Ar-Rahmaan 55:1

55. Ar-Rahmaanالرحمن

The Beneficent · Medinan · 78 ayahs · 3 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

55:1

اَلرَّحْمٰنُ ۟ۙاَلرَّحۡمٰنُۙ

(خدا جو) نہایت مہربان

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Most Merciful

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:1

(خدا جو) نہایت مہربان

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس بےحد رحم والے نے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(خدائے) رحمان نے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ جو نہایت مہربان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The RaHman (The All-Merciful Allah)

— Muhammad Taqi Usmani

The RaHman (The All-Merciful Allah)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Most Merciful

— Saheeh International

The Beneficent (God)

— Muhammad Sarwar

The Beneficent Allah,

— Muhammad Habib Shakir

The Compassionate.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 55:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط سورت اور جملہ فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا کے تکرار کی حکمت اس سے پہلی سورت القمر میں زیادہ تر مضامین سرکش قوموں پر عذاب الٰہی آنے کے متعلق تھے اسی لئے ہر ایک عذاب کے بعد لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک خاص جملہ بار بار استعمال فرمایا ہے، یعنی فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ، اور اس کے متصل ایمان و اطاعت کی ترغیب کے لئے دوسرا جملہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ بار بار لایا گیا ہے۔ سورة الرحمن میں اس کے مقابل بیشتر مضامین حق تعالیٰ کی دنیوی اور اخروی نعمتوں کے بیان میں ہیں اسی لئے جب کسی خاص نعمت کا ذکر فرمایا تو ایک جملہ لوگوں کو متنبہ کرنے اور شکر نعمت کی ترغیب دینے کے لئے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے)۔ (الرحمن علم القرآن) (1۔ 2)۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن کریم جیسی رحمت و برکت نازل فرمائی۔ وہ چاہتا تو تمہاری طلب کے مطابق تم پر عذاب بھیج سکتا تھا، لیکن اس نے غایت رحمت کے سبب سے تم کو اپنے صحیفہ رحمت سے نوازا کہ تم اس کو پڑھو، سمجھو اور اس کی روشنی میں اپنی عقلی و عملی کج رویوں کی اصلاح کر کے اس دنیا میں بھی پھلو پھولو اور آخرت میں بھی فلاح پائو۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے رب رحمان نے تمہیں اپنی رحمت سے نوازا تو تم رحمت کی جگہ اس کی نعمت کے طالب کیوں بنتے ہو !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے جواب میں ہے جو کہتے رہتے یہ قرآن محمد کو کوئی انسان سکھاتا ہے بعض کہتے ہیں ان کے اس قول کے جواب میں ہے کہ رحمٰن کیا ہے ؟ قرآن سکھانے کا مطلب ہے، اسے آسان کردیا، یا اللہ نے اپنے پیغمبر کو سکھایا اور پیغمبر نے امت کو سکھلایا۔ اس سورت میں اللہ نے اپنی بہت سی نعمتیں گنوائی ہیں۔ چونکہ تعلیم قرآن ان میں قدر ومنزلت اور اہمیت و افادیت کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہے، اس لیے پہلے اسی نعمت کا ذکر فرمایا۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے نام رحمن کو نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ سورة فرقان (25۔ 60) میں گزرا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رحمن کے نام سے ان لوگوں کو چڑ تھی، وہ اس لئے کہ اگر ہر طرح کی رحمت اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص مان لی جائے تو پھر ان من گھڑت خداؤں کے حصے میں کچھ نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کو رحمن مان لینے سے خود بخود ان کے شرک کی نفی ہوجاتی ہے، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رحمن اسی اللہ تعالیٰ کا نام جس کی رحمتوں سے یہ ساری کائنات بھری ہوئی ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں رزق، اولاد یا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

رحمان کے انعامات کے بیان میں یہ پہلا پیرگراف ہے اور اس اعلان عام کی یہ پہلی خبر ہے اور پہلی نعمت : علم القرآن (اس نے قرآن کی تعلیم دی) اور قرآن کی تعلیم کی شکل میں اللہ نے اپنے بندوں پر عظیم رحمت فرمائی۔ قرآن جو نوایس فطرت کا ترجمان ہے۔ یہ اہل زمین کے لئے آسمان کا منہاج ہے اور یہ منہاج اہالیان زمین کو ناموں فطرت سے ملاتا ہے اور یہ ان کے عقائد ، ان کے تصورات ، ان کے پیمانوں ، ان کی قدروں ، ان کے اداروں ، ان کے حالات کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ انہی بنیادوں پر جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے ، یہ دستور ان کی سہولتیں اطمینان اور ناموس فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

5 جو اس کے عطایا میں سب سے بڑا عطیہ اور اس کی نعمتوں میں سب سے اونچی نعمت و رحمت ہے، انسان کی بساط اور اس کے ظرف پر خیال کرو اور علم قرآن کے اس دریائے ناپید اکنار کو دیکھو، بلاشبہ ایسی ضعیف البنیان ہستی کو آسمانوں اور پہاڑوں سے زیادہ بھاری چیز کا حامل بنادینا رحمان ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ ورنہ کہاں بشر اور کہاں خدا کا کلام۔ (تنبیہ) سورة " النجم " میں فرمایا تھا۔ " علمہ شدید القویٰ الخ " یہاں کھول دیا کہ قرآن کا اصلی معلم اللہ ہے گو فرشتہ کے توسط سے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 یعنی یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی کا نتیجہ ہے کہ اس نے آپ کو قرآن جیسی عظیم الشان اور بلند پایہ کتاب سکھا دی جو پوری نوع انسانی کی ہدایت کا ذریعہ ہے اور اسی کی ہدایت پر عمل کرنے سے انسان کی دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو قرآن سکھایا ہے کسی اور نے نہیں سکھایا جیسا کہ کفار مکہ کا قرآن کے متعلق ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اسے کوئی عجمی سکھاتا ہے۔ پھر یہ شخص اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے ہمیں سنا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ اور قرآن چونکہ سرتاسر رحمت اور فلاح دنیوی واخروی دونوں کے لئے بہترین ہدایت نامہ اور جامع ترین دستورالعمل ہے اس لئے اس کا نزول اور انسان کو اس کی تعلیم بھی شان رحمانیت کا سب سے بڑا مظہر ہے اور اسی مناسبت سے سورت کی ابتداء اسی کے ذکر سے ہو رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، رحمٰن نے جس کو چاہا قرآن سکھلایا انسان یعنی جنس انسان کو پیدا فرمایا اس کو گفتگو کرنا سکھلایا سورج اور چاند مقررہ حساب سے چلتے ہیں اور بلیں یعنی وہ گھاس جس کا تنا نہ ہو اور شجر یعنی تنے دار درخت، جو ان سے مطلوب ہے اس کے تابع ہیں، اور اسی نے آسمان کو بلند وبالا کیا اور میزان رکھ دی یعنی انصاف قائم کیا تاکہ تم لوگ تول میں تجاوز نہ کرو اور تاکہ انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو یعنی وزن میں کمی نہ کرو اور مخلوق یعنی جن و انس وغیرہ کے لئے زمین بچھا دی جس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جو معلوم ہیں جن کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–3

(1۔ 3) کہ رحمن نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم اور بذریعہ حضور آپ کی امت کو قرآن کریم کی تعلیم دی، یعنی جبریل امین کے ذریعے سے رسول اکرم پر قرآن کریم نازل کیا اور آپ کو قرآن حکیم دے کر آپ کی امت کی طرف مبعوث فرمایا اور اسی نے انسان یعنی آدم کو پیدا کیا اور پھر ان کو گویائی دی اور تمام ان چیزوں کے جو کہ روئے زمین پر ہیں نام سکھائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

1۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ : اس سورت کا آغاز اللہ کے مبارک نام ”الرحمن“ کے ساتھ ہوا ہے اور پوری سورت اس کی بےحد و بےحساب رحمت کی تفصیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر نعمت کا ذکر کر کے بار بار اپنا احسان یاد دلایا ہے۔ ان نعمتوں میں وہ نعمتیں بھی ہیں جو دنیا میں تمام لوگوں پر کی گئی ہیں اور وہ بھی جو صرف ایمان والوں پر ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی نعمت دین کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے، کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اسی پر موقوف ہے اور دین کا مدار قرآن مجید پر ہے ، اس لیے فرمایا (اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ)”اس بےحد رحم والے نے یہ قرآن سکھایا۔“ 2۔”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

الرحمٰن۔ علم القرآن۔ سعید بن جبیر اور عامر شعبی نے کہا، الرحمٰن تین سورتوں کا آغاز ہے جب سب کو جمع کیا جائے تو وہ مل کر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام بن جاتا ہے الر، حم اور ن۔ ان تینوں کا مجموعہ الرحمٰن بنتا ہے۔ علم القرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قرآن کی تعلیم دی یاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے تمام انسانوں تک پہنچایا۔ یہ اس وقت آیات نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ کہا : الرحمٰن ؟ رحمٰن کیا ہوتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کے جواب میں نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ ہاک تھا : اسے ایک انسان سکھاتا ہے وہ یمامہ کا رحمان ہے۔ وہ اس سے مسلیمہ کذاب مراد لیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ 5:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے سند حسن کے ساتھ اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا اور آپ رکن کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور مشریکن سن رہے تھے اور جب آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس کا کھلم کھلا اعلان کریں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

رحمٰن نے قرآن کی تعلیم دی، انسان کو بیان سکھایا، چاندوسورج، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اس نے انصاف کا حکم دیا غذائیں پیدا فرمائیں، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے یہاں سے سورة الرحمٰن شروع ہو رہی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیاوی اور اخروی نعمتیں اور مظاہر قدرت اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں اس میں اکتیس بار ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ آیا ہے اس آیت کے تکرار سے ایک بہت بڑا لفظی اور معنوی حسن پیدا ہوگیا ہے۔ فضائل قرآن : مذکورہ بالا آیات میں چند نعمتوں کا تذکرہ فرمایا جو ایمانی، روحانی اور جسمانی غذاؤں پر مشتمل ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ رحمن جل مجدہ نے قرآن سکھایا۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” الرحمٰن۔ تا۔ والریحان “ اللہ کی وحدانیت کا بیان ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور یہ ساری نعمتیں عطاء کیں وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہے۔ ایسی رحمت عامہ جس میں مومن و کافر اور دشمن و دوست کے درمیان کوئی امتیاز نہ ہو چناچہ الرحمن کے بعد جن انعامات کا ذکر ہے وہ سب کیلئے مشترک ہیں اور ان کے ذکر میں ایک خاص ترتیب ملحوظ ہے۔ تمام علویات و سفلیات کا خالق ومالک وہی ہے اور یہ سارے انعامات بھی اسی کی طرف سے ہیں اس لیے دونوں کو ساتھ ساتھ یکے بعد دیگرے ذکر فرمایا۔ ” الرحمن، علم القران “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس بادشاہ نے جو بڑا ہی مہربان ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلرَّحْمٰنُ۝ 1 ۙ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

اَلرَّحْمٰنُ ۔ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ (الرحمن : 1، 2) (رحمن نے۔ قرآن کی تعلیم دی ہے۔ ) نزولِ قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے اس سورة کا پہلا لفظ الرحمن ہے جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کا تعارف بھی ہے اور بعض اعتراضات کا جواب بھی۔ تعارف ان معنوں میں کہ انسان ایک مخلوق ہے اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس کا خالق ہے۔ اس مخلوق کی جسمانی ضروریات ہیں، ان ضروریات کی فراہمی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع دسترخوانِ ربوبیت پھیلا رکھا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا رب ہے۔ لیکن یہ تعارف جس طرح انسان کے لیے کافی ہے اسی طرح حیوانات اور دیگر مخلوقات کے لیے بھی کافی ہے۔ کیونکہ تمام مخلوقات اسی نے تخلیق فرمائی ہیں اور وہی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : جنتیوں کا جنت میں اعلیٰ مقام پانا رب رحمن کے رحم کا نتیجہ ہوگا کیونکہ اس کی مہربانی کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ سورة القمر کے بعد سورة الرّحمان کو اس لیے یہاں رکھا گیا کیونکہ اس کی ابتدا ہی الرّحمن کے عظیم اور شفیق نام سے ہوتی ہے۔ الرحمن کی مہربانی کے بغیر انسان کوئی اچھا کام سرانجام نہیں دے سکتا اور نہ ہی جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔ ذات کبریا کے ذاتی نام ” اللہ “ کے بعد صفاتی اسمائے گرامی میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے نام الرحمن اور الرحیم ہیں۔ قرآن مجید میں یہی نام سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کے ارشاد کے مطابق ” اللہ “ کی رحمت اس قدر وسیع و عریض ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–3

1 : الرَّحْمٰنُ ۔ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ انسان سے یہاں جنس انسان مراد ہے۔ نمبر 2۔ آدم (علیہ السلام) نمبر 3۔ محمد ﷺ

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس سورة کریمہ کا افتتاح اللہ کے اسم مبارک (الرحمن) سے ہوا ہے جو اس کی بےپایاں رحمت عمومی احسان، بیشمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے پھرا للہ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور اس کے آثار یعنی دینی دنیاوی اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں جن کو اللہ نے اپنے بندوں تک پہنچایا ہے اپن نعمتوں کی ہرجنس اور نوح کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں یعنی جن وانس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اسکا شکر ادا کریں چناچہ فرماتا ہے (فبای الآء ربکما تکذبن) ۔ پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 1] خدائے رحمن اور اس کی شان رحمت کا ذکر وبیان : سو وہ خدائے رحمان ایسی بےپایاں رحمتوں والا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کی رحمتوں سے بھری ہوئی ہے اور اس کائنات کے مخدوم حضرت انسان کا وجود سرتاپا اس کی رحمتوں، اور عنایتوں میں ڈوبا ہوا ہے، اور وہ ایسا مہربان ہے۔ جس کی رحمتوں کا کوئی کنارہ نہیں، اور جس نے اپنی اسی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق قرآن حکیم جیسی اس نعمت کبریٰ سے انسانیت کو سرفراز فرمایا اور جس نے انسان کو طرح طرح کی ان دوسری عظیم الشان نعمتوں سے نوازا جن کا ذکر اس سورة کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے، چونکہ اس سورة ٗ کریمہ میں اللہ پاک نے اپنی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، اس لئے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:1) الرحمن : رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت رحمت کرنے والا بڑا بخشش کرنے والا۔ بڑا مہربان (نیز سورة الفاتحہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی تشریح میں ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

(ف 1) شان نزول : جب سردار دوعالم نے خدا رحمن کا ذکر فرمایا تو کافر بولے کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة رحمن نازل فرمائی اور فرمایا کہ رحمن جس کا تم انکار کرتے ہو وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا، اور ایک قول یہ ہے کہ اہل مکہ نے جب کہا کہ محمد ﷺ کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید اپنے محبوب کو سکھایا۔ (خازن) ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة الرحمن 1: جیسا کہ سورة کے نام ظے ظاہر ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے فیوض رحمت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اور انسانی ذہن وفکر کو متوجہ کیا ہے ۔ کہ اللہ کے بوقلمون انعامات پر نظر رکھے ۔ اور اس کی شان رحمانیت کو سارے عالم میں جلوہ دیکھے ۔ فرمایا : کہ اس فیوض میں سے سب سے بڑا فیض قرآن ہے ۔ جس کی روشنی اور برکات سے کائنات عقل وخرد میں توازن قائم ہے ۔ اس نے جب انسان کو پیدا کیا ۔ اور اس کو قوت گویائی سے بہرہ مند کیا ۔ تو مقصد یہی تھا ۔ کہ یہ اللہ کے پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچائے ۔ اس اعلیٰ فیض سے سارے عالم کو مشرف کرلے ۔ اور بیان اظہار کی قوتوں کو اس کی تفصیلات کی اشاعت کے لئے وقف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 4۔ یعنی قرآن نازل کیا تاکہ اس کے بندے اس سے اس پر ایمان لاکر اس کا علم حاصل کر کے اس پر عمل کر کے منتفع ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رحمٰن کیا ہے ؟ اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہی تو ہے 1۔ (رحمن) اللہ تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں میں سے جو کسی دوسرے شخص وفرد کے لیے نہیں بولے جاتے بلکہ جس طرح اللہ کا ذاتی نام صرف اور صرف رب کریم کیلئے مخصوص ہے اسی طرح (الرحمن) بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ ہم سورة الفرقان کی آیت 60 میں اس بات کی بحث کر آئے ہیں کہ مشرکین مکہ (الرحمن) کے نام سے الرجک (Allergic) تھے اور جب ان کو کہا گیا کہ (الرحمن) کے لیے سجدہ کرو تو وہ نفرت سے بول اٹھے کہ تعجب ہے تجھ پر کہ اب یہ (الرحمن) تو نے کہاں سے نکال لیا ہے جس کو ہم سجدہ کریں ؟ کیا جس کا نام لے کر تو ہم کو سجدہ کا حکم دے ہم اسی کو سجدہ شروع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Linkage of the Surah and the Wisdom of Repeating the words, 'Which of the bounties of your Lord will you deny?' The preceding Surah Al-Qamar was mainly concerned with some of the rebellious nations of antiquity who were punished for rejecting the Divine Message. The description of every punishment was followed by the sentence: فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ (Then how was My torment and My warnings? ...54:16). This sentence was repeated many times in order to warn people against similar Divine punishment. Another verse that was repeated as a refrain at telling intervals is وَلَقَدْ…

Read the full tafseer →