واستمر “ سے مشتق ہے یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ شے چلی جائے۔ ان کے قول ” فرواستقر “ کی طرح۔ یہ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور ابوالعالیہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں مستمر یعنی قوی سخت جوہر جادو پر غالب آجائے یہ ان کے قول ” مرالحیبل “ سے مشتق ہے جب رسی سخت اور مضبوط ہو تو یہ کہا جاتا ہے اور ” امررتہ انا “ جب تو اس کی بٹائی مضبوط کرے اور ” استمرالشیئ “ جب مضبوط اور پکی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی ‘ مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ چاہا۔ اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض علما نے اس آیت کے معنی میں یہ جو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا معجزہ جو ہوا ہے اس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ بلکہ جس شق القمر کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک قیامت کی نشانی ہے جب اور نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی۔ اس وقت یہ نشانی بھی ظاہر ہوگی۔ یہ قول قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ) اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت ومنتہی تک نہیں پہنچا عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلیں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →[ 5] تکذیب و انکار حق کا اصل سبب اور باعث، اتباع ہویٰ ، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ان لوگوں کی تکذیب اور انکار حق کے اصل سبب اور باعث کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پیچھے چل پڑے اپنی خواہشات کے۔ سو یہ ہے وہ اصل وجہ اور بنیادی فساد جو ہمیشہ راہ حق میں رکاوٹ بنتا رہا، اور آج تک بن رہا ہے، یعنی خواہشات نفس کی پیروی جس کی بناء پر لوگ کل بھی حق سے محروم رہے، اور آج بھی اس سے حرمان نصیبی کا شکار اور نور حق و ہدایت سے محروم اور دور و نفور ہیں، کہ دین پر چلنے سے ہم اپنی ان نفسانی خواہشات پر نہیں چل سکیں گے، جن پر ہم اب شتر بےمہار کی طرح چل رہے ہیں، سو یہ لوگ آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا
تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →ف 3 اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائیگی چناچہ ان کافروں کو بھی پتہ چل جائے گا کہ آنحضرت اللہ کے سچے رسول تھے اور ان کی تکذیب غلط تھی۔
Read the full tafseer →(54:3) کذبوا واتبعوا اھواء ہم : ان لوگوں نے جھٹلایا اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔
کذبوا : اتبعوا۔ بالفاظ ماضی ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کافروں کی پرانی عادت ہے (کہ وحی کو چھوڑ کر اتباع شہوات کرتے ہیں) ۔ کذبوا : ای کذبوا النبی ﷺ ۔ یعنی انہوں نے معجزہ دیکھ کر بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی۔
واتبعوا اھواء ھمجملہ معطوف اھواء ہممضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اتبعوا کا۔ احوی جمع ھوی کی خواہشات، خیالات
کل امر مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدائ۔
مستقر : اسم فاعل واحد مذکر، استقرار (استفعال) مصدر۔ قرار پکڑنے والا۔ ٹھیرنے والا۔ کل امر کی خبر، ہر معاملہ قرار پکڑنے والا۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
معجزہ شق القمر۔
(ف 1) شان نزول : تفسیر زاہدی میں یوں مذکور ہے کہ ایک شب میں ایک یہودی اور ابوجہل نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھایے ، آپ نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو، تب یہودی نے ابوجہل سے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور سحر آسمان میں اثر نہیں کرتا، تو ان سے یہ کہا کہ ہمارے لیے چاند کے دوٹکڑے کریں، ابوجہل نے آپ سے یوں ہی کہا، آپ نے اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا، چاند اسی وقت دوٹکڑے ہوگیا پھر ابوجہل نے کہا کہ آپ اس کو حکم فرماویں کہ یہ دونوں مل جاویں، آپ نے اس طرف اشارہ کیا جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا، یہودی تو یہ دیکھتے ہی ایمان لایا اور ابوجہل نے کہا میری آنکھوں پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
[2] یعنی ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے ان لوگوں کو عذاب بھی اپنے وقت پر آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة القمر
اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…
Read the full tafseer →(3) اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور اپنی نفسانی خواہشات پر چلے اور ہر کام کی ایک حد ہے جہاں وہ ٹھہرنے والا ہے۔ یعنی دین حق اور پیغمبر اسلام کی تکذیب کرتے ہیں اور باطل اور شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ جو فرمایا وکل امر مستقر یہ ایک ایسا جملہ ہے جیسے ہم بولا کرتے ہیں کہ ہر کام کا ایک وقت ہوا کرتا ہے یعنی کب تک کوئی یہ کام کرتا رہے گا آخر ہر کام کی ایک حد اور اس کا ٹھہرائو ہے۔
یہاں شاید نبی کریم ﷺ کی مخالفت اور تکذیب کی انتہا کی طرف اشارہ ہے کہ کب تک حق کی مخالفت کرتے رہیں گے آخر کسی دن تو اس کی انتہا ہوگی یا شاید دین حق کی مقبولیت کی طرف اشارہ ہو کہ ایک دن تو یہ دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔
Read the full tafseer →انہوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا اور اپنی خواہشوں پر چلتے رہے
3 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کردی۔ فرمایا کہ حق کو یا یوں کہو کہ نبی کریم ﷺ کو اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو انہوں نے جھٹلایا اور حق کی یا پیگمبر اسلام ﷺ کی اتباع و پیروی کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی اور کرتے ہی چلے گئی اور پھر کیا یہ معاملہ ہمیشہ اسی طرح چلتے رہنا چاہئے تھا اور اس کا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہونا چاہئے تھا ؟ کیوں نہیں جب کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ ہر عمل کی ساتھ اس کا نتیجہ وابستہ کردیا گیا ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے معلوم ہوگیا کہ جب تک انسان ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک نہ کر دے کوئی بات بھی اس کی ہدایت کے لئے کافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ (...while every matter has to be settled....54:3). The literal meaning of the word istiqrar is to settle. The verse means that everything must ultimately reach its end and the matter must become clear. If a veil is fabricated and cast over the truth or reality, eventually [ in its designated time ] the false veil will be removed and the truth and falsehood will be clearly distinguished.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3 That is, "They still persisted in the same decision that they had made of denying the Hereafter and have not changed their mind even after having witnessed this manifest Sign, mainly because it clashed with their desires of the flesh. "
4 That is, "It cannot be so endlessly that Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) should go on inviting you to the Truth while you persist in your falsehood stubbornly and his Truth and your falsehood should never be established. AII affairs ultimately have to reach an appointed end. Likewise, inevitably this conflict between you and Muhammad…
Read the full tafseer →