Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی…
Read the full tafseer →سورة الْقَمَر 2
اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ معاذاللہ، شب و روز کی جادوگری کا جو سلسلہ محمد ﷺ نے چلا رکھا ہے، یہ جادو بھی اسی میں سے ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ پکا جادو ہے، بڑی مہارت سے دکھا یا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ جس طرح اور جادو گزر گئے ہیں، یہ بھی گزر جائے گا، اس کا کوئی دیر پا اثر رہنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ، مستمر کے مشہور معنی جو فارسی اردو میں بھی معروف ہیں، وہ دیر تک اور دائم رہنے کے ہیں، مگر عربی زبان میں یہ لفظ مَرَّ اور استَمَرَّ کبھی گزر جانے اور ختم ہوجانے کے معنی میں بھی آتا ہے، ائمہ تفسیر میں سے مجاہد اور قتادہ نے اس جگہ یہی معنی بیان کئے ہیں، اس پر مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ یہ جادو کا اثر ہے جو دیر تک نہیں چلا کرتا خود ہی گزر جائے گا اور ختم ہوجائے گا اور ایک معنی مستمر کے قوی و شدید کے بھی آتے ہیں، ابوالعالیہ اور ضحاک نے اس آیت میں مستمر کی یہی تفسیر کی ہے اور مراد یہ ہوگی کہ یہ بڑا قوی جادو ہے۔
Read the full tafseer →(وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولو سحر مستمر) (2)
(پیغمبر ﷺ کو تسلی)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مکذبین کو ملامت ہے کہ ان لوگوں کی تکذیب کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان کی نشانی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ نشانیاں تو قدم قدم پر موجود ہیں اور آئے دن ان کو نئی نئی نشانیاں بھی دکھائی جا رہی ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ جزا و سزا کو ماننا نہیں چاہتے ات وجہ سے کسی بڑی سے بڑی نشانی سے بھی سبق نہیں لیتے۔ اگر پیغمبر ﷺ نے ان کو شق قمر سے بھی بڑی کوئی نشانی دکھادی تو اس کا بھی یہ جادو کو کرشمہ قرار دے کر نظر انداز کردیں گے۔
(متمر کا مفہوم)۔ سحر کے ساتھ مستمر کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ وہ اس نشانی کو صرف جادو ہی نہیں…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی قریش نے، ایمان لانے کی بجائے، اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش جاری رکھی۔
Read the full tafseer →2: اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اسی قسم کے جادو مدت سے چلے آ رہے ہیں، اور یہ بھی کہ یہ ایسا جادو ہے جس کا اثر جلدی ہی ختم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →وان یروا ............ تغن النذر (54:2) ” مگر ان کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ انہوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ ہر معاملے کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں “
شق قمر کو بھی دیکھ کر انہوں نے اعراض کرلیا اور انہوں نے شق قمر کے بارے میں بھی وہی بات کہی جو قرآن کی آیات کے سارے میں کہتے تھے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ایک نشانی تو…
Read the full tafseer →13 یعنی اس طرح کے جادو مدعیان نبوت نے پہلے بھی کیے ہیں، پھر جس طرح وہ جاتے رہے یہ بھی جاتا رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 2 { وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ} ”اور اگر وہ دیکھیں گے کوئی نشانی تب بھی وہ اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔“
Read the full tafseer →2 یعنی پہلے انبیاء بھی ایسے جادو کے کرشمے دکھاتے رہے ان کا جادو بھی چل بسا اور وہ خود بھی چل بسے۔ اسی طرح یہ نبی اور اس کے کرشمے بھی عنقریب ختم ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →2 (جیسا کہ ہر سحر ایک عارضی چمک دمک کے بعد فنا ہوجاتا ہے۔ ) ذکر مشرکین مکہ اور ان کی شدت ضد وعناد کا ہورہا ہے کہ یہ لوگ صریح سے بھی صریح واضح سے بھی واضح نشان غیبی دیکھ کی اس کی طرف اصلا التفات نہیں کرتے بلکہ اسے سحر پر محمول کر کے اس کی طرف سے بےپروا ہوجاتے ہیں اور یہی کہنے لگتے ہیں کہ بس جیسے اور جادو کے کرشمے وقتی اور چند روزہ ہوتے ہیں، یہ جادو بھی ایک مدت کے اندر ختم ہوجائے گا۔ مستمر۔ مٹ جانے والا، عارضی، فانی، اے ذاھب قالہ مجاھد وقتادۃ وغیرھما اے باطل مضمل لا دوام لہ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…
Read the full tafseer →وان یروا ایۃ یعرضوا و یقولوا سحر مستمر . ”
اور یہ لوگ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوا جاتا ہے۔ “
َِْوان یَّرَوْا .... یعنی کفار اگر کوئی معجزہ دیکھیں جو رسول اللہ کی سچائی پر دلالت کر رہا ہو تو اس پر غور کرنے اور ایمان لانے اور ماننے سے کترا جائیں گے ‘ روگرداں ہوجائیں گے اور کہیں گے یہ تو سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ بےبنیاد ‘ بےحقیقت جادو ہے ‘ جاتا رہے گا۔ مَرَّ اور استَمَرَّ کا معنی ہے : وہ چلا گیا ‘ جاتا رہا۔ جیسے قرَّ اور استقرَّ (ہم معنی ہیں ‘ اسی طرح مرَّ کا جو معنی ہے وہی استمرَّ کا معنی ہے) ۔
مجاہد اور قتادہ نے مستمر کی یہی تفسیر کی ہے لیکن ابو…
Read the full tafseer →مگر یہ لوگ جب انشقاق قمر وغیرہ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اس کو جھٹلانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک قسم کا جادو ہے جو ابھی ختم ہوجاتا ہے۔
شان نزول : وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا (الخ)
اور امام ترمذی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں نے رسول اکرم سے معجزہ دکھانے کی درخواست کی تو دو مرتبہ مکہ مکرمہ میں چاند شق ہوا اسی کے بارے میں سحر مستمر تک یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا۔۔۔”مر“ اور ”استمر“ گزرنا۔ ”مستمر“ گزر جانے والا۔ یعنی کفار کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ایمان لانے کے بجائے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک جادو ہے ، جس طرح اور جادوگر گزر گئے ہیں یہ بھی گزر جانے والا ہے ، یہ چاند بھی ہمیشہ پھٹا ہوا نہیں رہے گا ، چناچہ انہوں نے چاند پھٹنے کے عظیم الشان واقعہ کو بھی رسول اللہ ﷺ کا جادو قرا ر دے کر ایمان لانے سے اعراض اختیار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وان یروا ایۃ یعرضوا یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے چاند کو پھٹتے ہئوے دیکھا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مشرکین رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے انہوں نے کہا اگر آپ سچے ہیں تو چاند کو دو حصوں میں پھاڑ دو ۔ اس کا صنف ابی قبیس پر ہو اور نصف قعیقعان پر ہو (2) رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’ د اگر میں ایسا کر دوں تو تم ایمان لے آئو گے۔ “ انہوں نے کہ: ہاں۔ چودہویں کی رات تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ انہوں نے جو مطالبہ کیا وہ عطا فرما دے تو چاند دو حصوں میں پھٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ مشرکوں کو ندا دے رہے تھے :” اے فلاں ! اے فلاں ! گواہ رہنا۔ “
حضرت ابن مسعود کی حدیث میں ہے : رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قمر مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' مکہ میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اقتربت '' کے پڑھنے والے کو رات میں مبیضہ پکارا جاتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے چہرے کو سفید کردے گی۔ جس دن چہرے سفید ہوں گے (بیہقی (رح) نے کہا یہ حدیث منکر ہے ) ۔
5:۔ الدیلمی (رح) نے عائشہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جس شخص نے (سورۃ) '' الم تنزیل '' '' یسین ''''…
Read the full tafseer →وَاِنْ يَّرَوْا [اور اگر وہ لوگ دیکھتے ہیں ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] يُّعْرِضُوْا [ تو وہ بےرخی برتتے ہیں ] وَيَقُوْلُوْا [اور کہتے ہیں ] سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ [ (یہ ) ہمیشہ ہونے والا جادو ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
﴿وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ002﴾ منکرین کا یہ طریقہ ہے کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں۔ حق کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے۔ جس کا اثر دیرپا نہیں ہے عنقریب ہی ختم ہوجائے گا۔ ﴿ وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴾ (اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا) اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور ان کے نفسوں میں جو باطل نے جگہ پکڑ رکھی تھی اسی کو امام بنایا اور اسی کے پیچھے چلتے رہے اور انکار نبوت پر اصرار کرتے رہے۔ ﴿ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ003﴾ (اور ہر بات قرار پانے والی ہے) یعنی حق کا حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…
Read the full tafseer →3:۔ ” وان یروا۔ الایۃ “ مستمر، مضبوط اور پختہ یا چلتا ہوا۔ مستمر، قوی شدید یعلو کل سحر (مظہری ج 9 ص 135) ۔ ای مار ذاھب یزول ولایبقی (مدارک ج 4 ص 152) ۔ مشرکین کا عناد و تعنت اور ضد و حسد اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ ایسا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور اسے بہت مضبوط اور لاجواب جادو قرار دیا۔ ان کی تو عادت ہی یہی تھی کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے اسے چلتا ہوا جادو قرار دیتے اور کہتے کہ یہ کوئی پائیدار چیز نہیں ابھی اس کا اثر زائل ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…
Read the full tafseer →وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَۃً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ 2
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : وانشق عطف علی اقترب وان شرطیۃ یعرضوا ویقولوا جوا بہ سحر خبرمبتداء محذوف ای ھذا وکل امر مبتداء مستقر خبرہ و یقرء بالجر صفۃ لامر من الانباء بیان لمزد جر ھو اسم مکان او مصدر میمی یقال از دجرتہ اذانہیۃ عن السوء ووعظتہ بغلظ واصلہ فرتجر فتاء الافتعال قلبت والاً لوقوعہا بعد الزاء وماموصولۃ اوموصوفۃ حکمۃ خبرمبتداء محذوف اوبدل من ما اومن مزدجر فما استفہامیۃ اونافۃ تغن اصلہ تغنی لم یکتب الیاء بعد النون اتباعاً لرسم المصحف والنذر جمع نذیر بمعنی المنذر ای الامور المنذرۃ لھم کا خبار الماضیۃ والامور الھائلۃ۔
تفسیر : یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر بھی یہی فرماتے ہیں۔ آیات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَاِنْ یَّرَوْا اٰ یَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔ (القمر : 1، 2)
(قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔ اور اگر یہ کوئی نشانی دیکھیں تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ )
شانِ نزول
ان آیات کا شان نزول جس پر قرآن کریم کے الفاظ بھی شاہد ہیں اور احادیث سے بھی اس کی نہ صرف تائید ہوتی ہے بلکہ تفصیلی حالات کا علم بھی ہوتا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور احادیث کی دیگر معتبر کتابوں میں بکثرت سندوں کے ساتھ مختلف صحابہ سے اس واقعہ کو روایت کیا گیا ہے۔ جن میں حضرت علی ( رض) ، حضرت عبداللہ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : سورة النجم کا اختتام اس مضمون پر ہوا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سورة القمر کی بتدا میں قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔
دین کا تیسرا بڑا عنوان قیامت ہے جس کی نشانیوں اور ہولناکیوں کا قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وہ بات کو الجھانے کے لیے قیامت کے بارے میں کئی قسم کے سوالات کرتے تھے۔ نبی محترم ﷺ نے انہیں ہر طرح سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش فرمائی کہ قیامت ہر صورت آکر رہے گی۔ مگر مکہ والے اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔…
Read the full tafseer →آیت 2: وَاِنْ یَّرَوْا (اگر اہل مکہ دیکھتے ہیں۔ ) ٰایَۃً (ایسی نشانی) جو حضرت محمد ﷺ کی سچائی پر دلالت کرتی ہو۔ یُعْرِضُوْا وہ اس پر ایمان لانے سے اعراض کر رہے ہیں۔ وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ مضبوط و طاقتور جادو۔ یہ المرۃ سے بنا ہے جس کا معنی قوت ہے۔ نمبر 2۔ ہر وقت چھا دینے والا۔ نمبر 3۔ گزر کر ختم ہوجانے والا۔ زائل اور نابود ہونے والا۔
Read the full tafseer →1 ۔” اقتربت الساعۃ “ قیامت قریب ہوگئی۔” وانشق القمر “ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی نشانی دکھائیں تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھایا حتیٰ کہ ان دونوں کے درمیان انہوں نے حراء کو دیکھا۔ شیبان نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان کو چاند کے ٹکڑے کرنا دو مرتبہ دکھایا۔ ابو معمر کی ابن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں چاند کے دوٹکڑے ہوگئے، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا اس سے نیچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجائو۔ مسروق نے عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ چاند مکہ میں دو ٹکڑے ہوا۔ مقاتل (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی ‘ مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ چاہا۔ اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض علما نے اس آیت کے معنی میں یہ جو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا معجزہ جو ہوا ہے اس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ بلکہ جس شق القمر کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک قیامت کی نشانی ہے جب اور نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی۔ اس وقت یہ نشانی بھی ظاہر ہوگی۔ یہ قول قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تبارک وتعالی آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی یعنی قیامت قریب آگئی ہے اس کی آمد کا وقت ہوگ ای بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جارہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں اللہ ان کی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہین۔ حضرت محمد جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے تو آپ نے اللہ کے حکم سے چاند کی طرف اشارہ کردیا چناچہ اللہ کے حکم سے دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →[ 3] منکروں کے اعراض اور روگردانی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا، اور منکروں کی ہٹ دھرمی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور اگر ان کے پاس کوئی بھی نشانی آجائے تو یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ یعنی کوئی ایسی نشانی جو کہ حق و صداقت کو پوری طرح واضح کردینے والی ہو، اور اس میں کوئی خفاء و غموض بھی نہ ہو، تو انہوں نے پھر بھی منہ موڑ دینا ہے اور ماننا نہیں، کہ یہ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں، اور ضد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں، جب کہ نور ہدایت سے سرفراز ہونے کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق اور اخلاص نیت ہے، سو وعناد و ہٹ دھرمی اور اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا
تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →ف 2 احادیث میں مذکور ہے کہ یہ بات کفار مکہ نے شق قمر کا معجزہ دیکھ کر کہی تھی۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ یہ معجزہ آنحضرت کے زمانہ میں ہوچکا ہے اور قرب قیامت میں چاند کے پھٹنے کی تاویل سیاق وسباق کے بھی خلاف ہے۔
Read the full tafseer →(54:2) وان یروا ایۃ یعرضوا۔ واؤ حالیہ ہے اس کے بعد لکن جالہم مقدر ہے ! کلام یوں ہوگی ! ولکن حالہم ان یروا ایۃ یعرضوا۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں۔
مطلب یہ کہ قیامت کی گھڑی آلگی اور چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ (قریب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے) اور انہوں نے ایسا ہوتے دیکھ بھی لیا۔ لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا ان کی حالت تو یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے بھی ہیں تو (اپنی ہٹ دھرمی کے باعث جو کہ ان کی سرشت میں ہے) منہ موڑ لیتے ہیں۔
ان شرطیہ ہے یروا مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع مذکر غائب) یعرضوا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب (بوجہ جواب شرط) اعراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
معجزہ شق القمر۔
(ف 1) شان نزول : تفسیر زاہدی میں یوں مذکور ہے کہ ایک شب میں ایک یہودی اور ابوجہل نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھایے ، آپ نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو، تب یہودی نے ابوجہل سے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور سحر آسمان میں اثر نہیں کرتا، تو ان سے یہ کہا کہ ہمارے لیے چاند کے دوٹکڑے کریں، ابوجہل نے آپ سے یوں ہی کہا، آپ نے اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا، چاند اسی وقت دوٹکڑے ہوگیا پھر ابوجہل نے کہا کہ آپ اس کو حکم فرماویں کہ یہ دونوں مل جاویں، آپ نے اس طرف اشارہ کیا جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا، یہودی تو یہ دیکھتے ہی ایمان لایا اور ابوجہل نے کہا میری آنکھوں پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے نبی ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ کفار کا مجمع تھا۔ انہوں نے آپ سے نشانی طلب کی۔ آپ نے فرمایا آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف چلا گیا۔ جب سب نے یہ معجزہ خوب اچھی طرح دیکھ لیا تو دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ کفار کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ یہ نشانی اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جب قیامت کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہوسکتی ہے اور عالم کا سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا ہوتا تو دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا۔ تو یاد رہے کہ یہ واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة القمر
اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…
Read the full tafseer →(2) اور اگر یہ کفار کوئی معجزہ اور نشانی دیکھتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ یہ ایک چلتا ہوا جادو ہے۔ مستھر کے کئی معنی کئے گئے ہیں قوی، دائم ، مستحکم، زائل ہوجانے والا باقی نہ رہنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 7۔ یعنی اخبار قرب قیامت کا مصدق بھی واقع ہوگیا اور اس کا مصداق ہونا اس طرح ہے کہ شق قمر معجزہ ہے رسول اللہ ﷺ کا جس سے نبوت ثابت ہوتی ہے، اور نبی کا ہر قول صادق ہے، پس آپ کا خبر دینا قربب و قوع قیامت کی نیز صادق ہے، اس سے محقق زاجر کا بیان متیقن ہوگیا۔
Read the full tafseer →وہ جب کوئی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو اس کو جادو کہہ کر ٹال جاتے ہیں
2 ؎ گزشتہ آیت میں جس نشانی کا ذکر کیا گیا ہے وہ نشانی کیا ہے ؟ وہ شق قمر کی نشانی ہے جس کی پیش گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی اور پیش گوئی کا تعلق اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہوتا ہے کہ نبی و رسول کو جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف بیان کرنے کا حکم ملا وہ اس نے کہہ دیا۔ آپ ﷺ نے جن لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی تو لوگوں نے باوجود اس کے کہ اس کو بروقت اسی طرح دیکھا جو آپ ﷺ نے فرمایا لیکن اس کی تصدیق کرنے کی توفیق نہ ہوئی بلکہ انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہا تو یہ کہا کہ (ھذا من سحر ابن ابی کبشۃ) یہ ابی کبشہ کے بیٹے کی نظر بندی کا اثر…
Read the full tafseer →وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ (And when these people see a sign, they turn away and say, "[ This is ] a transient magic.... 54:2). The word mustamirr, in the popular sense of the word, as used in Persian and Urdu, means something lasting or enduring. However, in the Arabic language it is sometimes used in the sense of passing away or coming to an end, being derived from marra and istamarra. Leading authorities on Tafsir, like Mujahid and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما have applied this sense of the word in the present context. Thus the verse means that the…
Read the full tafseer →2 The words sihr-um mustamirr of the Text can have several meanings: (1) That, God forbid, this magical illusion also is one of those magical performances that Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) has been performing day and night; (2) that this certainly is a work of magic which has been performed with great expertise; and (3) that just as other works of magic have passed, so will this also pass without leaving any lasting effect behind.
Read the full tafseer →