Explained with ayahs 23–32
فریب نظر کے شکار لوگ
ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…
Read the full tafseer →سورة الْقَمَر 19
یہ تشریح ہے اس ارشاد کی کہ " ہم اونٹنی کو ان کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں "۔ وہ فتنہ یہ تھا کہ یکایک ایک اونٹنی لا کر ان کے سامنے کھڑی کردی گئی اور ان سے کہہ دیا گیا کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پیے گی اور دوسرے دن تم سب لوگ اپنے لیے اور اپنے جانوروں کے لیے پانی لے سکو گے۔ اس کی باری کے دن تم میں سے کوئی شخص کسی چشمے اور کنوئیں پر نہ خود پانی لینے کے لیے آئے، نہ اپنے جانوروں کو پلانے کے لیے لائے۔ یہ چیلنج اس شخص کی طرف سے دیا گیا تھا جس کے متعلق وہ خود کہتے تھے کہ یہ کوئی لاؤ لشکر نہیں رکھتا، نہ کوئی بڑا جتھا اس کی پشت پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →ونبئھم ان الماء قئمۃ بینھم کل شرب محتضر (28) اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی نامزد کر کے حضرت صالح ؑ کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کر دو کہ پانی پینے کا جو گھاٹ ہے اب اس پر پانی پلانے کی باری تقسیم کردی گئی۔ اب ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہوگا۔ اور جو باری اللہ کی اونٹنی کے لئے مقرر کردی گئی ہے کہ کسی کو حق نہیں ہوگا کہ اس کی باری میں کوئی اس سے تعرض کرے۔ اگر اونٹنی کو کوئی گزند پہنچایا گیا تو یہ اللہ کے عذاب کا پیش خیمہ ہوگا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ نے اس لئے مقرر فرمایا کہ ان کے اندر کا سارا کھوٹ باہرآجائے اور آشکارا ہوجائے کہ ان کی سر کشی کا پارا کتنا چڑھ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تنبیہ کے بعد…
Read the full tafseer →28۔ 1 یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لئے اور ایک دن قوم کے پانی پینے کے لئے۔
28۔ 2 مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے جو اپنی اپنی باری پر حاضر ہو کر وصول کرے دوسرا اس روز نہ آئے شُرَب حصہ آب۔
Read the full tafseer →7: یہ اونٹنی انہی کے مطالبے پر پیدا کی گئی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ بستی کے کنویں سے ایک دن وہ پانی پیے گی، اور ایک دن بستی والے، تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 73 اور اس کے حواشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم…
Read the full tafseer →9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " وہ اونٹنی جس پانی پر جاتی سب جانور بھاگتے، تو اللہ نے باری ٹھہرا دی۔ ایک دن وہ جائے، اور ایک دن سب جانور۔ "
Read the full tafseer →آیت 28 { وَنَــبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌم بَیْنَہُمْ ج کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ } ”اور انہیں بتا دیجیے کہ اب پانی ان کے مابین تقسیم ہوگا ‘ ہر پینے کی باری پر حاضری ہوگی۔“
اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر ایک چٹان سے حاملہ اونٹنی پیدا کردی اور اس کا نام ناقۃُ اللّٰہ اللہ کی اونٹنی ] الاعراف : 73 اور ہود : 64 [ رکھا۔ وہ اونٹنی جب چشمے پر پانی پینے کے لیے آتی تو اس کی ہیبت سے ان کے تمام مویشی بدک کر بھاگ جاتے تھے۔ بالآخر باہمی مشورے سے طے ہوا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن ان کے مال مویشی پانی پینے کے لیے آئیں گے۔ چناچہ جب وہ دوسرے دن چشمے پر آتی تو چشمے کا سارا پانی پی جاتی۔
Read the full tafseer →22 ناقۃ اللہ کی صفات اور قوم کی آزمائش :۔ یہ دیو ہیکل اونٹنی قوم ثمود کے مطالبہ پر انہیں بطور معجزہ دی گئی تھی۔ اسی لیے اسے ناقۃ اللہ یا اللہ کی اونٹنی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ جہاں بھی جاتی تھی دوسرے جانور ڈر کے مارے بھاگ جاتے تھے۔ لہذا اس اونٹنی کا احترام اس قوم کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا۔ با لآخر وحی الٰہی کے مطابق یہ طے ہوا کہ ایک دن بستی کے کنوئیں سے یہ اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن قوم کے دوسرے جانور، ساتھ ہی قوم کو آگاہ کردیا گیا اگر تم اس فیصلہ میں رد و بدل کرو گے یا اس اونٹنی کو کوئی دکھ پہنچاؤ گے تو پھر تمہاری خیر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
21۔ یعنی اونٹنی اپنی باری پر پانی پینے آئے اور لوگوں کے جانور اپنی باری پر۔ (آیت) ” انا مرسلوالناقۃ “۔ یعنی ہم اونٹنی کا ظہور بطور معجزہ کے کرینگے۔ حضرت صالح اور قوم ثمود کا ذکر اوپر کئی بار آچکا۔ اور حاشیے بھی بار بار گرچکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
بل ھو کذاب اشر اشر ایسے برخود غلط اور خود پسند شخص کو کہتے ہیں جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سود اسمایا ہوا ہو اور اس بناء پر ڈینگیں مارتا ہو، مطل یہ ہے کہ جب نہ تو یہ مافوق البشر قوتوں کا مالک ہے اور نہ یہ جتھا بند شخص ہے کہ اس کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو اور نہ ہی یہ اوپر سے نازل کیا ہوا یا باہر سے آیا ہوا شخص ہے کہ اس کی کچھ اہمیت ہو، تو ایسی صورت میں اس کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے دو ہی مقصد ہوسکتے ہیں یا تو یہ پر لے درجہ کا جھوٹا شخص ہے یا پھر ہم پر اپنی بڑائی جتانا اور ہمارے مقابلہ میں شیخی بگھارنا مقصد ہے لہٰذا ہم ایسے کذاب اور شیخی خورے کی ہرگز پیروی نہ کریں گے۔
حضرت صالح (علیہ…
Read the full tafseer →و نبءھم ان الماء قسمۃ بینھم کل شرب محتضر
اور ان لوگوں کو بتادینا کہ (کنویں کا) پانی ان میں بانٹ دیا گیا ہے ‘ ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا۔
قِسْمَۃٌ : پانی تقسیم کردیا گیا ہے ‘ ایک دن قوم کے لیے ہے اور ایک دن اونٹنی کے لیے ہے۔ ہر فریق اپنے ‘ اپنے نمبر پر پانی پر آئے گا۔ اونٹنی کی باری ہوگی ‘ وہ پانی پر آموجود ہوگی اور قوم والوں کی باری کا دن ہوگا تو وُ ہ آموجود ہوں گے۔ اختضَر اور حَضَرَ دونوں ہم معنی ہیں۔ مجاہد نے یہ مطلب بیان کیا کہ جب اونٹنی پانی پر سے چلی جائے گی تو وہ لوگ پانی پر آموجود ہوں گے اور اونٹنی پانی پر آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لیے آموجود ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(28۔ 29) اور ان کو یہ بتا دینا کہ کنوئیں کا پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے کہ ایک دن تمہارے مویشی کا ہے اور ایک دن اونٹنی کا ہر کوئی اپنی باری پر حاضر ہوا کرے، چناچہ صالح نے ان کو اس چیز کی اطلاع کردی اور وہ اس پر راضی ہوگئے۔
کچھ عرصہ تک اس پر کار بند رہے پھر ان پر بدبختی کا غلبہ ہوا اور انہوں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا اور مصدق بن دہر نے اونٹنی کے تیر مار دیا مصدع نے قدار بن سالف کو پکارا سو قدار نے اونٹنی کے دوہرا تیر مارا اور اس کو قتل کردیا اور اس کا گوشت آپس میں تقسیم کرلیا۔
Read the full tafseer →وَ نَـبِّـئْھُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌم بَیْنَہُمْ۔۔۔۔ اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ شعرائ (155) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →ونبئھم ان المآء قسمۃ بینھم انہیں بتا دیں کہ پانی آل ثمود اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہے اونٹنی کے لئے ایک دن ہے اور ان کے لئے ایک دن ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم۔ (الشعرائ) حضرت ابن عباس نے کہا : جس دن آل ثمود کی باری ہوتی تو اس دن اونٹنی کچھ پانی بھی نہ پیتی لوگوں کو دودھ دیتی اور وہ نعمتوں میں ہوتے اور جس روز اونٹنی کی باری ہوتی تو سارا پانی لی جاتی ان کے لئے کچھ چیز نہ چھوڑتی۔ بینھم ارشاد فرمایا کیونکہ عرب میں چوپائوں کے ساتھ انسانوں کے بارے میں خبر دیتے تو انسانوں کو غلبہ دیتے۔ ابو زبیر نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ جب ہم حجر کی وادی میں اترے (1) جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' (ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے یعنی بدبختی ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' سے مراد ہے کہ پھر تو ہم مگر اپنی مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔
3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وسعر ' ' یعنی گمراہی (آیت ) '' کل شرب محتضر '' (یہ ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا) یعنی وہ لوگ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی اور جب وہ آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لئے حاضر ہوں (آیت ) ''…
Read the full tafseer →وَنَبِّئْهُمْ [ آپ جتا دیں ان کو ] اَنَّ الْمَاۗءَ [ کہ یہ پانی ] قِسْمَةٌۢ [ بانٹ ہے ] بَيْنَهُمْ ۚ [ ان کے درمیان ] كُلُّ شِرْبٍ [ہر پینے کی باری پر ] مُّحْتَضَرٌ [ حاضر کرنے کا وقت ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
﴿وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ 1ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ0028 ﴾ (اور انہیں بتا دیجئے کہ بیشک پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوا کرے) ۔ یہ لوگ اس اونٹنی سے تنگ آگئے اس کا اپنے نمبر پر پانی پیناناگوار ہوا لہٰذا آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو قتل کردیا جائے ان میں سے ایک آدمی قتل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ لوگوں نے اسے پکارا اس نے ہاتھ میں تلوار لی اور اونٹنی کو مار ڈالا پہلے سے ان کو بتادیا گیا تھا کہ اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ لگاؤ تو تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا، جب اسے قتل کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بتادیا۔ ﴿تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
14:۔ ” انا مرسلوا الناقۃ “ ہم اونٹنی کو ان کے ابتلاء و امتحان کے لیے بھیجنے والے ہیں، آپ انتظار کریں اور ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اور دیکھیں وہ اونٹنی سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ ” ونبئہم ان الماء۔ الایۃ “ ، ” شرب “ پانی کا حصہ یا پانی پینے کی باری۔ اور آپ ان کو مطلع کردیں کہ کنوئیں کے پانی پر اب باری مقرر ہوگی اور ہر فریق اپنی نوبت میں حاضر ہو کر پانی حاصل کرے گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیے گی اور اس کی باری کے دن تم لوگ اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاؤ گے اور تمہاری نوبت کے دن میں اونٹنی پانی نہیں پیے گی۔ ” فنادوا صاحبہم۔ الایۃ “ لیکن زیادہ عرصہ تک وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور اونٹنی کو قتل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →وَنَبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَۃٌۢ بَيْنَہُمْ 0 ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔
تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی…
Read the full tafseer →وَنَـبِّئْھُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌ م بَیْنَھُمْ ج کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ (القمر : 28)
(اور انھیں آگاہ کردیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہے، ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ )
یعنی ان کے درمیان اور اونٹنی کے درمیان پانی کے ذخیرے سے پانی لینے کے لیے باریاں مقرر کردی گئی ہیں۔ جو باری اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کے لیے مقرر کردی گئی ہے کسی کے لیے اس کی اجازت نہیں ہوگی کہ اس کی باری میں کوئی اس سے تعرض کرے۔ اگر انھوں نے اس باری کی پابندی نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ کذابوں کا گروہ ہے۔ اور اگر ناقہ کو نقصان پہنچایا اور اپنی باری سے بڑھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔
قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔
قوم…
Read the full tafseer →آیت 28: وَنَبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌ بَیْنَہُمْ (اور ان لوگوں کو بتادینا کہ پانی ان میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ) ان کے مابین تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک دن اونٹنی کا اور دوسرا دن ان کا۔ بینہم۔ عقلاء کو تغلیب دے کر ذکر کیا۔ ورنہ باری تو ان کے جانوروں اور اونٹنی کے مابین تھی۔ کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ (ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا۔ ) محتضر بمعنی محضور ٗ باری مقرر کیا ہوا۔ ایک دن قوم گھاٹ پر آموجود ہو اور ایک دن اونٹنی حاضر ہو۔
Read the full tafseer →27 ۔” انا مرسلوا الناقۃ “ یعنی اس کو اٹھانے والے اور نکالنے والے ہیں اس پہاڑی سے جس کا انہوں نے سوال کیا تھا کہ وہ اس سے نکلے کیونکہ انہوں نے صالح (علیہ السلام) پر ضد کی اور سوال کیا کہ ان کے لئے چٹان سے سرخ اونٹنی دس ماہ کی گابھن نکالیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انا مرسلوا الناقۃ فتنۃ لھم “ امتحان اور ان کی آزمائش کے لئے ۔ ” فارتقبھم “ پس آپ (علیہ السلام) انتظار کریں جو وہ کرنے والے ہیں۔ ” واصطبر “ ان کے انتظار پر اور کہا گیا ہے اس پر جو آپ (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →(وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ ) یعنی ان کو آگاہ کردیجئے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہوگا یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا ایک دن اونٹنی پانی پیے گی اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے (كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ) ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوگا۔ یعنی اس رز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہوگی اور جس کی باری نہ ہوگی اس کے لی پانی پر آنے کی ممانعت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →[ 32] ناقہء صالح سے متعلق آزمائش کا ذکر وبیان :
سو پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کو آگاہ اور خبردار کردو کہ ان کیلئے پانی کی باری مقرر کردی گئی۔ پس اونٹنی اپنی باری پر پانی پیئے، اور یہ لوگ اپنی باری پر، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { قال ھذہٖ ناقۃ لہا شرب ولکم شرب یومٍ معلومٍ ۔ [ الشعرائ : 155 پ 19] پس اس کے حصے میں دخل نہ دینا، ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہوگا اور جو باری اونٹنی کیلئے مقرر کی گئی ہے، اس میں کوئی دخل نہ دے اور اگر اونٹنی کو گزند پہنچایا گیا تو یہ عذاب کا پیش خیمہ گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کیلئے یہ امتحان اس لئے مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ایک دن یہ سارا پانی یہ اونٹنی پئے گی اور ایک دن وہ اور ان کے تمام جانور
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(54:27) انا مرسلوا الناقۃ۔ مضاف مضاف الیہ ، اونٹنی برآمد کرنے والے۔ اونٹنی بھیجنے والے۔ مرسلوا اصل میں مرسلون تھا۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اضافت کی وجہ سے ن ساقط کردیا گیا ہے۔ الناقۃ۔ اونٹنی۔
فتنۃ : مفعول لہ بہ امتحانا : بطور امتحان ۔ بطور آزمائش۔
لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ثمود کی طرف راجع ہے۔
فارتقبھم : ارتقب ، فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر سے بمعنی انتظار کرنا ۔ راہ دیکھنا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ پس تو ان (کے انجام) کا انتظار کر۔
واصطبر : واؤ عاطفہ۔ اصطبر فعل امر واحد مذکر حاضر تو صبر کر۔ اصطبار (افتعال) یہ اصل میں اصتبار تھا۔ ت کو ط سے بدل دیا گیا۔
فائدہ : قوم ثمود نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
[8] اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی نامزد کر کے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ پینے کے پانی کا جو گھاٹ ہے اب اس پر پانی پلانے کی باری تقسیم کردی گئی ہے۔ اب ہر ایک کو اپنی باری پر آنا ہوگا اور جو باری اللہ کی اونٹنی کے لئے مقرر کردی گئی ہے کسی شخص کو حق نہیں ہوگا کہ اس کی باری کے دن گھاٹ پر خود پانی لینے آئے یا اپنے جانوروں کو لائے اور اگر اونٹنی کو کوئی گزند پہنچایا گیا تو یہ اللہ کے عذاب کا پیش خیمہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قرآن آسان ہے
2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…
Read the full tafseer →(28) اور ان کو آگاہ کردے کہ پانی کو ان میں تقسیم کردیا گیا ہے ہر باری والے کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہے - یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) جو ان کی پیغمبر تھے ان کو ہم نے حکم بھیجا کہ ہم ان کی آزمائش اور ان کے امتحان کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں جیسا کہ سورة اعراف میں مفصل گزر چکا ہے۔
صالح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تو ان کو دیکھتا رہ کہ یہ کیا کرتے ہیں اور ان کی ایذارسانی پر صبر کئے جا اور ان کو خبردار کردے کہ پانی قوم کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے یعنی نوبت بہ نوبت پانی استعمال کرنا ہوگا ایک دن قوم کے مویشی پئیں گے اور ایک دن اونٹنی پئے گی یا تو اس وجہ سے کہ پانی کم ہے یا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ان کو آگاہ کر دو کہ اونٹنی کے پانی پینے کی باری مقرر کردی گئی ہے ‘ بس اپنی باری پر حاضر ہو
28 ؎ (محتضر) اسم مفعول واحد مذکر احتصار مصدر (اقتصال) مراد پانی کی وہ باری جس پر سب حصہ دار موجود ہوں اور ان کے حصے مقرر کردیئے گئے ہوں۔ (مختصر) قریب الموت آدمی کو بھی کہتے ہیں جس کے سامنے موت آگئی ہو اور اس کو بھی جس پر جن آنے کا اندیشہ کیا گیا ہو۔ کہاوت ہے کہ اللبن مختصر فغط اناء ک دودھ پر سب آفتیں موجود ہوتی ہیں اس لئے برتن کو ڈھانک دو ۔ محتصر (1) اسم فاعل ہے لیکن آیت میں (مختصر) ہے جو اسم مفعول ہے۔ صالح (علیہ السلام) سے کہا جا رہا ہے کہ اے صالح ! اپنی قوم کے لوگوں کو متنبہ کر دو کہ پانی کی باری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →19 This explains the verse: "We are sending the she-camel as a trial for them." The trial was that suddenly a she-camel was produced before them and they were told that one day she would drink the water aII by herself and the next. day they would be allowed to have water for themselves and their cattle. On the day of her turn neither would any of them himself come to any of the springs and wells to take water nor bring his cattle for watering. This challenge was given on behalf of the person about whom they themselves admitted that he had no army and no hosts to support him.
Read the full tafseer →