Ayahs 51:1–6قیامت ضرور واقع ہوگی، منکرین عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے
یہاں سے سورة الذاریات شروع ہو رہی ہے اس میں الذاریات اور الحاملات اور الجاریات اور المقسمات کی قسم کھائی ہے اور اس میں ذروا اور یسرًا تو مفعول مطلق ہے اور وقراً اور امراً مفعول بہ ہیں۔
صاحب روح المعانی نے حضرت عمر اور حضرت علی ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے جو ترجمہ میں لکھ دی گئی ہے چاروں چیزوں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ سچ ہے اور جزا یعنی اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے یعنی قیامت ضرور قائم ہوگی بنی آدم میدان حشر میں حاضر ہوں گے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں فرشتے ہیں، جو آسمان میں رہنے والی مخلوق ہے اور بادل ہیں جو آسمان اور زمین کے درمیان ہوتے ہیں اور ہوائیں ہیں جو زمین کے اوپر چلتی ہیں اور اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جاتی رہتی ہیں اور کشتیاں ہیں جو سمندروں اور نہروں میں چلتی ہیں۔ ان چیزوں کے جاننے والے اور دیکھنے والے غور و فکر کریں گے تو یہ سمجھ میں آجائے گا کہ قیامت قائم ہونے میں شک کرنا غلط ہے، جس ذات پاک کے یہ تصرفات ہیں اس کے لیے قیامت قائم کرنا کوئی مشکل نہیں اس نے وقوع قیامت کی خبر اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعہ دی ہے یہ خبر سچی ہے۔
Ayahs 51:7–9اس کے بعد آسمان کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ007﴾ کہ قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے آنے جانے کے) راستے ہیں تم لوگ ایک ایسی گفتگو میں لگے ہوئے ہو جس میں اختلاف ہو رہا ہے کوئی قیامت کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے اس میں جو لوگ قول حق کے مخالف ہیں یعنی وقوع قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ اس قول سے ہٹائے جا رہے ہیں یعنی جس کو بالکل ہی خیر سے اور حق سے محروم ہونا ہے وہی اس قول حق سے ہٹتا اور بچتا ہے۔
Ayah 51:10پھر فرمایا ﴿ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ0010﴾ غارت ہوجائیں اٹکل پچو باتیں کرنے والے (یعنی جھوٹے لوگ) جو قرآن کو جھٹلاتے ہیں دلائل سامنے ہوتے ہوئے ان میں غور نہیں کرتے اپنی جاہلانہ اٹکل کو سامنے رکھ کر تکذیب کرتے ہیں۔
Ayahs 51:11–14﴿الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ0011﴾ (جو جہل عظیم میں پرے ہوئے ہیں، غافل ہیں) ﴿يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِؕ0012﴾ (تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کب ہوگا جزا کا دن) ﴿ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ 0013﴾ (یہ بدلہ کا دن اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے) ۔ ﴿ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ 1ؕ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠0014﴾ (ان سے کہا جائے گا اپنی اس سزا کا مزہ چکھو، یہ ہے وہ جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے) دنیا میں تم باتیں بناتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ دن کب ہوگا، كب ہوگا ؟ اب یہ دن آگیا انکار کی سزا بھگت لو اور جلدی مچانے کا مزہ چکھ لو۔
Ayahs 51:15–19متقی بندوں کے انعامات کا اور دنیا میں اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کا تذکرہ
مکذبین کی سزا بتانے کے بعد مومنین متقین کا انعام بتایا اور فرمایا کہ متقی لوگ باغوں میں چشموں میں ہوں گے ان کے رب کی طرف سے انہیں وہاں جو کچھ دیا جائے گا اسے (بڑی خوشی سے) لینے والے ہوں گے، دنیا میں یہ حضرات گناہوں سے تو بچتے ہی تھے جس کی وجہ سے انہیں متقین کے لقب سے سرفراز فرمایا، اعمال صالحہ بھی بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں محسنین کے لقب سے ملقب فرمایا ان کے نیک کاموں میں ایک بڑا قیمتی عمل یہ تھا کہ رات کو بہت کم سوتے تھے نمازیں پڑھتے رہتے تھے دنیا سوتی رہتی اور یہ لوگ جاگتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے لو لگاتے تھے۔
قال صاحب الروح : ناقلاً عن الحسن : کا بدوا قیام اللیل لا ینامون منہ الا قلیلا، وعن عبداللّٰہ بن رواحة رضی اللّٰہ عنہ ھجعوا قلیلاً ثم قاموا۔ یہ لوگ راتوں کو نماز پڑھتے اور راتوں کے آخری حصہ میں استغفار کرتے تھے انہیں راتوں رات نماز پڑھنے پر غرور نہیں تھا اپنے اعمال کو بارگاہ خداوندی میں پیش کرنے کے لائق نہیں سمجھتے تھے کوتاہیوں کی وجہ سے استغفار کرتے تھے۔ اہل ایمان کا یہ طریقہ ہے کہ نیکی بھی کریں اور استغفار بھی کریں تاکہ کوتاہی کی تلافی ہوجائے۔
ان حضرات کی جسمانی عبادت کا تذکرہ فرما کر ان کے انفاق مالی کا تذکرہ فرمایا کہ ان کے مالوں میں حق ہے سوال کرنے والوں کے لیے اور محروم کے لیے یعنی اپنے مالوں کا جو حصہ اہل حاجت کو دیتے ہیں اس کے دینے کا ایسا اہتمام کرتے ہیں جیسے ان کے ذمہ واجب ہو اس لیے اسے حق سے تعبیر فرمایا۔
لفظ سائل کا ترجمہ تو معلوم ہے محروم کا کیا مطلب ہے ؟ مفسرین نے اس کے کئی معنی لکھے ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ سائل کے مقابلہ میں ہے یعنی جو شخص سوال نہیں کرتا وہ محروم ہے جو سوال نہیں کرتا اس لیے محروم رہ جاتا ہے کہ لوگ اس کا حال جانتے نہیں اور وہ خود بتاتا نہیں لہٰذا دینے والے اس کی طرف دھیان نہیں کرتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمہ اور دو لقمہ اور ایک کھجور اور دو کھجور لیے لیے پھرتے ہوں لیکن مسکین وہ ہے جس کے پاس حاجت پوری کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو اور لوگوں کو اس کا پتہ بھی نہ چلے (پتہ چل جاتا تو صدقہ کردیتے) اور وہ سوال کرنے کیلئے کھڑا بھی نہیں ہوتا۔ (رواہ البخاری جلد 1)
یعنی وہ اسی طرح اپنی حاجت دبائے ہوئے وقت گزار دیتا ہے، صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے محروم کا یہ معنی لکھا ہے کہ وہ کمانے کی تدبیریں تو کرتا ہے لیکن دنیا اس سے پشت پھیر لیتی ہے اور وہ لوگوں سے سوال بھی نہیں کرتا۔
پھر حضرت زید بن اسلم ؓ سے نقل کیا ہے کہ محروم وہ ہے جس کے باغوں کا پھل ہلاک ہوجائے اور ایک قول یہ لکھا ہے کہ جس کے مویشی ختم ہوجائیں جن سے اس کا گزارا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 51:20–22زمین میں اور انسانوں کی جانوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تمہاری جانوں میں بھی نشانیاں ہیں ان میں غور کرنے سے تمہاری سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اپنی مخلوق میں جو ایسے ایسے تصرفات کرنے والا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، بصیرت کی آنکھوں سے دیکھنے والا اس بات کو کچھ سمجھ سکتا ہے کہ قیامت قائم کرنا اس ذات کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے جس کے یہ تصرفات ہیں۔ ﴿اِنَّ الَّذِيْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتٰى﴾ اور ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ میں اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔
پھر فرمایا کہ آسمانوں میں تمہارا رزق ہے اور جو کچھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ بھی ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رزق سے بارش مراد ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اور وہ انسانوں کی خوراک یعنی کھانے پینے کی چیزیں پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے اور وما تو عدون کے بارے میں حضرت مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ اس سے خیر اور شر مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ثواب اور عقاب مراد ہے یہ دونوں مقرر ہیں اور مقدر ہیں۔
Ayah 51:23﴿اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ (رح) 0023﴾ پھر فرمایا کہ آسمان اور زمین کے رب کی قسم یہ اسی طرح حق ہے جیسے تم باتیں کرتے ہو، تمہیں اپنی باتیں کرتے وقت اس بات میں کوئی شک نہیں ہوتا کہ ہم بول رہے ہیں باتیں کر رہے ہیں اور یہ بات بہت واضح ہے، انہ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ رزق کی طرف یا نبی کریم ﷺ کی طرف یا قرآن کی طرف یا دین (جزاء) کی طرف راجع ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ابتداء سورت سے لے کر یہاں تک جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے سب حق ہے لیکن ثواب اور عقاب کی طرف راجع ہونا زیادہ اوفق اور اظہر ہے۔ ان دونوں کا تعلق چونکہ یوم جزا سے ہے اس لیے ان کے مراد لینے سے یوم الدین کے واقع ہونے کا تذکرہ مزید مؤكد ہوجاتا ہے جس کے وقوع کا مخاطبین انکار کرتے تھے۔
Ayahs 51:24–30حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا لیکن یہ لوگ ایمان نہ لائے نہ اپنی حرکتوں سے باز آئے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کرنے کے لیے فرشتوں کو بھیجا، یہ فرشتے انسانی شکل میں اولاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے چونکہ یہ حضرات اللہ کے مقرب اور مکرم بندے تھے اس لیے یوں فرمایا کہ کیا آپ کے پاس ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؟ یہ حضرات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دے دیا۔ لیکن چونکہ ان حضرات سے ابھی ابھی نئی ملاقات ہوئی تھی اس لیے ﴿ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ﴾ فرمایا یعنی آپ حضرات بےجان پہچان کے لوگ ہیں۔ ابھی آئے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اندر اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے گئے اور بھنا ہوا فربہ بچھڑا لے کر باہر تشریف لائے اور مہمانوں کے پاس رکھ دیا اور کھانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ اَلَا تَاْكُلُوْنَٞ﴾ کیا آپ حضرات نہیں کھاتے، زبان سے کہنے پر بھی انہوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ یہ ماجرا دیکھا تو مزید توحش ہوا۔ یہاں سورة الذاریات میں ہے ﴿ فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً ﴾ فرمایا کہ ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا اور سورة الحجر میں ہے کہ زبان سے بھی ﴿ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ 0052﴾ فرما دیا کہ ہم آپ سے خوف زدہ ہو رہے ہیں، مہمانوں نے کہا ﴿ لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ 0053﴾ کہ آپ نہ ڈریئے ہم آپ کو ایک صاحب علم لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو بوڑھا ہوچکا ہوں اب مجھے کیسی بشارت دے رہے ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی وہیں کھڑی تھیں ان کو خوشخبری سنائی کہ تمہارا ایک بیٹا اسحاق ہوگا اور اس کا بھی ایک بیٹا ہوگا وہ کہنے لگیں ہائے، خاک پڑے کیا میں اب جنوں گی اور حال یہ ہے کہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور اتنا ہی نہیں بلکہ یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں یہ تو عجیب بات ہے۔ یہ مضمون سورة ٴ ہود میں مذکور ہے یہاں سورة الذاریات میں فرمایا ہے ﴿فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ ﴾ کہ ان کی بیوی بولتی ہوئی پکارتی ہوئی آئیں ﴿ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا﴾ انہوں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا ﴿ وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ0029﴾ اور کہنے لگیں میں بڑھیا ہوں، بانجھ ہوں۔ یہاں سورة الذاریات میں لفظ عقیم یعنی بانجھ کا بھی اضافہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی بورھے تو تھے ہی اس سے پہلے اس خاتون سے کبھی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ فرشتوں نے کہا ﴿ كَذٰلِكِ 1ۙ قَالَ رَبُّكِ 1ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ 0030﴾ تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے بیشک وہ جب چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے فرشتوں کی بشارت کے مطابق لڑکا پیدا ہوا اور اس بیٹے کا بیٹا یعقوب بھی وجود میں آیا جس کا لقب اسرائیل تھا اور سب بنی اسرائیل ان کی اولادیں ہیں۔
Ayahs 51:31–36حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ مسرفین یعنی حد سے گزر جانے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں سورة العنکبوت میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتوں نے کہا ﴿ اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ 1ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِيْنَۚۖ0031﴾ (بےشک ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں بلاشبہ اس بستی کے رہنے والے ظالم ہیں) جب فرشتوں نے بستی کا نام لیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فکر مند ہوئے قال ان فیھا لوطا (کہ اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں) فرشتوں نے جواب میں کہا ﴿نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِيْهَا ﴾ (ہمیں ان لوگوں کا خوب پتہ ہے جو اس بستی میں ہیں) ﴿لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ﴾ (ہم لوط کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دے دیں گے سوائے اس کی بیوی کے) یہ سورة ٴ عنکبوت کا مضمون ہے اور یہاں سورة الذاریات میں ہے کہ فرشتوں نے کہا کہ ﴿ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَۚ0035 ﴾ (اس بستی میں جو اہل ایمان ہیں ان کو ہم نے مجرمین سے علیحدہ کردیا ہے) یہ لوگ ہمارے علم میں ہیں جو تھوڑے ہی سے ہیں، جس گھر کا تذکرہ فرمایا ہے یہ گھر حضرت لوط (علیہ السلام) کا تھا جس میں ان کے آل و اولاد تھے جو مومن تھے ہاں ان کی بیوی مسلمان نہ ہوئی تھی، معالم التنزیل میں لکھا ہے یعنی لوطا وابنتیہ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی دو بیٹیاں تینوں افراد نجات پا گئے اور عذاب سے بچا لیے گئے۔ روح المعانی میں حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ اہل ایمان میں تیرہ افراد تھے اگر اس بات کو لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ باقی دس افراد حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں جمع ہوگئے تھے۔ فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی میں پہنچے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ آپ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کسی حصے میں بستی سے نکل جائیں اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہ جانا اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا ہے جو دوسرے مجرمین کو پہنچے گا۔ جب یہ حضرات رات کو بستی سے باہر نکل گئے تو سورج نکلتے وقت ان کی قوم کو ایک چیخ نے پکڑ لیا اور ان کا تختہ الٹ دیا گیا یعنی اوپر کا حصہ نیچے کردیا گیا اور ان پر کھنکھر کے پتھر برسا دیئے گئے یہ تینوں عذاب سورة الحجر میں مذکور ہیں۔
Ayah 51:37بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس علاقہ میں موجود تھے ان کو چیخ نے بھی پکڑا اور زمین کا تختہ بھی الٹ دیا گیا اور جو لوگ ادھر ادھر باہر نکلے ہوئے تھے وہ انہیں پتھروں کی بارش سے ہلاک ہوگئے۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ تَرَكْنَا فِيْهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَؕ0037﴾ (اور ہم نے اس واقعہ میں ایسے لوگوں کے لیے عبرت رہنے دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں) واقعہ کا تذکرہ عبرت دلانے کے لیے ہے لیکن لوگوں نے ان کی ہلاک شدہ بستیوں کو سیر و سیاحت کی جگہ بنا رکھا ہے۔ ان بستیوں کی جگہ بحرمیت کھڑا ہے، لوگ تفریح کے طور پر سفر کرتے ہیں عبرت حاصل نہیں کرتے۔ سارے انسانوں پر لازم ہے کہ سابقہ امتوں کے واقعات سے عبرت لیں اور نصیحت حاصل کریں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا واقعہ سورة ٴ انعام (10 ع) میں سورة ٴ ھود (7 ع) میں اور سورة ٴ الحجر (4 ع، 5 ع) اور سورة النمل (5 ع) اور سورة الانبیاء (5 ع) اور سورة ٴ الشعراء (9 ع) اور سورة العنکبوت (3 ع، 4 ع) میں بھی مذکور ہے۔