Adh-Dhaariyat 51:60

Adh-Dhaariyat · from ayah 60

51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۟۠فَوَيۡلٌ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ يَّوۡمِهِمُ الَّذِىۡ يُوۡعَدُوۡنَ

جس دن کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے ان کے لئے خرابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And woe to those who have disbelieved from their Day which they are promised.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:60

آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے ان کے لئے خرابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس خرابی ہے منکروں کو ان کے اس دن کی جس کا وعده دیئے جاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

غرض جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، ان کی اس دن کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو کافروں کے لئے اُن کے اُس دِن میں بڑی تباہی ہے جس کا اُن سے وعدہ کیا جا رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر بڑی ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کفر کرنے والوں کے لئے اس دن تباہی ہوگی جس دن سے انہیں ڈرایا جارہا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کافروں کے لئے ان کے اس دن کے سبب سے بڑی خرابی ہے جس کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو انجام کار بڑی (ہی خرابی اور) ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر ان کے اس دن سے جس سے ان کو ڈرایا (اور خبردار) کیا جا رہا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

نہ کریں غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Woe, then, betide those who disbelieved in that Day of theirs which they are being asked to hold in dread.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Woe, then, to those who disbelieve because of the Day of theirs that they are promised (for punishment).

— Muhammad Taqi Usmani

Woe, then, to those who disbelieve because of the Day of theirs that they are promised (for punishment).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then woe to those who disbelieve from their Day which they have been promised.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And woe unto those who disbelieve, from (that) their day which they are promised.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And woe to those who have disbelieved from their Day which they are promised.

— Saheeh International

Woe to the disbelievers when the day with which they have been threatened comes!

— Muhammad Sarwar

Therefore woe to those who disbelieve because of their day which they are threatened with.

— Muhammad Habib Shakir

Woe, then, Unto those who disbelieve in their Day which they are promised.

— Abdul Majid Daryabadi

Woe, then, to the Unbelievers, on account of that Day of theirs which they have been promised!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–60

تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 59–60

سورة الذّٰرِیٰت 56 ظلم سے مراد یہاں حقیقت اور صداقت پر ظلم کرنا، اور خود اپنی فطرت پر ظلم کرنا ہے۔ سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ یہاں ظلم کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو خداوند عالم کے سوا دوسروں کی بندگی کر رہے ہیں، جو آخرت کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو دنیا میں غیر ذمہ دار سمجھ رہے ہیں، اور ان انبیاء کو جھٹلا رہے ہیں جنہوں نے ان کو حقیقت سے خبردار کرنے کی کوشش کی ہے۔ سورة الذّٰرِیٰت 57 یہ جواب ہے کفار کے اس مطالبہ کا کہ وہ یوم الجزا کہاں آتے آتے رہ گیا ہے، آخر وہ آ کیوں نہیں جاتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–60

ذَنُوْبًا، لفظ ذنوب بفتح الذال اصل میں بڑے ڈول کو کہا جاتا ہے اور بستی کے عام کنوؤں پر پانی بھرنے کے لئے بغرض سہولت بھرنے والوں کے نمبر اور باری مقرر کرلی جاتی ہے، ہر ایک پانی بھرنے والا اپنی باری میں پانی بھرتا ہے، اس لئے یہاں لفظ ذنوب کے معنی باری اور حصہ کے لئے گئے ہیں، مراد یہ ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں کو اپنے اپنے وقت میں عمل کرنے کا موقع اور باری دی گئی جن لوگوں نے اپنی باری میں کام نہیں کیا وہ ہلاک و برباد اور گرفتار عذاب ہوئے، اسی طرح موجودہ مشرکین کی بھی باری اور وقت مقرر ہے، اگر اس وقت تک یہ اپنے کفر سے باز نہ آئے تو خدا کا عذاب ان کو کبھی تو اسی دنیا میں اور نہیں تو آخرت میں ضرور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فویل للذین کفرومن یومھم الذی یوعدون (60) للذین کفرورا، اگرچہ عام ہے لیکن یہاں مراد کفار قریش ہی ہیں جو رسول کے انذار کو محض دھونس خیال کرکے اس کو زچ کرنے کے لئے، مطالبہ کررہے تھے کہ اگر اس طرح کا کوئی عذاب آنا ہے تو وہ آجائے، اس کو دیکھے بغیر ہم اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس دن کے لئے جلدی نہ مچائیں۔ وہ بڑا ہی کٹھن دن ہوگا۔ اس دن کے سبب سے ان کو جن ابدی ہلاکتوں سے سابقہ پیش آئے گا ان سے ان کو کوئی پناہ نہ دے سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک رحمان آباد 18 اپریل 1977 ء 28 ربیع الثانی 1397 ھ

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 59–60

59۔ 1 ذنوب کے معنی بھرے ڈول کے ہیں۔ کنویں سے ڈول میں پانی نکال کر تقسیم کیا جاتا ہے اس اعتبار سے یہاں ڈول کو حصے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ ظالموں کو عذاب سے حصہ پہنچے گا، جس طرح اس سے پہلے کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے عذاب کا حصہ ملا تھا۔ 59۔ 2 لیکن یہ حصہ عذاب انہیں کب پہنچے گا، یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، اس لئے طلب عذاب میں جلدی نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فان للذین ........ یوعدون (15 : 06) ” پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اس کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو ان کے حصے کامل چکا ہے ، اس کے لئے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لئے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی قیامت کا دن یا اس سے پہلے ہی کوئی دن سزا کا آجائے۔ چناچہ مشرکین مکہ کو " بدر " میں خاصی سزا مل گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60{ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 یہ وعدہ کا دن قیامت کا دن بھی ہوسکتا ہے، ان کی موت کا بھی اور بدر کا دن بھی، جو دن بھی ہو ان کی تباہی بہرحال یقینی ہے۔ پھر معلوم نہیں یہ کس خوشی میں جلدی مچا رہے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–60

وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون یعنی ہم نے جنات اور انسان کو محض عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس میں ظاہر نظر میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب اجمالی طور پر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان ہوچکا ہے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اعتراض اول : یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی مشیت بھی یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن اور محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشئیت کے خلاف کوئی کام محال ہے۔ اعتراض اول کا پہلا جواب : پہلے اشکار کے جواب میں بعض مفسرین نے اس مضمن کو صرف مومنین کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فویل للذین کفروا من یومھم الذین یوعدون . یَّوْمِھِمْ : سے مراد ہے روز قیامت بعض کے نزدیک یوم بدر مراد ہے۔ الحمد اللہ سورة الذاریات کی تفسیر کا ترجمہ ختم ہو 1 فشکرًا اللہ م قبل ومن بعد

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو ان کافروں کو اس دن کے آنے پر سخت ترین عذاب ہوگا جس دن سے ان کو ڈرایا جارہا ہے اس عذاب کا ذکر سورة طور میں آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فویل للذین کفروا …:”فویل“ پر تنوین تہویل کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا گیا ہے۔”جس دن کا وہ وعدہ دیئے جاتے ہیں“ سے مراد قیامت کا دن ہے، جس کا سورت کے شروع میں ذکر ہے، فرمایا :(انما توعدون لصادق، و ان الدین لواقع) (الذاریات : 5، 6)”کہ بلاشبہ جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یقینا سچا ہے اور بلاشبہ جزا یقیناً واقع ہونے والی ہے۔“ سورة معارج میں قبروں سے نکلنے کے دن کے متعلق فرمایا :(ذلک الیوم الذی کانوا یوعدون) (المعارج : 33)”یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جانا تھا۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

وماخلقت الجن والا نس الا لیعبدون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشاد ان کو خاص ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لفظ عام ذکر کیا اور مراد خاص ہے۔ معنی ہے میں نے جن وانس میں سے اہل سعادت کو پیدا نہیں کیا مگر اسی لئے کہ وہ میری توحید کا قرار کریں۔ قشیری نے کہا : آیت میں تخصیص قطعی طور پر داخل ہے کیونکہ مجنوں اور بچوں کو عبادت کا حکم نہیں دیا گیا یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عبادت کا ارادہ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس (الاعراف :179) جو لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ عبادت کیلئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–60

7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' (اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ) ۔ ان کو چاہئے کہ وہ عبودیت کا اقر ار کریں خوشی سے یا ناخوشی سے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا اپنی اطاعت معصیت اور بدبختی اور نیک بختی پر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو شقاوت اور سعادت میں سے کسی پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ تو تباہی ہے ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا ] مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ [ ان کے اس دن سے جس کا ] يُوْعَدُوْنَ [ ان کو وعدہ دیا جاتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

لفظ ذنوب بھرے ہوئے ڈول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بطور استعارہ یہاں نصیب کے معنی میں آیا ہے۔ آخر میں فرمایا ﴿فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ (رح) 0060﴾ (سو کافروں کے لیے بڑی خرابی ہے اس دن کے آنے سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بدر کا دن مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ قیامت کا دن مراد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب وقد انتھی تفسیر سورة الذّٰریٰت بفضل الملیک الحنان المنان والصلٰوة والسلام علی رسولہ سید الانسان والجان وعلی من تبعہ باحسان الی یوم یدخلہ فیہ المومنون الجنان ویجارون من عذاب النیران

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–60

21:۔ ” فان للذین۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مکہ کے ان ظالموں اور مشرکوں کے لیے عذاب کا ایک حصہ مخصوص ہے جس طرح اقوام سابقہ کے ان جیسے ظالموں کو عذاب کا حصہ چکھایا گیا اس لیے وہ جلدی نہ کریں ان کے حصے کا عذاب ان کو مل کر رہے گا۔ عذاب کا معین وقت آنے کی دیر ہے۔ ” فویل للذین کفروا۔ الایۃ “ جس یوم عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا گیا ہے وہ دن ان کے لیے نہایت ہی ہلاکت خیز اور ان کی تباہی و بربادی کا دن ہوگا۔ اس دن سے جنگ بدر کا دن مراد ہے۔ جس میں کفر و شرک کے سرغنوں نے مٹھی بھر اور بےہتھیار مسلمانوں کے ہاتھوں قتل اور قید و بند کے ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھایا۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے (بحر،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر منکرین قیامت کا رد ہوا ہے ، اور اب آخر میں اللہ نے اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔ گزشتہ درس میں منکرین رسالت کا تذکرہ کیا اور اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کہنے والوں کی مذمت بیان کی ۔ پھر آخر میں اپنے نبی کو تسلی دی اور ساتھ ساتھ لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں ، آپ کی نصیحت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مقصد تخلیق جن و انس آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون میں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِہِمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ۝ 60 ۧ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–60

1 ؎ ذنوبا والذنوب الدلوا العظمیۃ ھذا تمثیل واصلہ تقسیم المار یکون لھذا ولو ولھذا ولو یعنی حالھم کما لھم من انمد العیش والغفلۃ محکما وقع علیھم نفع علی ھو ‘ لارو یمکن ان یکون الذنوب بمعنی المعاصی اے ان لھھو الاء القوم جرائم مثل جرائم اصحابھم الماضین۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 60) (پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا، ان کے اس دن کے سبب سے جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے۔ ) آخرت کا انکار تباہ کن ثابت ہوگا اللہ کے نبی اور رسول اپنی قوموں کو دو باتوں سے ڈراتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر تم نے ہماری تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے دین کو ماننے سے انکار کیا اور آخرت کو محض ایک افسانہ سمجھا اس پر یقین کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے رہے تو یہ کفر کا رویہ تمہارے لیے عذاب کا باعث بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر آئے گا اور تمہیں ہلاک کردے گا۔ اور دوسری جس بات سے ڈراتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–60

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو جو لوگ رزاق نہیں مانتے اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ دنیا اور آخرت میں اس طرح ہی نقصان پائیں گے جس طرح ان سے پہلے مجرم نقصان پاچکے ہیں۔ اہل مکہ کے جرائم : یہاں ظلم سے مراد ہر قسم کے گناہ ہیں۔ جن میں سرفہرست شرک ہے۔ ان آیات میں ایک طرف نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف کفار کی عادت اور ان کا انجام بتلایا گیا ہے اہل مکہ نبی ﷺ پر وہی الزام لگا رہے تھے جو ان سے پہلے ظالم لوگ انبیاء پر لگایا کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزام لگانے والوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ باز آجاؤ ورنہ تمہارا انجام بھی پہلے ظالموں جیسا ہوگا۔ دنیا کے برے انجام کے ساتھ جس دن کا تمہیں وعدہ دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 60 : فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہے۔ جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) جس کا وعدہ کیا گیا اس سے قیامت کا دن مراد ہے۔ اور ایک قول یہ ہے بدر کا دن مراد ہے۔ قراءت : یعقوب نے دونوں حالتوں میں یاء سے پڑھا ہے سہل نے وصل میں اس کی موافقت کی ہے اور باقی قراء نے ان کو لیعبدونی ٗ ان یطعمونی ٗ فلا یستعجلونی کو بغیر یاء پڑھا۔ لیعبدون ٗ ان یطعمون ٗ فلا یستعجلون۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

59 ۔” فان للذین ظلموا “ اہل مکہ میں کفر کیا۔ ” ذنوبا “ عذاب کا حصہ۔ ” مثل ذنوب اصحابھم “ ان کے ساتھیوں کے حصہ کی مثل جو ہلاک کیے گئے قوم نوح، قوم عاد وقوم ثمود میں سے اور ذنوب کی اصل لغت میں وہ بڑا ڈول جو پانی سے بھر اہوا ہو۔ پھر اس کا استعمال حصہ اور نصیب کے معنی میں ہونے لگا۔ ” فلا یستعجلون “ عذاب کو یعنی ان کو قیامت کے دن تک موخر کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–60

56۔ 60۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر ماں باپ اگر برے ہوئے تو ان کی صحبت سے وہ بچہ بگڑ جاتا ہے۔ مسلم 2 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اس کی حالت ملت اسلام پر ہونے کی قائم رہتی ہے۔ معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً انسان کو جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے دیئے ہیں اسی طرح ہر انسان کے دل میں حق بات کے قبول کرنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے۔ اسی صلاحیت پر ہر بچہ ہوتا ہے اب جو لوگ علم ازلی الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کے سبب سے نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے، چناچہ فرمایا۔ (فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ ) پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے ان کا کوئی مددگار ہوگا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہوگا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 26] کافروں کیلئے بڑی ہولناک خرابی، والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما ددی گیا کہ کافروں کے لئے ایک بڑی سخت خرابی اور انتہائی ہولناک تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ بلکہ اس عذاب سے بچنے کی فکر و سعی کریں قبل اس سے کہ وہ ان کو آدبوچے اور ان کے لئے سنبھلنے اور بچنے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس یہ لوگ اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کافروں کے لئے بڑی سخت خرابی اور انتہائی ہولناک تباہی ہے اور اتنی بڑی اور اس قدر ہولناک کہ کسی کے لئے اپنے طور پر اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ سو اس سے ہر دور کے منکروں کو تنبیہ فرما دی گئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:60) ویل عذاب، ہلاکت، تباہی، دوذخ کی ایک وادی کا نام۔ عذاب کی شدت ۔ یوعدون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ وعد (باب ضرب) مصدر۔ ان کو وعید دی جا رہی ہے۔ ان سے وعدہ عذاب کی اجا رہا ہے۔ یومہم : مضاف مجاف الیہ۔ ان کا دن۔ مراد یوم قیامت ہے۔ ترجمہ پس تباہی ہے ان کیلئے جنہوں نے کفر کیا اس دن سے جس کا (ان سے) وعدہ کیا گیا ہے یا۔ جس کی ان کو وعید دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 60 ما ارید میں نہیں چاہتا۔ یطعمون وہ کھلاتے ہیں۔ ذنوب پانی کا ڈول۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 60 انسانوں کی طرح جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر ایک مخلوق کا دائرہ عمل اپنا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن جنات اور مومن انسانوں کی پیدئاش کا بنیادی مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور سا کے ساتھ کسی کو سکی طرح شریک نہ کریں۔ عبادت یہ ہے کہ اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ اور بندوں کے تمام حقوق کو احسن طریقے سے پورا کیا کریں۔ نہ حقوق اللہ میں کمی کریں نہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–60

انسانوں اور جنوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ میں نے جنوں کو اور انسانوں کو فقط اسی لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں میرے احکام مانیں، میں نے سب کو اسی کا حکم دیا ہے کہ توحید اختیار کریں۔ آگے فرمایا کہ ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں ان ہی کا نفع ہے، میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے، میرے لیے کماکرلاؤ، یا میرے سامنے کھانالاکر رکھو، میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے، میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں، بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–60

[25] یعنی اپنی ساری زندگی ہماری بندگی و اطاعت میں گزاریں۔ نیز ملاحظہ ہو سورة فاتحہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–60

تخلیق انسانی کی غرض وغایت 3: یہ مسئلہ ابتداء سے بہت اہم رہا ہے ۔ کہ انسانی تخلیق سے مقصود کیا ہے ؟ فاسد سے لے کر مذاہب تک نے اس پر یکساں نبع آزمائی کی ہے ۔ اور بالآخر دونوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ وہ اس کا کوئی تسلی بخش حل دریافت نہیں کرسکے اور یہ جواب نہیں دے سکے ۔ کہ انسان کے پیدا ہونے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ البتہ قرآن حکیم اپنی زبان میں کہتا ہے ۔ کہ میں سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ انسان کو خلعت وجود سے اس لئے نوازا گیا ہے تاکہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ مگر کیا عبادت ایسا مفہوم ہے ۔ جو اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہو ۔ کہ اسے زندگی کا نصب العین قرار دیا جاسکے ۔ یہ چیز قابل غور ہے ۔ جہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(60) غرض ان کافروں کے لئے اپنے اس دن ک یآنے سے بڑی خرابی ہوگی جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی دین حق کے منکروں کے لئے اپنے اس دن میں بڑی خرابی تباہی اور ہلاکت ہوگی جس دن کا وعدہ کیا گیا ہے وہ دن یا تو وہی انصاف کا دن ہے جس کا شروع سورت میں وعدہ کیا گیا ہے۔ انماتوعدون لصادق وان الدین لواقع۔ اور یا دنیوی عذاب کا کوئی دن ہو اور ہوسکتا ہے کہ یوم بدر ہو۔ (واللہ اعلم) تم تفسیر سورة الذاریات

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–60

ف 2۔ حاصل یہ کہ جب اس عبادت کے مشروع کرنے سے ہماری کوئی غرض نہیں بلکہ خود بندوں ہی کا نفع ہے تو ان کو اس میں پس و پیش نہ کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تعارف سورة (الطور) نام سورت اس سورت کا نام سورة الطور ہے اور یہ لفظ اس سورت کی پہلی آیت یا پہلا لفظ ہے یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اس لئے مکی کہلاتی ہے اس سورت میں 2 رکوع اور 49 آیات کریمات بیان کی گئی ہیں۔ سورت کا نزول نمبر 76 ہے۔ اور تریب موجودہ میں اس کا نمبر 52۔ اس سورت میں 312 کلمات اور 1500 حروف بیان کئے گئے ہیں لیکن جیسا کہ ہم پہلے کئی بار کہہ چکے ان کو ہم نے خود شمار نہیں کیا بلکہ گزشتہ تحریرات پر انحصار کیا ہے۔ یہ سورت سورة الذاریات سے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی تاہم مکی ہونے کے باعث اس کے مضامین مکی سورتوں ہی سے ملتے جلتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ مکی سورتوں میں توحید الٰہی کا بیان ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

The word ذُنُوب dhanub in verse 59 is with lath on the letter [ dh ] which means a large bucket that is kept at the common wells of a locality for the purpose of drawing and filling water. A turn is designated for each of the persons using the large common bucket to draw out water from the well, so that he is conveniently able to fill it in his own private bucket in his turn. Thus the word here is employed in the sense of turn, share or portion. Hence it is translated above as follows: "So, those who did wrong deserve a share (in the punishment) like the share of their companions." The verse…

Read the full tafseer →