Explained with ayahs 47–55
شکوک و شبہات کے مریض لوگ
بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة الْقَمَر 28
یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ ان کا کیا دھرا کہیں غائب ہوگیا ہے۔ نہیں، ہر شخص، ہر گروہ اور ہر قوم کا پورا ریکارڈ محفوظ ہے اور اپنے وقت پر وہ سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ، قدر کے لغوی معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کو حکمت و مصلحت کے مطابق اندازے سے بنانے کے ہیں، اس آیت میں یہ لغوی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے عالم کی تمام مخلوقات کو اور اس کی ہر نوح و صنف کو ایک حکیمانہ اندازہ سے بڑا چھوٹا اور مختلف ہیئت و صورت میں بنایا ہے، پھر ہر نوع و صنف کے ہر فرد کی تخلیق میں بھی حکیمانہ انداز بڑی حکمت کے ساتھ رکھا ہے، انگلیاں سب یکساں نہیں بنائیں، طول میں فرق رکھا، ہاتھوں پاؤں کے طول و عرض اور ان کے کھلنے بند ہونے سمٹنے اور پھیلنے کے لئے اسپرنگ لگائے، ایک ایک عضو کے ایک ایک جز کو دیکھو تو قدرت و حکمت خداوندی کے…
Read the full tafseer →(فی مقعد صدق عند ملیک متت) (55) یہ ان مقتیوں کی اصل سرفرازی کا بیان ہے کہ جنت کا یہ جادواں ان کو ایک پائیدار عزت والی پائگاہ میں، عظیم قدرت والے بادشاہ کے قرب میں، حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قرب ہی ہے جو جنت کو جنت بناتا ہے ورنہ اس کی حیثیت ایک باغ سے زیادہ نہیں ہے۔ مقعد کی اضافت صدق کی طرف اس کی عزت، پائیدار اور ابدیت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس طرح لسان صدق کی ترکیب میں یہ تمام مفہوم پائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دربار عظیم کے درباری ہونے کا جو شرف ان کو حاصل ہوگا، نہ اس کی عزت بنا وٹی اور نمائشی ہوگی نہ چند روزہ کہ آج ہے اور کل کرسی چھن جائے تو کوئی بھی پوچھنے والا نہ رہے۔ عند ملیک…
Read the full tafseer →55۔ 1 مَقْعَدِ صِدْقٍ عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہوگی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
15: یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ناپ تول اور ہر کام کا ایک وقت مقرر رکھا ہے، اس لیے وہ قیامت اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ان المتقین ............ مقتدر (55) (45:45 ۔ 55) ” نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “
مجرمین تو گمراہی اور آگ میں تھے۔ تو متقین چشموں اور نہروں میں ہیں۔ مجرموں کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا تو ہیں آمیز طریقے پر اور پھر سر زنش کے طور پر کہا جائے گا۔
ذوقو ............ سفر ” چکھو آگ کا مساس “ جبکہ مومنین جنات اور نہروں میں ہیں اور عزت کی جگہوں میں ذی اقتدار بادشاہ کے پاس ہیں۔ پورا تقابل ہے دونوں کے درمیان۔
الفاظ کا استعمال بھی دلچسپ ہے۔ جنات ونہر میں ایک تو مفہوم نہایت مکمل ہے کہ باغ اور نہریں جن سے نعمتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
4 مجرمین کے بعد یہ متقین کا انجام بیان فرما دیا کہ وہ اپنی سچائی کی بدولت اللہ و رسول کے سچے وعدوں کے موافق ایک پسندیدہ مقام میں ہوں گے جہاں اس شنہشاہ مطلق کا قرب حاصل ہوگا۔ " اللّٰہُمَّ اِنَّکَ مَلِیْکٌ مَقْتَدِرٌ۔ مَاتَشَآءُ مِنْ اَمْرٍیَّکُونُ فَاسْعِدْنِیْ فِیْ الدَّارَیْنِ وَکُنْ لِّیْ وَلَا تَکُنْ عَلیَّ وَاَتِنِی فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاَخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنِی عَذَاب النَّارِ ۔ " تم سورة القمر وللّٰہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 55 { فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”بہت اعلیٰ راستی کے مقام میں اس بادشاہ کے پاس جو اقتدارِ مطلق کا مالک ہے۔“
ان خوش قسمت لوگوں کے مقام و مرتبہ کا ذکر ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورة یونس کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ ط } آیت 2 ”ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے“۔ یعنی ان لوگوں کو آخرت میں شہنشاہِ ارض و سما کا خصوصی قرب حاصل ہوگا۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین یاربَّ العَالَمین ! !
Read the full tafseer →38 یعنی اللہ ذوالجلال اور قادر مطلق کے ہاں جن پرہیزگاروں کی مجلس ہوگی وہ سب کے سب سچے اور راست باز لوگ ہوں گے۔ انہیں اپنی سچائی کی بدولت اور اللہ اور اس کے رسول کے سچے وعدوں کے مطابق یہ مقام حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
35۔ یہ بشارت مزید ہے کہ جنت میں اور ساری مادی اور روحانی نعمتیں اور لذتیں تو خیر ہوں ہی گی۔ ان سب کے ساتھ دولت قرب بھی حاصل ہوگا۔ (آیت) ” فی مقعد صدق “۔ یعنی اعلی درجہ کے دل پسند وخوشگوار مقام میں۔ فی مکان مرضی (بیضاوی) (آیت) ” عند ملیک مقتدر “۔ دنیا میں تجربہ ہے کہ جو بادشاہ جتنا بڑا اور پر قوت، اتنا ہی اس کا قرب بھی باعث نفع ولذت چہ جائیکہ اس ملک الملوک۔ شہنشاہ اعظم وملیک مقتدر کا قرب ! کلما کان الملک اشد اقتدار کان التقرب منہ اشد التذاذا (کبیر) (آیت) ” عند “۔ قرب الہی سے مراد قرب معنوی ہے نہ کہ قرب مادی۔ والمراد منہ قرب المنزلۃ والشان لاقرب المادۃ والمکان (کبیر) عندیۃ منزلۃ وکرامۃ لامسافۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
وکل شیء فعلوہ فی الزبر (الآیۃ) یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ ان کے کئے ہوئے کالے کرتوت غائب اور مفقود ہوگئے ہیں، نہیں، ہر شخص، ہر گوہ اور ہر قوم کا پورا پورا ریکارڈ محفوظ ہے اور اپنے وقت پر وہ سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر .
’ ایک عمدہ مقام میں قدرت والے بادشاہ کے قرب میں۔ “
مَقْعَدِ صِدْقٍ : یعنی ایسا مقام جہاں نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی ‘ نہ گناہ (سچائی کا مقام) اس سے مراد جنت ہے یا مقعد صدق سے پسندیدہ مقام مراد ہے۔ جوہری نے لکھا ہے جو فعل اعلیٰ ہو ‘ نہ ظاہر میں اس کے اندر کوئی خرابی ہو نہ باطن میں کوئی نقص ‘ ایسے فعل کو صدق کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات میں صِدْق سے یہی معنی مراد ہیں : فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ. لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ. اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ ۔ بغوی نے لکھا ہے امام جعفر صادق نے فرمایا : آیت میں اللہ نے مقام کی صفت صدق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(54۔ 55) کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے جنت کے باغوں اور نہروں میں یا یہ کہ کشادہ باغیچوں میں ہوں گے۔
ایک پاکیزہ سرزمین یعنی سرزمین جنت ایسے بادشاہ کے پاس ہے جو اپنے بندوں کو جزا و سزا دینے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →1۔ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ : یہاں ”مقتدر“ بمعنی ”صادق“ برائے مبالغہ ہے ، جیسے ”عدل“ بمعنی ”عادل“ برائے مبالغہ ہے اور ”مقعد“ موصوف اپنی صفت ”صدق“ (بمعنی صادق) کی طرف مضاف ہے ، جیسے کہا جاتا ہے :”مسجد الجامع“”صدق“ کا اصل معنی خبر کا واقع کے مطابق ہونا ہے۔ ”فلاں شخص صادق ہے“۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو بات کہتا ہے وہ واقع میں اسی طرح ہوتی ہے جیسے اس نے کہا۔ پھر یہ لفظ کسی بھی چیز کی تعریف کے لیے اور اس کے اپنے اوصاف میں کامل ہونے کے لیے بولا جانے لگا۔”فلان رجل صدق“ یعنی وہ رجولیت میں کامل ہے۔ اردو میں کہا جاتا ہے ”فلاں سچ مچ مرد ہے“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَلَقَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ان المتقین فی جنت ونھر۔ جب کفار کی صفت بیان کی تو مومنین کی بھی صفت بیان کی ونھر یعنی پانی، شراب، شہد اور دودھ کی نہریں (1) یہ ابن جریج کا قول ہے۔ اسے واحد ذکر کیا کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے، پھر واحد کا صیغہ کبھی تمام کی خبر دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نھر یعنی وہ روشنی اور وسعت میں ہے۔ اس سے نہار کا لفظ ہے کیونکہ وہ روشن ہوتا ہے اس معنی میں انھرت الجرح میں نے زخم کو کھلا کیا : شاعر نے کہا :
ملکت بھا کفی فانھرت فتقھا (1)
اس کے ساتھ میں نے اپنی ہتھیلی کو قوی کیا اور اس کے سوراخ کو کھلا کیا۔
ابو مجلز، ابونہیک، اعرج، طلحہ بن مصرف اور قتادہ نے ونھر پڑھا گویا یہ نھار کی جمع ہے ان پر رات نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
1:۔ ابن مردویہ (رح) بسند واہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہر سے مراد ہے کھلا میدان اور کشادہ جگہ اس سے جاری نہر مراد نہیں ہے۔
2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فی جنت ونھر '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ نہر سے مراد ہے وسیع اور کھلا میدان پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
ملکت بھا فانھرت فتقھا یری فائم من دونھا ماورای ھا :
ترجمہ : میں اس کا مالک ہو اور میں نے اس کے میدان کو اس قدر وسیع کردیا کہ اب وہاں کھڑا ہونے والا دور سے دکھائی دیتا…
Read the full tafseer →فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ [ سچائی کی بیٹھنے کی جگہ میں ] عِنْدَ مَلِيْكٍ [ ایک ایسے دائمی بادشاہ کے پاس جو ] مُّقْتَدِرٍ [ پوری قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →﴿فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ ﴾ (سچائی کی جگہ میں ہوں گے) ﴿ مَقْعَدِ صِدْقٍ ﴾ جو فرمایا ہے (جس کا ترجمہ عمدہ مقام اور سچائی کی جگہ کیا گیا ہے) حقیقت میں یہ استعارہ ہے۔ لفظ صدق اقوال اور اعمال اور عقائد کی سچائی کے لیے بولا جاتا ہے۔ جو حضرات ان چیزوں میں سچے ہیں انہیں اپنی سچائی کی وجہ سے وہاں بلند مقام ملے گا جہاں بہت زیادہ خوش ہوں گے اس لیے اس کا نام مقعد صدق رکھا گیا ہے۔
ساتھ ہی ﴿عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ (رح) 0055﴾ بھی فرمایا کہ یہ بندے عظیم القدرت بادشاہ کے جوار میں ہوں گے یعنی انکا مرتبہ بلند ہوگا، اللہ تعالیٰ شانہ، مکان اور محل وجہت سے پاک ہے۔ قال صاحب الروح والعندیة للقرب الرتبی۔ (صفحہ 96: ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ٖ 25:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ مقعد صدق وہ مقام جو اھل صدو صفا کیلئے مقرر ہے متقی اور پرہیزگار لوگ قیامت کے دن عظیم الشان باغیوں میں ہوں گے جس میں ہر چیز کی نہریں بہتی ہوں گی یہ مقام جنت ہے جو اہل صدق و صفا کیلئے تیار ہے جہاں عظیم الشان اور جلیل القدر شاہنشاہ کا انہیں قرب بھی نصیب ہوگا۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
سورة والقمر میں آیت توحید : 1 ۔ ” انا کل شیئ خلقناہ بقدر “۔ دلیل بر نفی شرک اعتقادی۔
سورة والقمر ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ 55 ۧ
قعد
القُعُودُ يقابل به القیام، والْقَعْدَةُ للمرّة، والقِعْدَةُ للحال التي يكون عليها الْقَاعِدُ ، والقُعُودُ قد يكون جمع قاعد . قال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] ، والمَقْعَدُ :
مكان القعود، وجمعه : مَقَاعِدُ. قال تعالی: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] أي في مکان هدوّ ، وقوله : مَقاعِدَ لِلْقِتالِ [ آل عمران/ 121] كناية عن المعرکة التي بها المستقرّ ، ويعبّر عن المتکاسل في الشیء بِالْقَاعدِ نحو قوله : لا يَسْتَوِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–55
ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…
Read the full tafseer →فِیْ مَقْعَدِ صَدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ (القمر : 55)
(سچی عزت کی جگہ میں ایک بڑے مقتدر بادشاہ کے پاس۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا اصل اعزاز یہ ہوگا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا اور وہ ایسا شہنشاہ ہے جس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ ملیک میں ملک سے بڑھ کر زور ہے اور مقتدر کی صفت اس زور میں مزید اضافہ کررہی ہے۔ اس میں ایک بہت بڑی غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی عزت و وجاہت کی اصل منزل یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واصل ہوجائے۔ اور یا وہ اللہ تعالیٰ میں ضم ہوجائے۔ لیکن یہاں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوجانے کا تصور ایک ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کا انعام اور مقام ذکر کیا جاتا ہے۔
متقی کی جمع متقین ہے۔ متقی کا معنٰی ہے اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی۔ متقین زمین و آسمان کے مالک اور شہنشاہ مطلق کے پاس نہایت ہی باعزت مقام پر ٹھہرائے جائیں گے۔
” حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے تقویٰ کے متعلق سوال کیا۔ کعب ؓ نے کہا کہ کیا آپ کبھی خار…
Read the full tafseer →آیت 55: فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ (ایک عمدہ مقام میں قدرت والے بادشاہ کے قرب میں۔ ) مقعد صدق : پسندیدہ مکان۔ عند ملیکٍ میں مرتبہ و کرامت والیعندیت مراد ہے۔ مسافت و چھونے کا عِنْدَ نہیں۔ مقتدرِ : قادر۔ اس میں نکرہ لا کر بتلایا کہ کوئی کائنات کی چیز ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ملک وقدرت کے ماتحت ہے۔
Read the full tafseer →54 ۔” ان المتقین فی جنات “ باغوں میں ” ونھر “ یعنی نہریں اور اس کو واحد ذکر کیا ہے آیتوں کے اختتام کی موافقت کی وجہ سے اور پانی، شراب، دودھ، شہد کی جنت کی نہریں مراد ہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یعنی روشنی اور وسعت میں اور اسی سے نہار ہے اور اعرج (رح) نے ” ونھر “ دوضموں کے ساتھ پڑھا ہے نھار کی جمع ہے یعنی ان کی رات نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
49۔ 55۔ مسند 3 ؎ امام احمد اور صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ سے قضاء و قدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں کے دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضاء و قدر کے بھی وہ لوگ جو منکر تھے یہ انکار اور ہے اور صحابہ ؓ کے آخر زمانہ میں بصرہ کے ایک شخص معبد الجہنی کے سبب سے اہل قبلہ میں ایک اختلاف قضاء و قدر کے مسائل…
Read the full tafseer →(فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ ) حقیقی عزت کی جگہ ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں۔ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت تکریم اور جودوکرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بےپایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلاجائے گا اللہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیون سے محروم نہ کرے جو اس کے سایہ رحمت میں ہیں۔ (آمین) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →[ 58] پرہیزگاروں کے لیے عزت کے مقام کی خوشخبری :
سو اس سے پرہیزگاروں کے لیے مقعد صدق سے سرفرازی کا مژدہ جانفرا سنایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مقعد صدق یعنی سچی عزت کے مقام میں ہوں گے۔ جس کی عزت دنیاوی عزت کی طرح نہ تو ناقص اور طاہری عزت ہوگی، اور نہ ہی عارضی وفانی، بلکہ وہ عزت حقیقی اور دائمی عزت ہوگی، اور خداوند قدوس کے انعام و احسان سے ان حضرات کو نصیب ہوگی جنہوں نے اپنی دنیاوی زندگی اپنے خالق ومالک کی مرضیات کے مطابق گزاری ہوگی، اور اس کی رضا کے حسول کیلئے انہوں نے آپ کو دنیاوی لذتوں سے محروم کرکے تکلیفوں اور مشقتوں میں ڈالا ہوگا، اور اپنے خالق ومالک کی ہدایات کے مطابق اپنے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
نیک لوگوں کا انعام
تشریح : اللہ سبحانہ تعالیٰ بےحد انصاف کرنے والا رحمن و رحیم ہے وہ کسی شخص کو بھی قصور کے بغیر بدلہ نہیں دے گا۔ اگر گناہگاروں کو دوزخ کا عذاب ملے گا تو نیکو کاروں کو جنت ملے گی۔ جس میں ہر طرح کی تمام نعمتیں برکتیں اور آسائشیں موجود ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ اسی لیے سبحانہ تعالیٰ بار بار یاددہانی کرواتے ہیں۔ ایک جگہ فرمایا۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا یہی لوگ فاسق ہیں دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے جنت میں جانے والے ہی اصل کامیاب ہیں۔ (سورۃ الحشر آیات 20-19)
خلاصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ف 1 حضرت عبید اللہ بن ابی عمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصاف کرنے والے لوگ رحمان کے دائیں ہاتھ نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ یہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں اور اپنی رعیت کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(54:55) فی مقعد صدق مضاف مضاف الیہ۔ موصوف (مقعد) کی اضافت صفت (صدق) کی طرف۔
مقعد اسم ظرف مکان، قعود (باب نصر) مصدر سے۔ بیٹھنے کی جگہ۔
صدق۔ سچائی۔ راستی، نام نیک، ثناء سچی بات۔ صدق یصدق (باب نصر) کا مصدر ہے۔ اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اس لئے مجازا۔ نام نیک اور ذکر خیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
علامہ پانی پتی (رح) تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں :۔ مقعد صدق۔ یعنی ایسا مقام جہاں نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی اور نہ گناہ۔ (سچائی کا مقام) اس سے مراد جنت ہے۔
ظاہر میں کوئی برائی ہو نہ باطن میں کوئی نقص “۔ ایسے فعل کو صدق کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
مسئلہ تقدیر اور قدرت کی نشانیاں۔
(ف 2) شان نزول : مسند امام احمد اور صحیح مسلم، ترمزی، وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش لوگ نبی ﷺ سے قضا وقدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور نبی ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضا وقدر کے بھی وہ لوگ منکر تھے صحابہ اور تابعین کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ نیک وبد دنیا میں ہونے والا تھا اس سب کو اپنے علم ازلی کے موافق لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
قضاوقدر کیا ہے ۔ !
1: صدیوں سے مسئلہ متکلمین کے نزدیک مابہ التراع رہا ہے ۔ کہ تضادوقدر کا مفہوم کیا ہے ۔ کیا اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام افعال کو خود پیدا کرتا ہے ۔ یا بندے اپنے اعمال میں آزاد اور خود مختار ہیں ۔ اس باب میں اول شرعی احتساب اور باز پرس کی حدود سمجھ لیجئے ۔ اگر یہ فیصل شدہ ہے ۔ کہ سب کچھ پہلے سے مقدر ہوچکا ہے ۔ اور حرکت اور جنبش فکر پہلے سے متعین اور مقرر ہے ۔ تو پھر گناہ اور معصیت کسے کہتے ہیں ۔ اور اگر ہم بالکل آزاد اور خودمختار ہیں ۔ تو اس قضا وقدر کے مسئلہ کی حیثیت کیا ہے ۔ جواب یہ ہے ۔ کہ قرآن کے نقطہ نگاہ سے انسان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کو بوجہ اس کے علیم ہونے کے معلوم…
Read the full tafseer →(55) انہیں ایک عمدہ پسندیدہ مقام میں ایسے بادشاہ کا تقرب حاصل ہوگا جو بڑا صاحب قدرت ہے اور جس کا سب پر قبضہ ہے۔ یعنی یہ لوگ ایک سچی بیٹھک میں بیٹھے ہوں گے جس کو مقام صدق کہتے ہیں وہاں بادشاہ مقتدر کا قرب حاصل ہوگا جس کو مقام عندیت بھی کہتے ہیں۔
اس لئے فرمایا عندملیک مقتدر یعنی عمدہ مقام میں بادشاہ مقتدر کے پاس سبحان اللہ اس مقام کی بلندی اور برتری کا کیا کہنا ہے کچھ سورة یونس میں ہم ذکر کرچکے ہیں یہ مقام قربت اور مقام تقرب وحدت ہے۔
اللھم انک ملیک مقتدر فارزقنی مقاما یکون عندک بجاء سیدالمرسلین ﷺ۔
تم تفسیر سورة القمر
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی جنت کے ساتھ قرب بھی ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ ایک اعلیٰ مقام میں صاحب اقتدار بادشاہ کے قریب ہوں گے
55 ؎ (ملیک) صیغہ صفت برائے مبالغہ مادہ م ل ک بہت بڑا بادشاہ۔ (مقتدر) اسم فاعل واحد مذکر مجرور (اقتدار) مصدر باب اقتال ہر طرح کی قدرت والا اور دونوں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی صفتیں ہیں۔ (مقعد) ظرف مکان کا مفرد مقاعد جمع قعدۃ اور قعود مصدر بیٹھنے کی جگہ۔ (صدق) راستی ‘ سچائی ‘ نیک نام ‘ ثناء ‘ سچی بات (صدق) یصدق کا مصدر ہے اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اسلئے مجازاً نام نیک ‘ ثنا اور ذکر خیر کے معنی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
(صدق) اور (کذب) اصل میں تو یہ دونوں قول ہیں خواء وہ ماضی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (Verily, We have created everything according to [ Our ] predestination...54:49). In the prepositional phrase bi-qadar, the word qadar literally denotes to 'measure' and to create something with a proper measure and proportion. It is possible for this literal sense of the word to apply in the current verse: Allah is the Supreme Sage Who created every species of the existent entity wisely with proper measurement - whether big or small, and in different shapes and sizes. Having created, He maintains the structure of every individual in a very wise…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
28 That is, 'These people should not be under the delusion that whatever they did in the world has become extinct; nay, they should know that full record of the deeds of every person, every group and every nation, lies preserved and it will be presented before them at the appropriate time."
Read the full tafseer →