Explained with ayahs 23–32
فریب نظر کے شکار لوگ
ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْقَمَر 20
ان الفاظ سے خود بخود یہ صورت حال مترشح ہوتی ہے کہ وہ اونٹنی ایک مدت تک ان کی بستیوں میں دندناتی پھری۔ اس کی باری کے دن کسی کو پانی پر آنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ آخر کار اپنی قوم کے ایک من چلے سردار کو انہوں پکارا کہ تو بڑا جری اور بےباک آدمی ہے۔ بات بات پر آستینیں چڑھا کر مارنے اور مرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، ذرا ہمت کر کے اس اونٹنی کا قصہ بھی پاک کر دکھا۔ ان کے بڑھاوے چڑھاوے دینے پر اس نے یہ مہم سر کرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ اس اونٹنی سے سخت مرعوب تھے، ان کا یہ احساس تھا کہ اس کی پشت پر کوئی غیر معمولی طاقت ہے، اس پر ہاتھ ڈالتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →فنا دواصا حبھم قتعا طی فعقر (29) قوم کے لوگ بھلا اس پابندی کو کب گوارا کرنے والے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ محض حضرت صالح کی دھونس ہے۔ چناچہ اپنے سردار سے انہوں نے فریاد کی۔ وہ بدبخت لپکا اور اونٹنی کی کونچیں اس نے کاٹ دیں۔ تعامل کے معنی پنجوں پر کھڑے ہو کر کسی کام کے لئے اقدام کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنے زعم میں اس نے بڑی بسالت دکھائی اور اپنی قوم کے لئے ایک نہایت جرأت مندانہ قدم اٹھایا لیکن اس کی یہ جسارت پوری قوم کو لے ڈوبی۔
لفظ عقر اونٹ کی کونچیں کاٹ دینے کے لئے آتا ہے۔ کونچیں کاٹ دینے کے بعد اونٹ یا اونٹنی کا زندہ رہنا ممکن ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 1 یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتا ہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔
29۔ 2 یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کردیا۔ بعض نے فَتَعَاطَیٰ کے معنی فَجَسَرَ کئے ہیں، پس اس نے جسارت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔
Read the full tafseer →فنادواصاحبھم ........ فعقر (45: 92) ” آخر کار انہوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ “ اور یہ شخص ان مفسدین میں سے ایک تھا جو اس شہر میں فساد کی جڑ تھے۔ سورت نحل میں ان کے بارے میں آیا ہے۔
وکان ........ یصلحون (72 : 8 4) ” اور شہر میں نوجھتے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔ “ اور سورت شمس میں کہا گیا۔
اذانبعث اشقھا (19 : 21) ” جب ان میں ایک بدبخت اٹھا “
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے شراب پی لی تاکہ وہ اس کام کو بےباکی سے کرسکے اور اس ناقہ کو قتل کردے جو اللہ نے بطور نشانی بھیجی تھی اور رسول اللہ نے ان کو…
Read the full tafseer →10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ایک بدکار عورت تھی اس کے مویشی بہت تھے اپنے ایک آشنا کو اکسادیا۔ اس نے اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔
Read the full tafseer →آیت 29 { فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ۔ } ”تو انہوں نے پکارا اپنے ایک ساتھی کو ‘ پس اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔“
انہوں نے اس اونٹنی سے جان چھڑانے کے لیے اپنی قوم کے ایک ایسے شخص کو تیار کیا جو ان میں سب سے زیادہ سخت دل تھا۔ اس بدبخت نے ناقۃ اللہ پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
23 قوم کا ناقۃ اللہ کو زخمی کردینا :۔ اس اونٹنی کا احترام قوم کے لیے وبال جان بن گیا کیونکہ ان کے اپنے جانوروں کو ایک دن چھوڑ کر کھانے کو چارہ اور پینے کو پانی ملتا تھا۔ مگر وہ اسے ہاتھ لگانے سے ڈرتے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ صالح (علیہ السلام) اگرچہ اکیلے ہیں اور صرف چند کمزور سے آدمی ان کے ساتھ ہیں تاہم کوئی غیبی طاقت ان کی پشت پر موجود ہے لیکن وہ زیادہ دیر صبر نہ کرسکے اور اندر ہی اندر اس اونٹنی کو مار دینے کے مشورے ہوتے رہے۔ با لآخر ایک بدکار عورت نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کر ہی لیا کہ وہ اس اونٹنی کو ہلاک کردے۔ یہ قوم کا ایک کڑیل مضبوط نوجوان مگر اخلاقی لحاظ سے سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
22۔ یعنی جیسے مواشی وغیرہ سے حفاظت کے لئے کھیت کے گرد کانٹوں کی باڑلگا دیتے ہیں اور چند روز بعد وہ سب چورا چورا ہوجاتی ہے، بس اسی طرح پر وہ پر قوت وپر عظمت قوم ہلاک وبرباد ہو کر رہی۔ تشبیہ خا ص عربوں کے مذاق کی ہے جسے وہ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
بل ھو کذاب اشر اشر ایسے برخود غلط اور خود پسند شخص کو کہتے ہیں جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سود اسمایا ہوا ہو اور اس بناء پر ڈینگیں مارتا ہو، مطل یہ ہے کہ جب نہ تو یہ مافوق البشر قوتوں کا مالک ہے اور نہ یہ جتھا بند شخص ہے کہ اس کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو اور نہ ہی یہ اوپر سے نازل کیا ہوا یا باہر سے آیا ہوا شخص ہے کہ اس کی کچھ اہمیت ہو، تو ایسی صورت میں اس کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے دو ہی مقصد ہوسکتے ہیں یا تو یہ پر لے درجہ کا جھوٹا شخص ہے یا پھر ہم پر اپنی بڑائی جتانا اور ہمارے مقابلہ میں شیخی بگھارنا مقصد ہے لہٰذا ہم ایسے کذاب اور شیخی خورے کی ہرگز پیروی نہ کریں گے۔
حضرت صالح (علیہ…
Read the full tafseer →فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقر
سو انہوں نے اپنے رفیق کو بلایا ‘ اس نے اونٹنی پر وار کیا۔
َنَادَوْا : پس قوم ثمود نے پکارا۔
صَاحِبَھُمْ : یعنی قذار بن سالف کو۔
فَتَعَاطٰی : پس قذار نے تلوار لے کر اونٹنی کو آلیا اور اس کو قتل کردیا۔ آئندہ آیات میں عذاب کی تفصیل بیان کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(28۔ 29) اور ان کو یہ بتا دینا کہ کنوئیں کا پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے کہ ایک دن تمہارے مویشی کا ہے اور ایک دن اونٹنی کا ہر کوئی اپنی باری پر حاضر ہوا کرے، چناچہ صالح نے ان کو اس چیز کی اطلاع کردی اور وہ اس پر راضی ہوگئے۔
کچھ عرصہ تک اس پر کار بند رہے پھر ان پر بدبختی کا غلبہ ہوا اور انہوں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا اور مصدق بن دہر نے اونٹنی کے تیر مار دیا مصدع نے قدار بن سالف کو پکارا سو قدار نے اونٹنی کے دوہرا تیر مارا اور اس کو قتل کردیا اور اس کا گوشت آپس میں تقسیم کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
”فتاطعی“ ”عطا یطعو عطوا“ (ن) ”الشی“ کسی چیز کو پکڑنا۔ ”تعاطی الشی“ کسی چیز کو پکڑنا اور ”تغاطی الامر“ کسی کام کا ذمہ اٹھانا۔ ایک مدت تک یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا۔ صالح ؑ نے انہیں تنبیہ کی تھی کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا ، ورنہ تم پر عذاب آجائے گا۔ ایمان نہ لانے کے باوجود دل سے وہ انہیں سچا جانتے تھے ، اس لیے وہ اونٹنی کو نقصان پہنچانے سے خالف تھے ، لیکن آخر کار صبر نہ کرسکے اور انہوں نے اس کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے ایک سردار کو ابھارا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا سب سے شقی آدمی قرار دیا ہے ، فرمایا (اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـہَا) (الشمس : 21)”جب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فنادوا صاحبھم انہوں نے اپنے ساتھی کو بلایا تاکہ اسے اس کی کونچیں کاٹنے پر برانگیختہ کریں۔ قتعاطی اس نے اس کی کونچیں کاٹنے کی ذمہ داری قبول کرلی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ تعاطی کا معنی ہے اس فعل کو اپنے ذمہ میں لے لیا۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے عطوت یعنی میں نے اسے لے لیا۔
محمد بن اسحاق نے کہا، وہ اس اونٹنی کے لئے اس کے راستے میں ایک درخت کی جڑ میں چھپ گیا اور اسے تیر مارا اورس تیر کے ساتھ اس کی پنڈلی کے پٹھے کو چھید دیا پھر تلوار سے اس پر حملہ کیا اور اس کی کونچ کو ظاہر کردیا وہ اونٹنی گری اور ایک ہی دفعہ بلبلائی اس کا نوزائدہ بچہ اس کے بطن سے گرگیا پھر اس نے اس کی گردن کو کاٹ دیا۔ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' (ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے یعنی بدبختی ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' سے مراد ہے کہ پھر تو ہم مگر اپنی مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔
3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وسعر ' ' یعنی گمراہی (آیت ) '' کل شرب محتضر '' (یہ ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا) یعنی وہ لوگ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی اور جب وہ آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لئے حاضر ہوں (آیت ) ''…
Read the full tafseer →فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ [ پھر ان لوگوں نے پکارا اپنے ساتھی کو ] فَتَعَاطٰى [ تو اس نے ہاتھ بڑھایا (ہتھیار لینے کو )] فَعَقَرَ [ پھر اس نے ٹانگیں کاٹ دیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
﴿وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ 1ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ0028 ﴾ (اور انہیں بتا دیجئے کہ بیشک پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوا کرے) ۔ یہ لوگ اس اونٹنی سے تنگ آگئے اس کا اپنے نمبر پر پانی پیناناگوار ہوا لہٰذا آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو قتل کردیا جائے ان میں سے ایک آدمی قتل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ لوگوں نے اسے پکارا اس نے ہاتھ میں تلوار لی اور اونٹنی کو مار ڈالا پہلے سے ان کو بتادیا گیا تھا کہ اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ لگاؤ تو تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا، جب اسے قتل کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بتادیا۔ ﴿تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
14:۔ ” انا مرسلوا الناقۃ “ ہم اونٹنی کو ان کے ابتلاء و امتحان کے لیے بھیجنے والے ہیں، آپ انتظار کریں اور ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اور دیکھیں وہ اونٹنی سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ ” ونبئہم ان الماء۔ الایۃ “ ، ” شرب “ پانی کا حصہ یا پانی پینے کی باری۔ اور آپ ان کو مطلع کردیں کہ کنوئیں کے پانی پر اب باری مقرر ہوگی اور ہر فریق اپنی نوبت میں حاضر ہو کر پانی حاصل کرے گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیے گی اور اس کی باری کے دن تم لوگ اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاؤ گے اور تمہاری نوبت کے دن میں اونٹنی پانی نہیں پیے گی۔ ” فنادوا صاحبہم۔ الایۃ “ لیکن زیادہ عرصہ تک وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور اونٹنی کو قتل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
[ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔
تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی…
Read the full tafseer →فَنَادَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ۔ (القمر : 29)
(پس انھوں نے اپنے آدمی کو پکارا، پس وہ بڑھا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ )
اونٹنی کے سلسلے میں وہ جس آزمائش میں ڈالے گئے تھے یعنی ان کے لیے پانی تقسیم کردیا گیا تھا اور اس ناقہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فتنہ بنایا گیا تھا تاکہ انھیں آزمایا جائے کہ وہ اس کے حقوق ادا کرتے ہیں یا نہیں، لیکن وہ اس میں پورا نہ اترے۔ ایک عرصے تک تو اونٹنی ان کے درمیان دندناتی پھری اور یہ سمجھ کہ اس کی پشت پر کسی عظیم قوت کا ہاتھ ہے وہ اس سے تعرض نہ کرسکے۔ آخر اپنے میں سے ایک ایسے آدمی کو جو ان میں سب سے زیادہ شقی اور لڑاکا تھا اسے تیار کیا کہ وہ اونٹنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔
قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔
قوم…
Read the full tafseer →قدار بن سالف :
آیت 29: فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ (انہوں نے اپنے رفیق کو بلایا۔ ) صاحبہم۔ قدار بن سالف ثمود کا چھوٹو سر خا۔ فَتَعَاطٰی (پس اس
نے اوٹنی پر وار کیا۔ ) یعنی عظیم جرم کے ارتکاب کی جرأت کی اور اسکی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَعَقَرَ (پس اسکی کونچیں کاٹ دیں) ۔ یعنی اونٹنی کی۔ نمبر 2۔ اس نے تلوار لے کر اونٹنی کو آلیا اور قتل کردیا۔ نمبر 3۔ اس نے تلوار کو لیا۔ دوسرے مقام پر فرمایا فعقروا الناقۃ۔
] الاعراف 77[
ایک نکتہ :
گویا اس آیت میں مفرد لائے اور دوسری آیت میں جمع لائے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس قتل پر سب راضی تھے اس لئے سب گویا شریک تھے۔ نمبر 2۔ تمام اونٹنی کے قتل میں اس کے معاون تھے۔ تلوار…
Read the full tafseer →28 ۔” ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم “ اور اونٹنی کے درمیان ایک دن اس کا اور ایک دن ان کا اور یہاں ” بینھم “ فرمایا ہے اس لئے کہ عرب جب بنی آدم اور جانوروں کے بارے میں خبر دیتے ہیں تو بنی آدم کو بہائم پر غلبہ دیا جائے گا۔” کل شرب “ پانی کا حصہ ” محتضر “ اس پر حاضر ہوگا جس کی باری ہوگی۔ پس جب اونٹنی کا دن ہوگا تو وہ پانی پینے آئے گی اور جب ان کا دن ہوگا تو وہ اپنے پانی کی باری پر حاضر ہوں گے اور ” احضر “ اور ” حضر “ ایک معنی میں ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی۔ پس جس دن اونٹنی آئے گی وہ لوگ دودھ پئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →(فنادوا صاحبھم) پھر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو بلایا۔ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔
فَتَعَاطٰى) تو قوم ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی۔ چناچہ اس نے اس کو قتل کرڈلا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[ 33] قوم ثمود کے اپنے شقی اور بدبخت سردار کو پکارنے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تنبیہات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ساتھی کو پکارا اور اس سے فریاد کی۔ جس کا نام قدار بن سالف تھا اور جو اس قوم کا سب سے بڑا بدبخت انسان تھا، جیسا کہ دوسرے مقام فرمایا گیا اذا انبعت اشقھا کہ اس نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا، جس کے نتیجے میں اس بدبخت قوم پر وہ آخری عذاب آیا، جس نے ہمیشہ کیلئے اسکا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ان لوگوں نے حضرت صالح کی بات کی پرواہ نہ کی، اور سمجھا کہ یہ محض ان کی دھونس دھمکی ہے، چناچہ انہوں نے اپنے سردار سے فریاد کی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →ف 7 ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ دنوں تک تو یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا لیکن آخر کار وہ لوگ صبر نہ کرسکے اور انہوں نے اونٹنی کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے ایک سردار جس کا نام مفسرین نے قدار بن سالف بتایا ہے … کو پکارا کہ تو بہادر جری ہے اور اس کام کو سرانجام دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →(54:29) فنادوا : ای فارسلنا الناقۃ وکانوا علی ھذہ الوتیرۃ من القسمۃ فملوا ذلک وعزموا علی عقر الناقۃ فنادوا لعقرھا۔ پس ہم نے اونٹنی کو بھیجا اور وہ پانی کی تقسیم کے اسی طریقہ پر چلتے رہے پھر وہ اکتا گئے۔ اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا عزم کرلیا۔ پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹتے کے لئے پکارا۔ نادوا ماضی جمع مذکر غائب نداء (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے پکارا۔
صاحبہم : مضاف مضاف الیہ ۔ اپنے ایک رفیق کو۔ اپنے ایک ساتھ کو ۔
فتعاطی :تعقیب کا ہے۔ تعاطی۔ ماضی واحد مذکر غائب تعاطی (تفاعل) مصدر سے۔ اس نے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے دست درازی کی۔ اس نے پکڑا۔ اس نے ہاتھ چلایا۔ (لغات القرآن)
(کام کو) کرنے لگنا۔ اس میں مشغول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
[8] اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی نامزد کر کے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ پینے کے پانی کا جو گھاٹ ہے اب اس پر پانی پلانے کی باری تقسیم کردی گئی ہے۔ اب ہر ایک کو اپنی باری پر آنا ہوگا اور جو باری اللہ کی اونٹنی کے لئے مقرر کردی گئی ہے کسی شخص کو حق نہیں ہوگا کہ اس کی باری کے دن گھاٹ پر خود پانی لینے آئے یا اپنے جانوروں کو لائے اور اگر اونٹنی کو کوئی گزند پہنچایا گیا تو یہ اللہ کے عذاب کا پیش خیمہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قرآن آسان ہے
2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…
Read the full tafseer →(29) آخر کار ثمود نے اپنے رفیق اور ساتھی قذار بن سالف کو پکارا پس اس نے جرات کی اور حملہ کیا اور دست درازی کی اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ قذار بن سالف ایک شقی تھا اس نے اپنی محبوبہ کے اشارے سے یہ جرات کی اور تلوار سے اس اونٹنی پر حملہ کیا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں یعنی قتل کردیا سورة اعراف میں فعقروا فرمایا یعنی باقی لوگوں کی بھی ہمدردیاں حاصل تھیں یا اس کے اس ناشائستہ فعل پر راضی تھے اس لئے اس کا فعل پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو بلایا اور اس نے اونٹنی پر وار کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں
29 ؎ (فتعاطی) پس اس نے دست درازی کی ‘ اس نے ہاتھ چلایا ‘ اس نے پکڑا اتعاطی سے جس کے معنی کسی چیز کی طرف ہاتھ بڑھانے اور اس کو پکڑنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ قوم ثمود نے اپنے ایک آدمی کو بلایا اور اس کی ہمت بندھائی اور اس کو یقین دلایا کہ ہم سب تیرے ساتھ ہیں۔ صالح نے اونٹنی کو ایک نشانی قرار دے دیا ہے اور تو ہمت کر کے اس اونٹنی کا کام تمام کر دے۔ پھر جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا۔ (عقر) اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ عق سے جس کے معنی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور کونچیں کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
20 These words by themselves indicate that the she-camel roamed at will in their settlements for along period of time. No one could dare approach a source of water on the day of her turn. At last, they called out to a haughty chief of theirs who was well known for his courage and boldness, and urged him to put an end to her Emboldened by the false encouragement he took up the responsibility and killed the she-camel. This clearly means that the people were very frightened. They felt that she had extraordinary power, and so they dared not touch her with .m evil intention. That is why the…
Read the full tafseer →