Adh-Dhaariyat 51:59

Adh-Dhaariyat · from ayah 59

51:59

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ ۟فَاِنَّ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ذَنُوۡبًا مِّثۡلَ ذَنُوۡبِ اَصۡحٰبِهِمۡ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنِ

کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, for those who have wronged is a portion [of punishment] like the portion of their predecessors, so let them not impatiently urge Me.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:59

پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھیوں کے حصہ کے مثل حصہ ملے گا، لہٰذا وه مجھ سے جلدی طلب نہ کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب تو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کی بھی ایسی ہی باری آئے گی جیسے ان کے (پچھلے) ساتھیوں کی باری آئی تھی، اس لیے وہ مجھ سے جلدی (عذاب لانے) کا مطالبہ نہ کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بیشک ان ظالموں کے لیے عذاب کی ایک باری ہے جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی تو مجھ سے جلدی نہ کریں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ان ظالموں کے لئے (بھی) حصۂ عذاب مقرّر ہے ان کے (پہلے گزرے ہوئے) ساتھیوں کے حصۂ عذاب کی طرح، سو وہ مجھ سے جلدی طلب نہ کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس یقینا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، ان کے ساتھیوں کی باری کی طرح (عذاب کی) ایک باری ہے، سو وہ مجھ سے جلدی (عذاب) نہ مانگیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سو ان ظالموں (کے گناہوں) کا ڈول بھی ایسے ہی بھر چکا ہے جسے ان جیسے دوسرے لوگوں کا بھر گیا تھا۔ لہذا یہ مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ان ظالموں کے لئے بھی ویسا ہی مقرر پیمانہ ہے جیسا ان کے اگلے ہم مشریوں کے لئے تھا۔ تو جلدی نہ مچائیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس ان لوگوں کے لئے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے ظلم (و باطل) پر یقینا ایک حصہ ہے جیسا کہ انہی جیسے دوسرے لوگوں کو اپنا حصہ مل چکا ہے لہذا یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں

— مولانا اسحاق مدنی

سو جو یہ ظالم لوگ ہیں ان کی بھی باری ہے جیسے ان کے ہم مشربوں کی باری تھی سو یہ لوگ مجھ سے جلدی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ان ظالموں کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کا پیمانہ لبریز ہوا تھا سو یہ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لیے بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو ان کے حصہ کا مل چکا ہے اس کے لیے جلدی نہ کریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The wrong-doers shall receive a portion of the chastisements as their fellows (of yore). So let them not rush Me.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, those who did wrong will have their turn like the turn of their counterparts. So, they should not ask Me to hasten on.

— Muhammad Taqi Usmani

So, those who did wrong will have their turn like the turn of their counterparts. So, they should not ask Me to hasten on.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, for those who do wrong, there is a portion of torment like to the evil portion of torment (which came for) their likes (of old); so let them not ask Me to hasten on!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! for those who (now) do wrong there is an evil day like unto the evil day (which came for) their likes (of old); so let them not ask Me to hasten on (that day).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, for those who have wronged is a portion [of punishment] like the portion of their predecessors, so let them not impatiently urge Me.

— Saheeh International

The unjust will bear a burden like that of their unjust predecessors. Let them not make Me bring immediate punishment upon them.

— Muhammad Sarwar

So surely those who are unjust shall have a portion like the portion of their companions, therefore let them not ask Me to hasten on.

— Muhammad Habib Shakir

So verily Unto those who do wrong there is a portion like Unto the portion of their fellows; wherefore let them not ask Me to hasten on.

— Abdul Majid Daryabadi

For the Wrong-doers, their portion is like unto the portion of their fellows (of earlier generations): then let them not ask Me to hasten (that portion)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–60

تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 59–60

سورة الذّٰرِیٰت 56 ظلم سے مراد یہاں حقیقت اور صداقت پر ظلم کرنا، اور خود اپنی فطرت پر ظلم کرنا ہے۔ سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ یہاں ظلم کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو خداوند عالم کے سوا دوسروں کی بندگی کر رہے ہیں، جو آخرت کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو دنیا میں غیر ذمہ دار سمجھ رہے ہیں، اور ان انبیاء کو جھٹلا رہے ہیں جنہوں نے ان کو حقیقت سے خبردار کرنے کی کوشش کی ہے۔ سورة الذّٰرِیٰت 57 یہ جواب ہے کفار کے اس مطالبہ کا کہ وہ یوم الجزا کہاں آتے آتے رہ گیا ہے، آخر وہ آ کیوں نہیں جاتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–60

ذَنُوْبًا، لفظ ذنوب بفتح الذال اصل میں بڑے ڈول کو کہا جاتا ہے اور بستی کے عام کنوؤں پر پانی بھرنے کے لئے بغرض سہولت بھرنے والوں کے نمبر اور باری مقرر کرلی جاتی ہے، ہر ایک پانی بھرنے والا اپنی باری میں پانی بھرتا ہے، اس لئے یہاں لفظ ذنوب کے معنی باری اور حصہ کے لئے گئے ہیں، مراد یہ ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں کو اپنے اپنے وقت میں عمل کرنے کا موقع اور باری دی گئی جن لوگوں نے اپنی باری میں کام نہیں کیا وہ ہلاک و برباد اور گرفتار عذاب ہوئے، اسی طرح موجودہ مشرکین کی بھی باری اور وقت مقرر ہے، اگر اس وقت تک یہ اپنے کفر سے باز نہ آئے تو خدا کا عذاب ان کو کبھی تو اسی دنیا میں اور نہیں تو آخرت میں ضرور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فان للذین ظلمواء نوباً مثل ذنوب اصحبھم فلا یستعجلون (59) قریش کو تنبیہ ذنوب، بھرے ہوئے ڈول کو کہتے ہیں۔ خالی ڈول کے لئے یہ لفظ نہیں آتا۔ اسی مفہوم سے ترقی کرکے یہ لفظ حصہ اور نصیب کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا، ابوذوئب کا ایک شعر ہے۔ ھمرک والمنایاغالبات نکل بنی اب منھا ذنوب (تیری جان کی قسم، موت سے مفر نہیں۔ ہر باپ کے بیٹوں کے لئے اس میں حصہ ہے) آیت میں ذنوب، سے مراد زندگی کی وہ محدود مدت ہے جو ان کفار کے حصہ میں آئی ہے۔ للذین ظلموا، سے مراد قریش کے وہی لیڈر ہیں جن کا رویہ یہاں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلے ہم مشربوں کو (اشآارہ عاد وثمود وغیرہ کی طرف ہے) ایک مدت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 59–60

59۔ 1 ذنوب کے معنی بھرے ڈول کے ہیں۔ کنویں سے ڈول میں پانی نکال کر تقسیم کیا جاتا ہے اس اعتبار سے یہاں ڈول کو حصے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ ظالموں کو عذاب سے حصہ پہنچے گا، جس طرح اس سے پہلے کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے عذاب کا حصہ ملا تھا۔ 59۔ 2 لیکن یہ حصہ عذاب انہیں کب پہنچے گا، یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، اس لئے طلب عذاب میں جلدی نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–59

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی اگر یہ ظالم بندگی کی طرف نہیں آتے تو سمجھ لو کہ دوسرے ظالموں کی طرح ان کا ڈول بھی بھر چکا ہے۔ بس اب ڈوبا چاہتا ہے۔ خواہ مخواہ سزا میں جلدی نہ مچائیں۔ جیسے دوسرے کافروں کو خدائی سزا کا حصہ پہنچا، ان کو بھی پہنچ کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59{ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ۔ } ”پس ان ظالموں کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ‘ سو یہ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔“ ”ذَنُوب“ ایسے ڈول کو کہتے ہیں جو پانی وغیرہ سے لبالب بھرا ہوا ہو۔ مراد یہ کہ زمانہ ماضی میں عذاب کا شکار ہونے والی اقوام کی طرح ان کفار و مشرکین کی بداعمالیوں کا ڈول بھی لبریزہو چکا ہے اور یہ ڈول اب کسی وقت بھی کھینچا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر فوری طور پر ان کی پکڑ نہیں بھی ہو رہی تو اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 کنوئیں وغیرہ سے پانی نکالنے والا ڈول یا بالٹی اگر خالی ہو تو اسے دلو کہتے ہیں اور اگر بھرا ہوا ہو تو اسے ذنوب کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دعوت حق کی مخالفت کے لحاظ سے یہ مکہ کے ظالم لوگ بھی اسی پستی تک پہنچ چکے ہیں۔ اور ان کی بقا کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے جیسے ان جیسے اور ان سے پہلے کے ظالموں کا ہوا تھا۔ اور اب ان پر اللہ کا عذاب آنے والا ہے (اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی) لہذا انہیں جلدی مچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب ان کے گناہوں سے بھرا ہوا ڈول ڈوب کے ہی رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

36۔ (وہ عذاب موعود) یعنی عذاب الہی تو اپنے وقت پر حکمت الہی کے موافق اور مصلحت ربانی کے ماتحت ہی آکر رہے گا ؛۔ کسی کے جلدی مچانے سے کیا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ان ..... ذنوبا “۔ یعنی علم الہی میں ان منکرین ومکذبین کے عذاب کے لئے بھی ایک وقت مقرر وموعود ہے۔ یہ لوگ اسے سن رکھیں۔ (آیت) ” مثل ذنوب اصحبھم “۔ اس میں اس اصولی حقیقت کا بیان آگیا کہ گناہوں میں مماثلت سزا میں بھی مماثلت کی مقتضی ہے۔ (آیت) ” اصحبھم “۔ مراد گذشتہ پر قوت قومیں ہیں۔ جو اسی انکار وکفر کی پاداش میں ہلاک ہوچکی ہیں۔ نظراءھم فی الامم السالفۃ (بیضاوی، روح) اصحابھم الذین اھلکوا من قوم نوح وعاد وثمود (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–60

وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون یعنی ہم نے جنات اور انسان کو محض عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس میں ظاہر نظر میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب اجمالی طور پر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان ہوچکا ہے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اعتراض اول : یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی مشیت بھی یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن اور محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشئیت کے خلاف کوئی کام محال ہے۔ اعتراض اول کا پہلا جواب : پہلے اشکار کے جواب میں بعض مفسرین نے اس مضمن کو صرف مومنین کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان للذین ظلموا ذنوبا مثل ذنوب اصحبھم فلا یستعجلون سو ان ظالموں کی (سزا کی) بھی باری (علم الٰہی میں) مقرر ہے جیسے ان کے گزشتہ ہم مشربوں کی (سزا کی) باری مقرر تھی۔ سو مجھ سے (عذاب) جلدی طلب نہ کریں۔ ظَلَمُوْا : یعنی شرک و معاصی کا ارتکاب کر کے اور فطرت سلیمہ کو ضائع کر کے اور بجائے عبادت کے جس کا ان کو مکلف کیا گیا تھا اور جس کی تخلیقی صلاحیت ان کو دی گئی تھی کفران نعمت کر کے انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ ذَنُوْبًا : عذاب کا ایک حصہ۔ ذنوب کا لغوی معنی ہے بڑا ڈول۔ مجازاً مراد ہوتا ہے۔ پانی کا وہ حصہ جو ڈولوں سے پانی پلانے والے باہم تقسیم کر کے لے لیتے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے کہ ذنوب کا لغوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو یہ کفار مکہ سن لیں کہ ان کی سزا بھی باری باری ہے جیسا کہ ان سے پہلے ان کے ساتھیوں کی سزا کی باری مقرر تھی سو مجھ سے عذاب و ہلاکت جلدی طلب نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فان للذین ظلموا ذنوباً …:”ذنوباً“ (ڈال کر فتحہ کے ساتھ) اصل میں بڑے ڈول کو کہتے ہیں اور ”ذنوب“ (ڈال کے ضمہ کے ساتھ)”ذنب“ کی جمع ہے، گناہ پہلے لوگ ایک ہی کنوئیں سے پانی لینے کے لئے آتے تو ہر ایک اپنا ڈول ساتھ لاتا تھا، پھر باری باری اپنا ڈول ڈلاتے اور پانی بھر کرلے جاتے، اس لئے ”ذنوب“ (ڈول) کا لفظ باری کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ سورت کے آخر میں کفار قریش کے متعلق فرمایا ہ جس طرح ان سے پہلے ان کے ساتھیوں پر عذاب باری باری آیا اسی طرح ان مشرکین پر عذاب کی نوبت (باری) بھی آرہی ہے جنہوں نے ظلم کیا۔ ظلم سے مراد اللہ کے ساتھ شرک ہے۔ باری آنے میں کچھ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ (2) فلا یستجلون : یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

وماخلقت الجن والا نس الا لیعبدون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشاد ان کو خاص ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لفظ عام ذکر کیا اور مراد خاص ہے۔ معنی ہے میں نے جن وانس میں سے اہل سعادت کو پیدا نہیں کیا مگر اسی لئے کہ وہ میری توحید کا قرار کریں۔ قشیری نے کہا : آیت میں تخصیص قطعی طور پر داخل ہے کیونکہ مجنوں اور بچوں کو عبادت کا حکم نہیں دیا گیا یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عبادت کا ارادہ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس (الاعراف :179) جو لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ عبادت کیلئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–60

7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' (اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ) ۔ ان کو چاہئے کہ وہ عبودیت کا اقر ار کریں خوشی سے یا ناخوشی سے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا اپنی اطاعت معصیت اور بدبختی اور نیک بختی پر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو شقاوت اور سعادت میں سے کسی پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ تو بیشک ان کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ] ذَنُوْبًا [ ایک بھیانک انجام ہے ] مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ [ ان کے ساتھیوں کے بیانک انجام کی مانند ] فَلَا يَسْتَعْجِلُوْنِ [ پس چاہیے کہ یہ لوگ جلدی نہ مانگیں مجھ سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

پھر فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ 0058﴾ (بلاشبہ اللہ بہت زیادہ رزق دینے والا ہے وہ قوت والا ہے اور نہایت ہی قوت والا ہے) وہی سب کو رزق دیتا ہے اور خوب زیادہ رزق دیتا ہے وہ قوت والا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی قوت والا نہیں پھر بھلا وہ بندوں سے رزق کا کیا امیدوار ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد ظالموں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ظالموں کے لیے عذاب کا بڑا حصہ ہے جیسا کہ ان سے پہلے ان جیسے لوگوں کا حصہ تھا لہٰذا عذاب آنے کی جلدی نہ مچائیں کفر کے باعث ان پر عذاب آنا ہی آنا ہے۔ دیر لگنے کی وجہ سے عذاب سے چھٹکارہ نہ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–60

21:۔ ” فان للذین۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مکہ کے ان ظالموں اور مشرکوں کے لیے عذاب کا ایک حصہ مخصوص ہے جس طرح اقوام سابقہ کے ان جیسے ظالموں کو عذاب کا حصہ چکھایا گیا اس لیے وہ جلدی نہ کریں ان کے حصے کا عذاب ان کو مل کر رہے گا۔ عذاب کا معین وقت آنے کی دیر ہے۔ ” فویل للذین کفروا۔ الایۃ “ جس یوم عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا گیا ہے وہ دن ان کے لیے نہایت ہی ہلاکت خیز اور ان کی تباہی و بربادی کا دن ہوگا۔ اس دن سے جنگ بدر کا دن مراد ہے۔ جس میں کفر و شرک کے سرغنوں نے مٹھی بھر اور بےہتھیار مسلمانوں کے ہاتھوں قتل اور قید و بند کے ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھایا۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے (بحر،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر منکرین قیامت کا رد ہوا ہے ، اور اب آخر میں اللہ نے اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔ گزشتہ درس میں منکرین رسالت کا تذکرہ کیا اور اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کہنے والوں کی مذمت بیان کی ۔ پھر آخر میں اپنے نبی کو تسلی دی اور ساتھ ساتھ لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں ، آپ کی نصیحت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مقصد تخلیق جن و انس آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون میں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُوْنِ۝ 59 ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–60

1 ؎ ذنوبا والذنوب الدلوا العظمیۃ ھذا تمثیل واصلہ تقسیم المار یکون لھذا ولو ولھذا ولو یعنی حالھم کما لھم من انمد العیش والغفلۃ محکما وقع علیھم نفع علی ھو ‘ لارو یمکن ان یکون الذنوب بمعنی المعاصی اے ان لھھو الاء القوم جرائم مثل جرائم اصحابھم الماضین۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِھِمْ فَلاَ یَسْتَعْجِلُوْنِ ۔ (الذریٰت : 59) (پس ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ویسا ہی مقرر پیمانہ ہے جیسا ان ہی جیسے لوگوں کے لیے تھا، یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ ) قریش اور دیگر کفار کو تنبیہ ذَنُوْببھرئے ہوئے ڈول کو کہتے ہیں، خالی ڈول کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض دیہات یا بعض پبلک جگہوں میں ٹھنڈا پانی کم دستیاب ہوتا ہے تو ایسے کنویں تیار کیے جاتے ہیں جہاں سے لوگ اپنی ضرورت کے مطابق پانی حاصل کرسکیں۔ اور ایسے کنوئوں پر ڈول کھینچنے کی پھر کی لگائی جاتی ہے اور عام سائز سے بڑے ڈول لٹکائے جاتے ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–60

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو جو لوگ رزاق نہیں مانتے اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ دنیا اور آخرت میں اس طرح ہی نقصان پائیں گے جس طرح ان سے پہلے مجرم نقصان پاچکے ہیں۔ اہل مکہ کے جرائم : یہاں ظلم سے مراد ہر قسم کے گناہ ہیں۔ جن میں سرفہرست شرک ہے۔ ان آیات میں ایک طرف نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف کفار کی عادت اور ان کا انجام بتلایا گیا ہے اہل مکہ نبی ﷺ پر وہی الزام لگا رہے تھے جو ان سے پہلے ظالم لوگ انبیاء پر لگایا کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزام لگانے والوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ باز آجاؤ ورنہ تمہارا انجام بھی پہلے ظالموں جیسا ہوگا۔ دنیا کے برے انجام کے ساتھ جس دن کا تمہیں وعدہ دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اب ان ظالموں کی باری : آیت 59 : فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس ان ظالموں کی) قریش مکہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تکذیب کا ظلم کیا۔ ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ (بھی باری ہے جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کی باری تھی) اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے ان کا حصہ ہے جیسا کہ ان کے ہم مثل ہلاک شدہ زمانوں والے کا۔ قول الزجاج : الذنوب لغت میں حصہ کو کہتے ہیں۔ فَـلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ (پس یہ مجھ سے جلدی نہ طلب کریں) یعنی نزول عذاب میں۔ اس میں نضر اور اس کے ساتھیوں کا جواب ہے۔ جب کہ انہوں نے جلد عذاب مانگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58 ۔” ان اللہ ھوالرزاق “ یعنی اپنی تمام مخلوق کو۔ ” ذوالقوۃ المتین “ اور وہ قوت والا قادر قوت وقدرت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–60

56۔ 60۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر ماں باپ اگر برے ہوئے تو ان کی صحبت سے وہ بچہ بگڑ جاتا ہے۔ مسلم 2 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اس کی حالت ملت اسلام پر ہونے کی قائم رہتی ہے۔ معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً انسان کو جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے دیئے ہیں اسی طرح ہر انسان کے دل میں حق بات کے قبول کرنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے۔ اسی صلاحیت پر ہر بچہ ہوتا ہے اب جو لوگ علم ازلی الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کے سبب سے نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

وہ لوگ جنہوں نے حضرت محمد کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ان کے لیے عذاب اور سزا ہے (ذنوبا) یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ (فلایستعجلون) اس لیے وہ عذٓب کے لیے جلدی نہ مچائیں کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے چناچہ ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اس پر عذاب ضرور واقع ہوگا خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 58–59

[ 60] روزی رساں سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ ہی ہے سب کا روزی رساں۔ یعنی متبداء اور خبر چونکہ دونوں معرفہ ہیں۔ اس لئے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا کہ روزی رساں صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کو روزی رساں سمجھنا جائز نہیں۔ مگر کلمہ گو مشرکوں نے اس سب کے باوجود کسی کو داتا بنا رکھا ہے، کسی کو غریب نواز، اور کسی کو سخی سرکار، اور کسی کو کچھ اور وغیرہ وغیرہ، جب کہ قرآن و سنت کی نصوص کریمہ تصریح کرتی ہیں کہ داتا اور روزی رساں سب کا اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے، کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، تو کیا ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 ڈول سے مراد گناہوں کا ڈول ہے اور اس کے بھرنے کا مطلب شامت کی گھڑی کا آ پہنچنا ہے۔ 13 یعنی ان کی شامت کی گھڑی قریب آپہنچی ہے (چاہے دنیا میں اور چاہے مرنے کے بعد آخرت میں) وہ جلدی کیوں مچا رہے ہیں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:59) فان :عاطفہ ان حرف تحقیق ہے۔ بےشک، یقینا، تحقیق۔ للذین ظلموا۔ لام اختصاص کا ہے۔ الذیناسم موصول جمع مذکر، صلہ۔ جنہوں نے ظلم کیا۔ جنہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی ذنوبا : ان کا اسم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ذنوب اصل میں بڑے ڈول کو کہتے ہیں جس سے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ کنووں اور کھایوں کا پانی ڈول سے تقسیم کیا کرتے تھے۔ ڈول کے ذریعہ پانی تقسیم کرنے میں الراجز کا شعر ہے لنا ذنوب ولکم ذنوب فان ابیتم فلنا القلیب (ہمارے تمہارے درمیان پانی کی تقسیم ) ایک ڈول تمہارا اور ایک ڈول ہمارا ہے۔ اگر تم یہ نہیں مانتے تو ساری کی ساری کجایء (یا کنواں) ہماری ہے۔ اس سے ذنوب یعنی الدلو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 60 ما ارید میں نہیں چاہتا۔ یطعمون وہ کھلاتے ہیں۔ ذنوب پانی کا ڈول۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 60 انسانوں کی طرح جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر ایک مخلوق کا دائرہ عمل اپنا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن جنات اور مومن انسانوں کی پیدئاش کا بنیادی مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور سا کے ساتھ کسی کو سکی طرح شریک نہ کریں۔ عبادت یہ ہے کہ اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ اور بندوں کے تمام حقوق کو احسن طریقے سے پورا کیا کریں۔ نہ حقوق اللہ میں کمی کریں نہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–60

انسانوں اور جنوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ میں نے جنوں کو اور انسانوں کو فقط اسی لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں میرے احکام مانیں، میں نے سب کو اسی کا حکم دیا ہے کہ توحید اختیار کریں۔ آگے فرمایا کہ ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں ان ہی کا نفع ہے، میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے، میرے لیے کماکرلاؤ، یا میرے سامنے کھانالاکر رکھو، میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے، میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں، بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–60

[25] یعنی اپنی ساری زندگی ہماری بندگی و اطاعت میں گزاریں۔ نیز ملاحظہ ہو سورة فاتحہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–60

تخلیق انسانی کی غرض وغایت 3: یہ مسئلہ ابتداء سے بہت اہم رہا ہے ۔ کہ انسانی تخلیق سے مقصود کیا ہے ؟ فاسد سے لے کر مذاہب تک نے اس پر یکساں نبع آزمائی کی ہے ۔ اور بالآخر دونوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ وہ اس کا کوئی تسلی بخش حل دریافت نہیں کرسکے اور یہ جواب نہیں دے سکے ۔ کہ انسان کے پیدا ہونے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ البتہ قرآن حکیم اپنی زبان میں کہتا ہے ۔ کہ میں سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ انسان کو خلعت وجود سے اس لئے نوازا گیا ہے تاکہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ مگر کیا عبادت ایسا مفہوم ہے ۔ جو اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہو ۔ کہ اسے زندگی کا نصب العین قرار دیا جاسکے ۔ یہ چیز قابل غور ہے ۔ جہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(59) پس بلا شبہ ان ظالموں کے لئے بھی ایک باری مقرر ہے جس طرح ان کے ہم مشربوں کی باری مقرر تھی لہٰذا یہ مجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کریں۔ یہ عبادت میں شریک کرنے والوں کو دھمکی فرمائی یعنی یہ کفار مکہ جو ظلم اور شرک فی العبادات کا ارتاکاب کررہے ہیں اور اپنی صفائی میں یہ کہتے ہیں کہ اگر غلط کار ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس کو فرمایا کہ ان کا بھی عذاب میں ایک حصہ ہے جس طرح ان سے پہلے جو ان کے ہم خیال اور مشرک تھے ان کا بھی ایک حصہ اور باری مقرر تھی جب ان کی نائو اور ان کا ڈول بھر گیا تو ان کی باری پوری ہوگئی جب ان کا ڈول اور ان کے پاپ کی نائو بھر جائیگی تو ان کی بھی باری پوری ہوجائے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–60

ف 2۔ حاصل یہ کہ جب اس عبادت کے مشروع کرنے سے ہماری کوئی غرض نہیں بلکہ خود بندوں ہی کا نفع ہے تو ان کو اس میں پس و پیش نہ کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منکرین کے لئے بڑی ہی خرابی ہے اس دن جس دن کا ان سے وعدہ کیا جا چکا ہے 60 ؎ کافروں ‘ منکروں ‘ مشرکوں اور منافقوں کے لئے کیا ہے ؟ افسوس ہی افسوس تو ہے آج بھی اور کل بھی ‘ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ یقینا وہ متعین دن بھی آئے گا جو ان کے وعدہ کے لئے مقرر کیا جا چکا ہے یعنی قیامت سے اگر وہ انکار کر رہے ہیں تو ان کے انکار کے باعث نہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ ان کو یقین دلوانے کے لئے ہم اس دن کو جلدی لے آئیں اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو موخر کردیں اور ان سے آج ہی نمٹ لیں تاکہ ان کو اپنے کئے کا جلد حصہ مل جائے۔ نہیں جو ان کو وعدہ دیا گیا ہے اس کا وہ انتظار کریں کیا ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

The word ذُنُوب dhanub in verse 59 is with lath on the letter [ dh ] which means a large bucket that is kept at the common wells of a locality for the purpose of drawing and filling water. A turn is designated for each of the persons using the large common bucket to draw out water from the well, so that he is conveniently able to fill it in his own private bucket in his turn. Thus the word here is employed in the sense of turn, share or portion. Hence it is translated above as follows: "So, those who did wrong deserve a share (in the punishment) like the share of their companions." The verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56 "Those, . . . . . . wrong" Those who have violated the reality and the truth and their own nature The context itself shows that `those who have done wrong", here implies the people who are serving others than the Lord of the Universe, who disbelieve in the Hereafter, who regard themselves as irresponsible in the world, and have denied those Prophets who have tried to make them understand the reality. 57 This is the answer to the disbelievers' demand: "Why doesn't the Day of Retribution Overtake us? Why is it being delayed?"

Read the full tafseer →