Explained with ayahs 6–8
معجزات بھی بےاثر
ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کار آمد نہیں چھوڑ دو ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو ، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لئے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہوگی جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہوگی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر ٹڈی دل کی طرح یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے نہ مخالفت کی تاب ہے نہ دیر لگانے کی طاقت، اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْقَمَر 7
اصل الفاظ ہیں خُشَّعاً اَبصَارُھُمْ ، یعنی ان کی نگاہیں خشوع کی حالت میں ہوں گی۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان پر خوف زدگی طاری ہوگی۔ دوسرے یہ کہ ذلت اور ندامت ان سے جھلک رہی ہوگی کیونکہ قبروں سے نکلتے ہی انہیں محسوس ہوجائے گا کہ یہ وہی دوسری زندگی ہے جس کا ہم انکار کرتے تھے، جس کے لیے کوئی تیاری کر کے ہم نہیں آئے ہیں، جس میں اب مجرم کی حیثیت سے ہمیں اپنے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ گھبرائے ہوئے اس ہولناک منظر کو دیکھ رہے ہوں گے جو ان کے سامنے ہوگا، اس سے نظر ہٹانے کا انہیں ہوش نہ ہوگا۔
سورة الْقَمَر 8
قبروں سے مراد وہی قبریں نہیں ہیں جن میں کسی شخص کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
اہل مکہ جب اس مشاہدہ کی تکذیب نہ کرسکے تو اس کو جادو یا سخت جادو کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے، وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ، استقر کے لغوی معنی قرار پکڑنے کے ہیں، مفہوم آیت کا یہ ہے کہ ہر کام اور ہر چیز اپنی غایت پر پہنچ کر آخر کار صاف ہوجاتی ہے، کسی جعل سازی سے جو پردہ حقیقت پر ڈالا جاتا ہے وہ انجام کار کھل کر رہتا ہے اور حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(خشعاً) اور (مھطعین) دونوں حال ہیں (گا نھم جراد منتشر) نفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سر شام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھاہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہیں اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔ (یقول الکفرون ھذا یوم عشر) یعنی آج تو جب اللہ کا رسول ان لوگوں کو اسدن کے ہول سے ڈراتا ہے تو ان کو ہر چیزانہونی اور ناممکن نظر آتی ہے اور نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 1 یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آنا فانا میں کشادہ فضا میں پھیل جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اسلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فتول ............ عسر (54: 8) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “
یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔
یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے…
Read the full tafseer →5 یعنی اس وقت خوف وہیبت کے مارے ذلت و ندامت کے ساتھ آنکھیں جھکائے ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 7 { خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ } ”اس وقت ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوں گی۔“
{ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّـہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ } ”یہ اپنی قبروں سے ایسے نکل کر آئیں گے جیسے ٹڈی ّدَل پھیلا ہوا ہو۔“
ظاہر ہے ہزاروں سال سے انسان اس زمین میں دفن ہو رہے ہیں اور قیامت تک ان کی تعدادکتنی ہوجائے گی ‘ ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ چناچہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری فوت ہونے والے انسان تک سب کے سب زمین سے نکل کر ایک ہی سمت دوڑے چلے جا رہے ہوں گے تو وہ ٹڈی دل کی طرح نظر آئیں گے۔
Read the full tafseer →8 قبروں سے مراد صرف وہ قبریں نہیں جہاں انہیں دفن کیا گیا تھا۔ ان قبروں کے تو نام و نشان تک باقی نہ رہ جائیں گے۔ بلکہ یہاں قبروں سے مراد وہ مقام ہیں۔ جہاں کسی انسان کے جسم کے ذرات خاک میں ملے ہوئے ہوں گے۔ اور قبروں سے نکلنے کے بعد ان کی نگاہیں سہمی ہونے کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں ایک قیامت کے ہولناک مناظر دوسرے ان کی دنیا کی زندگی کی کرتوتیں۔ اسی سہمی ہوئی حالت میں وہ ٹڈی دل کی طرح اس طرف دوڑنا شروع کردیں گے جدھر سے انہیں پکارا جارہا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6۔ (اور واقع میں وہ وقت کافروں کے لیے انتہائی ہوگا بھی) بیان روز حشر کی ہولناکیوں اور دہشت انگیزیوں کا ہورہا ہے۔ خشعا ابصارھم۔ منکروں کی آنکھیں اس روز تو کچھ ندامت سے اور کچھ ہیبت سے اور پھر کچھ احساس ذلت سے بہر حال زمین کی طرف لگی ہوں گی۔ کانھم جراد منتشر۔ انسانوں کے اس انبوہ عظیم کی قریب ترین مثال جو اس دنیا میں دی جاسکتی ہے وہ ٹڈی دل ہی کی ہے۔ ٹڈی دل جب کبھی اپنی پوری قوت کے ساتھ ظہور پذیرہوتا ہے تو ساری فضائے آسمانی پر میلوں بلکہ منزلوں تک ٹڈیوں کے دل بادل تہ بہ تہ چھا جاتے ہیں اور دن کی روشنی ماند ہو کر تاریکی پھیل جاتی ہے۔ مبصرین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مشرقی افریقہ میں جب ٹڈی دل پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…
Read the full tafseer →خشعا ابصارھم یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشر
چیز کی طرف بلائے گا ‘ ان کی آنکھیں (مارے ذلت کے) جھکی ہوئی ہوں گی۔ قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے۔ ب
خُشَّعًا اَبْصَارُھُمْ : ان کی نگاہیں عاجزی کے ساتھ نیچی ہوں گی۔
مِنَ الْاَجْدَاثِ : قبروں سے نکلیں گے ‘ ٹڈیوں کی طرح کثیر اور منتشر ہوں گے اور اتنے ڈٹ لگے ہوں گے کہ لہروں کی طرح ایک دوسرے میں گھسا پڑتا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(6۔ 8) سو جو قوم علم خداوندی پر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے گی اسے رسولوں کا ڈرانا کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا۔
اے محمد سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے۔
جس روز یعنی قیامت کے دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک سخت ترین ناگوار چیز کی طرف بلائے گا اہل جنت کو جنت کی طرف اور دوزخیوں کو دوزخ کی طرف ان کی آنکھییں ذلت سے جھکی ہوں گی قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے اور پھر نکل کر بلانے والے کی طرف دوڑے چلے جارہے ہوں گے کہ کس چیز کا ان کو حکم ہوتا ہے کافر قیامت کے دن کہتے ہوں گے کہ یہ دن ان کے حق میں بڑا سخت ہے۔
Read the full tafseer →خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ۔۔۔”خشعا“ ”خاشع“ کی جمع ہے ، جیسے ”راکع“ کی جمع ”رکع“ ہے۔ یعنی ذلت کی وجہ سے ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ (دیکھئے شوریٰ : 45)”الاجداث“ جدث ، (دال کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے۔ قبرر ”جراد“ اسلم جمع ہے، اس کا واحد ”جرادۃ“ ہے ، ٹڈیاں جو بیشمار تعداد میں زمین سے نکلتی ہیں اور ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ ”منتشر“ پھیلی ہوئی۔ قبروں سے نکلنے والوں کی حالت کو یہاں پھیلی ہوئی ٹڈیوں کے ساتھ اور سورة ٔ قارعہ میں ”گا لفراش المبثوت ‘ ‘ بکھرے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ دونوں ہی جب نکلتے ہیں تو بیشمار تعداد میں ایک دو سے کے گرد اڑتے ، گھومتے اور آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
خشعا ابصارھم بصر میں خشوع سے مراد عاجزی اور ذلت ہے خشوع کو ابصار کی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ عزت اور ذلت کا اثر انسان کی آنکھ سے ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ابصارھا خاشعۃ۔ (النازعات) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : خشعین من الذل ینظرون من طرف خفی (الشوریٰ : 45 )
یہ کہا جاتا ہے : خشع واختشع جب وہ ذلیل ہوجائے، خشع یبصرہ جب وہ آنکھ کو بند کر دے۔ حمزہ، کسائی اور ابو عمرو نے خاشعا پڑھا ہے اسم فاعل میں یہ جائز ہے کہ جب فاعل جماعتوں ہو اور اس فاعل اس سے پہلے ہو تو اسے واحذ ذکر کیا جائے جس طرح خشعا ابصارھم ہے اس کو مئونث بھی لا سکتے ہیں جس طرح خاشعۃ ابصارھم اسم فاعل کے صیغہ کو جمع مذکر کرنا بھی…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : (آیت) '' خشعا ابصارھم ''
3:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) '' خشعا ابصارھم '' الف کے ساتھ۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) '' خشعا ابصارھم '' خاء کے رفع کے ساتھ۔
5:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' خشعا ابصارھم '' (ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی) یعنی ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی (واللہ اعلم ) ۔
6:۔ ابن جریر (رح) وابن المنـذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مھطعین الداع '' (بلانے والے کی آواز پر دوڑ رہے ہوں گے…
Read the full tafseer →خُشَّعًا [ اس حال میں کہ جھکنے والی ہوں گی ] اَبْصَارُهُمْ [ ان کی آنکھیں ] يَخْرُجُوْنَ [ وہ لوگ نکلیں گے ] مِنَ الْاَجْدَاثِ [ قبروں میں سے ] كَاَنَّهُمْ [ جسے کہ وہ ] جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ [پھیلنے والی ٹڈی دل ہیں ]
(آیت ۔ 7) ۔ خشع جمع مکسر ہے ۔ اسم الفاعل خاشع کی ، حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور اس نے فعل کی طرح عمل کیا ہے (دیکھیں آیت ۔ 2:54، نوٹ ۔ 1) ابصارہم اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
قیامت کے دن کی پریشانی، قبروں سے ٹڈی دل کی طرح نکل کر میدان حشر کی طرف جلدی جلدی روانہ ہونا
ان آیات میں اول تو رسول اللہ تعالیٰ ﷺ کو بطور تسلی حکم فرمایا کہ آپ ان سے اعراض کریں یعنی ان کے انکار اور تکذیب سے دلگیر نہ ہوں (حق قبول نہ کرنے کا انجام خود ان کے سامنے آجائے گا) پھر فرمایا کہ جس دن بلانے والا بلائے گا یعنی فرشتہ صور پھونکے گا اس دن قیامت کا ظہور سامنے آجائے گا جو آنکھوں دیکھا ہوگا اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کے خبر دینے سے اس وقت نہیں مانتے لیکن جب واقع ہوگا تو ماننا ہی پڑے گا فرشتے کا صور پھونکنا قبروں سے نکلنے کے لیے ہوگا۔ (یہ دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے سے متعلق ہے) جب صور کی آواز سنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6:۔ ” یوم یدع “ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف یخرجون متاخر کے ساتھ متعلق ہے۔ اور ” خشعا ابصارہم “ جملہ یخرجون کی ضمیر سے حال ہے۔ نکر، ایک دہشتناک چیز جس سے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو قیامت کا ہول اور خوف وہراس مراد ہے (مدارک) اور داعی سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں (روح) ۔ جس دن حضرت اسرائیل (علیہ السلام) صورت پھونکیں گے اور سب کو میدان حشر میں قیامت کے ہولناک اور دہشت انگیز منظر کی طرف بلائیں گے تو سب لوگ قبروں سے نکل آئیں گے، دہشت و خوف سے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور وہ ٹڈی دل کی طرح زمین پر پھیلے ہوں گے اور بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کفار و مشرکین اس وقت پکار اٹھیں گے کہ آج کا دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر…
Read the full tafseer →خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ 7 ۙ
خشع
الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» «2» . قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فَتَوَلَّ عَنْھُمْ م یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْ ئٍ نُّـکُرٍ ۔ خُشَّعًا اَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّھُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ مُّھْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ ط یَقُوْلُ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۔ (القمر : 6 تا 8)
(پس اے پیغمبر ! آپ ان سے اعراض کیجیے، (اور اس دن کا انتظار کیجیے) جس دن پکارنے والا انھیں ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔ ان کی نگاہیں سراسیمگی سے جھکی ہوئی ہوں گی، اور یہ قبروں سے نکلیں گے گویا کہ وہ منتشر ٹڈیاں ہیں۔ دوڑتے ہوئے پکارنے والے کی طرف، کافر کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت
آیت میں تَوَلَّکا لفظ انتظر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کے پاس شق قمر کا معجزہ اور دیگر دلائل آچکے ہیں لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے ظہور سے پہلے اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ہی عبرت حاصل کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہ صرف قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے ہیں بلکہ کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے سا تھیوں کے سامنے مردوں کو زندہ کرکے بھی دکھلایا ہے اور جو لوگ دلائل اور تنبیہات کے باوجود قیامت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ اس دن سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جس دن انہیں بلانے والا اس چیز کی طرف بلائے گا۔ جیسے یہ…
Read the full tafseer →آیت 7: خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ (ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی) قراءت : عراقی قراء نے سوائے عاصم کے خاشعًا پڑھا ہے۔
: یہ خارجین سے حال ہے۔ اور یہ آنکھوں کا فعل ہے۔ اور مذکر لایا گیا ہے جیسا کہتے ہیں یخشع ابصارہم دیگر قراء نے خُشعًا پڑھا اور یخشعن ابصارہم مؤنث کا معنی لیا۔ یہ ان کی لغت ہے جو کہتے ہیں اکلونی البراغیث۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ خُشعًا میں ہم ضمیر ہو اور ابصارہم اس سے بدل ہو۔ اور خشوع ابصار یہ ذلت سے کنایہ ہو کیونکہ قیامت کے روز ذلیل کی ذلت اور عزیز کی عزت آنکھوں میں ظاہر ہو رہی ہوگی۔ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ (قبروں سے نکل رہے ہوں گے) ۔ کَاَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ…
Read the full tafseer →6 ۔” فتول عنھم “ یعنی ان سے اعراض کریں۔ اس کو قتال کی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ کہا گیا ہے یہاں وقف تام ہے اور کہا گیا ہے۔ ” فتول عنھم یوم یدع الداع “ یعنی بلانے والے کے دن کی طرف۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اسرافیل ہیں وہ بیت المقدس کے صخرہ پر کھڑے ہوکر پھونک ماریں گے۔ ” الی شیء نکر “ اوپر سے ہیبت ناک جس کی مثل انہوں نے نہ دیکھا ہوگا۔ پس وہ اس کی عظمت کی وجہ سے اس کا انکار کریں گے۔ ابن کثیر (رح) نے ” نکر “ کاف کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر نے اس کے پیش کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6۔ 8۔ اوپرذکر تھا کہ علم الٰہی کے موافق ازلی کمبختی جن کے سر پر سوار ہے ڈرانے والوں کی ڈر کی باتوں کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے بلکہ ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف شرمندہ شکل نیچی نگاہ کئے ہوئے دوڑیں گے اس وقت ان کا کیا سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے بعض علماء کے قول کے موافق جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسرے…
Read the full tafseer →(خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ ) ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلون میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کردے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہوجائیں گی۔ ( َخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ) وہ قبروں سے یوں نکلیں گے جیسے کہ وہ۔ اپنی کثرت اور بےترتیب ہونے کی وجہ سے منتشر ٹڈی دل ہوں۔ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →[ 13] منکرین کی قیامت کے روز کی ذلت و رسوائی کا ایک منظر :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اس یوم عظیم میں منکرین کی ذلت و رسوائی کے ایک منظر کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جھکی ہوئی ہونگی ان کی نگاہیں۔ اس دن کی ہولناکیوں اور ان کے اپنے کرتوتوں کی بناء پر جب کہ اہل ایمان اس کی ہولناکیوں اور محاذف سے امن وامان میں ہوں گے۔ { من جاء بالحنسۃٍ فلہٗ خیر منھا ج وھم من فزعٍ یؤمئذٍ امنون } [ النمل : 89 پ 20] سو ایمان و یقین کی دولت ہی انسان کو امن وامان کی نعمت سے سرفراز کرنے والی دولت ہے، اس دنیا میں بھی، اور آخرت کے اس جہاں میں بھی جو کہ اس دنیا کے بعد آئیگا، اور جو ابدی جہاں ہوگا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا
تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 5 یعنی دھمکیاں دیں اور ہر طریقہ سے لعنت و ملامت کی کہ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے باز رہے۔
Read the full tafseer →(54:7) خشعا : عاجزی کرنے والے۔ خشوع کرنے والے۔ خاشع کی جمع جو خشوع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ یہ یخرجون میں ضمیر ہم کا حال ہے۔ اس لئے منصوب ہے۔
یخرجون : مضارع جمع مذکر غائب خروج (باب نصر) مصدر سے۔ سب نکل کھڑے ہوں گے۔ سب نکل آئیں گے۔
اجداث : جمع ہے جدث کی۔ بمعنی قبریں۔
کانھم : کان حرف مشابہ بفعل ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم ۔ گویا وہ سب۔
جراد منتشر موصوف وصفت جراد ٹڈیاں۔ اسم جنس۔ جرادۃ اس کا واحد ہے بمعنی ٹڈی ۔ منتشر پراگندہ ۔ بکھیرنے والا۔ بکھرنے والا۔ انتشار (افتعال) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر۔ بکھڑی ہوئی ٹڈیاں۔ گویا کہ وہ ٹڈیوں کے دل ہیں جو بکھر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے ، بلکہ ایسے لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دو ۔ دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف کھنیچے چلے آئیں گے اس وقت ان کا کیا سب انکی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اس دن یہ کافر یہ حالت دیکھ کر کہیں گے افسوس، یہ دن تو بڑی آفت ومصیبت کا بڑاکٹھن اور سخت دشوار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[3] یعنی میدان حشر کی طرف حساب دینے کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة القمر
اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو…
Read the full tafseer →(7) یہ قبروں سے اس حال میں نکلیں گے کہ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور اس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ یعنی جب ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو کوئی خوف دلانے والی بات نفع نہیں پہنچاسکتی تو آپ ان کا خیال چھوڑ دیجئے اور ان کی طرف التفات نہ کیجئے کیونکہ جس دن سے آپ ان کو ڈراتی ہیں وہ دن آئے گا تو ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا وہ دن ایسا ہوگا جس دن ایک بلانے والا فرشتہ ان کو بلائے گا یعنی نفخہ صور ہوگا اور یہ قبروں سے نکلیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں ہوتی ہیں آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ چیزجس کے طرف وہ فرشتہ بلائے گا وہ چیز ناخوش اور ان دیکھی ہوگی حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔
Read the full tafseer →ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور وہ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے
7 ؎ (الاجداث) جدث کی جمع ہے اور جدث کے معنی قبر کے ہیں جہاں مرنے کے بعد آدمی پہنچ جاتا ہے خواہ اس کو گاڑا گیا ہے اور خواہ جلایا گیا ہے اور خواہ اس کو راکھ کر کے اڑا دیا گیا ہے اور خواہ وہ درندوں نے پھاڑ کھایا ہے یا اسی طرح جو انجام بھی اس کا ہوا ہے اسی کا دوبارہ زندہ ہو کر نکل انا ہی مراد ہے اور ہماری اکثریت چونکہ مردوں کو زمین میں دفن کرتی ہے اور اس گڑھے کو جس میں مردہ گاڑا جاتا ہے قبر اور حدث کا نام دیا جاتا ہے۔ (مھطعین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب مھط واحد اھطاع مصدر باب افعال سر جھکائے ہوئے تیزی کے ساتھ دورنے والے۔ عاجزی اور ذلت کے باعچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ (...while every matter has to be settled....54:3). The literal meaning of the word istiqrar is to settle. The verse means that everything must ultimately reach its end and the matter must become clear. If a veil is fabricated and cast over the truth or reality, eventually [ in its designated time ] the false veil will be removed and the truth and falsehood will be clearly distinguished.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7 "Graves" do not signify only those pits in the earth in which a person might have been properly buried, but he would rise up from wherever he had died, or from wherever his dust lay, on the call of the Caller to the plain of Resurrection.
8 Literally: "Their looks will be downcast. "This can have several meanings: (1) That they will appear tenor-stricken; (2) that they will be reflecting disgrace and humiliation, for as soon as they arise out of their graves they would realize that it was indeed the same second life which they had been denying, for which they had made no preparation, and in…
Read the full tafseer →