وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۟وَاَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
While you are proudly sporting?
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۟وَاَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
While you are proudly sporting?
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو؟
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
(بلکہ) تم کھیل رہے ہو
جبکہ تم تکبر کے ساتھ کھیل کود میں پڑے ہوئے ہو ؟
اور تم کھیل میں پڑے ہو،
اور تم (غفلت کی) کھیل میں پڑے ہو،
وَتَضْحَکُوْنَ وَلَاتَبْکُوْنَ یعنی بجائے اس کے کہ تم یہ سن کر ڈر جاتے کہ کہیں ہم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے اور رونے لگتے ، الٹا اس کا مذاق اڑاتے اور ہنستے ہو۔
تم کھیل کود میں پڑ کر اس سے غافل ہوچکے ہو
اور تم مدہوش پڑے ہو !
اور تم لوگ غفلت میں ڈوبے تکبر کرتے ہو ؟
اور تم تکبر کرتے ہو
اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو۔
Will you occupy yourselves simply in merriment?
while you are engaged in vain play?
while you are engaged in vain play?
While you are Samidun.
While ye amuse yourselves?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
While you are proudly sporting?
indulging in carelessly idle games?
While you are indulging in varieties.
And ye are behaving proudly.
Wasting your time in vanities?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 56–62
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 54 اصل میں لفظ سامِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔ دوسرے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْطَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا، کانوا یمرون علی النبی ﷺ غضا بامبرطمین۔ یعنی سمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں، کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے۔ راغب…
Read the full tafseer →وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ، سمود کے لغوی معنی غفلت و بےفکری کے ہیں، سامدون بمعنی غافلون ہے، اور ایک معنی سمود کے گانے بجانے کے بھی آتے ہیں وہ بھی اس جگہ مراد ہو سکتے ہیں (کما فسرہ بہ بعض الائمہ)
Read the full tafseer →(وانتم سمدون) (61) سمد اور سمود کے معنی مدہوش ہونے کے ہیں، یعنی تو تمہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہی ہے لیکن تم غفلت کے بستروں پر پڑے سو رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
59۔ 1 بات سے مراد قرآن کریم ہے، یعنی اس سے تم تعجب کرتے اور اس کا مذاق کرتے ہو، حالانکہ اس میں نہ تعجب والی کوئی بات ہے نہ مذاق اور جھٹلانے والی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
25: یعنی اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ان عذابوں سے بچا کر جن نعمتوں میں رکھا ہوا ہے، پھر تیری ہدایت کے لئے یہ قرآن کریم جن مختلف طریقوں سے تجھے متنبہ کررہا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جس محبت سے تجھے سمجھاکر تجھے عذاب سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان عظیم نعمتوں میں سے کس کس نعمت میں شک کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
افمن ................ سمدون (16) (35 : 95 تا 16) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
10 یعنی قیامت اور اس کے قرب کا ذکر سن کر چاہیے تھا خوف خدا سے رونے لگتے اور گھبرا کر اپنے بچاؤ کی تیاری کرتے۔ مگر تم اس کے برخلاف تعجب کرتے اور ہنستے ہو۔ اور غافل و بےفکر ہو کر کھلاڑیاں کرتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 61{ وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ۔ } ”اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
42 یعنی تم تعجب تو ایسے کرتے ہو جیسے دوبارہ مر کر جی اٹھنے کی بات آج پہلی بار سنی ہے۔ حالانکہ تمام انبیاء یہی بات کہتے آئے ہیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاتے اور اللہ کے خوف سے رونے لگتے۔ مگر تم اس کے برعکس ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہو اور انجام سے غافل رہ کر کھیل کود میں وقت گزار رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
43۔ (حسب تعلیم وہدایت پیغمبر، تاکہ فلاح دارین حاصل کرو) (آیت) ” سمدون “۔ یعنی اپنے جہل و غفلت کی بناء پر طاعت الہی سے عار محسوس کررہے ہو۔ (آیت) ” فاسجدوا للہ “۔ سجدہ۔ یہاں اپنے لفظی معنی، خضوع و اطاعت کے مفہوم میں لیا گیا ہے۔ اے فاخضعوا لہ واخلصوا ووحدوہ (ابن کثیر) لیکن آیت حنفیہ کے نزدیک سجدہ کی ہے، اور اس پر پہنچ کر رسول اللہ ﷺ سے سجدہ کرنا منقول ہے۔ ھذہ ایۃ سجدۃ عند اکثر اھل العلم وقد سجد النبی ﷺ عندھا (روح)
Read the full tafseer →وانتم سامدون، سمود کے معنی غفلت اور بےفکری کے ہیں سامدون بمعنی غافلون ہے اور ایک معنی سمود کے گانے کے بھی آتے ہیں وہ بھی اس جگہ مراد ہوسکتے ہیں (معارف) اگر سامدون کے دوسرے معنی مراد لئے جائیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لئے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔
Read the full tafseer →وانتم سامدون . اور تکبّر کرتے ہو۔ سَامِدُوْنَ : یعنی غافل۔ سمودٍ کا معنی ہے کسی چیز سے غافل ہوجانا۔ عرب کہتے ہیں : دَعْ مِنَّا سَمُوْدَکَ : ہماری طرف سے اپنی غفلت ترک کر دو ۔ والبی اور عوفی کی روایت میں اسی کو حضرت ابن عباس کا قول قرار دیا گیا ہے۔ عکرمہ نے کہا : یمنی محاورے میں سمود کا معنی ہے گانا۔ جب کفار قرآن سنتے تھے تو گاتے اور کھیلتے تھے۔ ضحاک نے سامدون کا ترجمہ کیا ‘ اترانے والے۔ مجاہد نے کہا : غصہ کے ساتھ روگردانی کرنے والے۔ بعض نے کہا : سامدون کا معنی ہے غرور کرنے والے ‘ اپنے کو بڑا سمجھنے والے۔ جب اونٹ راستہ چلتے سر اوپر اٹھاتا ہے تو عرب کہتے ہیں : سمدا البعیر۔ ابن ابی حاتم نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
(59۔ 62) سو کیا اے مکہ والو تم اس قرآن کریم کا جو تم کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں مذاق کرتے ہو یا یہ کہ جھٹلاتے ہو اور بطور مذاق ہنستے ہو۔ اور اس میں خوف و عذاب کے جو مضامین ہیں ان سے روتے نہیں ہو اور تم اس سے تکبر کرتے ہو اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔ سو اللہ کے سامنے توحید کے قائل ہو کر اور توبہ کر کے جھک جاؤ اور اس کی بغیر کسی شریک کے عبادت کرو۔ شان نزول : وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (الخ) اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کفار رسول اکرم کے پاس سے مذاق اڑاتے اور تکبر کرتے ہوئے گزرتے تھے حالانکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ”سمد یسمد سمودا“ (ن) کھیل کود میں مشغول ہونا ، غافل ہونا ، گانا ، تکبر سے سر اٹھا کر چلنا ، یعنی بجائے رونے کے تم کھیل کود ، گانے بجانے اور اپنے تکبر میں غافل رہ کر ہنستے پھرتے ہو۔
Read the full tafseer →وانتم سبدون۔ تم لاپرواہی کرنے والے اور اعراض کرنے والے ہو (3) حضرت ابن عباس سے مروی ہے جیسے والبی اور عوفی نے آپ سے روایت کیا ہے عکرمہ نے ان سے روایت کیا حمیر کی لغت میں اس کا معنی گانا گانا ہے (4) یہ جملہ کہا اجتا ہے : سمدلنا ہمارے لئے گانا گائو جب وہ قرآن پڑھتے ہوئے سنتے تو وہ گانا گانا شروع کردیتے اور کھیل کود میں شروع ہوجاتے تاکہ وہ اسے نہ سن سکیں۔ ضحاک نے کہا : سامدون کا معنی متکبر نہیں۔ صحاح میں ہے سمد سمود اس نے تکبر کی وجہ سے اپنا سر اٹھایا۔ ہر سر اٹھان والا سامد وہتا ہے : شاعر نے کہا، سو امد للیل خفاف الازواد اس مصرعہ میں سوامد کا معنی سر اٹھانے والے کیا ہے۔ وہ کہتا ہے : ان کے پیٹوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
5:۔ عبدالرزاق والفریابی وعبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم والطبرانی (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سمدون '' سے مراد ہے کہ تم غافل ہوتے ہوئے اس سے روگردانی کرنے والے ہو۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانتم سمدون '' (اور تم تکبر کرتے ہو یعنی تم غفلت کرنے والے ہو۔ 7:۔ عبدالرزاق والفریابی وابوعبیدفی فضائلہ وعبدبن حمید (رح) وابن ابی الدنیا فی ذم الملاہی والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انتم سمدون ''…
Read the full tafseer →وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ [ اور تم لوگ اکڑ دکھانے والے ہو ] س م د : (ن) سمودا تکبر سے سر اونچا کرنا اور سینہ تاننا۔ اکڑ دکھانا ۔ سامد اسم الفاعل ہے۔ اکٹر دکھانے والا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 61 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
﴿اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَۙ0059﴾ (کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو) ﴿ وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ0060 ﴾ (اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو) ﴿ وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ 0061﴾ (اور تم تکبر کرتے ہو) ۔ یہ قرآن اور اس کا ڈرانا اور وقوع قیامت کی خبر دینا کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو اور ساتھ ہی ہنستے بھی ہو اور روتے نہیں تمہیں تو کفر چھوڑ کر ایمان لانا لازم ہے سابقہ زندگی پر روؤ اور کفر سے توبہ کرو، ایمان اور قرآن کے نام سے ہنستے ہو یہ چیز تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بربادی کا سبب ہے تکبر تمہیں لے ڈوبے گا۔ تکبر کی وجہ سے تم اپنے کفر پر جمے ہوئے ہو اور ایمان لانے میں اپنی بےآبروئی محسوس کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
31:۔ یہ منکرین کیلئے زجر ہے۔ اے قریش مکہ ! تم اس قرآن پر متحیر اور کج فہمی کی وجہ سے اس کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہو، لیکن اس میں آیات و وعد و وعید سن کر اپنی سرکشی پر اور بدعنوانیوں پر تمہیں کبھی رونا نہیں آیا اور تم حق سے منہ پھیرے سراسر غفلت میں پڑے ہو (افمن ھذا الحدیث) ای القران (تعجبون) انکارا (وتضحکون) استہزاء (ولا تبکون) تحزنا علی ما فرطتم (بیضاوی) ۔ ولا تبکون لسماع وعدہ ووعیدہ (جلالین) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ 61 سمد السَّامِدُ : الّلاهي الرّافع رأسه، من قولهم : سَمَدَ البعیر في سيره . قال : وَأَنْتُمْ سامِدُونَ [ النجم/ 61] ، وقولهم : سَمَدَ رَأْسَهُ وسبد أي : استأصل شعره . ( س م د ) السامد غافل تکبر سے سر اٹھانے والا یہ سمد البعیر فی سیرہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اونٹ کے گردن اٹھا کر تیز چلنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَنْتُمْ سامِدُونَ [ النجم/ 61] اور تم غفلت میں پڑے رہے ہو ۔ اور سمد راسہ وسبد کے معنی سر کے بالوں کو جڑ سے مونڈ ڈالنے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۔ (النجم : 61) (اور تم مدہوش پڑے ہو۔ ) سَمَدْ اور سَمُوْد کے معنی مدہوش ہونے کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کتاب تو تمہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے جگا رہی ہے اور نبی کریم ﷺ پوری دلسوزی کے ساتھ تمہیں خواب غفلت سے بیدار کرکے اور تمہارے مستقبل کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کررہے ہیں۔ لیکن تمہارا عجیب حال ہے کہ تم سے غفلت کا پردہ ہٹنے میں نہیں آتا۔ اور تم ایسے مدہوش پڑے ہو کہ کسی طرح ہوش میں نہیں آتے۔ اور دوسرا معنی جو بعض تابعین سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ یمنی زبان میں سمود کا معنی گانے بجانے کے ہیں۔ اور اس آیت میں ان کی اس روش پر ملامت کی گئی ہے کہ بجائے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال…
Read the full tafseer →آیت 61: وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (اور تم تکبر کرتے ہو) اس سے غافل ہو اور تم کھیل کود کرنے والے ہو۔ کفار جب قرآن سنتے غناء سے اس کا مقابلہ کرتے، تاکہ لوگوں کو اس کے سننے سے مشغول کریں۔
Read the full tafseer →60 ۔” وتضحکون “ مذاق اڑاتے ہوئے۔ ” ولا تبکون “ اس میں موجود وعدو وعید کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
56۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے…
Read the full tafseer →(وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ) اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو۔ یعی تم اس سے اور اس پر تدبر کرنے سے غافل ہو یہ غفلت تمہاری قلت عقل اور تمہارے دین کی کھوٹ پر دلالت کرتی ہے اگر تم نے اللہ کی عبادت کی ہوتی اور اپنے تمام احوال میں اس کی رضا کے طلب گار رہے ہوتے تو تمہیں یہ بدلہ نہ ملتا جسے عقل مند لوگ ناپسند کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
[ 74] اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزی کا حکم و ارشاد : سو ارشاف فرمایا گیا پس تملوگ سجدہ ریز ہوجاؤ اللہ کے لئے۔ یعنی اس کی رضا و خوشنودی کے حصول اور اس سے سرفرازی کے لئے، کہ اس عظمت بےپایاں اور اس کے کرم لامتناہی کا تقاضا یہی ہے، کہ انسان دل و جان سے اس کے آگے جھکے اور ہمیشہ جھکا ہی لیا اور صدق دل سے اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہ بندوں پر اس وحدہٗ لاشریک کا حق بھی ہے اور اسی میں ان کی بہتری اور بھلائی بھی ہے، اور یہ اس وحدہٗ لاشریک کا ایسا حق ہے کہ اس میں اور کسی کا بھی اشتراک جائز نہیں، سو اپنی دیویوں، دیوتاؤں اور سرکاروں کو چھوڑ کر تم سب کے سب اے لوگو ! اپنے رب ہی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
ف 10 سمد سے مراد ایسی غفلت ہے جس کے ساتھ رنگ رلیاں بھی ہوں۔ صالح ابی اقلیل کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت اتری رسول اللہ ﷺ کو کسی نے ہنستے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے یہ رخصت ہوگئے۔ (شو کانی)
Read the full tafseer →(52:61) وانتم سمدون : جملہ اسمیہ تبکون کے فاعل سے حال ہے۔ سمدون کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں :۔ اہل لغت نے اس کے دو معنی بیان کئے ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس اور عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سمود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لئے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔ (2) حضرت ابن عباس اور مجاہد نے بیان کئے ہیں کہ :۔ السمود البرطمۃ وہی رفع الرأس تکبرا۔ کانوا یمرون علی النبی ﷺ غضابا مبرطین۔ یعنی سمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں ۔ کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ف 1: فرمایا : قیامت بہت قریب ہے ۔ کوئی غیر اللہ قوت اسکو اپنے وقت سے نہیں ہٹاسکتی ۔ تمہیں چاہیے ۔ کہ اس کیلئے تیاری کرو ۔ اور بجائے اظہار تعجب اور مذاق کے اللہ کے سامنے پیش ہونے کی صلاحیت پیدا کرو ۔ دل کے غبار کو آنسوؤں سے دھوڈالو ۔ غفلت وکبر سے باز آؤ۔ اور اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکو ۔ عبادت کرو ۔ اور مالک کے ساتھ تعلقات نیاز مندی کو استوار کرو ۔
Read the full tafseer →(61) اور تم متکبرانہ برتائو کرتے ہو۔ حدیث سے مراد قرآن ہے یعنی اس قرآن میں تعجب کرتے ہو اور خوف کی باتیں سن کر بھی اس قرآن پر استہزاء ہنستے ہو روتے ہیں اور تم اس قرآن کی اطاعت سے متکبرانہ برتائو کرتے ہو یا اس قرآن سے کھیل کرتے ہو اور کھلاڑیاں کرتے ہو یا غل مچاتے ہو یا گانے بجانے کا شور کرتے ہو بجائے رونے اور اپنے انجام پر غور کرنے کے تمہاری یہ حرکات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 6۔ پس کسی کے بھروسے پر بےفکری کی گنجائش ہی نہیں۔
Read the full tafseer →تم غفلت میں پڑے ہو اور اس سے نکلنے کو تیار نہیں 61 ؎ (سمدون) کھیل کرنے والے ‘ غافل کرنے والے یا غافل ہونے والے ۔ گانے والے ‘ تکبر سے سر اٹھانے والے ‘ حیرت میں کھڑے ہونے والے۔ (سمود) سے جس کے معنی کھیلنے ‘ غافل ہونے اور تکبر سے سر اٹھانے والے اور حیرت میں کھڑے ہونے والے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر (سامد) واحد۔ ابن ورید نے تصریح کی ہے کہ یہ یمانی لغت ہے اور عبدالرزاق بروایت عکرمہ ابن عباس ؓ سے اس کے معنی گانے بجانے کے نقل کرتے ہیں۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ یہ اہل یمن کی زبان ہے جب یمنی ” تغن “ کہنا چاہے گا تو اس کے لئے اسمد بولے گا۔ (فتح الباری ج 8 ص 465 طبع مصر) اور امام بخاری (رح) اپنی صحیح…
Read the full tafseer →وَأَنتُمْ سَامِدُونَ (while you are engaged in vain play?....53:61). Samidun is the plural of "samid" from the root word sumud which literally denotes to be heedless. Samidun is used in the sense of ghafilun, meaning unmindful. Some of the Imams have interpreted the word sumud to mean to sing. That meaning can equally fit or apply in this context.
Read the full tafseer →54 Two meanings have been given of the word samidun by the lexicographers. Ibn `Abbas, `Ikrimah and Abu.`Ubaidah, the grammarian, are of the view that in the Yarnanite tongue sumud means singing and playing, and the verse alludes that the disbelievers of Makkah, in order to suppress the recitation of the Qur'an and to divert the people's attention away from it, would start singing in a loud voice. The other meaning of it given by lbn `Abbas and Mujahid is: `Sumud means bending down the head out of arrogance; when the disbelievers of Makkah passed by the Holy Prophet, they would pass by him…
Read the full tafseer →