At-Tur 52:1

52. At-Turالطور

The Mount · Meccan · 49 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

52:1

وَالطُّوْرِ ۟ۙوَالطُّوۡرِۙ

(کوہ) طور کی قسم

— Fateh Muhammad Jalandhari

By the mount

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:1

(کوہ) طور کی قسم

— مولانا فتح محمد جالندہری

قسم ہے طور کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

قسم ہے طور کی !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قسم ہے طور کی

— مولانا اسحاق مدنی

کوہ طور کی قسم۔

— محترمہ رفعت اعجاز

By the mount of Tur,

— Muhammad Taqi Usmani

By the mount of Tur,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the mount

— Saheeh International

By the Mount (Sinai),

— Muhammad Sarwar

I swear by the Mountain,

— Muhammad Habib Shakir

By the mount.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 52:1

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الطُّوْر 1 طُور کے اصل معنی پہاڑ کے ہیں۔ اور الطور سے مراد وہ خاص پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں لکھی ہے (مراد اس سے نامہ اعمال ہے جس کی نسبت دوسری آیت میں آیا ہے كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا اور جس چیز میں وہ لکھا ہوا ہے اس کو تشبیہاً کاغذ کہہ دیا) اور (قسم ہے) بیت المعمور کی (کہ ساتویں آسمان میں عبادت خانہ ہے فرشتوں کا، کما فی الدر مرفوعاً) اور (قسم ہے) اونچی چھت کی (مراد آسمان ہے، قال تعالیٰ وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا و قال تعالیٰ اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ، وصرح بھذا التفسیر عن علی بسند صحیح کنز العمال عن مستدرک الحاکم) اور (قسم ہے) دریائے شور کی جو (پانی سے) پر ہے (آگے جواب قسم ہے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت والطور (1) ”و“ یہاں قسم کے لیے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں تفصیل سے ہوچکی ہے۔ ا ؎ کہ قرآن میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں بیشتر اس دعوے کی شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں جو اس قسم کے بعد بطور مقسم علیہ مذکور ہوا ہے۔ یہاں مقسم علیہ، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا۔ (ان عذاب ربک لواقع) (بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کے رہے گا) اس وجہ سے طور کی قسم لازماً اس دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہے، چناچہ قسم کے اسی مفہوم کو پیش نظر رکھ کر ہم نے اس کا ترجمہ ”شاہدے طور“ کیا ہے اور یہ ترجمہ ہمارے نزدیک زیادہ معنی خیز ہے۔ طور سے مراد ہی جبل طور ہے جس کا ذکر مختلف پہلوئوں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ ؑ سے اللہ ہم کلام ہوئے۔ اسے طور سینا بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کے اس شرف کی بنا پر اس کی قسم کھائی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ مختصر آیات اور زمزمہ خیز مسجع آیات اور ان آیات کے آخری الفاظ کی صوتی ہم آہنگی ، پوری سورة میں جاری ہے۔ پہلی آیت میں ایک لفظ بھر دو الفاظ ، پھر آہستہ آہستہ الفاظ کی تعداد کا بڑھتے چلے جانا ، یہاں تک کہ پیراگراف کے آخر میں الفاظ کی تعداد 21 کلمات تک پہنچ جاتی ہے اور الفاظ بدستور پر شوکت اور زور دار رہتے ہیں۔ والطور (قسم ہے طور کی) طور ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں درخت ہوں۔ واضح قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہی کوہ طور ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں مشہور ہے اور جس پہاڑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے کہ یہاں فضا مقدس مقامات کی ہے اور ان کی اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتا ہے اور یہ قسم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ وَالطُّوْرِ۔ } ”قسم ہے طور کی۔“ طور عام پہاڑ کو بھی کہا جاتا ہے ‘ لیکن ”الطُّور“ سے مراد وہ خاص پہاڑ طور ِسینین٭ ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 کوہ طور کے مختلف نام اور محل وقوع :۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے۔ سیناء اور سینین دونوں ایک ہی پہاڑ کے نام ہیں۔ جس کی سطح سمندر سے بلندی 7260 فٹ ہے اور مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے (شام کے ملک میں) راستے میں پڑتا ہے۔ اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دو دفعہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اسی پہاڑ کی ایک چوٹی کا نام طور ہے اور اسی پہاڑ کے دامن میں واقع وادی کا نام طویٰ ہے جسے قرآن میں وادی مقدس اور بقعۃ المبارکۃ بھی کہا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تو اسی راستے سے گزرے تھے۔ کوہ طور کو اسی نسبت سے طور سینین کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–7

1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے طور کی یعنی اس پہاڑ کی جس پر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف بخشا اور قسم ہے لکھی ہوئی کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں ہے یعنی تورات کی یاد قرآن کی اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ تیسرے یا چھٹے یا ساتویں آسمان پر کعتبہ اللہ کے بالمقابل ہے روزانہ طواف اور نماز کے لئے ستر ہزار فرشتے اس کی زیارت کرتے ہیں آئندہ ان کا کبھی نمبر نہ آئے گا اور قسم ہے اونچی چھت یعنی آسمان کی اور قسم ہے بھرے ہوئے دریا کی بلاشبہ تیرے رب کا عذاب اس کے مستحق پر نازل ہونے والا ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے جس دن آسمان تھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والطور طور کی قسم۔ سریانی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں۔ اس جگہ طور سینا مراد ہے یہ مدین کا ایک پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ نے اللہ کا کلام سنا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

قسم ہے کوہ طور کی سریانی اور قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا اس مقام پر وہ پہاڑ مقصود ہے جس پر موسیٰ سے کلام فرمایا اور وہ مدین میں ہے اور اس کو زبیر بھی کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) والطور : اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی پانچ عظیم الشان مخلوقات کی قسم اٹھائی ہے، اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ اس کا عذاب قیامت کے دن اس کے دشمنوں پر واقع ہو کر رہنے والا ہے، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ یہ پانچوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عظیم اور لا محدود قوت و قدرت کی شاہد ہیں اور اس بات کی دلیل ہیں کہ ان عظیم مخلوقات کے خلاق کے لئے قیامت برپا کرنا اور اپنے منکروں کو عذاب دینا نفاق بات ہے۔ (2)”الطور“ کا معنی وہ پہاڑ جس پر پودے اگتے ہوں۔ ایک خاص پہاڑ کا نام بھی ”طور“ ہے جس کے دامن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا اور اگر اس پر ”الف لام“ جنس کا ہو تو تمام پہاڑ مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والطور اس پہاڑ کا نام ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے گفتگو کی اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم اٹھائی اس کی شرافت کو ظاہر کرنے کے لئے، اس کی کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس میں جو آیات ہیں انہیں یاد دلانے کے لئے۔ یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ اسماعیل بن اسحاق، اسماعیل بن ابی رویس سے وہ کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف سے وہ اپنے باپ سے وہ دادا سے رویت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چار پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ہیں، چار دریا جنت کے دریائوں میں سے ہیں، چار میدان جنگ جنت کے میدانوں میں سے ہیں، (2) ۔ پوچھا گیا : پہاڑ کون سے ہیں ؟ فرمایا : جبل احد جو ہم سے محبت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور '' سے مراد ہے ایک پہاڑ۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طور جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔ 3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طور جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر نے ام سلمہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور '' سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں (آیت ) '' و کتاب مسطور '' (اور اس کتاب کی قسم جو کھلے ہوئے کاغذ پر لکھی ہوئی ہے) یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالطُّوْرِ [ قسم ہے طور کی ] ترکیب : آیات ۔ 1 تا 6 تک جو قسمیں آئی ہیں ان کی ترجمہ کی دوصورتیں ہیں اول یہ کہ ان میں ہر واو کو قسمیہ مانیں ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا قسم ہے طور کی ۔ قسم ہے ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ اسی طرح آخر تک ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صرف پہلے واو کو قسمیہ مانیں اور بعد میں آنے والے تمام واو کو عاطفہ مانیں ۔ ان اسماء کو حالت جر میں ہونے کی وجہ سے پہلے واو القسمیہ پر عطف مانے جائیں ۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا قسم ہے طور کی اور قسم ہے ایک کھلی کتاب کی ۔ اسی طرح آخر تک دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے ۔ کتب مسطور نکرہ مخصوصہ ہے اور فی رق منشور اس کی خصوصیت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

قیام کے دن منکرین کی بدحالی، انہیں دھکے دے کر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کی بڑی اہمیت ہے، اس کے بعد فرمایا ہے کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، قیامت کو جھٹلانے والے اس کے وقوع کے منکر ہیں، ان کے شک اور انکار کو رد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار قسمیں کھائی ہیں، سورة الذاریات کا افتتاح اور سورة النازعات کی ابتداء بھی اسطرح سے ہے، ان آیات میں اولاً طورپہاڑ کی قسم کھائی یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا، اس کے بعد کتاب مسطور کی قسم کھائی مسطور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” والطور “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے از موسیٰ (علیہ السلام) یعنی وہ کوہ طور بھی شاہد ہے کہ حشر و نشر اور جزاء وسزا حق ہے۔ جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی تھی کہ ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا لتجزی کل نفس بما تسعی (طہ رکوع 1) ۔ یہ ذکر مکان اور ارادہ مکین کے قبیل سے ہے۔ ” و کتاب مسطور فی رق منشور “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از کتب سابقہ۔ ” رق “ باریک چمڑا وغیرہ جس پر وہ لکھی جاتی ہیں۔ یعنی کتب سابقہ بھی شاہد ہیں کہ جزاء و سزا واقع ہوگی کیونکہ ان میں بھی یہ مضمون نازل کیا جاچکا ہے۔ ” والبیت المعمور “ یہ دلیل وحی بیت معمور ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کے بالمقابل فرشتوں کا عبادت خانہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالطُّوْرِ۝ 1 ۙ طور طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله : وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] ، أي : مختلفین في الخَلْقِ والخُلُقِ. والطُّورُ اسمُ جبلٍ مخصوصٍ ، وقیل : اسمٌ لكلّ جبلٍ وقیل : هو جبل محیط بالأرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–8

وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ 1۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 1 : وَالطُّوْرِ یہ وہ پہاڑ ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف کلام بخشا گیا۔ یہ مدین میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا وسزا پر قسم کھاتا ہے پس اللہ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ نے حضرت موسیٰ بن عمران سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے۔ یہ حضرت موسیٰ اور آپ کی امت پر اللہ کا احسان ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں۔ بندے جن کو شمار کرسکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

[ 1] کوہ طور کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے طور کی، جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف نصیب ہوا، اور نبوت عطا ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات و مجازات کا ایک عظیم الشان اور تاریخی نشان ہے، اور جہاں بنی اسرائیل جیسی ظلم و ستم میں دبی اور پسی ہوئی اور صدیوں کی غلامی میں جکڑی ہوئی قوم کو اٹھائے جانے، اور فرعون جیسے ظالم اور اس کی بگڑی ہوئی قوم کی غرقابی کے فیصلے کا گویا اعلان کردیا گیا تھا، سو یہ ایک تاریخی ثبوت ہے قانون مکافات کا، یعنی اس بات کا کہ اللہ پاک کی اس دنیا میں صرف قانون طبیعی ہیں لاگو نہیں کہ یہ کائنات کچھ لگے بندھے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:1) والطور۔ واؤ قسمیہ ہے الطور سے مراد طور سینا ہے جو مدین کا ایک پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا کلام سنا تھا۔ قسم ہے طور کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] قسم کی تشریح کیلئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062 [2] یعنی کوہ طور جہاں موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–16

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور لکھی ہوئی کتاب کے رب کی قسم (و کتاب مسطور) 2 ؎ اس لکھی ہوئی کتاب سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے اس سے مراد اعمال نامہ لیا ہے ‘ بعض نے لوح محفوظ لکھا ہے اور بعض نے کتب سابقہ تورات و اناجیل مراد لی ہیں اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں گزشتہ سورتوں اور آیتوں کے پیش نظر اس سے مراد قران کریم ہی لینا زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ سورة (ق والقرآن المجید) سے تقریباً تمام سورتوں کا ایک ہی موضوع چلا آ رہا ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ محقق ہے کہ جتنا قرآن کریم نازل ہوتا تھا ساتھ ساتھ نبی اعظم و آخر ﷺ لکھوا دیا کرتے تھے اور کتنے ہی صحابہ ؓ اس خدمت پر مامور کئے گئے تھے پھر ان میں سے جو بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَالطُّورِ‌ (By the Mount Tur,....52:1) The word Tur in Hebrew means a mountain that has trees [ as opposed to jabal a mountain that does not have trees { Trn.}]. Here Tur stands for mount Sinai which is situated in the land of Madyan where the Holy Prophet Musa (علیہ السلام) had the honour of Allah's speaking to him. Some reports narrate that there are four mountains of Paradise in this world, and one of them is Tur (Qurtubi). Swearing an oath by Tur carries a special significance and honour of the mount. It also signifies that certain injunctions have been revealed by Allah for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 Tur means a mountain, and at-Tur the particular mountain on which Allah had blessed the Prophet Moses with the Prophet hood.

Read the full tafseer →