Explained with ayahs 56–62
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں
یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 55
امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور اکثر اہل علم کے نزدیک اس آیت پر سجدہ کرنا لازم ہے۔ امام مالک اگرچہ خود اس کی تلاوت کر کے سجدے کا التزام فرماتے تھے (جیسا کہ قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے) مگر ان کا مسلک یہ تھا کہ یہاں سجدہ کرنا لازم نہیں ہے۔ ان کی اس رائے کی بنا حضرت زید بن ثابت کی یہ روایت ہے کہ " میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورة نجم پڑھی اور حضور نے سجدہ نہ کیا " (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی،)۔ لیکن یہ حدیث اس آیت پر سجدہ لازم ہونے کی نفی نہیں کرتی، کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ حضور نے اس وقت کسی وجہ سے سجدہ نہ فرمایا ہو اور بعد میں کرلیا…
Read the full tafseer →فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا، یعنی پچھلی آیات جو غور کرنے والے انسان کو عبرت و موعظت کا سبق دیتی ہیں اس کا مقتضی یہ ہے کہ تم سب اللہ کے سامنے خشوع و تواضع کے ساتھ جھکو اور سجدہ کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ سورة نجم کی اس آیت پر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ سب مسلمانوں اور مشرکوں نے اور تمام جن و انس نے سجدہ کیا اور بخاری و مسلم ہی کی دوسری حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم کی تلاوت فرمائی اور اس میں سجدہ تلاوت ادا کیا اور آپ کے ساتھ سب حاضرین مجلس (مؤمنین و مشرکین) نے سجدہ کیا بجز ایک قریشی بوڑھے…
Read the full tafseer →(فاسجدو اللہ واعبدوا (62) یعنی خیریت چاہتے ہو تو جاگو اور دوسرے دیوانوں دیوتائوں کو چھوڑ کر اپنے رب ہی کو سجدہ اور اسی کی بندگی کرو۔ اس کے سوا کوئی اور اس آفت سے نجات دینے والا نہیں بنے گا۔ اس سورة کا آغاز ستاروں کے ہبوط و سجود سے ہوا تھا اور اس کا اختتام اللہ ہی کے لیے سجدہ اور اس کی عبادت کی دعوت پر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی (فالحمدللہ علی ذلک)۔ رحمان آباد۔ 23 جولائی 1977 ء۔ 6 شعبان 1397 ھ
Read the full tafseer →62۔ 1 یہ مشرکین اور مکذبین کی توبیخ کے لئے حکم دیا۔ یعنی جب ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو ماننے کی بجائے، اس کا مذاق و استخفاف کرتے ہیں اور ہمارے پیغمبر کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا ہے، تو اے مسلمانو ! تم اللہ کی بارگاہ میں جھک کر اور اس کی عبادت و اطاعت کا مظاہرہ کرکے قرآن کی تعظیم و توقیر کا اہتمام کرو۔ چناچہ اس حکم کی تعمیل میں نبی ﷺ نے اور صحابہ نے سجدہ کیا، حتی کہ اس وقت مجلس میں موجود کفار نے بھی سجدہ کیا۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔
Read the full tafseer →26: یہ سجدے کی آیت ہے، جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔
Read the full tafseer →فاسجدواللہ واعبدوا (35 : 26) ع (السجدة) ” جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ “ یوں اس انداز میں یہ بلند آواز دی جاتی ہے اور ایک طویل تمہید کے بعد یہ چیخ ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور سخت سے سخت اعصاب کے اندر بھی ارتعاش پیدا ہوجاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کفار نے اس کو سن کر سجدہ کرلیا۔ سجدہ ریز ہوگئے حالانکہ وہ مشرک تھے۔ وہ وحی میں شک کرتے تھے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہر وقت وہ جھگڑتے رہتے تھے۔
انہوں نے ان حالات میں سجدہ کیا کہ وہ اس پوری سورت کے اندر خوفناک انجام کو سن چکے تھے۔ حضور اکرم ﷺ ایک پر سوز انداز میں تلاوت فرما رہے تھے۔ حرم میں مسلم اور مشرک سب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے سجدہ کیا۔…
Read the full tafseer →11 یعنی غافل کو زیبا نہیں کہ انجام سے غافل ہو کر نصیحت و فہمائش کی باتوں پر ہنسے اور مذاق اڑائے۔ بلکہ لازم ہے کہ بندگی کی راہ اختیار کرے۔ اور مطیع و منقاد ہو کر جبین نیاز خداوند قہر کے سامنے جھکا دے۔ (تنبیہ) روایات میں ہے سورة نجم پڑھ کر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور تمام مسلمان اور مشرک جو حاضر تھے سجدہ میں گرپڑے۔ حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ ' لکھتے ہیں کہ " اس وقت سب کو ایک غاشیہ الٰہیہ نے گھیر لیا تھا۔ گویا ایک غیبی اور قہری تصرف سے طوعاً و کرہاً سب کو سربسجود ہونا پڑا۔ صرف ایک بدبخت جس کے دل پر سخت مہر تھی اس نے سجدہ نہ کیا مگر زمین سے تھوڑی سی مٹی اٹھا کر اس نے بھی پیشانی کو لگالی اور کہا مجھے اسی…
Read the full tafseer →آیت 62{ فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا۔ } ”پس سجدہ کرو اللہ کے لیے اور اسی کی بندگی کرو !“
روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے پہلی مرتبہ یہ سورت حرم کعبہ میں قریش کے ایک بڑے مجمع کے سامنے تلاوت فرمائی تھی۔ اس مجمع میں اہل ایمان بھی تھے اور مشرکین کے خواص و عوام بھی۔ اس کلام کی شدت تاثیر کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور مچانے کی ہمت نہ ہوئی اور حضور ﷺ نے جب یہ آخری آیت تلاوت فرمانے کے بعد سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ مسلم و کافر سبھی سجدہ میں گرگئے۔ بعد میں مشرکین کو سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم نے کیا کیا۔ آخر کار انہوں نے اپنے سجدے کے جواز میں یہ بات بتائی…
Read the full tafseer →43 مسلمانوں کے ساتھ کافروں کا بھی سجدہ ریز ہونا :۔ یہ سورت ابتدائی مکی سورتوں سے ہے اور یہ پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی نیز یہی وہ پہلی سورت ہے جسے آپ ﷺ نے مجمع عام میں اور بعض روایات کے مطابق حرم میں کافروں اور مسلمانوں کے مشترکہ مجمع میں سنایا۔ قرآن کی اثر آفرینی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ نے ( فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا 62ڙ{ السجدہ }) 53 ۔ النجم :62) پڑھا تو مسلمانوں کے ساتھ کافر بھی بےاختیار سجدہ ریز ہوگئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جو سجدہ والی سورت نازل ہوئی وہ سورة النجم تھی۔ آپ ﷺ نے اس سورة میں سجدہ کیا اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
43۔ (حسب تعلیم وہدایت پیغمبر، تاکہ فلاح دارین حاصل کرو) (آیت) ” سمدون “۔ یعنی اپنے جہل و غفلت کی بناء پر طاعت الہی سے عار محسوس کررہے ہو۔ (آیت) ” فاسجدوا للہ “۔ سجدہ۔ یہاں اپنے لفظی معنی، خضوع و اطاعت کے مفہوم میں لیا گیا ہے۔ اے فاخضعوا لہ واخلصوا ووحدوہ (ابن کثیر) لیکن آیت حنفیہ کے نزدیک سجدہ کی ہے، اور اس پر پہنچ کر رسول اللہ ﷺ سے سجدہ کرنا منقول ہے۔ ھذہ ایۃ سجدۃ عند اکثر اھل العلم وقد سجد النبی ﷺ عندھا (روح)
Read the full tafseer →فاسجدوا اللہ واعبدوا یعنی پچھلی آیات پر جو غورنے والے انسان کو عبرت و موعظت کا سبق دیتی ہیں اس کا مقتضی یہ ہے کہ تم سب اللہ کے سامنے خشوع اور تواضع کے ساتھ جھکو اور سجدہ کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سورة نجم کی اس آیت پر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں اور مشرکوں اور تمام جن و انس نے سجدہ لیکا، عبداللہ بن مسعود ؓ کی دوسری روایت میں ہے کہ تمام حاضرین نے سجدہ کیا مگر صرف ایک قریشی بوڑھے نے جس کا نام (امیہ بن خلف) ہے سجدہ نہ کیا بلکہ زمین سے مٹی اٹھ اکر پیشانی سے لگا لی، اور کہا مجھے یہی کافی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا پھر…
Read the full tafseer →فاسجدوا اللہ واعبدوا . ” سو اللہ کی اطاعت کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ “
یعنی خشوع و فروتنی کے ساتھ اور اللہ کے وعدۂ ثواب اور وعید عذاب پر یقین رکھتے ہوئے اسی کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ سورة النجم کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں نے ‘ مشرکوں نے اور جن و انس نے سجدہ کیا۔ (رواہ البخاری)
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے والنجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور جو لوگ آپ ﷺ کے ساتھ تھے ‘ انہوں نے بھی سجدہ کیا مگر قریش کے ایک بوڑھے شخص نے (سجدہ نہیں کیا بلکہ) ایک ہاتھ میں پتھریاں یا مٹی اٹھا کر پیشانی تک لے گیا اور بولا : میرے لیے یہی کافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
(59۔ 62) سو کیا اے مکہ والو تم اس قرآن کریم کا جو تم کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں مذاق کرتے ہو یا یہ کہ جھٹلاتے ہو اور بطور مذاق ہنستے ہو۔
اور اس میں خوف و عذاب کے جو مضامین ہیں ان سے روتے نہیں ہو اور تم اس سے تکبر کرتے ہو اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔ سو اللہ کے سامنے توحید کے قائل ہو کر اور توبہ کر کے جھک جاؤ اور اس کی بغیر کسی شریک کے عبادت کرو۔
شان نزول : وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (الخ)
اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کفار رسول اکرم کے پاس سے مذاق اڑاتے اور تکبر کرتے ہوئے گزرتے تھے حالانکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →1۔ فَاسْجُدُوْا ِﷲِ وَاعْبُدُوْا : یعنی رسول کے اس ڈرانے کا حق یہ ہے کہ تم اپنا تمام تر تکبر اور غفلت ترک کر کے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ اور اپنے بنائے ہوئے تمام شریکوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کور۔
2۔ یہ سورت مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور پہلی سورت ہے جس میں سجدہ کی آیت نازل ہوئی۔ اس کی تاثیر اور زور بیان کا یہ عالم ہے کہ جب آپ ﷺ نے اسے عام مجمع میں پڑھا ، جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی موجود تھے تو مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ صحیح بخاری میں اس کے متعلق دو احادیث آئی ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ﷺ بیان کرتے ہیں :(ال سورة انزلت فیھا سجدۃ…
Read the full tafseer →فاسجدوا للہ واعبدوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد سجدہ تلاوت ہے (3) یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے بھی یہی کہا ہے۔ سورت کے آغاز میں حضرت ابن عباس سے مروی حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس میں سجدہ کیا اور مشرکوں نے بھی ساتھ ہی سجدہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشرکوں نے آپ ﷺ کے ساتھ اس لئے سجدہ کیا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جب افراء یتم اللت والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ کی قرأت کی تو مشرکوں نے اس موقع پر شیاطین کی آوازوں کو سنا کہ آپ نے کہا : تلک الغرانیق العلی و شفاعتھن ترتجی۔ سعید بن جبیر کی روایت میں اسی طرح ترتجی ہے۔ ابو العالیہ کی روایت میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
5:۔ عبدالرزاق والفریابی وعبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم والطبرانی (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سمدون '' سے مراد ہے کہ تم غافل ہوتے ہوئے اس سے روگردانی کرنے والے ہو۔
6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانتم سمدون '' (اور تم تکبر کرتے ہو یعنی تم غفلت کرنے والے ہو۔
7:۔ عبدالرزاق والفریابی وابوعبیدفی فضائلہ وعبدبن حمید (رح) وابن ابی الدنیا فی ذم الملاہی والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انتم سمدون ''…
Read the full tafseer →فَاسْجُدُوْا [ تو تم لوگ سجدہ کرو ] لِلّٰهِ [ اللہ کو ] وَاعْبُدُوْا [ اور تم بندگی کرو (اس کی ) ]
Read the full tafseer →﴿ فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا (رح) 006﴾ (سو اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو) ۔
یہ سورة نجم کی آخری آیت ہے مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے حقائق بیان کردیئے گئے اللہ تعالیٰ کی صفت خالیقت اور صفت علم اور صفت قدرت تمہیں بتادی گئی اور بعض اقوام سابقہ کی ہلاکت اور بربادی بیان کردی گئی اور یہ بتادیا گیا کہ قیامت آنی ہے اور ضرور آنی ہے تو ہر عقلمند کی عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تکذیب اور انکار کو چھوڑے اور قرآن کریم کی دعوت کو تسلیم کرے، اور اپنے رب پر ایمان لائے لہٰذا تمام مخاطبین پر لازم ہے کہ اللہ ہی کے لیے سجدہ کریں اور اسی کی عبادت کریں۔ ایمان لانے کا سب سے بڑا تقاضا اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →31:۔ ” فاسجدوا للہ وعبدوا۔ یہ آخر میں سورت کا خلاصہ ہے یعنی صرف اللہ ہی کو سجدہ اور صرف اسی کی عبادت کرو، مصائب و حاجات میں فرشوں لات و عزی اور منات وغیرہ کو مت پکارو اور نہ کسی کو اللہ کی بارگاہ میں شفیع قاہر سمجھو۔ فاسجدوا للہ خاصۃ واعبدوا للہ خاصۃ (الشیخ (رح) تعالی) ای اعبدوہ دون غیرہ (مظہری ج 9 ص 134) ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوہ والسلام علی سید المرسلین وآلہ و اصحابہ اجمعین۔
سورة والنجم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ افرایتم اللات والعزی، ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ (رکوع 1) نفی شرک فی التصرف۔
2 ۔ ” الکم الذکر ولہ الانثی۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی “۔ نفی شفاعت قہریہ از ملائکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →فَاسْجُدُوْا لِلہِ وَاعْبُدُوْا 62 ۧ۞
سجد
السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات،
وذلک ضربان : سجود باختیار،
ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له،
وسجود تسخیر،
وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15]
( س ج د ) السجود
( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة
تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا۔ (النجم : 62)
(پس اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی بجا لائو۔ )
خیرت و عافیت کے لیے نسخہ کیمیا
سجدہ عاجزی اور فروتنی کی علامت ہے۔ اور عبادت پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں دے دینے کا نام ہے۔ یعنی تمہاری خیریت اب اسی میں ہے اور تم اپنے برے انجام سے اسی صورت بچ سکتے ہو کہ خواب غفلت سے جاگو اور دوسرے دیویوں اور دیوتائوں کو چھوڑ کر اپنے رب ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی بجالائو۔ بجائے سرکشی کے عاجزی اور فروتنی کا رویہ اختیار کرو۔ اور وہ زندگی جو اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اسے دوسرے کی مرضی کے مطابق بسر کرنے کی بجائے اس کی اطاعت اور رضا کے تابع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
فہم القرآن
ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال…
Read the full tafseer →آیت 62: فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا (پس تم اللہ ہی کے لیے سجدہ کرو اور اسی ہی کی عبادت کرو) اور اس کے سوا غیر اللہ کی عبادت مت کرو۔
Read the full tafseer →61 ۔” وانتم سامدون “ تم بےپروا غافل ہو اور السمود کسی شے سے غافل ہونا اور کھیل کود کرنا۔ کہا جاتا ہے ” دعا ننا سمودک “ یعنی ” لھوک “ یہ والبی اور عوفی رحمہما اللہ کی روایت ہے۔ ابن عباس ؓ سے اور عکرمہ (رح) نے ان سے نقل کیا ہے کہ یہ اہل ایمان کی لغت میں گانا ہے وہ لوگ جب قرآن سنتے تو گانے لگتے اور کھیل کود کرتے اور ضحاک (رح) فرماتے متکبر ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” مبروطون “ ان سے پوچھا گیا برطمہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اعراض کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
56۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے…
Read the full tafseer →(فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا) اب تم اللہ کے حضور سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص طور پر سجدے کا حکم دینا اس کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ کہ سجدہ عبادت کا سرنہاں اور اس کالب لباب ہے اس کی روح خشوع و خضوع ہے۔ حالت سجدہ بندے کا وہ عظیم ترین حال ہے جس میں بندے پر خضوع طاری ہوتا ہے بندے کا قلب وبدن دونوں خضوع کی حالت میں ہوتے ہیں بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا بلند ترین عضو اس حقیر زمین پر رکھ دیتا ہے جو قدموں کے روندنے کا مقام ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر عبادت کا حکم دیا جو ان تمام اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا
قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
[ 74] اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزی کا حکم و ارشاد :
سو ارشاف فرمایا گیا پس تملوگ سجدہ ریز ہوجاؤ اللہ کے لئے۔ یعنی اس کی رضا و خوشنودی کے حصول اور اس سے سرفرازی کے لئے، کہ اس عظمت بےپایاں اور اس کے کرم لامتناہی کا تقاضا یہی ہے، کہ انسان دل و جان سے اس کے آگے جھکے اور ہمیشہ جھکا ہی لیا اور صدق دل سے اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہ بندوں پر اس وحدہٗ لاشریک کا حق بھی ہے اور اسی میں ان کی بہتری اور بھلائی بھی ہے، اور یہ اس وحدہٗ لاشریک کا ایسا حق ہے کہ اس میں اور کسی کا بھی اشتراک جائز نہیں، سو اپنی دیویوں، دیوتاؤں اور سرکاروں کو چھوڑ کر تم سب کے سب اے لوگو ! اپنے رب ہی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں
تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔
آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →ف 11 اس مقام پر سجدہ کرنا مستحب ہے جیسا کہ سورة کے شروع میں بیان ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →(53:62) فاسجدواللہ واعبدو !ترتیب امر کے لئے ہے کلام ماقبل پر یہ امر ترتیب ہوا کہ تمام اہل ایمان اور اہل کفر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اس کی بندگی بجا لائیں۔
اسجدوا : فعل امر جمع مذکر حاضر، سجود (باب نصر) مصدر۔ تم سجدہ کرو۔ للہ میں لام حرف جر استحقاق کے لئے ہے۔ یا اختصاص کے لئے ہے۔ اللہ ہی کو ۔
واعبدوا : واؤ عاطفہ، اعبدوا فعل امر جمع مذکر حاضر، عبادۃ (باب نصر) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ کا مرجع اللہ ہے ۔ محذوف ہے۔ اور اسی کی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے
جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ف 1: فرمایا : قیامت بہت قریب ہے ۔ کوئی غیر اللہ قوت اسکو اپنے وقت سے نہیں ہٹاسکتی ۔ تمہیں چاہیے ۔ کہ اس کیلئے تیاری کرو ۔ اور بجائے اظہار تعجب اور مذاق کے اللہ کے سامنے پیش ہونے کی صلاحیت پیدا کرو ۔ دل کے غبار کو آنسوؤں سے دھوڈالو ۔ غفلت وکبر سے باز آؤ۔ اور اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکو ۔ عبادت کرو ۔ اور مالک کے ساتھ تعلقات نیاز مندی کو استوار کرو ۔
Read the full tafseer →(62) پس اب اللہ کی جناب میں سجدہ ریز ہو اور عبادت کرو۔ سجدہ کرو یعنی اس کی اطاعت کرو اور اسی کی پرستش کیا کرو ۔ جب یہ سورت پڑھی گئی تو اس کا قدرتی اثر ایسا ہوا کہ جب اس کے ختم پر نبی کریم ﷺ نے اور آپ کے ہمراہ مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکوں نے بھی سجدہ کیا البتہ ایک متعصب مشرک نے نہیں کیا بلکہ اس نے ایک خاک کی مٹھی اٹھا کر پیشانی سے لگالی۔
بہرحال یہ ایک وقت کی بات تھی اور فوری اثر کا کرشمہ تھا یا بقول حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کہ اس وقت غاشیہ الٰہی نے سب کو اس طرح گھیرا کہ کسی کو سجدہ نہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی سب نے ہی سجدہ کیا کسی نے اختیاری اور کسی نے غیر اختیاری اور بےساختہ۔
بعض مفسرین نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 6۔ پس کسی کے بھروسے پر بےفکری کی گنجائش ہی نہیں۔
Read the full tafseer →پس اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اس کی بندگی کرو
62 ؎ سورة النجم نبی اعظم و آخر ﷺ نے بیت اللہ کے اندر کھڑے ہو کر پڑھی اور یہ بات ہجرت سے پہلے کی ہے کہ آپ ﷺ نے سورة النجم پڑھنے کے بعد سجدہ کیا اور جو لوگ اس وقت بیت اللہ میں سننے والے تھے سب کے سب نے سجدہ کیا حالانکہ ان لوگوں میں مسلمانوں کے علاوہ منکرین بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی ساتھ ہی سجدہ کیا سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس نے باقاعدہ سجدہ نہ کیا۔ البتہ بیت اللہ سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھی اور اس پر ماتھا لگا کر گویا سجدہ کیا۔ چناچہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ :
(عن الاسود بن یزید عن عبداللہ قال اول سورة انزلت فیھا سجدۃ النجم قال…
Read the full tafseer →فَاسْجُدُوا لِلَّـهِ وَاعْبُدُوا۩ ﴿62﴾ (Now, fall down in prostration and worship [ Allah ]... 53:62). It means that preceding verses have a lesson for everyone who considers them seriously that he should worship Allah and bow down before him in humbleness.
It is recorded in Bukhari on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ recited this verse he prostrated, and all those around him also prostrated along with him-Muslims, pagans, Jinns and mankind. Another report from ` Abdullah Ibn Masud ؓ ، as recorded in Bukhari and Muslim, narrates that when the Holy Prophet…
Read the full tafseer →55 According to Imam Abu Hanifah, Imam Shafe`i and many other scholars it is obligatory to perform a sajdah on the recitation of this verse. Although Imam Malik himself used to perform a sajdah here (as cited by Qadi Abu Bakr ibn al-`Arabi in Ahkam al-Qur 'an), yet he held the view that it was not obligatory to perform a sajdah here, the basis of his view being this tradition of Hadrat Zaid bin Thabit: "I recited Surah an-Najm before the Holy Prophet, and he did not perfom a sajdah. ° (Bukhari, Muslim, Ahmad, Tirmidhi, Abu Da'ud, Nasa'i). But this Hadith dces not negate the incumbency of the…
Read the full tafseer →