Al-Qamar 54:1

54. Al-Qamarالقمر

The Moon · Meccan · 55 ayahs · 3 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۟اِقۡتَـرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الۡقَمَرُ

قیامت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Hour has come near, and the moon has split [in two].

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:1

قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قیامت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

قیامت قریب آلگی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پاس آئی قيامت اور شق ہوگیا چاند

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

قیامت قریب آپہنچی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(عذاب کی گھڑی سر پر آگئی اور چاند شق ہو گیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قریب آگئی (قیامت کی) وہ ہولناک گھڑی اور پھٹ گیا چاند

— مولانا اسحاق مدنی

قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہوگیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند شق ہوگیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

— محترمہ رفعت اعجاز

The Hour of Resurrection drew near and the moon split asunder.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Hour (of doom) has drawn near, and the moon has split asunder.

— Muhammad Taqi Usmani

The Hour (of doom) has drawn near, and the moon has split asunder.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The hour drew nigh and the moon was rent in twain.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Hour has come near, and the moon has split [in two].

— Saheeh International

The Hour of Doom is drawing near and the moon is rent asunder.

— Muhammad Sarwar

The hour drew nigh and the moon did rend asunder.

— Muhammad Habib Shakir

The Hour hath drawn nigh, and the moon hath been rent in sunder.. And if they behold a sign, they turn away and say: magic continuous.

— Abdul Majid Daryabadi

The Hour (of Judgment) is nigh, and the moon is cleft asunder.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَمَر 1 یعنی چاند کا پھٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی جاتی رہی ہے، قریب آ لگی ہے اور نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کرہ شق ہو کردو ٹکڑے ہوگیا، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی چیز ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے۔ بعض لوگوں نے اس فقرے کا مطلب یہ لیا ہے کہ "…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (ان کفار کے لئے زاجر یعنی غلطی پر متنبہ کرنے والا امر تو اعلیٰ درجہ کا متحقق ہے، چنانچہ) قیامت نزدیک آپہنچی (جس میں تکذیب پر بڑی مصیبت آوے گی اور اس اخبار قرب ساعت کا مصداق بھی واقع ہوگیا چنانچہ) چاند شق ہوگیا (اور اس سے قرب قیامت کی تصدیق اس طرح ہوتی ہے کہ شق قمر معجزہ ہے رسول اللہ ﷺ کا، جس سے آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور نبی کا ہر قول صادق ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قیامت کے قریب آنے کی خبر جو آپ نے دی ہے وہ بھی صادق ہے اس سے تحقق زاجر کا متعین ہوگیا) اور (اس کا مقتضا یہ تھا کہ) یہ لوگ (اس سے منزجر اور متاثر ہوتے لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ) اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔۔۔۔۔ (قتربت الساعۃ وانشق القمر (1) (رسول قوم کے لیے خدا کی عدالت ہوتا ہے)۔ الساعۃ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے جس سے قریش کو، یوں تو اس گروپ کی تمام ہی سورتوں میں آگاہ کیا گیا ہے لیکن سابق سورة میں خاص اہتمام کے ساتھ ان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ (ازفت الازفۃ) (57) یہ قریب آنے والی قریب آ لگی ہے۔ اس کو بہت دور نہ سمجھو، جاگو اور اٹھو اور اس سے بچنے کی واحد تدبیر پہ، جو تمہیں سمجھائی جا رہی ہے، عمل کر کے اپنے کو اس کی آفتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اس عذاب سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

یہ بھی ان سورتوں میں ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ نماز عید میں پڑھا کرتے تھے،. 1۔ 1 ایک تو بہ اعتبار اس زمانے کے جو گزر گیا، کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چناچہ نبی ﷺ نے اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سے متصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئے گا۔ 1۔ 2 یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا، چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے حتی کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہوگیا۔ جمہور سلف و خلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت چاند کے دوٹکڑے ہونے کا معجزہ بھی ہے جو آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں ظاہر ہوا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک چاندنی رات میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے حضور اقدس ﷺ سے کوئی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ کھلا معجزہ دکھایا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوئے، جن میں سے ایک ٹکڑا پہاڑ کی مشرقی جانب چلا گیا اور دوسرا مغربی جانب، اور پہاڑ ان کے درمیان آگیا، آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ لو دیکھ لو ! جب سارے لوگوں نے جو وہاں موجود تھے یہ حیرت انگیز نظارہ کرلیا تو یہ دونوں ٹکڑے دوبارہ آپس میں مل گئے، جو کافر لوگ اس وقت موجود تھے وہ اس مشاہدے کا تو انکار نہیں کرسکتے تھے، لیکن…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایک خوبصورت اور آنکھیں چندھیا دینے والا منظر ہے جس میں ایک عظیم کائناتی حادثہ دکھایا گیا ہے اور یہ اس سے بھی عظیم تر حادثہ کی تمہید ہے۔ اقتربت…………القمر (54: 1) ” قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند ٹکڑے ہوگیا “ امام بخاری نے روایت کی عبداللہ ابن عبدالوہاب سے انہوں نے بشر ابن مفضل سعید ابن ابوعروہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں ” اہل مکہ نے رسول ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ تو آپ نے ان کو دکھایا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور دونوں کے درمیان حرا تھا۔ “ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے دوسری اسناد سے بھی قتادہ اور حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے حضرت جبیر بن مطعم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 ہجرت سے پیشتر نبی کریم ﷺ " منیٰ " میں تشریف فرما تھے کفار کا مجمع تھا، انہوں نے آپ ﷺ سے کوئی نشانی طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ان میں سے مغرب کی طرف اور دوسرا مشرق کی طرف چلا گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ } ”قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند شق ہوگیا۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سب سے قطعی اور یقینی نشانی حضور ﷺ کی بعثت ہے۔ اس حوالے سے حضور ﷺ کا فرمان ہے : بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَـیْنِ 1 ”مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح جڑا ہوا بھیجا گیا ہے“۔ اس لحاظ سے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ کا مفہوم یہ ہے کہ اب جبکہ آخری رسول ﷺ بھی دنیا میں آ چکے ہیں تو سمجھ لو کہ قیامت کا وقت بہت قریب آ لگا ہے۔ سورة السجدۃ کی آیت 5 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن ہمارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 ایک دفعہ رسول للہ منیٰ میں تشریف فرما تھے کفار مکہ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے آپ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا : آسمان کی طرف دیکھو، اچانک چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : 1۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم کے زمانہ میں چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا اور دوسرا نیچے آگیا۔ آپ نے (ان لوگوں سے جو اس وقت موجود تھے) فرمایا : دیکھو گواہ رہنا (بخاری۔ کتاب التفسیر) 2۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم کے زمانہ میں چاند پھٹا تھا۔ (حوالہ ایضاً ) 3۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ مکہ کے کافروں نے آپ سے کہا کہ کوئی نشانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ معجزہ شق القمر رسول اللہ ﷺ کے مشہور معجزات میں سے ہے۔ حضور ﷺ کا قیام مکہ میں تھا اور ہجرت کو ابھی 5 سال کا زمانہ باقی تھا کہ ایک مرتبہ غالبا بتقریب حج جب منی میں اجتماع تھا تو مشرکین مکہ نے آپ ﷺ سے معجزہ کی فرمائش کی۔ آپ ﷺ نے باذن الہی چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور وہ لوگوں کو دو ٹکڑوں میں پھٹا ہوا نظر آیا۔ یہاں اس معجزہ روشن کا ذکر ہے۔ جو لوگ اپنے خدا کو عاجز اور محدود الاختیار اور ناقص القوی سمجھتے ہیں یا اپنی نافہمی سے سرے سے امکان معجزہ وخرق عادت ہی کے قائل نہیں، ان سے تو گفتگو دوسرے رخ سے کی جائے گی (اور جا بجا ان سے یہی خطاب ان حاشیوں میں آچکا ہے) البتہ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہو گیا اِقْتَرَبَتُ : قریب آگئی اور اس کے قریب آنے کی نشانیوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

رسو الرم کی بعثت اور نزول دخان کی وجہ سے قیامت نزدیک آپہنچی ہے اور چاند پھٹ گیا کہ اس کے دو ٹکڑے ہوگئے یہ بھی علامت قیامت میں سے ہے۔ شان نزول : اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ (الخ) امام بخاری و مسلم اور حاکم نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ مکرمہ سے رسول اکرم کی ہجرت سے پہلے چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھے اس پر کفار کہنے لگے کہ آپ نے چاند پر جادو کردیا ہے تب یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ :”اقتربت“ ”قرب یقرب“ (ک ، ع) میں سے باب افتعال کا ماضی معلوم ہے۔ حروف میں اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوتا ہے ، جیسے ”قدر“ اور ”اقتدر“ ہے ، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”قیامت بہت قریب آگئی ہے“۔ ویسے تو ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے ، مگر قیامت کو بہت قریب اس لیے فرمایا کہ دنیا پر گزرے ہوئے وقت کے مقابلے میں باقی رہنے والا وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اب اس کے فنا اور قیامت کے قیام کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ، بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ سہل بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اقتربت الساعۃ وانشق القمر۔ اقتربت یعنی قریب آگئی یہ ازقت الازقۃ۔ (النجم) کی مثل ہے جس طرح ہم نے اسے بیان کیا ہے جو وقت گزر گیا ہے اس کی طرف منسوب ہونے کی بنا پر یہ قریب ہے کیونکہ دنیا کا اکثر وقت گزر چکا ہے جس طرح قتادہ نے حضتر انس سے روایت کیا ہے : رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا جب کہ سورج غروب ہوا چاہتا تھا (2) فرمایا :” دنیا میں سے جو باقی ہے اس کی گزرے ہوئے وقت کے ساتھ وہی نسبت ہے جس طرح اس دن کے باقی ماندہ وقت کی گزرے ہوئے وقت کے ساتھ جو نسبت ہے۔ “ ہم سورج کو تھوڑا ہی دیکھ رہے تھے۔ کعب اور وہب نے کہا : دنیا کا زمانہ چھ ہزار سلا ہے۔ وہب نے کہا : ان میں سے پانچ ہزار چھ سو سال گزر چکے ہیں، نحاس نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قمر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اقتربت '' کے پڑھنے والے کو رات میں مبیضہ پکارا جاتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے چہرے کو سفید کردے گی۔ جس دن چہرے سفید ہوں گے (بیہقی (رح) نے کہا یہ حدیث منکر ہے ) ۔ 5:۔ الدیلمی (رح) نے عائشہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جس شخص نے (سورۃ) '' الم تنزیل '' '' یسین ''''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ قریب ہوئی وہ گھڑی (قیامت ) ] وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ اور پھٹ گیا چاند ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 1 ۔ میں شق قمر کے واقعہ کو قرب قیامت کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ قیامت کو کفار ایک بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے ۔ ان کے خیال میں یہ کس طرح ممکن ہوگا کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہوجائے۔ زمین اور اس کے پہاڑوں وغیرہ کو وہ اٹل اور غیر فانی سمجھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر بتادیا کہ اس کائنات کی کوئی بھی چیز نہ خود مختار ہے اور نہ غیر فانی ہے بلکہ ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان کو درہم برہم کردے گا ۔ بعض لوگوں نے کہا ہے یہ قیامت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت قریب آگئی چاند پھٹ گیا، منکرین کی جاہلانہ بات اور ان کی تردید ان آیات میں انشقاق قمر یعنی چاند کے پھٹنے کا اور اہل مکہ کے عناد اور انکار کا تذکرہ فرمایا ہے رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یہ بتایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو بہت سے معجزات ظاہر ہوئے ان میں وہ معجزات بھی تھے جنہیں اہل مکہ نے خود طلب کیا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ انہیں کوئی نشانی یعنی معجزہ دکھادیں لہٰذا آپ نے انہیں چاند کا پھٹنا دکھادیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 22: ج 2) دوسری روایت میں یوں ہے جو حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ پر اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 2:۔ ” اقتربت الساعۃ۔ تا۔ فما تغن النذر “ یہ تخویف اخروی کے لیے تمہید اور زجر مع شکوی ہے۔ یعنی جس طرح چاند دوٹکڑے ہوگیا اسی طرح تم بھی فنا ہوجاؤگے اور جس طرح چاند کے دونوں ٹکڑے دوبارہ مل گئے اسی طرح تم بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے۔ ” انشق القمر “ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ مراد ہے جو مشرکین مکہ کے مطالبے پر اللہ نے ظاہر فرمایا۔ جب مشرکین نے اس کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ ان کو یہ معجزہ دکھایا جائے شاید وہ ایمان لے آئیں چناچہ اللہ تعالیٰ چودہویں رات کے چاند کو دو ٹکڑے کرکے توحید و رسالت کی سچائی پر ایک نہایت ہی روشن اور واضح دلیل قائم فرما دی۔ انشق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۝ 1 قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، وَلا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] ، وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : وانشق عطف علی اقترب وان شرطیۃ یعرضوا ویقولوا جوا بہ سحر خبرمبتداء محذوف ای ھذا وکل امر مبتداء مستقر خبرہ و یقرء بالجر صفۃ لامر من الانباء بیان لمزد جر ھو اسم مکان او مصدر میمی یقال از دجرتہ اذانہیۃ عن السوء ووعظتہ بغلظ واصلہ فرتجر فتاء الافتعال قلبت والاً لوقوعہا بعد الزاء وماموصولۃ اوموصوفۃ حکمۃ خبرمبتداء محذوف اوبدل من ما اومن مزدجر فما استفہامیۃ اونافۃ تغن اصلہ تغنی لم یکتب الیاء بعد النون اتباعاً لرسم المصحف والنذر جمع نذیر بمعنی المنذر ای الامور المنذرۃ لھم کا خبار الماضیۃ والامور الھائلۃ۔ تفسیر : یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر بھی یہی فرماتے ہیں۔ آیات کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَاِنْ یَّرَوْا اٰ یَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔ (القمر : 1، 2) (قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔ اور اگر یہ کوئی نشانی دیکھیں تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ ) شانِ نزول ان آیات کا شان نزول جس پر قرآن کریم کے الفاظ بھی شاہد ہیں اور احادیث سے بھی اس کی نہ صرف تائید ہوتی ہے بلکہ تفصیلی حالات کا علم بھی ہوتا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور احادیث کی دیگر معتبر کتابوں میں بکثرت سندوں کے ساتھ مختلف صحابہ سے اس واقعہ کو روایت کیا گیا ہے۔ جن میں حضرت علی ( رض) ، حضرت عبداللہ ابن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : سورة النجم کا اختتام اس مضمون پر ہوا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سورة القمر کی بتدا میں قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ دین کا تیسرا بڑا عنوان قیامت ہے جس کی نشانیوں اور ہولناکیوں کا قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وہ بات کو الجھانے کے لیے قیامت کے بارے میں کئی قسم کے سوالات کرتے تھے۔ نبی محترم ﷺ نے انہیں ہر طرح سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش فرمائی کہ قیامت ہر صورت آکر رہے گی۔ مگر مکہ والے اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

معجزہ شق قمر : آیت 1: اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ قیامت قریب آگئی۔ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ قراءت : وقد انشق پڑھا گیا مطلب یہ ہوگا۔ قیامت قریب آگئی اور اس کے قرب کے نشانات بھی ظاہر ہوگئے۔ کہ چاند پھٹ گیا ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسا محاورہ میں کہتے ہیں۔ اقبل الامیر وقد جاء البشر بقدومہ۔ امیر آرہا ہے اور اس کی آمد کی اطلاع کرنے والا آچکا ہے۔ قول ابن مسعود ؓ : میں نے خود حراء کو چاند کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔ ایک قول یہ ہے : اس کا معنی یہ ہے۔ قیامت کے دن پھٹ جائے گا۔ قول جمہور : کہ یہ معجزئہ رسول ﷺ ظاہر ہوا۔ یہ بخاری ومسلم میں مروی ہے۔ سوال : اگر چاند پھٹتا تو اطراف کے لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی ‘ مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ چاہا۔ اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض علما نے اس آیت کے معنی میں یہ جو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا معجزہ جو ہوا ہے اس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ بلکہ جس شق القمر کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک قیامت کی نشانی ہے جب اور نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی۔ اس وقت یہ نشانی بھی ظاہر ہوگی۔ یہ قول قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

اللہ تبارک وتعالی آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی یعنی قیامت قریب آگئی ہے اس کی آمد کا وقت ہوگ ای بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جارہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں اللہ ان کی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہین۔ حضرت محمد جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے تو آپ نے اللہ کے حکم سے چاند کی طرف اشارہ کردیا چناچہ اللہ کے حکم سے دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکرا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 1] قرب قیامت کے بارے میں تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قریب آگئی فیصلے کی وہ ہولناک گھڑی، کہ اس نے بہرحال آکر رہنا ہے اور ہر ایسی چیز جس نے آکر ہی رہنا ہو، وہ بہرحال قریب ہی ہوتی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے " کل ما ھو اتٍ فھو قربت " یعنی جس خیر نے آنا ہے وہ بہرحال قریب ہی ہوتی ہے، اور اس کی سب سے بڑی نشانی کا ظہور بھی ہوگیا، یعنی خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت و تشریف آوری، جیسا کہ حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت سے مروی و منقول ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملا کر فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اس طرح ہے جس طرح یہ دو انگلیاں، یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 متواتر صحیح احادیث سے ثابت ہے اور تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ چاند کے پھٹنے کا یہ واقعہ بطور معجزہ نبی ﷺ کے زمانہ میں واقعہ ہوچکا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ چاند کے پھٹ جانے پر آپ نے فرمایا ” اشھدوا “ گواہ رہو “ (ابن کثیر) بعض لوگ انشق القمر “ کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ قیامت چاند پھٹے گا لیکن یہ مطلب بجائے خود مہمل ہے اور اس سے متواثر احادیث کی مخالفت (لازم آتی ہے اور پھر کسی عقلی دلیل سے بھی اس واقعہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بایق رہا یہ کہنا کہ چاند پھٹا ہوتا تو تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا تو واضح رہے کہ اول تو یہ ہے بھی رات کا تھوڑی دیر کا واقعہ اس لئے دنیا بھر کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:1) اقتربت : ماضی واحد مؤنث غائب اقتراب (افتعال) مصدر وہ قریب آلگی۔ وہ نزدیک ہوگئی۔ الساعۃ : گھڑی ، وقت، رات یا دن کا کوئی سا وقت۔ اہل عرب اس کا استعمال وقت ہی کے معنی میں کرتے ہیں چاہے ذرا سی دیر کے لئے ہی ہو۔ قرآن مجید میں الساعۃ کا لفظ جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے اس سے القیامۃ ہی مراد ہے۔ انشق : ماضی واحد مذکر غائب انشقاق (انفعال) مصدر۔ وہ پھٹ گیا۔ وہ شق ہوگیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

معجزہ شق القمر۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر زاہدی میں یوں مذکور ہے کہ ایک شب میں ایک یہودی اور ابوجہل نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھایے ، آپ نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو، تب یہودی نے ابوجہل سے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور سحر آسمان میں اثر نہیں کرتا، تو ان سے یہ کہا کہ ہمارے لیے چاند کے دوٹکڑے کریں، ابوجہل نے آپ سے یوں ہی کہا، آپ نے اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا، چاند اسی وقت دوٹکڑے ہوگیا پھر ابوجہل نے کہا کہ آپ اس کو حکم فرماویں کہ یہ دونوں مل جاویں، آپ نے اس طرف اشارہ کیا جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا، یہودی تو یہ دیکھتے ہی ایمان لایا اور ابوجہل نے کہا میری آنکھوں پر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے نبی ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ کفار کا مجمع تھا۔ انہوں نے آپ سے نشانی طلب کی۔ آپ نے فرمایا آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف چلا گیا۔ جب سب نے یہ معجزہ خوب اچھی طرح دیکھ لیا تو دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ کفار کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ یہ نشانی اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جب قیامت کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہوسکتی ہے اور عالم کا سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا ہوتا تو دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا۔ تو یاد رہے کہ یہ واقعہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة القمر اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) قریب آپہنچی قیامت اور پھٹ گیا چاند۔ اوپر کی سورت کے آخر میں قیامت کے قریب آنے کا ذکر فرمایا تھا اور یہ واقعہ بھی ہے کہ جس چیز کا آنا یقینی ہو وہ قریب ہی ہے اس سورت میں بھی اسی کے قرب کا اظہار فرمایا کیونکہ قیامت کی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت بھی ظاہر ہوگئی یعنی چاند بھی پھٹ گیا اگرچہ یہ شق قمر اور چاند کا پھٹنا بطور معجزہ ہوا اور دلائل رسالت کی دلیل ہوکر اس کا ظہور ہوا لیکن اس معجزے سے اول تو یہ بات معلوم ہوگئی کہ چاند کا پھٹ جانا ممکن ہے دوسرے یہ کہ محمد ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جب رسول کسی بات کی خبر دے تو اس میں شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ ہماری اس تقریر سے انشقاق قمر کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 7۔ یعنی اخبار قرب قیامت کا مصدق بھی واقع ہوگیا اور اس کا مصداق ہونا اس طرح ہے کہ شق قمر معجزہ ہے رسول اللہ ﷺ کا جس سے نبوت ثابت ہوتی ہے، اور نبی کا ہر قول صادق ہے، پس آپ کا خبر دینا قربب و قوع قیامت کی نیز صادق ہے، اس سے محقق زاجر کا بیان متیقن ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ گھڑی قریب آپہنچی اور چاند پھٹ گیا 1 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کے معمولات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اکثر سورة (ق) اور سورة (القمر) کو پڑھا کرتے تھے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز میں بھی اور صحابہ کرام ؓ کے اجتماعات میں بھی ان دونوں کی اکثر تلاوت فرمایا کرتے کیونکہ ان دونوں سورتوں میں وعدے وعید ‘ ابتدائے آفرنیش اور دوبارہ زندگی کا جی اٹھنا اور دلائل توحید اور اثبات رسالت کا ذکر ہے۔ قیامت کے آنے کا ذکر پیچھے سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اور اس کی وضاحت سورة النحل 16 کی آیت 1 میں اور سورة الانبیاء کی آیت اول میں واضح طور پر گزر چکی ہے جیسا کہ آپ عروۃ الوثقیٰ ‘ جلد پنجم اور جلد ششم میں پڑھ چکے ہیں۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Linkage between Surah An-Najm and Surah Al-Qamar Whereas the preceding Surah An-Najm had ended on a note of warning to disbelievers in the words: اَزِفَۃِ الاٰزِفَۃ azifat-il-` azifah, i.e., the Hour of their doom has drawn near, the present Surah opens with a similar sentence, "The Hour (of doom) has drawn near" and this statement is followed by one of its proofs, that is, the appearance of the miracle of the moon being split asunder. There are many signs of the Day of Doom; one of them is the advent of the last of the Prophets Sayyidna Muhammad ﷺ itself, as reported in a hadith 'I was sent…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 That is, "The splitting of the Moon asunder is a portent that the Hour of Resurrection of which you are being foretold, has drawn near at hand, and the order of the Universe has begun to be disrupted. Moreover, the incident that a great sphere like the Moon's has split into two distinct parts, is a specific proof of the fact that Resurrection of which you are being forewarned can take place. Obviously, when the Moon can split, the earth also can split, the orbits of he stars and planets also can change and the whole system of the heavens also can be disturbed. There is nothing eternal and…

Read the full tafseer →